1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان کے کہنے پر ٹرمپ نے سیز فائر کی مدت میں توسیع کر دی

جاوید اختر اے پی، روئٹرز، اے ایف پی اور ڈی پی اے کے ساتھ
وقت اشاعت 21 اپریل 2026آخری اپ ڈیٹ 22 اپریل 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی درخواست پر ایران کو مزید وقت دیا گیا۔

https://p.dw.com/p/5CYuU
واشنگٹن، امریکہ، ٹرمپ، شہباز شریف، فیلڈ مارشل، عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی درخواست پر ایران کو مزید وقت دیا گیا، فائل فوٹوتصویر: Government of Pakistan
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • اسلام آباد مذاکرات میں ایرانی شرکت تاحال مبہم
  • پاکستان کا مقامی ساختہ اینٹی شپ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ
  • امریکہ اور ایران دونوں نے اسلام آباد میں نئے جنگ بندی مذاکرات میں شرکت کا اشارہ دے دیا
  • صدر ڈونلڈ ٹرمپ بائبل پڑھنے کے طویل پروگرام میں حصہ لیں گے
  • اس سال اب تک روس یوکرین کے 1,700 مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر چکا، روسی جنرل
  • جرمنی کا ایران سے امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کرنے کا مطالبہ
  • جنگ سے پیدا شدہ بحران کے سبب یورپ کو مشکل موسم گرما کا سامنا ہو گا
  • حزب اللہ کے سربراہ کو ’اپنی جان دے کر قیمت چکانا ہو گی،‘ اسرائیلی وزیر دفاع
  • پاکستان ایرانی وفد کی اسلام آباد آمد کے بارے میں پرامید 
  • ایران نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دے دی
  • ایرانی مذاکراتی وفد اب تک پاکستان کے لیے روانہ نہیں ہوا
  • ایران جنگ کے باعث تاریخ کا توانائی کا سب سے بڑا بحران، انٹرنیشنل انرجی ایجنسی
  • پاکستان میں امریکی ایرانی امن مذاکرات: بحالی تاحال غیر یقینی
ٹرمپ نے سیز فائر کی مدت میں توسیع کر دی سیکشن پر جائیں
وقت اشاعت 21 اپریل 2026آخری اپ ڈیٹ 21 اپریل 2026

ٹرمپ نے سیز فائر کی مدت میں توسیع کر دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

 امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کے نئے دور کے انتظام کے لیے اب پاکستان کو مزید وقت مل گیا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ موجودہ جنگ بندی کے ختم ہونے سے صرف چند گھنٹے قبل پاکستان کی درخواست پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایران کی جانب سے ایک ’’متفقہ تجویز‘‘ کا انتظار ہے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر لکھا کہ وہ جنگ بندی کو اس وقت تک برقرار رکھیں گے جب تک ایران کی جانب سے تجویز پیش نہیں کر دی جاتی اور اس پر مذاکرات کسی ایک نتیجے تک نہیں پہنچ جاتے، چاہے وہ نتیجہ جو بھی ہو۔ تاہم اس تناظر میں انہوں نے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا۔

ٹرمپ کے اس اعلان سے وقتی طور پر دوبارہ لڑائی شروع ہونے کا خطرہ ٹل گیا۔ تاہم فریقین کے درمیان اختلافات اب بھی خاصے سنگین ہیں۔ ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کی بندش کے جواب میں امریکہ نے اس اہم آبی راستے اور ایرانی بندگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ جب تک یہ ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی وہ مذاکرات کی میز پر نہیں آئے گا۔ ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ پہلے ایران کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہوئے قیام امن کے لیے  ڈیل کرنا ہو گی۔

 اس تنازعے کی وجہ سے اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا دور تعطل کا شکار ہے۔ منگل کے دن امریکہ اور ایران کی طرف سے ایسے اشارے دیے گئے کہ اسلام آباد میں یہ مذاکرات بدھ کو شروع ہو سکتے ہیں۔ لیکن ابھی تک سرکاری طور پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

 

https://p.dw.com/p/5CcQX
اسلام آباد مذاکرات میں ایرانی شرکت تاحال مبہم سیکشن پر جائیں
21 اپریل 2026

اسلام آباد مذاکرات میں ایرانی شرکت تاحال مبہم

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ
محض چند گھنٹے قبل نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے دو علاقائی حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ دونوں ممالک نے اسلام آباد واپس آ کر آپس میں امن مذاکرات کرنے کا عندیہ دے دیا ہےتصویر: SA-ZM/Newscom World/Imago

