1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں زمینی آپریشن میں توسیع کر دی

مقبول ملک روئٹرز، اے پی، اے ایف پی اور ڈی پی اے کے ساتھ
وقت اشاعت 26 مئی 2026آخری اپ ڈیٹ 26 مئی 2026

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ملکی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنے زمینی آپریشن کا دائرہ کار بڑھا دیا ہے۔ اب یہ آپریشن ’ییلو لائن‘ نامی لکیر کے پار لبنانی علاقے میں بھی کیا جا رہا ہے۔

https://p.dw.com/p/5EJR5
جنوبی لبنان میں نبطیہ کے نواح میں ایک اسرائیلی فضائی حملے کے بعد کا منظر
جنوبی لبنان میں نبطیہ کے نواح میں ایک اسرائیلی فضائی حملے کے بعد کا منظرتصویر: Stringer/REUTERS
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنے زمینی آپریشن میں توسیع کر دی، نبطیہ شہر پر فضائی حملے
  • انٹرنیٹ کی بحالی کا حکم دینے پر ایرانی عدلیہ نے صدر پزشکیان کے قائم کردہ ادارے کو معطل کر دیا
  • غزہ پٹی پر سیزفائر کے باوجود نئے اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم سات افراد ہلاک، وزارت صحت
  • سینیگال کی بحران زدہ سیاست میں غیر متوقع موڑ: معزول وزیر اعظم سونکو اب پارلیمان کے اسپیکر
  • یوکرینی صدر زیلنسکی کی کییف میں بیلاروس میں اپوزیشن کی رہنما سیخانوسکایا کے ساتھ ملاقات
  • بیلجیم میں ریلوے کراسنگ پر ریل گاڑی اسکول بس سے ٹکرا گئی، دو نوجوانوں سمیت چار افراد ہلاک
  • جنوبی ایران میں نئے امریکی فضائی حملوں کے باوجود تہران کے ساتھ امن معاہدہ ممکن، مارکو روبیو
  • جنگ میں سیزفائر کے باوجود جنوبی ایران پر نئے فضائی حملے ’اپنے دفاع‘ کے لیے کیے گئے، امریکی فوج
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنے زمینی آپریشن میں توسیع کر دی، نبطیہ شہر پر متعدد فضائی حملے سیکشن پر جائیں
وقت اشاعت 26 مئی 2026آخری اپ ڈیٹ 26 مئی 2026

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنے زمینی آپریشن میں توسیع کر دی، نبطیہ شہر پر متعدد فضائی حملے

اسرائیلی فوج نے نبطیہ میں عام لوگوں کو وہاں سے نکل جانے کی وارننگ جاری کرتے ہوئے اس جنوبی لبنانی شہر پر متعدد فضائی حملے کیے، ایسے ہی ایک حملے کے بعد کی تصویر
اسرائیلی فوج نے نبطیہ میں عام لوگوں کو وہاں سے نکل جانے کی وارننگ جاری کرتے ہوئے اس جنوبی لبنانی شہر پر متعدد فضائی حملے کیےتصویر: Stringer/REUTERS

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ملکی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنے زمینی آپریشن کا دائرہ کار بڑھا دیا ہے۔ اب یہ آپریشن ’ییلو لائن‘ نامی لکیر کے پار لبنانی علاقے میں بھی کیا جا رہا ہے۔

یروشلم سے منگل 26 مئی کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق لبنان جنگ کے دوران کافی عرصہ پہلے سے جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی دستوں نے وہاں اسرائیل کی سرحد سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ’زرد لکیر‘ تک کا جو علاقہ اپنے قبضے میں لے رکھا ہے، اب اس سے پرے لبنانی علاقے میں اندر تک بھی ملٹری آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

حزب اللہ کے سستے ڈرونز اسرائیلی آئرن ڈوم کے لیے بڑا چیلنج؟

لبنان جنگ میں اسرائیل اور ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مابین موجودہ فائر بندی 17 اپریل سے جاری ہے، لیکن اس عرصے کے دوران اسرائیلی فوج اب تک خود اپنی ہی طے کردہ ییلو لائن کے اندر اپنی مسلح کارروائیاں اور عمارات کے انہدام کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھی۔

جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے باوجود لبنان پر اسرائیلی حملے جاری

جنوبی لبنان میں تازہ اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد لگنے والی آگ اور اسے بجھانے کی کوشش کرنے والے فائر فائٹرز
جنوبی لبنان میں تازہ اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد لگنے والی آگ اور اسے بجھانے کی کوشش کرنے والے فائر فائٹرزتصویر: Stringer/REUTERS

سیزفائر کے خاتمے سے قبل لبنان اور اسرائیل کے مابین امریکہ میں نئے مذاکرات

اب لیکن اس لکیر کے پار بھی زمینی فوجی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اس زرد لکیر کے بارے میں کہا تھا کہ  اسرائیل اس لبنانی علاقے میں ایک ایسا بفر زون قائم کرنا چاہتا ہے، جس کا مقصد اسرائیلی شہریوں کو لبنان سے کیے جانے والے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

لبنان میں جھڑپیں: اقوامِ متحدہ کا ایک اور امن فوجی ہلاک

اس توسیع شدہ عسکری کارروائی کے دوران جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے مابین پھر سےشدید جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں جبکہ منگل ہی کے روز اسرائیلی فوج نے عام شہریوں کو انخلا کی ایک غیر معمولی وارننگ جاری کرتے ہوئے جنوبی لبنانی شہر نبطیہ پر بھی کئی مرتبہ فضائی حملے کیے۔

’گریٹر اسرائیل‘ کیا ہے؟

https://p.dw.com/p/5EM7d
انٹرنیٹ کی بحالی کا حکم دینے پر ایرانی عدلیہ نے صدر پزشکیان کے قائم کردہ ادارے کو معطل کر دیا سیکشن پر جائیں
26 مئی 2026

انٹرنیٹ کی بحالی کا حکم دینے پر ایرانی عدلیہ نے صدر پزشکیان کے قائم کردہ ادارے کو معطل کر دیا

انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے ایرانی عوام  کے باقی ماندہ دنیا سے عمومی آن لائن رابطے تقریباً معطل ہیں، ایک علامتی تصویر
انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے ایرانی عوام کے باقی ماندہ دنیا سے عمومی آن لائن رابطے تقریباً معطل ہیں، ایک علامتی تصویرتصویر: DW

ایرانی عدلیہ نے منگل 26 مئی کے روز ملکی صدر مسعود پزشکیان کے قائم کردہ ایک صدارتی ادارے کو اس لیے معطل کر دیا کہ اس نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف جنگ کے دوران ملک میں کئی مہینوں سے جاری انٹرنیٹ کی تقریباﹰ مکمل بندش کے خاتمے کا حکم دے دیا تھا۔

جنگ میں سیزفائر کے باوجود ایران پر نئے امریکی فضائی حملے

تہران سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن نے بتایا کہ ایران میں انٹرنیٹ رابطوں کی عمومی بحالی کا حکم دینے والے ایک صدارتی ادارے کو معطل کر دیا گیا ہے۔

میزان آن لائن کے مطابق عدلیہ نے یہ فیصلہ ایک سماعت کے بعد کیا، جس کی وجہ ’’انٹرنیٹ کی بحالی کے خلاف دی جانے والی درخواستیں‘‘ بنی تھیں۔

امریکی مذاکرات کار ایران امن ڈیل میں جلد بازی نہ کریں، ٹرمپ

ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کے باعث آن لائن رابطے معطل، نیٹ بلاکس نامی ادارے کی ویب سائٹ سے لیا گیا ایک سکرین شاٹ
ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کے باعث آن لائن رابطے معطل، نیٹ بلاکس نامی ادارے کی ویب سائٹ سے لیا گیا ایک سکرین شاٹتصویر: Samuel Boivin/NurPhoto/picture alliance

میزان آن لائن کی طرف سے یہ نہیں بتایا گیا کہ انٹربیٹ سے متعلق صدارتی ادارے کے فیصلے کے خلاف یہ درخواستیں کس نے دی تھیں۔

