1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ٹرمپ ٹیرفس: امریکی سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیے

جاوید اختر اے پی، اے ایف پی، روئٹرز، ڈی پی اے کے ساتھ
وقت اشاعت 20 فروری 2026آخری اپ ڈیٹ 20 فروری 2026

امریکی سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے وسیع پیمانے کے ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا۔

https://p.dw.com/p/5977U
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
صدر ٹرمپ نے امریکی کانگریس کی منظوری کے بغیر بین الاقوامی ہنگامی معاشی اختیارات ایکٹ کا سہارا لیتے ہوئے تقریباً تمام امریکی تجارتی شراکت داروں پر ٹیرف عائد کر دیے تھےتصویر: Brendan Smialowski/AFP
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کےعائد کردہ تمام عالمی ٹیرفس کالعدم کر دیے
     
  • مشرقی افغانستان میں شدید زلزلہ: فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں
  • چین جرمنی کا سب سے بڑا بزنس پارٹنر بن گیا
  • بورڈ آف پیس کی غزہ کانفرنس میں اربوں ڈالر جمع
  • یورپی یونین روس پر نئی پابندیوں کے پیکیج پر اتفاقِ رائے تک نہیں پہنچ سکی
  • تقریباً 20 لاکھ اعلیٰ تعلیم یافتہ جرمن باشندے غربت کے خطرے سے دوچار
  • ترکی میں ڈی ڈبلیو کے صحافی کو گرفتار کر لیا گیا
  • بھارت: بیک وقت تین ریاستوں میں فرقہ وارانہ تشدد
  • عاصم منیر گریٹ جنرل، گریٹ فیلڈ مارشل اور گریٹ انسان ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کےعائد کردہ تمام عالمی ٹیرفس کالعدم کر دیے سیکشن پر جائیں
20 فروری 2026

امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کےعائد کردہ تمام عالمی ٹیرفس کالعدم کر دیے

20 فروری 2026 کو نیو یارک سٹی میں صبح کی ٹریڈنگ کے دوران نیویارک اسٹاک ایکسچینج کے فلور پر کام کرتے ہوئے تاجروں کے پیچھے ایک ٹیلی ویژن اسکرین پر ٹیرف سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کی خبر نشر ہوتی دکھائی دے رہی ہے
ٹرمپ نے ٹیرفس یعنی درآمدی اشیا پر عائد ٹیکس کو معاشی اور خارجہ پالیسی کے ایک اہم آلے کے طور پر استعمال کیاتصویر: Michael M. Santiago/Getty Images/AFP

امریکی سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے وسیع پیمانے کے ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا۔ 

یہ ٹیرف ایک ایسے قانون کے تحت نافذ کیے گئے تھے جو قومی ہنگامی حالات میں استعمال کے لیے بنایا گیا تھا۔ عدالت کے اس فیصلے کے عالمی معیشت پر بڑے اثرات مرتب ہوں گے اور اس نے ٹرمپ کے اختیارات کے ایک متنازع دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

ٹرمپ نے ٹیرفس یعنی درآمدی اشیا پر عائد ٹیکس کو معاشی اور خارجہ پالیسی کے ایک اہم آلے کے طور پر استعمال کیا۔

یہ ٹیرف اس عالمی تجارتی جنگ کا مرکزی حصہ ہے، جس کا آغاز ٹرمپ نے اپنی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے بعد کیا۔ اس تجارتی کشیدگی نے امریکہ کے تجارتی شراکت داروں کو ناراض کیا، مالیاتی منڈیوں کو متاثر کیا اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کو جنم دیا۔

امریکی سپریم کورٹ
وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور دیگر حکام نے کہا کہ انتظامیہ زیادہ سے زیادہ ٹیرف برقرار رکھنے کے لیے دیگر قانونی جواز استعمال کرے گی

امریکی آئین کے مطابق ٹیکس اور ٹیرف عائد کرنے کا اختیار کانگریس کو حاصل ہے، نہ کہ صدر کو۔ لیکن ٹرمپ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر بین الاقوامی ہنگامی معاشی اختیارات ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کا سہارا لیتے ہوئے تقریباً تمام امریکی تجارتی شراکت داروں پر ٹیرف عائد کر دیے۔ اس کے علاوہ کچھ اضافی ٹیرف دیگر قوانین کے تحت بھی عائد کیے گئے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے 14 دسمبر کے بعد سے ٹیرف کی وصولی کا کوئی ڈیٹا جاری نہیں کیا۔ تاہم پین-وارٹن بجٹ ماڈل کے ماہرین معاشیات نے جمعہ کو اندازہ لگایا کہ آئی ای ای پی اے کے تحت عائد کیے گئے ٹیرف سے اب تک 175 ارب ڈالر سے زائد وصول کیے جا چکے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ممکن ہے کہ یہ رقم واپس کرنی پڑے۔

