1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

غزہ جنگ بندی کی ’مسلسل خلاف ورزیاں‘ ختم ہونا چاہییں، گوٹیرش

مقبول ملک روئٹرز، اے پی، اے ایف پی، ڈی پی اے کے ساتھ۔ ادارت | عاطف توقیر | رابعہ بگٹی
وقت اشاعت 4 نومبر 2025آخری اپ ڈیٹ 4 نومبر 2025

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ پٹی کی دو سالہ جنگ میں امریکہ اور دیگر ثالث ممالک کی کوششوں سے طے پانے والے فائر بندی معاہدے کی ’مسلسل خلاف ورزیوں‘ کی بھرپور مذمت کی ہے۔

https://p.dw.com/p/533bu
غزہ پٹی میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد غزہ سٹی میں اپنے تباہ شدہ گھروں کی طرف لوٹتے مختلف خاندانوں کے فلسطینی مردوں، عورتوں اور بچوں کا ایک گروپ ایک ٹرک میں سفر کرتا ہوا، چند روز پہلے لی گئی ایک تصویر
غزہ پٹی میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد غزہ سٹی میں اپنے تباہ شدہ گھروں کی طرف لوٹتے مختلف خاندانوں کے فلسطینی مردوں، عورتوں اور بچوں کا ایک گروپ ایک ٹرک میں سفر کرتا ہوا، چند روز پہلے لی گئی ایک تصویرتصویر: Mahmoud Abu Hamda/picture alliance/Anadolu
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • یوکرین کے لیے یورپی یونین کی طویل المدتی مالیاتی امداد، مزید 1.8 بلین یورو کی فراہمی منظور
  • زمین اپنے درجہ حرارت میں 2.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافے کی راہ پر گامزن، اقوام متحدہ
  • نیپال میں ہمالیہ کی پہاڑی چوٹیاں کئی دنوں سے شدید برفانی طوفان کی زد میں، نو افراد ہلاک
  • قطر کی ’سبز قوانین کے باعث‘ یورپی یونین کو مائع قدرتی گیس کی سپلائی بند کر دینے کی وارننگ
  • سابق امریکی نائب صدر ڈک چینی چوراسی برس کی عمر میں انتقال کر گئے
  • اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گوٹیرش کی غزہ میں جنگ بندی کی ’مسلسل خلاف ورزیوں‘ کے خلاف واضح تنبیہ
     
یوکرین کے لیے یورپی یونین کی طویل المدتی مالیاتی امداد، مزید 1.8 بلین یورو کی فراہمی منظور سیکشن پر جائیں
4 نومبر 2025

یوکرین کے لیے یورپی یونین کی طویل المدتی مالیاتی امداد، مزید 1.8 بلین یورو کی فراہمی منظور

یوکرین میں روسی فضائی حملوں کے باعث ہونے والی تباہی کا ایک منظر
روس کی طرف سے فوجی مداخلت کے ساتھ شروع ہونے والی یوکرین کی جنگ ہزارہا انسانوں کی ہلاکت کے ساتھ ساتھ یوکرین میں وسیع تر تباہی کی وجہ بھی بن چکی ہےتصویر: Jose Colon/Anadolu Agency/IMAGO

یورپی یونین کے رکن ممالک نے مشرقی یورپی ملک یوکرین کے لیے مزید 1.8 بلین یورو کی امدادکی منظوری دے دی ہے۔ برسلز میں یورپی یونین کے صدر دفاتر سے منگل چار نومبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یوکرین کو یہ امداد روسی یوکرینی جنگ کی وجہ سے ہونے والی تباہی کے پس منظر میں یونین کے طویل المدتی امدادی پروگرام کے تحت دی جائے گی۔

یوکرین پر روسی حملے، دو بچوں سمیت چھ ہلاک

یورپی یونین کی طرف سے بتایا گیا کہ کییف حکومت کو دی جانے والی یہ نئی امداد یونین کے جنگ سے تباہ حال یوکرین کے لیے مجموعی طور پر 50 بلین یورو مالیت کے قرضوں اور گرانٹس کے اس پروگرام کا حصہ ہے، جو 2024ء سے لے کر 2027ء تک دیے جائیں گے۔

روس میزائل تجربات کے بجائے یوکرین میں جاری جنگ ختم کرے، ٹرمپ

یوکرین کے شہر خارکیف میں ایک روسی ڈرون حملے کے بعد کا منظر
یوکرین کے شہر خارکیف میں ایک روسی ڈرون حملے کے بعد کا منظرتصویر: Serhii Masin/Anadolu/picture alliance