صدر پزشکیان نے یہ ادارہ اسی مہینے قائم کیا تھا

جس صدارتی ادارے کو ملکی عدلیہ نے معطل کیا ہے، وہ  صدر مسعود پزشکیان نے اسی مہینے کی 12 تاریخ کو قائم کیا تھا۔ اس ادارے کا نام ’’ملکی سائبر اسپیس کو منظم کرنے اور اس کی گورننگ کے لیے قائم کردہ اسپیشل ہیڈکوارٹرز‘‘ ہے۔

دوبارہ جنگ ہوئی تو جواب ’زیادہ تباہ کن‘ ہو گا، ایران

اس ادارے نے کل پیر 25 مئی کو ایران میں انٹرنیٹ رابطے بحال کر دیے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی اور مقامی میڈیا کے مطابق اس فیصلے کے بعد اسی سلسلے میں صدر پزشکیان نے ایک باقاعدہ صدارتی حکم نامہ بھی جاری کر دیا تھا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان
ایرانی صدر مسعود پزشکیانتصویر: Iranian Presidency/Handout/Anadolu Agency/IMAGO

ایران میں جاری انٹرنیٹ بندش کے خلاف بڑھتی عوامی ناراضی

ایران میں عمومی انٹرنیٹ رابطوں کی بحالی کے فیصلے کا حتمی اختیار قومی سلامتی کے ذمے دار اعلیٰ ترین ادارے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے پاس ہے۔

https://p.dw.com/p/5ELoI
غزہ پٹی پر فائر بندی کے باوجود نئے اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم سات افراد ہلاک، وزارت صحت سیکشن پر جائیں
26 مئی 2026

غزہ پٹی پر فائر بندی کے باوجود نئے اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم سات افراد ہلاک، وزارت صحت

غزہ پٹی پر ایک اسرائیلی فضائی حملے میں پیر 25 مئی کے روز ہلاک ہونے والی ایک چھ سالہ فلسطینی بچی کا والد اپنی بیٹی کی کفن میں لپٹی ہوئی میت اٹھائے ہوئے
غزہ پٹی پر ایک اسرائیلی فضائی حملے میں پیر 25 مئی کے روز ہلاک ہونے والی ایک چھ سالہ فلسطینی بچی کا والد اپنی بیٹی کی کفن میں لپٹی ہوئی میت اٹھائے ہوئےتصویر: Abdel Kareem Hana/AP Photo/picture alliance

غزہ پٹی کے جنگ زدہ فلسطینی علاقے میں حماس اور اسرائیل کے مابین فائر بندی کے باوجود نئے اسرائیلی فضائی حملوں میں اس علاقے کی حماس کے زیر انتظام کام کرنے والے وزارت صحت کے مطابق منگل 26 مئی کے روز کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے۔

یہ نئے اسرائیلی حملے غزہ پٹی میں دوبارہ شروع ہو جانے والی خونریزی کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہیں اور اس دوران سات میں سے پانچ افراد ایک ہی اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔

آئرلینڈ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے آمدہ مصنوعات پر پابندی لگانے کا خواہاں

غزہ سٹی سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق وزارت صحت کی طرف سے بتایا گیا کہ یہ فلسطینی علاقہ، جس کا وسیع تر حصہ ابھی تک اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے، ہر روز پرتشدد واقعات کا سامنا کر رہا ہے۔ اس دوران فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کی طرف سے بھی اسرائیلی فوجیوں پر حملے کیے جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کا اسرائیل سے غزہ میں 'نسل کشی‘ سے بچاؤ کا مطالبہ

غزہ پٹی میں ایک شبینہ اسرائیلی فضائی حملے کے بعد وہاں پہنچ جانے والے ایمرجنسی ریسکیو ورکرز اور عام شہری
غزہ پٹی میں ایک شبینہ اسرائیلی فضائی حملے کے بعد وہاں پہنچ جانے والے ایمرجنسی ریسکیو ورکرز اور عام شہریتصویر: Omar Al-Qattaa/AFP