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے منگل 21 اپریل کی شام سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اسلام آباد امن مذاکرات میں شرکت کے لیے ایرانی وفد کی تصدیق کے بارے میں تہران کی جانب سے کوئی باضابطہ جواب تب تک موصول نہیں ہوا تھا۔

تارڑ کا کہنا تھا کہ ایران جنگ میں موجودہ فائر بندی کی مدت پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح چار بج کر 50 منٹ پر ختم ہو رہی ہے۔ لہٰذا ایران کی جانب سے اس سے قبل بات چیت میں شمولیت کا فیصلہ بہت اہم ہے۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا پاکستان مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے ایرانی قیادت کو قائل کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔

تارڑ نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایرانی قیادت کو مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت پر آمادہ کرنے کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں اور امید ظاہر کی ہے کہ ایران اس مکالمت میں شامل ہو گا۔

خیال رہے کہ تارڑ کے اس بیان سے محض چند گھنٹے قبل نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے دو علاقائی حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ دونوں ممالک نے اسلام آباد واپس آ کر آپس میں امن مذاکرات کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ 

ان ذرائع نے یہ بھی بتایا تھا کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ مذاکرات کار، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف بدھ کی صبح اسلام آباد پہنچ کر مذاکراتی ٹیموں کی قیادت کریں گے۔ ان حکام نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بات بتائی کیونکہ وہ میڈیا سے گفتگو کرنے کے مجاز نہیں تھے۔

https://p.dw.com/p/5Cc2k
پاکستان کا مقامی ساختہ اینٹی شپ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ سیکشن پر جائیں
21 اپریل 2026

پاکستان کا مقامی ساختہ اینٹی شپ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ کروز میزائل غیر معمولی درستی کے ساتھ اپنے ہدف تک پہنچا
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ کروز میزائل غیر معمولی درستی کے ساتھ اپنے ہدف تک پہنچاتصویر: AR-ZM-200121/Newscom World/IMAGO

پاکستان نے منگل کے روز مقامی طور پر تیار کردہ اینٹی شپ کروز میزائل تیمور کا کامیاب تجربہ کیا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اینٹی شپ کروز میزائل تیمور کا آج منگل 21 اپریل کو کامیاب تجربہ کیا گیا۔ پاکستانی بحریہ کے مطابق اس میزائل کی لائیو فائرنگ کامیابی سے کی گئی۔

یہ اعلان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب پاکستانی بحریہ اہم بحری راستوں خصوصاﹰ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے انہیں بحری اسکواڈ کے ساتھ لے جانے (اسکارٹ کرنے) کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ کروز میزائل غیر معمولی درستی کے ساتھ اپنے ہدف تک پہنچا۔

’’اس تجربے نے پاکستان نیوی کی اس صلاحیت کی توثیق کر دی کہ وہ دور فاصلے سے سمندر میں موجود دشمن کے اہداف کو تلاش کر کے نشانہ بنا سکتی اور انہیں مؤثر طریقے سے تباہ کر سکتی ہے۔‘‘

اس بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی بحریہ کی جانب سے یہ مظاہرہ قومی دفاعی صلاحیت میں ایک اہم اضافہ ہے اور اس سے پاکستانی مسلح افواج کی روایتی جنگی صلاحیتیں اور مشترکہ حملہ کرنے کی استعداد مزید مضبوط ہوئی ہیں۔
 
بیان کے مطابق ملکی صدر آصف زرداری، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے اس اہم کامیابی پر ملکی سائنس دانوں اور انجینئروں کو مبارک باد دی ہے۔
 

https://p.dw.com/p/5Cbeh
امریکہ اور ایران کے مابین نئے جنگ بندی مذاکرات بدھ کے روز سیکشن پر جائیں
21 اپریل 2026