روس کے خلاف جنگ میں یوکرین امریکی ٹوما ہاک میزائل کیوں چاہتا ہے؟

اہم بات یہ ہے کہ یورپی یونین کی طرف سے دیے جانے والے یہ فنڈز ان اصلاحات سے مشروط ہیں، جو یوکرین کو اپنے ہاں لانا ہیں۔

ان اصلاحات کا مقصد طویل المدتی بنیادوں پر یوکرین کو اس سطح تک لانا ہے کہ وہ اپنی معیشت کو  جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے اپنی تعمیر نو کر سکے، روس کے خلاف برسوں کی جنگ سے ہونے والے تباہی کا تدارک بھی کر سکے اور ساتھ ہی کییف یورپی یونین میں اپنی شمولیت کی منزل بھی حاصل کر سکے۔

منجمد روسی اثاثے، یورپی کمیشن یوکرین کو کیسے دے گا؟

https://p.dw.com/p/535Ab
زمین اپنے درجہ حرارت میں 2.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافے کی راہ پر گامزن، اقوام متحدہ سیکشن پر جائیں
4 نومبر 2025

زمین اپنے درجہ حرارت میں 2.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافے کی راہ پر گامزن، اقوام متحدہ

ماحولیاتی تبدیلیوں کا ایک نتیجہ یہ بھی: افریقی ملک کینیا میں ماؤنٹ کینیا نیشنل پارک میں لوئیس نامی گلیشیئر جو مسلسل پگھلتے رہنے کے بعد اب بہت چھوٹا رہ گیا ہے
ماحولیاتی تبدیلیوں کا ایک نتیجہ یہ بھی: افریقی ملک کینیا میں ماؤنٹ کینیا نیشنل پارک میں لوئیس نامی گلیشیئر جو مسلسل پگھلتے رہنے کے بعد اب بہت چھوٹا رہ گیا ہےتصویر: Luis Tato/AFP

دنیا بھر میں اس وقت تحفظ ماحول سے متعلق سیاست کے غیر تسلی بخش عملی نتائج کی بنیاد پر کرہ ارض رواں صدی کے آخر تک اپنے درجہ حرارت میں صنعتی دور کے مقابلے میں 2.5 سے لے کر 2.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافے کی راہ پر گامزن ہے۔

دنیا کی نصف آبادی کو ایک ماہ کی اضافی گرمی کا سامنا، رپورٹ

یہ بات اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام یو این ای پی (UNEP) کی طرف سے منگل چار نومبر کے روز نیروبی میں اس ادارے کی دفتر کی طرف سے بتائی گئی۔

ساتھ ہی یو این ای پی کی طرف سے کہا گیا کہ غالب امکان یہ ہے کہ زمینی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کا جو ہدف بین الاقوامی سطح پر برسوں پہلے طے کیا گیا تھا، وہ حد اگلے چند عشروں میں ہی عبور کر لی جائے گی۔

ماحولیاتی تبدیلی کو قابو میں رکھنے کرنے کے سات طریقے

سورج کی شدید دھوپ اور تھرمامیٹر
سال 2024ء بہت زیادہ گرمی کے لحاظ سے کرہ ارض کے لیے ایک نیا ریکارڈ سال ثابت ہوا تھاتصویر: imageBROKER/picture alliance

اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارے نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو زمینی درجہ حرارت میں اضافے کو بہت حد تک قابو میں رکھنے کے لیے اور کئی طرح کی آلودگی میں واضح کمی کی خاطر جو اقدامات کرنا تھے، ان کے اب تک کے نتائج کسی بھی طرح تاحال طے شدہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق اہداف کے حصول کے لیے کافی نہیں ہیں۔

نامکمل ماحولیاتی اہداف: کرہ ارض کو درپیش خطرات بڑھتے ہوئے

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق زمینی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کرنے کی منزل حاصل کرنا اب عملاﹰ انتہائی مشکل نظر آتا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ زمین پر ماحول کے لیے نقصان دہ سبز مکانی گیسوں کے اخراج میں کمی کے برعکس درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بننے والی گیسوں کا اخراج زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔

جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں رواں برس اگست میں شدید گرمی کی ایک لہر کے دوران ایک شخص خود کو ایک عوامی جگہ پر فوارے کے پانی سے کچھ ٹھنڈا کرتا ہوا
جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں رواں برس اگست میں شدید گرمی کی ایک لہر کے دوران ایک شخص خود کو ایک عوامی جگہ پر فوارے کے پانی سے کچھ ٹھنڈا کرتا ہواتصویر: Florian Wiegand/Eibner-Pressefoto/Eibner/IMAGO

گرم ہوتی دنیا، بیمار ہوتا انسان: 128 سائنسدانوں کی چونکا دینے والی رپورٹ

ایسی ہی متنوع وجوہات کی بنا پر سال 2024ء اوسط درجہ حرارت کے لحاظ سے ایک نئی ریکارڈ حد تک زمینی حدت میں اضافے والا سال ثابت ہوا۔

https://p.dw.com/p/5359V
نیپال میں ہمالیہ کی پہاڑی چوٹیاں کئی دنوں سے شدید برفانی طوفان کی زد میں، نو افراد ہلاک سیکشن پر جائیں
4 نومبر 2025

نیپال میں ہمالیہ کی پہاڑی چوٹیاں کئی دنوں سے شدید برفانی طوفان کی زد میں، نو افراد ہلاک

ماؤنٹ ایورسٹ کے ایک بیس کیمپ سے کوہ پیماؤں کو ریسکیو کرنے کے لیے جانے والا ایک امدادی ہیلی کاپٹر لینڈنگ کی کوشش میں
ماؤنٹ ایورسٹ کے ایک بیس کیمپ سے کوہ پیماؤں کو ریسکیو کرنے کے لیے جانے والا ایک امدادی ہیلی کاپٹر لینڈنگ کی کوشش میںتصویر: Phurba Tenjing Sherpa / Handout/dpa/picture alliance

نیپال میں ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کے متعدد علاقے گزشتہ کئی دنوں سے شدید برفانی طوفان کی زد میں ہیں، جس کے نتیجے میں وہاں اب تک نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مرنے والوں میں پانچ اطالوی کوہ پیما بھی شامل ہیں۔

نیپالی دارالحکومت کھٹمنڈو سے منگل چار نومبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ملکی حکام نے بتایا کہ ان برفانی طوفانی حالات میں ہونے والی ہلاکتیں ایسے مختلف واقعات میں ہوئیں جو گزشتہ جمعے کے دن سے لے کر اب تک پیش آ چکے ہیں۔

18 سالہ نوجوان نے دنیا کی 8000 میٹر سے بلند تمام چوٹیاں سر کر لیں

کل پیر کے روز وسطی نیپال میں چین کے ساتھ سرحد کے قریب 5,630 میٹر (18,471 فٹ) بلند پہارٹی چوٹی یالونگ ری کے بیس کیمپ پر شدید برفانی طوفان کے نتیجے میں کوہ پیماؤں کا ایک 12 رکنی گروپ اونچائی سے گرنے والے ایک بہت بڑی برفانی تودے کی زد میں آ گیا۔

ماؤنٹ ایورسٹ کی طرف چڑھائی کے دوران ایک پہاڑی ڈھلوان پر رکھے گئے آکسیجن کے بہت سے سلنڈر
ماؤنٹ ایورسٹ کی طرف چڑھائی کے دوران ایک پہاڑی ڈھلوان پر رکھے گئے آکسیجن کے بہت سے سلنڈرتصویر: Kunga Sherpa/AP Photo/picture alliance

ہمالیہ پر مہم جوئی، اب کہيں زیادہ خطرناک

اس واقعے میں سات افراد ہلاک ہو گئے، جن میں سے تین اطالوی تھے، دو نیپالی باشندے اور جرمنی اور فرانس سے تعلق رکھنے والا ایک ایک کوہ پیما۔ ان سات ہلاکتوں کی کوہ پیمائی کی اس مہم کے منتظم ادارے نے بھی تصدیق کر دی ہے۔ باقی ماندہ کیمپ ارکان کو زندہ بچا لیا گیا، جن میں سے دو فرانسیسی تھے اور دو مقامی نیپالی باشندے۔

پاکستان میں جرمنی کی سابقہ اولمپک چیمپئن کھلاڑی کے ریسکیو کی کوششیں جاری

قبل ازیں گزشتہ جمعے کے روز بھی اسی نوعیت کے شدید موسمی حالات میں مغربی نیپال میں 6,887 میٹر بلند ایک چوٹی عبور کرنے کی کوشش میں شدید طوفان کی زد میں آ جانے والے اٹلی کے دو کوہ پیما بھی ہلاک ہو گئے تھے۔