نومبر میں سپریم کورٹ میں دلائل سننے کے بعد ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر عدالت نے ان کے خلاف فیصلہ دیا تو وہ متبادل منصوبہ ’’ گیم ٹو پلان‘‘ تیار کریں گے۔

وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور دیگر حکام نے کہا کہ انتظامیہ زیادہ سے زیادہ ٹیرف برقرار رکھنے کے لیے دیگر قانونی جواز استعمال کرے گی۔

https://p.dw.com/p/59A8z
مشرقی افغانستان میں شدید زلزلہ: فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں سیکشن پر جائیں
20 فروری 2026

مشرقی افغانستان میں شدید زلزلہ: فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں

ایک لڑکا 4 نومبر 2025 کو افغانستان کے صوبہ سمنگان میں زلزلے کے بعد اپنے تباہ شدہ گھر کے پاس بیٹھا ہے
افغانستان میں زلزلے عام ہیں، خاص طور پر ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میںتصویر: Sayed Hassib/REUTERS

جمعہ کے روز مشرقی افغانستان میں ایک شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کی تصدیق کابل اور صوبہ ننگرہار میں موجود اے ایف پی کے صحافیوں نے کی۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق 5.8 شدت کا یہ زلزلہ کابل سے تقریباً 130 کلومیٹر شمال مشرق میں آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

دارالحکومت کے مغرب میں واقع صوبہ بامیان اور وردک کے رہائشیوں نے بھی بتایا کہ انہوں نے بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے۔

افغانستان میں زلزلے عام ہیں، خاص طور پر ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں، جہاں یوریشین اور انڈین ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ٹکراتی ہیں۔

اگست 2025 میں ملک کے مشرق میں آنے والے 6.0 شدت کے ایک کم گہرائی والے زلزلے نے پہاڑی علاقوں کے دیہاتوں کو تباہ کر دیا تھا اور 2,200 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

چند ہفتوں بعد شمالی افغانستان میں 6.3 شدت کے ایک اور زلزلے نے کم از کم 27 افراد کی جان لے لی تھی۔

سال دو ہزار بائیس میں ایران کی سرحد کے قریب مغربی ہرات میں اور دو ہزار تیئیس میں صوبہ ننگرہار میں آنے والے بڑے زلزلوں نے سینکڑوں افراد کو ہلاک اور ہزاروں گھروں کو تباہ کر دیا تھا۔

یہ ملک، جو دہائیوں سے جنگ سے متاثر ہے، زیادہ تر دیہی علاقوں پر مشتمل ہے جہاں بہت سے مکانات کی تعمیر ناقص طریقے سے کی گئی ہے۔

افغانستان کے پہاڑی علاقوں میں کمزور مواصلاتی نظام اور بنیادی ڈھانچے کی کمی نے ماضی میں امدادی کارروائیوں کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث حکام کو دور دراز دیہات تک پہنچنے اور نقصان کا جائزہ لینے میں گھنٹوں یا حتیٰ کہ کئی دن بھی لگ جاتے تھے۔

https://p.dw.com/p/599b5
چین جرمنی کا سب سے بڑا بزنس پارٹنر بن گیا سیکشن پر جائیں
20 فروری 2026

چین جرمنی کا سب سے بڑا بزنس پارٹنر بن گیا

چین اور جرمنی کے قومی پرچم
چین نے جرمنی کے سب سے اہم تجارتی شراکت دار کا اعزاز دوبارہ حاصل کر لیاتصویر: Jia Qing/dpa/picture alliance

جرمنی کے وفاقی شماریاتی ادارے کی جانب سے جمعہ کو جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق چین نے امریکہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے جرمنی کے سب سے اہم تجارتی شراکت دار بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔

گزشتہ سال چین اور جرمنی کے درمیان برآمدات اور درآمدات کا مجموعی حجم 251.8 ارب یورو رہا، جو 2.1 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