غزہ پٹی کی جنگ میں، جو 2023 میں اسرائیل میں سینکڑوں فلسطینی عسکریت پسندوں کے ایک بڑے دہشت گردانہ حملے کے ساتھ شروع ہوئی تھی، گزشتہ برس 10 اکتوبر سے فائر بندی جاری ہے۔

غزہ جنگ میں فائر بندی کی خلاف ورزیاں

غزہ جنگ میں اب تک زیادہ تر نافذ فائر بندی کی اسرائیل اور حماس دونوں ہی کی طرف سے خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں اور ان خلاف ورزیوں کا الزام دونوں ہی ایک دوسرے پر عائد کرتے ہیں۔

غزہ سول ڈیفنس ایجنسی، جو حماس کے زیر انتظام ایک ایمرجنسی ریسکیو سروس بھی چلاتی ہے، کی طرف سے بتایا گیا، ’’تازہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم سات افراد مارے گئے۔ ان حملوں میں سے ایک میں مشرقی المغازی کے علاقے میں شہریوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا گیا، جس میں پانچ افراد ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔‘‘

جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے باوجود لبنان پر اسرائیلی حملے جاری

غزہ پٹی میں جنگ کی وجہ سے ہونے والی تباہی
غزہ پٹی کا فلسطینی علاقہ جنگ کی وجہ تقریباﹰ سارا ہی ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے تصویر: Associated Press

یورپی یونین کی اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیوں کی منظوری

غزہ پٹی میں ان تازہ فلسطینی ہلاکتوں کی الاقصیٰ ہسپتال اور فلسطینی سکیورٹی فورسز نے بھی تصدیق کر دی ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے اس بارے میں کہا کہ وہ اس حوالے سے رپورٹوں کا جائزہ لے رہی ہیں۔

https://p.dw.com/p/5ELfm
سینیگال کی بحران زدہ سیاست میں غیر متوقع موڑ: برطرف شدہ وزیر اعظم سونکو اب ملکی پارلیمان کے اسپیکر سیکشن پر جائیں
26 مئی 2026

سینیگال کی بحران زدہ سیاست میں غیر متوقع موڑ: برطرف شدہ وزیر اعظم سونکو اب ملکی پارلیمان کے اسپیکر

سینیگال کے سابق وزیر اعظم اور نئے پارلیمانی اسپیکر عثمان سونکو
سینیگال کے سابق وزیر اعظم اور نئے پارلیمانی اسپیکر عثمان سونکوتصویر: Seyllou/AFP

افریقی ملک سینیگال میں قومی سیاست نے منگل 26 مئی کے روز اس وقت ایک غیر متوقع موڑ لے لیا، جب ملکی صدر کی طرف سے گزشتہ جمعے کو برطرف کردہ وزیر اعظم عثمان سونکو کو ڈاکر میں قومی پارلیمان نے اپنا نیا اسپیکر منتخب کر لیا۔

سونکو اور ملکی صدر باسیرو دیومے فائے کے مابین کئی مہینوں سے سیاسی محاذ آرائی جاری ہے اور ملکی پارلیمانی کا نیا اسپیکر منتخب ہونے کے بعد سونکو اب صدر کے حریف کے طور پر ایک نئے لیکن بہت اہم آئینی جمہوری عہدے پر فائز ہو گئے ہیں۔

افریقہ کا ساحل خطہ: جہادی حملوں میں اب تک 77 ہزار افراد ہلاک

صدر باسیرو دیومے فائے نے گزشتہ جمعے کے روز وزیر اعظم عثمان سونکو کو برطرف کر کے ان کی حکومت تحلیل کر دی تھی، جس کے بعد بے تحاشا غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے دبی اور بحرانی حالات کا شکار اس افریقی ریاست میں کئی ماہ سے پایا جانے والا سیاسی بحران شدید تر ہو گیا تھا۔

سینیگال کے صدر باسیرو دیومے فائے
سینیگال کے صدر باسیرو دیومے فائےتصویر: Federico Pestellini/PsnewZ/IMAGO