امریکہ اور ایران کے مابین نئے جنگ بندی مذاکرات بدھ کے روز

منگل 21 اپریل کے روز دو علاقائی حکام نے بتایا کہ دونوں ممالک نے اشارہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی کے نئے مذاکرات میں شامل ہوں گے۔ آٹھ اپریل کو شروع ہونے والی دو ہفتے کی موجودہ فائر بندی کی مدت بدھ 22 اپریل کو ختم ہونے والی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق دو علاقائی حکام نے آج بتایا کہ دونوں ممالک نے اسلام آباد واپس آ کر آپس میں امن مذاکرات کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ان ذرائع نے بتایا کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ مذاکرات کار، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف بدھ کی صبح اسلام آباد پہنچ کر مذاکراتی ٹیموں کی قیادت کریں گے۔ ان حکام نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بات بتائی کیونکہ وہ میڈیا سے گفتگو کرنے کے مجاز نہیں تھے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس
ذرائع نے بتایا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس امریکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کریں گےتصویر: Jacquelyn Martin/AFP

فریقین کے بیانات اب بھی سخت

ایران اور امریکہ دونوں ہی اب بھی سخت بیانات دے رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر فائر بندی کی آخری تاریخ گزرنے سے پہلے کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ’’بہت سے بم پھٹنے لگیں گے۔‘‘

دوسری طرف ایران کے اعلیٰ ترین مذاکرات کار نے کہا کہ تہران کے پاس میدان جنگ میں ’’نئے پتے‘‘ موجود ہیں، جو ابھی تک ظاہر نہیں کیے گئے۔

گزشتہ اختتام ہفتہ پر ایران نے کہا تھا کہ اسے واشنگٹن کی جانب سے نئی تجاویز موصول ہوئی ہیں، تاہم اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں فریقوں کے مابین اب بھی بڑا اختلاف موجود ہے۔ 

 ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف
ذرائع نے بتایا کہ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف بدھ کی صبح اسلام آباد پہنچ کر ایرانی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کریں گےتصویر: Pakistan Ministry of Foreign Affairs/AP Photo/picture alliance

پچھلے مذاکراتی دور کی بات چیت کی ناکامی کی بڑی وجوہات میں ایران کا جوہری افزودگی کا پروگرام، اس کے علاقائی اتحادی گروہ اور آبنائے ہرمز سے متعلق مسائل شامل تھے۔

محمد باقر قالیباف نے منگل کے روز امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس ایران ’’میدان جنگ میں نئے پتے ظاہر کرنے‘‘ کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’ہم دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں کرتے۔‘‘

اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات
اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات 11 اور 12 اپریل کو ہونے والے پہلے مذاکراتی دور کے مقابلے میں زیادہ سخت دکھائی دیتے ہیںتصویر: Aamir Qureshi/AFP

پاکستان کو امن مذاکرات آگے بڑھنے کی امید

پاکستانی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران مزید مذاکرات کے لیے اپنا وفد اسلام آباد بھیجے گا۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ حکام نے ہزاروں اہلکار تعینات کر دیے ہیں اور ہوائی اڈے کی طرف جانے والے راستوں پر حفاظتی گشت بھی بڑھا دیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں مقیم سکیورٹی تجزیہ کار سید محمد علی کے مطابق یہ انتظامات 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مذاکراتی دور کے مقابلے میں زیادہ سخت دکھائی دیتے ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر بات چیت میں پیش رفت ہوئی تو فریقین کی طرف سے مزید اعلیٰ سطحی شخصیات  کی شرکت کا امکان بھی موجود ہے۔

https://p.dw.com/p/5CbdM
صدر ڈونلڈ ٹرمپ بائبل پڑھنے کے طویل پروگرام میں حصہ لیں گے سیکشن پر جائیں
21 اپریل 2026

صدر ڈونلڈ ٹرمپ بائبل پڑھنے کے طویل پروگرام میں حصہ لیں گے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہاتھ میں بائبل لیے ہوئے
صدر ٹرمپ بائبل کے اس حصے کو پڑھیں گے، جو قدیم یروشلم میں بادشاہ سلیمان کے ہیکل کی تقدیس کے موقع سے متعلق ہےتصویر: Tom Brenner/REUTERS

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کئی سرکردہ مسیحی حامیوں اور اعلیٰ ریپبلکن رہنماؤں کے ساتھ مل کر رواں ہفتے بائبل پڑھنے کے ایک طویل اجتماعی پروگرام میں حصہ لیں گے۔

اس پروگرام کو ’امریکہ 250‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کا مقصد مبینہ طور پر ’’ان روحانی بنیادوں کی طرف واپسی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، جنہوں نے امریکہ کو تشکیل دیا۔‘‘