چین 2016 سے لے کر 2023 تک جرمنی کا سب سے اہم تجارتی شراکت دار رہا۔ تاہم 2024 میں امریکہ نے عارضی طور پر یہ مقام حاصل کر لیا تھا۔

جرمن چانسلر فریڈرِش میرس آئندہ ہفتے چین کا دورہ بھی کریں گے، جہاں وہ تجارت اور دیگر امور پر بات چیت کریں گے۔

امریکہ گزشتہ سال جرمنی کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار رہا، جس کے ساتھ غیر ملکی تجارت کا مجموعی حجم 240.5 ارب یورو رہا، جو اس سے ایک سال پہلے کے مقابلے میں 5 فیصد کم ہے۔

امریکہ کی جرمن کے لیے برآمدات میں بھی گزشتہ سال کمی آئی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جرمنی سمیت کئی ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر ٹیرف عائد کیے۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں گاڑیاں اور گاڑیوں کے پرزہ جات شامل تھے، جن میں 17.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

گزشتہ سال جرمنی نے چین سے 170.6 ارب یورو کی مالیت کی اشیا درآمد کیں، جو اس سے پچھلے سال کے مقابلے میں 8.8 فیصد زیادہ ہے۔ چین سے درآمد کی جانے والی اشیا میں زیادہ تر ڈیٹا پروسیسنگ کا سامان، برقی آلات اور مشینری شامل تھے۔

https://p.dw.com/p/599KF
بورڈ آف پیس کی غزہ کانفرنس میں اربوں ڈالر جمع سیکشن پر جائیں
20 فروری 2026

بورڈ آف پیس کی غزہ کانفرنس میں اربوں ڈالر جمع

بورڈ آف پیس میٹنگ
ٹرمپ نے کہا کہ شراکت دار ممالک نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ابتدائی ادائیگی کے طور پر 7 ارب ڈالر جمع کیے ہیں۔تصویر: Mark Schiefelbein/AP Photo/picture alliance


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں کہا کہ مختلف ممالک نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے قائم فنڈ میں 7 ارب ڈالر جمع کرائے ہیں، جس کا مقصد حماس کے ہتھیار ڈالنے کے بعد اس علاقے کی دوبارہ تعمیر کرنا ہے۔ 

جمعرات کو اجلاس میں شریک سینتالیس ممالک کے نمائندوں سے طویل خطاب کے اختتام پر متعدد اعلانات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ بورڈ آف پیس کے لیے 10 ارب ڈالر فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ شراکت دار ممالک نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ابتدائی ادائیگی کے طور پر 7 ارب ڈالر جمع کیے ہیں۔ ان ممالک میں قازقستان، آذربائیجان، متحدہ عرب امارات، مراکش، بحرین، قطر، سعودی عرب، ازبکستان اور کویت شامل ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ ناروے بورڈ آف پیس کے ایک پروگرام کی میزبانی کرے گا، تاہم ناروے نے وضاحت کی کہ وہ بورڈ میں شامل نہیں ہو رہا۔

ٹرمپ نے ستمبر میں اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ ختم کرنے کے اپنے منصوبے کے اعلان کے ساتھ ہی بورڈ کی تجویز پیش کی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ بورڈ کا دائرہ کار غزہ سے آگے بڑھا کر دنیا بھر کے دیگر تنازعات تک بھی وسیع کیا جائے گا۔

ٹرمپ کی جانب سے یہ اشارہ کہ بورڈ مستقبل میں غزہ سے باہر کے مسائل بھی حل کر سکتا ہے، اس خدشے کو جنم دے رہا ہے کہ یہ اقوامِ متحدہ کے عالمی سفارت کاری اور تنازعات کے حل کے مرکزی پلیٹ فارم کے کردار کو کمزور کر سکتا ہے۔

تاہم ٹرمپ نے ناقدین کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا، ’’ہم اقوامِ متحدہ کو مضبوط کریں گے۔‘‘ حالانکہ امریکہ پر اقوام متحدہ کی بڑی رقومات واجب الادا ہیں۔

https://p.dw.com/p/59962
یورپی یونین روس پر نئی پابندیوں کے پیکیج پر اتفاقِ رائے تک نہیں پہنچ سکی سیکشن پر جائیں
20 فروری 2026