سونکو اسپیکر کے عہدے کے لیے واحد امیدوار تھے

ملکی دارالحکومت ڈاکر میں قومی پارلیمان کا جو اجلاس آج بلایا گیا تھا، اپوزیشن کے ارکان نے اس کا بائیکاٹ کیا۔ اس اجلاس میں عثمان سونکو کو پہلے رائے شماری کے ذریعے رکن پارلیمان کے طور پر بحال کیا گیا اور اس کے بعد پارلیمانی اراکین نے انہیں نیا اسپیکر منتخب کر لیا۔

سینیگال کی پارلیمان کے ارکان کی تعداد 165 ہے اور آج کے اجلاس میں 133 ارکان شریک ہوئے۔

ان میں سے صرف ایک رکن نے اپنی رائے محفوط رکھی جبکہ باقی 132 اراکین نے سونکو کو نیا اسپیکر بنانے کی قرارداد کی حمایت کر دی۔
اس اجلاس میں اسپیکر کے عہدے پر انتخاب کے لیے سونکو واحد امیدوار تھے۔

وہ چار افریقی جن کے پاس براعظم افریقہ کی نصف سے بھی زیادہ دولت ہے

ڈاکر میں سینیگال کی قومی پارلیمان کے ایک اجلاس کی تصویر
ڈاکر میں سینیگال کی قومی پارلیمان کے ایک اجلاس کی تصویرتصویر: Papa Demba Gueye/Xinhua/picture alliance

صوفی روایات اور سینیگال کا مقدس شہرِ توبہ

ملکی صدر فائے نے سونکو کو سربراہ حکومت کے طور پر برطرف کرنے کے تین دن بعد کل پیر کے روز ماہر اقتصادیات احمدو الامینو لُو کو نیا وزیر اعظم نامزد کیا تھا۔

https://p.dw.com/p/5ELGz
یوکرینی صدر زیلنسکی کی کییف میں بیلاروس کی اپوزیشن رہنما سویتالانا سیخانوسکایا کے ساتھ ملاقات سیکشن پر جائیں
26 مئی 2026

یوکرینی صدر زیلنسکی کی کییف میں بیلاروس کی اپوزیشن رہنما سویتالانا سیخانوسکایا کے ساتھ ملاقات

بیلاروس کی اپوزیشن رہنما سویتالانا سیخانوسکایا نے اپنے دورہ یوکرین کے دوران کییف میں یوکرینی وزارت خارجہ کا دورہ بھی کیا
بیلاروس کی اپوزیشن رہنما سویتالانا سیخانوسکایا نے اپنے دورہ یوکرین کے دوران کییف میں یوکرینی وزارت خارجہ کا دورہ بھی کیاتصویر: Evhenii Cherlinko/DW

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے، جن کے ملک کو چار سال سے زیادہ عرصے سے روس کے خلاف جنگ کا سامنا ہے، منگل 26 مئی کے روز روس کے قریبی اتحادی ملک بیلاروس کی اپوزیشن رہنما سویتالانا سیخانوسکایا کے ساتھ ملاقات کی۔ بیلاروس کی یہ خاتون سیاستدان ان دنوں یوکرین کے دورے پر ہیں۔

روس کی یوکرین کے خلاف جنگ آئندہ کیا رخ اختیار کر سکتی ہے؟

یوکرینی دارالحکومت سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق کییف میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس بارے میں تبادلہ خیال کیا کہ صدر پوٹن کی قیادت میں روس کی مسلسل یہ کوشش ہے کہ وہ کسی طرح بیلاروس کو بھی یوکرین کے خلاف اپنی جنگ میں پوری طرح شامل کر لے۔

یوکرین جنگ: پوٹن کی سابق جرمن چانسلر کو ثالث بنانے کی تجویز، برلن محتاط

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکیتصویر: Jakub Porzycki/NurPhoto/picture alliance

بیلاروس طویل عرصے سے روس کا حلیف ملک

اس میٹنگ کے بعد یوکرینی صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا، ’’یوکرین کبھی بھی بیلاروس کے لیے کوئی خطرہ نہیں رہا۔ ہم تو بیلاروس کے ان باشندوں کے شکرگزار ہیں، جو یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں، خاص طور پر موجودہ حالات میں جب یوکرین، بیلاروس اور ہر اس ملک کی قسمت کا فیصلہ ہو رہاہے، جس کی سرحدیں روس کے ساتھ ملتی ہیں۔‘‘