یہ پروگرام اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ اس میں ہر شرکت کنندہ بائبل کا ایک حصہ بلند آواز میں پڑھتا ہے۔ اس کی لائیو اسٹریمنگ اس ہفتے واشنگٹن میں واقع ’میوزیم آف بائبل‘اور دیگر مقامات سے کی جا رہی ہے۔ اس طویل تقریب میں مسیحیوں کی مقدس کتاب بائبل کو پورا پڑھا جائے گا۔

صدر ٹرمپ اپنے اوول آفس سے خطاب کریں گے اور وہ بائبل کے اس حصے کو پڑھیں گے، جو قدیم یروشلم میں بادشاہ سلیمان کے ہیکل کی تقدیس کے موقع سے متعلق ہے۔ اس میں خدا وعدہ کرتا ہے کہ اگر مستقبل میں لوگ گناہ کریں اور پھر توبہ کر لیں، تو انہیں معاف کر دیا جائے گا۔

اس مسیحی مذہبی پروگرام کی منتظم تنظیم ’کرسچنز انگیجڈ‘ نے اپنے مشن کے بارے  میں بتایا، ’’اس میں امریکیوں کو انجیل کے نظریہ حیات اور دعا، ووٹ دینے اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ذمہ داریوں کے بارے میں تربیت دینا شامل ہیں۔‘‘

https://p.dw.com/p/5Caru
اس سال اب تک روس یوکرین کے 1,700 مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر چکا، روسی جنرل سیکشن پر جائیں
21 اپریل 2026

اس سال اب تک روس یوکرین کے 1,700 مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر چکا، روسی جنرل

روسی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف ویلری گیراسیموف
روسی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف ویلری گیراسیموف نے کہا، اس سال کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 80 بستیاں اور 1,700 مربع کلومیٹر سے زائد علاقہ ہمارے کنٹرول میں آ چکے ہیںتصویر: IMAGO/Kremlin Press Office

روسی افواج نے اس سال یوکرین میں اب تک تقریباً 1,700 مربع کلومیٹر (656 مربع میل) علاقہ اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور ڈونباس کے نام نہاد دفاعی شہروں کی پٹی کی طرف پیش قدمی کر رہی ہیں۔ یہ بات روس کے اعلیٰ فوجی کمانڈر نے ملکی دستوں کا معائنہ کرتے ہوئے کہی۔

روس یوکرین میں فوجی مداخلت کے آغاز کے بعد سے مشرقی یوکرین کے علاقے ڈونباس پر مکمل قبضے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس علاقے میں شدید لڑائی کے باعث کییف حکومت کی افواج کو کئی شہروں کی دفاعی لائن کی طرف پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔

دوسری جانب یوکرین نے بھی دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کی سب سے مہلک جنگ میں کچھ پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔ یوکرین کےاعلیٰ فوجی کمانڈر اولیکسانڈر سرسکی نے کہا کہ یوکرینی افواج نے مارچ میں تقریباً 50 مربع کلومیٹر علاقہ دوبارہ حاصل کر لیا۔

روسی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف ویلری گیراسیموف نے ماسکو میں وزارت دفاع کی جانب سے منگل کے روز جاری کی گئی ایک ویڈیو میں کہا، ’’اس سال کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 80 بستیاں اور 1,700 مربع کلومیٹر سے زائد علاقہ ہمارے کنٹرول میں آ چکے ہیں۔‘‘

خبر رساں ادارہ روئٹرز ان عسکری دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہ کر سکا، جبکہ یوکرینی جنرل اسٹاف کے ایک ترجمان نے روسی دعوے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
 

https://p.dw.com/p/5Caqc
جرمنی کا ایران سے امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کرنے کا مطالبہ سیکشن پر جائیں
21 اپریل 2026

جرمنی کا ایران سے امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کرنے کا مطالبہ

جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول
جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش پر تنقید بھی کیتصویر: Sebastian Gollnow/dpa/picture alliance

وفاقی جرمن حکومت نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واشنگٹن کی جانب سے کی گئی نئے امن مذاکرات کی پیشکش کا جواب دے۔

جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے لکسمبرگ میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس کے موقع پر کہا، ’’ہم اب فوری طور پر ایران سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اسلام آباد آئے اور امریکہ کے ساتھ تعمیری مذاکرات کرے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ جنگ جلد ہی اپنے تیسرے مہینے میں داخل ہونے والی ہے اور سب کی خواہش ہے کہ اس تنازعے کو جلد از جلد حل کیا جانا چاہیے۔