یورپی یونین روس پر نئی پابندیوں کے پیکیج پر اتفاقِ رائے تک نہیں پہنچ سکی

یورپی یونین اور یوکرین کا پرچم
یورپی کونسل کے صدر نے عندیہ دیا کہ یورپی یونین یوکرین کی رکنیت سے متعلق مذاکرات  ’’جلد از جلد‘‘ شروع کرنا چاہتی ہےتصویر: Hans Lucas/AFP/Getty Images

یورپی یونین کے سفراء روس کے خلاف 20ویں پابندیوں کے پیکیج پر اتفاق رائے قائم کرنے میں ناکام رہے، یہ بات یورپی سفارت کاروں نے جمعہ کو کہی۔

یورپی یونین چاہتی ہے کہ 24 فروری کو یوکرین کی جنگ کے چار سال مکمل ہونے کے موقع پر یہ نیا پیکیج منظور کیا جائے۔ امکان ہے کہ یورپی سفیر ہفتے کے آخر میں دوبارہ اجلاس کریں تاکہ پیر کو یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل اس پر بات چیت کی جا سکے۔

ان پابندیوں میں روسی خام تیل کی برآمدات پر مکمل بحری خدمات کی پابندی بھی شامل ہو سکتی ہے۔

دریں اثنا یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے عندیہ دیا کہ یورپی یونین یوکرین کی رکنیت سے متعلق مذاکرات  ’’جلد از جلد‘‘ شروع کرنا چاہتی ہے، تاہم انہوں نے کوئی حتمی تاریخ دینے سے گریز کیا۔

امریکی منصوبے کے مطابق یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے کییف کی یورپی یونین میں شمولیت جنوری 2027 تک ممکن بنانے کی تجویز دی گئی ہے، تاہم ماہرین عام طور پر اس تاریخ کو انتہائی غیر حقیقی قرار دیتے ہیں۔

کوسٹا نے اوسلو کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ جلد از جلد باضابطہ طور پر مذاکرات کا آغاز کیا جائے اور اس توسیعی عمل کو آگے بڑھایا جائے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ 2027 میں  یا شاید  2026 میں ہوگا یا اس کے بعد، لیکن اہم بات یہ ہے کہ ہم اس رفتار عمل کو ضائع نہ کریں۔‘‘

یوکرین نے 2022 میں روس کے حملے کے چند ماہ بعد یورپی یونین کی رکنیت کے لیے درخواست دی تھی۔ عام طور پر رکنیت کا عمل کئی سال پر محیط ہوتا ہے۔

https://p.dw.com/p/5990b
تقریباً 20 لاکھ اعلیٰ تعلیم یافتہ جرمن باشندے غربت کے خطرے سے دوچار سیکشن پر جائیں
20 فروری 2026

تقریباً 20 لاکھ اعلیٰ تعلیم یافتہ جرمن باشندے غربت کے خطرے سے دوچار

جرمنی غربت
جرمنی کے معیار کے مطابق گزشتہ سال ماہانہ 1,446 یورو کمانے والے شخص کو غربت کے خطرے سے دوچار قرار دیا گیا۔تصویر: Oliver Berg/dpa/picture-alliance

جرمنی میں 2025 میں تقریباً 19 لاکھ یونیورسٹی ڈگری رکھنے والے افراد غربت کے خطرے سے دوچار تھے۔ یہ تعداد 2022 کے مقابلے میں 3 لاکھ 50 ہزار زیادہ تھی۔

یہ اعداد و شمار جرمنی کے سرکاری ادارۂ شماریات کی جانب سے جرمنی کی ساسی جماعت  بنڈنس سارہ واگن کنیشٹ‘ (بی ایس ڈبلیو)  کی درخواست پر جاری کیے گئے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ زیادہ لوگوں نے اعلیٰ تعلیمی اسناد حاصل کیں، لیکن بہت سے افراد بہتر تنخواہ والی ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں گریجویٹس کی تعداد بڑھ کر 2 کروڑ 10 لاکھ ہو گئی ہے۔ تاہم وفاقی روزگار ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق تعلیم یافتہ افراد میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 3.3 فیصد ہو گئی، جو تین سال قبل 2.2 فیصد تھی۔

بی ایس ڈبلیو کی بانی سارہ واگن کنیشٹ نے کہا، ’’تنزلی اور غربت اب تعلیم کے تمام درجات کو متاثر کر رہی ہے۔‘‘ انہوں نے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ معیشت کو بحال کریں اور محنت کے ذریعے سماجی ترقی کو ممکن بنائیں۔