جرمن چانسلر کا زیلنسکی سے اصلاحات کا عمل تیز کرنے کا مطالبہ

روس کی یوکرین کے ساتھ جنگ فروری 2022 میں یوکرین میں روسی فوجی مداخلت کے ساتھ شروع ہوئی تھی اور بیلاروس میں طویل عرصے سے حکمران صدر آلیکسانڈر لوکاشینکو روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے دیرینہ حلیف ہیں۔

نیٹو فضائی دفاع مزید مضبوط کرے، بالٹک ریاستوں کا مطالبہ

روسی صدر پوٹن (دائیں) بیلاروس کے صدر اور اپنے دیرینہ حلیف لوکاشینکو کے ساتھ، ماسکو میں نو مئی کے روز ہوئی ملاقات کے دوران لی گئی ایک تصویر
روسی صدر پوٹن (دائیں) بیلاروس کے صدر اور اپنے دیرینہ حلیف لوکاشینکو کے ساتھ، ماسکو میں نو مئی کے روز ہوئی ملاقات کے دوران لی گئی ایک تصویرتصویر: The Kremlin Moscow/SvenSimon/picture alliance

روسی حکومت بیلاروس میں جوہری میزائل تعینات کر رہی ہے، ماہرین

روسی یوکرینی جنگ میں گزشتہ چار سال سے بھی زیادہ عرصے میں اب تک فریقین کے دسیوں ہزار فوجی اور عام شہری ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

https://p.dw.com/p/5EL8C
بیلجیم میں ریلوے کراسنگ پر ایک ریل گاڑی اسکول بس سے ٹکرا گئی، دو نوجوانوں سمیت چار افراد ہلاک سیکشن پر جائیں
26 مئی 2026

بیلجیم میں ریلوے کراسنگ پر ایک ریل گاڑی اسکول بس سے ٹکرا گئی، دو نوجوانوں سمیت چار افراد ہلاک

حادثے کے فوراﹰ بعد جائے وقوعہ پر پہنچ جانے والے کارکن اور مقامی حکام
حادثے کے فوراﹰ بعد جائے وقوعہ پر پہنچ جانے والے کارکن اور مقامی حکامتصویر: Bert Van Den Broucke/Photo News/IMAGO

یورپی ملک  بیلجیم میں ایک لیول ریلوے کراسنگ پر منگل 26 مئی کے روز ایک ریل گاڑی کے ایک اسکول بس سے ٹکرا جانے کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے، جن میں دو ٹین ایجر نوجوان بھی شامل ہیں۔ اس حادثے میں دو افراد زخمی بھی ہوئے۔

بیلجیم کے دارالحکومت برسلز سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ریل گاڑی اور اسکول بس کا یہ تصادم بُگن ہُوٹ (Buggenhout) نامی قصبے کے قریب پیش آیا۔

اسپین: تین دنوں میں دوسرا ٹرین حادثہ، ڈرائیور ہلاک، درجنوں افراد زخمی

نشریاتی ادارے آر ٹی ایل نے ملکی وزیر ٹرانسپورٹ ژاں لُک کرک کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مرنے والوں میں اسکول بس کا ڈرائیور بھی شامل ہے اور ایک ایسا دوسرا بالغ شخص بھی، جو بس میں ٹین ایجر طلبہ کے ساتھ ان کی نگہداشت کے لیے سفر کر رہا تھا۔

ہلاک ہونے والے باقی دونوں نوجوان ٹین ایجر تھے اور اسکول بس میں سوار طالب علم۔ ٹرین اور بس کے اس تصادم میں زخمی ہونے والے دونوں افراد کو شدید چوٹیں آئی ہیں۔

اسکول بس سے ٹکرا جانے والی ٹرین اور اس کے پاس کھڑے پولیس اہلکار
اسکول بس سے ٹکرا جانے والی ٹرین اور اس کے پاس کھڑے پولیس اہلکارتصویر: Bert Van Den Broucke/Photo News/IMAGO