ماؤنٹ ایورسٹ کے ایک بیس کیمپ میں لگائے گئے کوہ پیماؤں کے خیمے
ماؤنٹ ایورسٹ کے ایک بیس کیمپ میں لگائے گئے کوہ پیماؤں کے خیمےتصویر: Zhaxi Cering/Xinhua News Agency/picture alliance

دنیا کی دس بلند ترین پہاڑی چوٹیوں میں سے آٹھ نیپال ہی میں ہیں، جن میں دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ بھی شامل ہے۔

پچاس سالہ جرمن کوہ پیماہ خاتون پہاڑ سے گر کر ہلاک

کوہ پیمائی کے شعبے کے تاریخی اعداد و شمار کے مطابق 1950 سے لے کر آج تک مختلف ممالک میں برف پوش چوٹیوں کو سر کرنے کی کوششوں میں مجموعی طور پر کم از کم بھی 1,093 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے تقریباﹰ ایک تہائی برفانی تودوں کے نیچے دب جانے کے باعث ہلاک ہوئے۔

نیپال میں ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کا ایک فضائی نظارہ، درمیان میں ماؤنٹ ایورسٹ اور ارد گرد دیگر برف پوش چوٹیاں
نیپال میں ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کا ایک فضائی نظارہ، درمیان میں ماؤنٹ ایورسٹ اور ارد گرد دیگر برف پوش چوٹیاںتصویر: Michael Runkel/robertharding/picture alliance
https://p.dw.com/p/534UJ
قطر کی ’سبز قوانین کے باعث‘ یورپی یونین کو مائع قدرتی گیس کی سپلائی بند کر دینے کی وارننگ سیکشن پر جائیں
4 نومبر 2025

قطر کی ’سبز قوانین کے باعث‘ یورپی یونین کو مائع قدرتی گیس کی سپلائی بند کر دینے کی وارننگ

قطر کی ایک بندرگاہ پر کھڑا مائع قدرتی گیس لے جانے والا ایک بحری ٹینکر
قطر کی ایک بندرگاہ پر کھڑا مائع قدرتی گیس لے جانے والا ایک بحری ٹینکرتصویر: Thomas Koehler/photothek/picture alliance

خلیجی عرب ریاست قطر نے یورپی یونین کو وارننگ دی ہے کہ وہ یونین کے مجوزہ ’سبز قوانین‘ کے باعث اس بلاک کو مائع قدرتی گیس کی ترسیل بند کر سکتا ہے۔ دوحہ کو انسانی حقوق اور تحفظ ماحول کے شعبے میں یونین کے ان مجوزہ ضابطوں پر اعتراض ہے۔

قطر نے جرمنی کو گیس کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط کر دیے

یورپی یونین کی بڑے بڑے کارپوریٹ اداروں کے لیے ان کی پالیسیوں کو زیادہ دیرپا بنانے کے سلسلے میں ضروری فرض شناسی سے متعلق ہدایت یا سی ایس ڈی ڈی ڈی نامی نئے ضابطے کا مقصد ’’انسانی حقوق اور تحفظ ماحول کے لیے نقصان دہ‘‘ ان اثرات کا ازالہ کرنا ہے، جس کی وجہ اس بلاک کی دنیا بھر میں پھیلی ہوئی سپلائی چین بنتی ہے۔

قطر روسی گیس پر انحصار کو کم کرنے میں مدد کرے گا، جرمنی

جرمنی میں ایک ایل این جی ٹرمینل کے قریب لنگر انداز، مائع قدرتی گیس کی مال برداری کرنے والا ایک خصوصی بحری جہاز
جرمنی میں ایک ایل این جی ٹرمینل کے قریب لنگر انداز، مائع قدرتی گیس کی مال برداری کرنے والا ایک خصوصی بحری جہازتصویر: Jens Koehler/imago images

ان نئے یورپی ضابطوں کی تیاری کے دوران مختلف یورپی ممالک کے رائٹ، لیفٹ اور ماحول دوست دھڑوں سمیت بہت سے سیاسی رہنماؤں نے بھرپور حمایت کی تھی، لیکن یورپ ہی میں کئی سیاسی حلقے ان ضابطوں کے اس لیے خلاف بھی ہیں کہ ان کے بقول یہ کاروباری اداروں کے لیے ’’بہت زیادہ بوجھ‘‘ بن جائیں گے۔