اس رجحان کے باوجود کم یا درمیانی تعلیم رکھنے والے افراد کو غربت کا خطرہ اب بھی کہیں زیادہ لاحق ہے۔ کم تعلیمی اسناد رکھنے والے ایک کروڑ 43 لاکھ افراد میں سے تقریباً 41 لاکھ افراد کو 2025 میں غربت کے خطرے سے دوچار قرار دیا گیا۔

جرمنی کے معیار کے مطابق، جو شخص اوسط آمدنی کے ساٹھ فیصد سے کم کماتا ہے وہ غربت کے خطرے سے دوچار شمار ہوتا ہے۔ یعنی گزشتہ سال ماہانہ 1,446 یورو کمانے والے شخص کو غربت کے خطرے سے دوچار قرار دیا گیا۔ 

https://p.dw.com/p/598dO
ترکی میں ڈی ڈبلیو کے صحافی کو گرفتار کر لیا گیا سیکشن پر جائیں
20 فروری 2026

ترکی میں ڈی ڈبلیو کے صحافی کو گرفتار کر لیا گیا

ترکی میں ڈی ڈبلیو کے صحافی علی جان اولودا
علی جان اولودا کی گرفتاری پر اظہارِ رائے کی آزادی کے حامی حلقوں نے سخت مذمت کی اور اسے میڈیا کی آزادی اور جمہوری اقدار پر حملہ قرار دیاتصویر: privat

ترک پولیس نے تحقیقاتی صحافی علیجان اولودا کو صدر رجب طیب ایردوآن کی توہین اور غلط معلومات پھیلانے کے شبے میں گرفتار کر لیا۔ صحافتی تنظیموں کی جانب سے اس پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔

ڈی ڈبلیو کے رپورٹر علی جان اولودا کو جمعرات کے روز انقرہ میں گرفتار کر کے استنبول صوبائی پولیس کے ہیڈکوارٹر منتقل کیا گیا، جو استنبول میں پولیس کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے۔

تقریباً 30 پولیس اہلکاروں نے انہیں ان کے اہلِ خانہ کے سامنے گرفتار کیا۔ ان کے اپارٹمنٹ کی تلاشی لی گئی اور آئی ٹی آلات ضبط کر لیے گئے۔

اولودا، جو کئی برسوں سے ترکی میں ڈی ڈبلیو کے نامہ نگار کے ساتھ کام کر رہے ہیں، کو جمعہ کے روز مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جانا تھا۔

اولودا پر ’’عوام میں گمراہ کن معلومات پھیلانے‘‘،’’صدر کی توہین کرنے‘‘ اور ’’ترک قوم، ریاست اور اداروں کی توہین کرنے‘‘ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

یہ الزامات ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ان کی تقریباً ڈیڑھ سال قبل کی گئی ایک پوسٹ سے متعلق ہیں، جس میں انہوں نے ترک حکومت کے ان اقدامات پر تنقید کی تھی، جن کے نتیجے میں ممکنہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ دہشت گردوں کی رہائی ہوئی۔ انہوں نے حکومت پر بدعنوانی کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ 

ایک طویل عرصے سے عدالتی رپورٹر کے طور پر وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بدعنوانی کے مقدمات اور اہم عدالتی کارروائیوں پر رپورٹنگ کرتے رہے ہیں، جنہیں وسیع پیمانے پر سنا اور پڑھا جاتا ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ڈائریکٹر جنرل باربرا ماسنگ نے اولودا کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے ساتھی کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں۔ علیجان اولودا ایک معروف تحقیقاتی صحافی ہیں جو بدعنوانی پر رپورٹنگ کے لیے جانے جاتے ہیں۔‘‘

ان کی گرفتاری پر اظہارِ رائے کی آزادی کے حامی حلقوں نے سخت مذمت کی اور اسے میڈیا کی آزادی اور جمہوری اقدار پر حملہ قرار دیا۔

تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے مطابق ترکی صحافیوں کے لیے دنیا کے سب سے زیادہ جابرانہ ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ترک جرنلسٹس سنڈیکیٹ کے مطابق اس وقت کم از کم 14 صحافی یا میڈیا سے وابستہ کارکن جیل میں ہیں۔

https://p.dw.com/p/5983t
بھارت: بیک وقت تین ریاستوں میں فرقہ وارانہ تشدد سیکشن پر جائیں
20 فروری 2026