حادثہ منگل کو صبح سویرے پیش آیا

بیلجیم کے وزیر ٹرانسپورٹ کے مطابق یہ حادثہ منگل 26 مئی کو صبح سویرے بُگن ہُوٹ نامی قصبے کے اسٹیشن کے قریب پیش آیا۔ یہ قصبہ ملکی دارالحکومت برسلز سے تقریباﹰ 23 کلومیٹر (14.3 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔

ملکی وزیر داخلہ بیرنارڈ کوئنٹن نے اس حادثے کے بعد ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ انہیں اس حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر شدید دکھ ہے۔

اسپین: ٹرین حادثے میں کم از کم 21 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

پولیس کے مطابق یہ طے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ایک مضافاتی سڑک سے گزرنے والی اس لیول کراسنگ پر ٹرین اسکول بس سے کن حالات میں ٹکرا گئی۔

تصادم کے فوراﹰ بعد کئی ہنگامی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی تھیں
تصادم کے فوراﹰ بعد کئی ہنگامی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی تھیںتصویر: Bert Van Den Broucke/Photo News/IMAGO

جرمنی کی ہمسایہ ریاست اور یورپی یونین کے رکن بیلجیم میں ریلوے نیٹ ورک ملک کے بہت سے قصبوں اور دیہات سے ہو کر گزرتا ہے اور وہاں لیول ریلوے کراسنگز پر پیش آنے والے مہلک حادثات وقفے وقفے سے دیکھنے میں آتے رہتے ہیں۔

ریلوے انفراسٹرکچر کی ذمے دار ملکی کمپنی ’انفرابیل‘ کے مطابق 2025 میں ایسی ریلوے کراسنگز پر ہونے والے حادثات میں پانچ افراد مارے گئے تھے اور یہ 2020 کے بعد سے اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی سب سے کم سالانہ تعداد تھی۔

جرمنی: ٹرین حادثے میں کم از کم تین افراد ہلاک

یورپی یونین کے کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈئر لاین نے بھی اپنے ایک پیغام میں ان ہلاکتوں پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کی ہے۔

مونو کیب، ایسی ریل جو سفر میں انقلاب برپا کر سکتی ہے

https://p.dw.com/p/5EKg8
جنوبی ایران میں نئے امریکی فضائی حملوں کے باوجود تہران کے ساتھ امن معاہدہ ممکن، مارکو روبیو سیکشن پر جائیں
26 مئی 2026

جنوبی ایران میں نئے امریکی فضائی حملوں کے باوجود تہران کے ساتھ امن معاہدہ ممکن، مارکو روبیو

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے پاکستان کے دورے کے دوران گیارہ اپریل کو پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کی ایک تصویر
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے پاکستان کے دورے کے دوران گیارہ اپریل کو پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کی ایک تصویرتصویر: Jacquelyn Martin/AP Photo/picture alliance

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکی فوج کی طرف سے جنوبی ایران میں پیر اور منگل کی درمیانی رات کیے گئے نئے فضائی حملوں کے باوجود واشنگٹن اور تہران کے مابین جنگ بندی معاہدے کا طے پا جانا بالکل ممکن ہے۔

روبیو نے، جو ان دنوں بھارت کے کئی روزہ دورے پر ہیں، منگل 26 مئی کے روز صحافیوں کو بتایا، ’’قطر میں مذاکرات جاری رہے، اس لیے ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ آیا ہم اس عمل میں مزید آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘‘

امریکی مذاکرات کار ایران امن ڈیل میں جلد بازی نہ کریں، ٹرمپ

مارکو روبیو نے کہا، ’’میری رائے میں اس وقت ممکنہ جنگ بندی معاہدے کی ابتدائی دستاویز میں استعمال ہونے والی زبان اور متن کے بارے میں کافی زیادہ لے دے ہو رہی ہے، جس میں مزید چند دن لگ سکتے ہیں۔ لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بارے میں اپنی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ امن معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ مگر جیسا کہ انہوں نے کہا بھی ہے، وہ یا تو ایک اچھا جنگ بندی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، یا پھر سرے سے کوئی ڈیل ہو گی ہی نہیں۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، جو ان دنوں بھارت کے کئی روزہ دورے پر ہیں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، جو ان دنوں بھارت کے کئی روزہ دورے پر ہیںتصویر: Manish Swarup/AP Photo/picture alliance