قطر اور فرانس کے مابین تاریخی معاہدہ

اس پس منظر میں خلیجی ریاست قطر کی طرف سے اب کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کو اپنے Corporate Sustainability Due Diligence Directive کو منسوخ کرنے یا اس کی شدت کم کرنے پر غور کرنا ہو گا۔

جرمنی کو روسی گیس کے متبادل کی تلاش، وزیر قطر پہنچ گئے

نیدرلینڈز میں روٹرڈیم کے مقام پر درآمدی مائع قدرتی گیس کا ایک بحری ٹرمینل
نیدرلینڈز میں روٹرڈیم کے مقام پر درآمدی مائع قدرتی گیس کا ایک بحری ٹرمینلتصویر: Lex van Lieshout/ANP/AFP/Getty Images

قطر کے وزیر توانائی سعد الکعبی نے کہا، ’’اگر یورپ نے CSDDD پر دوبارہ غور نہ کیا، جس کے تحت اس ڈائریکٹیو کی خلاف ورزی کی صورت میں ہمیں دنیا بھر سے ہونے والی اپنی آمدنی کے پانچ فیصد کے برابر تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے، تو لازمی بات ہے کہ پھر ہم یورپ کو مائع قدرتی گیس برآمد نہیں کریں گے۔‘‘

کویت میں ایک ٹریلین کیوبک فٹ گیس کے نئے آف شور ذخائر دریافت

تیل اور قدرتی گیس سے مالا مال خلیجی ریاست قطر دنیا بھر میں امریکہ،آسٹریلیا اور روس کی طرح سب سے زیادہ مائع قدرتی گیس پیدا کرنے والا ملک ہے۔

یورپی یونین کے CSDDD نامی ضابطوں کی تجویز یورپی کمیشن نے 2022ء میں دی تھی، جنہیں اس بلاک نے اپریل 2024ء میں منظور بھی کر لیا تھا۔ لیکن یہ مجوزہ یورپی ضابطے ابھی نافذ العمل نہیں ہوئے۔

https://p.dw.com/p/53437
سابق امریکی نائب صدر ڈک چینی کا چوراسی برس کی عمر میں انتقال سیکشن پر جائیں
4 نومبر 2025

سابق امریکی نائب صدر ڈک چینی کا چوراسی برس کی عمر میں انتقال

سابق امریکی نائب صدر ڈک چینی کی دسمبر 2019ء میں لی گئی ایک تصویر
سابق امریکی نائب صدر ڈک چینی کی دسمبر 2019ء میں لی گئی ایک تصویرتصویر: Kamran Jebreili/AP Photo/dpa/picture alliance

امریکہ کے سابق نائب صدر ڈک چینی 84 برس کی عمر میں اتقال کر گئے ہیں۔ سخت گیر حد تک قدامت پسند ڈک چینی کو امریکی تاریخ کے سب سے زیادہ طاقت ور اور سب سے زیادہ داخلی سیاسی تقسیم کا باعث بننے والے نائب صدور میں سے ایک قرار دیا جاتا تھا، جنہوں نے صدر صدام حسین کی حکومت کے خلاف عراق میں امریکی فوجی مداخلت کی بھی بھرپور حمایت کی تھی۔

’واٹر بورڈنگ‘ کی دوبارہ اجازت دی جائے، ڈک چینی

ڈک چینی کے خاندان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق سابق نائب صدر کا انتقال پیر اور منگل کی درمیانی رات نمونیا، دل اور دوران خون کے عوارض کی وجہ سے پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کے باعث ہوا۔ ان کی عمر 84 برس تھی۔

اگست دو ہزار بائیس: سابق امریکی نائب صدر ڈک چینی اور ان کی بیٹی لز چینی، جو اس وقت ریاست وائیومنگ سے امریکی ایوان نمائندگان کی رکن تھیں
اگست دو ہزار بائیس: سابق امریکی نائب صدر ڈک چینی اور ان کی بیٹی لز چینی، جو اس وقت ریاست وائیومنگ سے امریکی ایوان نمائندگان کی رکن تھیںتصویر: Jabin Botsford/AP Photo/picture alliance

