1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپی سیاسی نظام ’خطرے میں،‘ فرانسیسی وزیر خارجہ

مقبول ملک اے ایف پی کے ساتھ
9 جنوری 2026

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے متنبہ کیا ہے کہ یورپی سیاسی نظام ’خطرے میں‘ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یورپی امریکی تعلقات کے حوالے سے کہا کہ کسی امریکی تجویز کو قبول کرنے سے انکار کرنا یورپ کا حق ہے۔

https://p.dw.com/p/56bUr
یورپی یونین، دائیں، اور امریکہ کے پرچم
یورپی یونین، دائیں، اور امریکہ کے پرچمتصویر: Thierry Charlier/Getty Images

فرانسیسی دارالحکومت سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پیرس میں آج جمعہ نو فروری کو فرانس کے بیرون ملک تعینات سفیروں کا سالانہ اجتماع ہو رہا ہے، جس سے خطاب کرتے ہوئے ملکی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے کہا کہ یورپی سیاسی نظام ''خطرے میں ہے، لیکن یورپی تہذیب کوئی ایسی شے نہیں جو ہوا میں تحلیل ہو جائے۔‘‘

میامی مذاکرات کے بعد زیلنسکی یورپ سے مزید مشاورت کے خواہاں

ژاں نوئل بارو نے فرانسیسی سفیروں سے اپنے سالانہ خطاب میں کہا، ''نہیں، یورپی تہذیب ہوا میں تحلیل نہیں ہو جائے گی۔ مگر یہ سچ ہے کہ ہمارا سیاسی نظام آج خطرے میں ہے، اپنے اس بیش قدر استحکام کے باوجود جو اس نظام نے ایسی دنیا میں بھی قائم رکھا ہوا ہے جس کے بارے میں کوئی بھی یقینی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی،  اور ہمارے سائنس، ٹیکنالوجی، ثقافت اور مالیاتی شعبوں میں بہت امیر ہونے کے باوجود۔‘‘

امریکی صدر ٹرمپ اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل رٹے کی وائٹ ہاؤس میں یورپی کمیشن کی صدر، یورپی یونین کے رکن متعدد ممالک کے رہنماؤں، یوکرینی صدر اور برطانوی وزیر اعظم کے ساتھ لی گئی ایک تصویر
امریکی صدر ٹرمپ اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل رٹے کی وائٹ ہاؤس میں یورپی کمیشن کی صدر، یورپی یونین کے رکن متعدد ممالک کے رہنماؤں، یوکرینی صدر اور برطانوی وزیر اعظم کے ساتھ لی گئی ایک تصویرتصویر: Aaron Schwartz/UPI Photo/Newscom/picture alliance

امریکی نیشنل سکیورٹی اسٹریٹیجی میں کیا کہا گیا؟

امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے گزشتہ ماہ دسمبر میں ایک ایسی نیشنل سکیورٹی اسٹریٹیجی جاری کی گئی تھی، جس میں یورپ پر حملے کی حد تک شدید تنقید کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یورپ کو تارکین وطن کی آمد کی وجہ سے اپنے ''تہذیبی طور پر مٹا دیے جانے کے عمل کا سامنا‘‘ ہے۔ ساتھ ہی اس اسٹریٹیجی میں یہ حمایت بھی کی گئی تھی کہ دائیں بازو کی یورپی سیاسی جماعتوں میں ''مزاحمت کی ترویج‘‘ کی جانا چاہیے۔

روسی ایلچی کی میامی روانگی، یوکرینی جنگ سے متعلق نئے مذاکرات

اس امریکی سوچ کو مسترد کرتے ہوئے فرانسیسی وزیر خارجہ بارو نے پیرس میں کہا، ''نہیں، یورپ اپنے تہذیبی طور پر مٹتے جانے کے دہانے پر نہیں ہے اور دکھاوے کے طور پر ایسی آوازوں، جو کہتی ہیں کہ ایسا ہو رہا ہے، کے لیے بہتر یہ ہو گا کہ وہ اپنے مٹتے جانے کی طرف دھیان دینا شروع کریں۔‘‘

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو
فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل باروتصویر: Wiktor Dabkowski/ZUMA/IMAGO

یوکرین کی خودمختاری پر کوئی مصالحت نہیں، جرمن چانسلر

فرانس کے اس اعلیٰ ترین سفارت کار نے یورپ اور امریکہ کے تعلقات کے حوالے سے فرانسیسی سفیروں کو بتایا، ''یہ یورپ کا حق ہے کہ وہ امریکہ کی طرف سے پیش کردہ کسی تجویز کو قبول کرنے سے انکار بھی کر سکے۔ امریکہ ہمارا ایسا اتحادی ہے، جس کے ساتھ ہم ہمیشہ ہی یکسوئی اور ہم آہنگی کے ساتھ کھڑے ہوئے تو نہیں ہوتے۔‘‘

یورپی یونین کو درپیش خطرات

فرانسیسی وزیر خارجہ کے مطابق ان کی رائے میں ''یورپی یونین کو اپنے ایسے بیرونی حریفوں اور مخالفین کی وجہ سے خطرات لاحق ہیں، جو اس علاقائی بلاک کے اندر پائی جانے والی وحدت اور یورپی اتحاد کے رشتوں کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔‘‘

سائنس میں چین کا غلبہ یورپ کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟

يورپی يونين کی دفاعی پاليسی کيا ہو گی؟

ساتھ ہی ژاں نوئل بارو نے تنبیہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین کو اس کے اندر پائے جانے والے ''جمہوریت کے حوالے سے تھکن کے احساس کے باعث‘‘ بھی خطرات کا سامنا ہے۔

یوکرین جنگ: مذاکرات کے لیے یورپی رہنماؤں کا دورہ امریکہ

ان کے الفاظ میں، ''ہمیں ایک بات کا واضح طور پر علم ہونا چاہیے۔ آج ہمارے پاس اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ ہم آئندہ بھی یورپی یونین میں اسی طرح رہتے ہوں گے، جیسے ہم مثلاﹰ گزشتہ ایک دہائی سے رہتے رہے ہیں۔‘‘

ادارت: افسر اعوان

ڈونلڈ ٹرمپ اگر مغربی دفاعی اتحاد نیٹو سے الگ ہو گئے تو کیا ہو گا؟

Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