وزیر خارجہ روبیو نے بھارت میں یہ بیان امریکی فوج کی مرکزی کمان کی طرف سے گزشتہ رات کیے گئے اس اعلان کے بعد دیا کہ امریکی فوج نے جنوبی ایران میں اہداف پر ایسے نئے فضائی حملے کیے ہیں، جن کا مقصد ’’اپنا دفاع‘‘ تھا۔

ایران جنگ کے اثرات، خلیج میں نئے اتحاد اور پرانی تقسیم

سینٹ کوم کے مطابق ان حملوں کے دوران ایرانی میزائلوں کی لانچنگ کے لیے استعمال ہونے والی تنصیبات اور ایسی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا، جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کا کام کرتی تھیں۔

https://p.dw.com/p/5EK5G
جنگ میں سیزفائر کے باوجود جنوبی ایران پر نئے فضائی حملے ’اپنے دفاع‘ کے لیے کیے گئے، امریکی فوج سیکشن پر جائیں
26 مئی 2026

جنگ میں سیزفائر کے باوجود جنوبی ایران پر نئے فضائی حملے ’اپنے دفاع‘ کے لیے کیے گئے، امریکی فوج

آبنائے ہرمز کی فضا میں گشت کرتے امریکی جنگی ہیلی کاپٹر
آبنائے ہرمز کی فضا میں گشت کرتے امریکی جنگی ہیلی کاپٹرتصویر: US Central Command/AFP

امریکی فوج کی طرف سے ایران جنگ میں سیزفائر کے باوجود جنوبی ایران پر نئے فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ امریکی فوج کی مرکزی کمان کے مطابق پیر 25 مئی کی رات یہ فضائی حملے امریکہ نے ’اپنے دفاع‘ کے لیے کیے۔

واشنگٹن سے منگل 26 مئی کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق امریکی فوج کی طرف سے کہا گیا کہ ان حملوں میں جنوبی ایران میں میزائلوں کی لانچنگ کے لیے استعمال ہونے والی تنصیبات اور ایسی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا، جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کا کام کرتی تھیں۔

ایران کے ساتھ ڈیل یا تو بامعنی ہو گی یا ہو گی ہی نہیں، ٹرمپ

امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کوم) کے ترجمان ٹم ہاکنز کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’یہ فضائی حملے امریکی دستوں کو ایرانی فورسز کی طرف سے لاحق خطرات سے تحفظ دینے کے لیے کیے گئے، مگر مجموعی طور پر امریکی فوج تاحال جاری فائر بندی کے دوران اپنی طرف سے احتیاط پسندی کا مظاہرہ کرنے اور عسکری کارروائیوں سے اجتناب کی سوچ اپنائے ہوئے ہے۔‘‘

امریکی مذاکرات کار ایران امن ڈیل میں جلد بازی نہ کریں، ٹرمپ

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر، ایڈمرل بریڈ کوپر فلوریڈا میں ایک پریس بریفنگ کے دوران، فائل فوٹو
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر، ایڈمرل بریڈ کوپر فلوریڈا میں ایک پریس بریفنگ کے دوران، فائل فوٹوتصویر: Octavio Jones/AFP/Getty Images

دوبارہ جنگ ہوئی تو جواب ’زیادہ تباہ کن‘ ہو گا، ایران

ان حملوں کے بارے میں ٹم ہاکنز نے مزید کوئی تفصیلات نہ بتائیں۔  یہ بھی واضح نہیں ہے کہ ان نئے امریکی فضائی حملوں سے کتنا نقصان ہوا یا وہ امریکہ اور ایران کے مابین ابھی تک جاری بالواسطہ جنگ بندی مذاکرات پر کس حد تک اثر انداز ہوں گے۔

https://p.dw.com/p/5EJZq
مزید پوسٹیں
Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