بھارت: بیک وقت تین ریاستوں میں فرقہ وارانہ تشدد

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان فرقہ وارانہ تشدد میں ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے
بھارت میں، خاص طور پر ان مقامات پر جہاں مندر اور مساجد ایک دوسرے کے قریب واقع ہیں اس سے قبل بھی فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔تصویر: Samir Jana/Hindustan Times/Sipa USApicture alliance

جمعرات کے روز مختلف مذہبی تقریبات کے دوران تین ریاستوں، مدھیا پردیش، کرناٹک اور آندھرا پردیش، میں فرقہ وارانہ کشیدگی یکے بعد دیگرے بھڑک اٹھی۔ 

مدھیا پردیش کے جبل پور میں درگا مندر کمپلیکس میں مبینہ توڑ پھوڑ کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے، جبکہ کرناٹک کے باگلکوٹ میں اور آندھرا پردیش کے شہر حیدرآباد میں شیواجی جینتی کے جلوسوں کے دوران پتھراؤ کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

باگلکوٹ میں شیواجی جینتی کا جلوس پُرامن طور پر شروع ہوا، لیکن جب جلوس ایک مسجد کے سامنے سے گزرا تو مبینہ طور پر اس پر پتھراؤ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں شدید فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوئی اور پولیس نے دفعہ 144 (امتناعی احکامات) نافذ کر دی۔ 

باگلکوٹ سے تقریباً 400 کلومیٹر دور، حیدرآباد میں بھی رمضان کی نمازوں کے دوران اسی نوعیت کی بے چینی دیکھنے میں آئی۔ تیسری ریاست مدھیہ پردیش تھی، جہاں جبل پور میں درگا مندر کمپلیکس میں مبینہ توڑ پھوڑ کے باعث حالات کشیدہ ہو گئے۔

تاہم تینوں واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اور پولیس کی فوری کارروائی کے نتیجے میں صورتحال کو قابو میں کر لیا گیا۔ پولیس نے ان واقعات کے سلسلے میں متعدد افراد کو حراست میں لیا ہے۔

جمعہ کے روز مزید پولیس اہلکاروں کو متاثرہ علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔

جبل پور، باگلکوٹ اور حیدرآباد کے یہ واقعات کوئی استثنیٰ نہیں ہیں۔ بھارت میں اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے واقعات پیش آ چکے ہیں، خاص طور پر ان مقامات پر جہاں مندر اور مساجد ایک دوسرے کے قریب واقع ہیں۔

https://p.dw.com/p/597qR
عاصم منیر گریٹ جنرل، گریٹ فیلڈ مارشل اور گریٹ انسان ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ سیکشن پر جائیں
20 فروری 2026

عاصم منیر گریٹ جنرل، گریٹ فیلڈ مارشل اور گریٹ انسان ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف
شہباز شریف نے بھارت پاکستان تصادم کو رکوانے میں امریکی صدر ٹرمپ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیاتصویر: Suzanne Plunkett/REUTERS

جمعرات کو واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس کے موقع پر ٹرمپ نے وزیر اعظم شہباز شریف کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف پسند ہیں، کیونکہ جنگ کے دوران میری ان سے اور ان کے فیلڈ مارشل سے بات ہوئی، جو گریٹ جنرل، گریٹ فیلڈ مارشل اور گریٹ انسان ہیں۔‘‘

امریکی صدر ماضی میں بھی پاکستانی وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی تعریف کر چکے ہیں۔

پاکستانی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’’وہ جنگ شدت اختیار کر چکی تھی، طیارے مار گرائے جا رہے تھے۔ میں نے دونوں کو فون کیا، میں نریندر مودی کو اچھے سے جانتا تھا، لیکن مجھے پاکستان کے بارے میں تجارتی بات چیت کے ذریعے معلوم ہوا۔‘‘

صدر ٹرمپ نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’’میری وزیر اعظم سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے ہمارے چیف آف اسٹاف کے سامنے کہا کہ کوئی نہیں جانتا، لیکن میرا ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ نے  بھارت اور ہمارے درمیان جنگ رکوا کر 25 ملین جانیں بچائیں۔‘‘

ٹرمپ نے شہباز شریف سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، ’’آپ نے یہ بیان دیا … یہ واقعی ایک خوبصورت بات تھی۔‘‘

شہباز شریف نے بورڈ آف پیس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ 

ادارت: کشور مصطفیٰ

https://p.dw.com/p/597BZ
مزید پوسٹیں
Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