ان کے خاندان کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا، ’’ڈک چینی نے عشروں تک امریکی قوم کے لیے خدمات انجام دیں، جس دوران وہ وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف بھی رہے، ریاست وائیومنگ سے امریکی کانگریس کے رکن بھی، امریکہ کے وزیر دفاع بھی اور پھر ملکی نائب صدر بھی۔‘‘

ڈک چینی نے ایک سرکردہ سیاستدان کے طور پر ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے دو مختلف امریکی صدور کے ساتھ بھی کام کیا تھا۔ صدر جارج بش سینئر کے دور میں وہ اس وقت امریکی وزیر دفاع تھے، جب خلیج فارس کی جنگ ہوئی تھی۔ اس کے بعد بش سینئر کے بیٹے اور صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں وہ امریکی نائب صدر کے عہدے پر فائز تھے۔

بیس جنوری دو ہزار ایک: جارج ڈبلیو بش صدارتی حلف اٹھاتے ہوئے، بالکل دائیں طرف ڈک چینی، جو ان کے نائب صدر تھے
بیس جنوری دو ہزار ایک: جارج ڈبلیو بش صدارتی حلف اٹھاتے ہوئے، بالکل دائیں طرف ڈک چینی، جو ان کے نائب صدر تھےتصویر: Frazza/dpa/picture-alliance

وہ طویل عرصے سے دل کے مریض بھی تھے اور نائب صدر کے منصب پر اپنی ذمے داریاں انجام دینے کے بعد کے عرصے میں ان کا ہارٹ ٹرانسپلانٹ بھی ہوا تھا۔

https://p.dw.com/p/533pv
غزہ جنگ بندی کی ’مسلسل خلاف ورزیاں‘: گوٹیرش کی واضح تنبیہ سیکشن پر جائیں
4 نومبر 2025

غزہ جنگ بندی کی ’مسلسل خلاف ورزیاں‘: گوٹیرش کی واضح تنبیہ

انتیس اکتوبر کو غزہ سٹی کے مغربی حصے میں ایک فلسطینی مہاجر کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد لی گئی ایک تصویر
انتیس اکتوبر کو غزہ سٹی کے مغربی حصے میں ایک فلسطینی مہاجر کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد لی گئی ایک تصویرتصویر: Hashem Zimmo/TheNews2/IMAGO

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ پٹی کی دو سالہ جنگ میں امریکہ اور دیگر ثالث ممالک کی کوششوں سے طے پانے والے فائر بندی معاہدے کی ’مسلسل خلاف ورزیوں‘ کی بھرپور مذمت کی ہے۔

غزہ میں اقوام متحدہ کے مینڈیٹ پر کام جاری ہے، ترکی

عالمی ادارے کے سربراہ گوٹیرش نے منگل چار نومبر کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پٹی کے فلسطینی علاقے کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہونے والی جنگ میں اب جو فائر بندی نافذ ہے، انہیں اس کی خلاف وزیوں پر گہری تشویش ہے۔

جنوبی لبنان میں نئے اسرائیلی فضائی حملوں میں دو افراد ہلاک، سات زخمی

انٹونیو گوٹیرش نے دوحہ میں سماجی ترقی کے موضوع پر دوسری ورلڈ سمٹ کے حاشیے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’غزہ پٹی میں سیزفائر کی متواتر خلاف ورزیوں پر شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔‘‘

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گرٹیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گرٹیرشتصویر: Chalinee Thirasupa/Pool/AFP

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا، ’’ان خلاف ورزیوں کو لازمی طور پر ختم ہونا چاہیے اور تمام فریقوں کو ہر حال میں غزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے میں کیے جانے والے جملہ فیصلوں پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔‘‘

غزہ پٹی میں تازہ اسرائیلی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد ایک سو چار ہو گئی

غزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد 10 اکتوبر کو شروع ہوا تھا، جس کے بعد وہاں لڑائی زیادہ تر رک چکی ہے تاہم غزہ پٹی میں اسرائیلی فوجیوں پر اکا دکا حملے اب بھی دیکھنے میں آتے ہیں جبکہ سیزفائر کے نفاذ کے بعد سے وہاں کی جانے والے اسرائیلی فضائی اور زمینی فوجی کارروائیوں میں مقامی وزارت صحت کے مطابق تاحال کم از کم 239 افراد مارے جا چکے ہیں۔

غزہ میں بچے، دو سال بعد دوبارہ اسکول میں

https://p.dw.com/p/533f9
مزید پوسٹیں
Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