جرمن وزیر خارجہ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش پر تنقید بھی کی۔

انہوں نے کہا، ’’ہم ایران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے آبنائے ہرمز کے ذریعے آزادانہ اور محفوظ جہاز رانی کو بحال کرے۔‘‘

واڈے فیہول نے مزید کہا کہ یورپ اس مقصد کے لیے خلیجی خطے میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ متفق ہے اور تنازعہ ختم ہونے کے بعد صورت حال کو مستحکم بنانے میں میں مدد کرنے پر تیار بھی۔
 

https://p.dw.com/p/5Caow
جنگ سے پیدا شدہ بحران کے سبب یورپ کو مشکل موسم گرما کا سامنا ہو گا سیکشن پر جائیں
21 اپریل 2026

جنگ سے پیدا شدہ بحران کے سبب یورپ کو مشکل موسم گرما کا سامنا ہو گا

یورپی فضائی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ کے نتیجے میں چند ہفتوں کے اندر جیٹ فیول کی شدید کمی پیدا ہو سکتی ہے
یورپی فضائی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ کے نتیجے میں چند ہفتوں کے اندر جیٹ فیول کی شدید کمی پیدا ہو سکتی ہےتصویر: Eric Piermont/AFP

یورپی یونین کے توانائی سے متعلقہ امور کے نگران کمشنر ڈین یورگینسن نے منگل کے ورز کہا کہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث یورپ کو آنے والی گرمیوں میں، بہترین ممکنہ صورتحال میں بھی، ایندھن کی کمی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے ہسپانوی دارالحکومت میڈرڈ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین ایران جنگ کے باعث جیٹ فیول کی فراہمی پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کی تیاری کر رہی ہے۔

یورگینسن نے کہا، ’’اگر ضرورت پڑی تو ہم اپنے پاس موجود جیٹ فیول کے وسائل کو دوبارہ تقسیم کر سکتے اور آپس میں بانٹ سکتے ہیں۔‘‘

یورپی فضائی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ کے نتیجے میں چند ہفتوں کے اندر جیٹ فیول کی شدید کمی پیدا ہو سکتی ہے، کیونکہ اس جنگ نے آبنائے ہرمز کے اہم سپلائی روٹ کو بند کر دیا ہے۔

یورپ کا تقریباً 75 فیصد جیٹ فیول مشرق وسطیٰ سے آتا ہے، اسی لیے اس راستے کی بندش سے یورپ کی توانائی اور فضائی نقل و حمل کی صنعت پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔

دریں اثنا فرانس کے وزیر خزانہ رولاں لیسکیور نے بتایا کہ ایران جنگ کے معاشی اثرات نے فرانس کو تقریباً 4 بلین یورو سے لے کر 6 بلین یورو (تقریباً 4.7 بلین تا 7 بلین ڈالر) تک کا نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیرس حکومت اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے نئے اقدامات کی تیاری کر رہی ہے۔

اسی دوران جرمن وزیر اقتصادیات نے بھی منگل کے روز کہا کہ جیٹ ایندھن کی فراہمی کو کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ ریفائنریاں بڑھتی ہوئی طلب کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

https://p.dw.com/p/5Cacy
حزب اللہ کے سربراہ کو ’اپنی جان دے کر قیمت چکانا ہو گی،‘ اسرائیلی وزیر دفاع سیکشن پر جائیں
21 اپریل 2026

حزب اللہ کے سربراہ کو ’اپنی جان دے کر قیمت چکانا ہو گی،‘ اسرائیلی وزیر دفاع

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ جو بھی اسرائیل کے خلاف ہاتھ اٹھائے گا، اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گاتصویر: Ariel Hermoni/Verteidigungsministerium/dpa/picture alliance

اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اس ہفتے واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے نئے مذاکرات سے قبل ایک بار پھر حزب اللہ کے سربراہ کو ہلاک کر دینے کی دھمکی دی ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق کاٹز نے منگل کے روز تل ابیب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کو اپنے سر کی قیمت چکانا ہو گی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ موجودہ جنگ بندی کے دوران بھی حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اسرائیل کا ایک مرکزی ہدف ہے۔

کاٹز کے مطابق یہ گروہ ’’اپنے ایرانی آقاؤں کی خدمت کرتے ہوئے اسرائیل پر حملے کرتا رہا ہے‘‘ اور اسے اس کی قیمت ادا کرنا ہی پڑے گی۔

حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم
حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسمتصویر: Houssam Shbaro/Anadolu/picture alliance

اسرائیلی خبر رساں ادارے وائی نیٹ کے مطابق کاٹز نے مزید کہا، ’’جو بھی اسرائیل کے خلاف ہاتھ اٹھائے گا، اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔‘‘

تجزیہ کاروں کے مطابق، سات اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیلی سرحدی بستیوں پر حملے کے بعد اسرائیل نے اپنی فوجی حکمت عملی بدل دی ہے۔ اب وہ صرف روک تھام کی پالیسی کے بجائے بھرپور اور پیشگی عسکری کارروائیوں پر توجہ دے رہا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان سفیروں کی سطح پر واشنگٹن میں نئے مذاکرات رواں ہفتے جمعرات کو شروع ہوں گے۔

https://p.dw.com/p/5Ca7b
پاکستان ایرانی وفد کی اسلام آباد آمد کے بارے میں پرامید سیکشن پر جائیں
21 اپریل 2026

پاکستان ایرانی وفد کی اسلام آباد آمد کے بارے میں پرامید

فوجی وردی میں ملبوس عاصم منیر تہران میں ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے ساتھ، سولہ اپریل کو لی گئی ایک تصویر
پاکستانی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران بھی منگل کی رات تک اپنا ایک وفد اسلام آباد بھیج دے گاتصویر: Hamed Malekpour/Islamic Consultative Assembly News Agency/AP Photo/dpa/picture alliance

امریکہ اور ایران کے مابین سخت سیاسی بیانات کے باوجود پاکستانی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران بھی منگل کی رات تک اپنا ایک وفد اسلام آباد بھیج دے گا تاکہ مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکیں۔

امریکی سفارتی منصوبہ بندی سے واقف ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ امریکہ کا ایک وفد امن مذاکرات کے نئے دور کے لیے ’’جلد‘‘ پاکستان روانہ ہو گا۔ امریکی ٹیم کی قیادت متوقع طور پر نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی بہت سخت کر دی گئی ہے۔ حکام نے ہزاروں اہلکار تعینات کیے ہیں اور ہوائی اڈے کی طرف جانے والے راستوں پر گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ انتظامات 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے پہلے امریکی ایرانی مذاکراتی دور کے مقابلے میں زیادہ سخت دکھائی دیتے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر مذاکرات میں پیش رفت ہوئی تو اور بھی اعلیٰ سطح کی قیادت کی شرکت بھی ممکن ہے۔

اسلام آباد میں مقیم سکیورٹی تجزیہ کار سید محمد علی نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا، ’’ایسا لگتا ہے کہ پاکستان اس امکان کی تیاری کر رہا ہے کہ اگر مذاکرات اس مرحلے تک پہنچ جائیں جہاں معاہدہ طے ہو سکے، تو امریکہ اور ایران کے اعلیٰ رہنما بھی پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔‘‘

دریں اثنا پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کے روز اپنے مصری ہم منصب بدر عبدالعطی سے ٹیلی فون پر بات کی اور اسلام آباد میں چینی سفیر سے بھی ملاقات کی۔
 

https://p.dw.com/p/5Ca6N
ایران نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دے دی سیکشن پر جائیں
21 اپریل 2026

ایران نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دے دی

ایرانی پولیس مبینہ جاسوس کو پھانسی دینے کی تیاری کر رہی ہے
یہ سزائے موت اس حالیہ سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے، جس میں ایرانی حکام حکومت مخالف مظاہروں کے بعد سے تیزی لا چکے ہیںتصویر: Abedin Taherkenareh/EPA/picture-alliance/dpa

ایرانی عدلیہ کی نیوز ویب سائٹ میزان کے مطابق ایک شخص، جس پر اسرائیل کی خفیہ ایجنسی سے منسلک نیٹ ورک کی قیادت اور جنوری میں احتجاج کے دوران تہران کی ایک مسجد کو نذر آتش کرنے کا الزام تھا، کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔ 

میزان کی ایک رپورٹ کے مطابق امیر علی میر جعفری پر الزام تھا کہ وہ ’’دشمن کے ساتھ تعاون کرنے والے مسلح عناصر میں سے ایک تھا، جس نے قلہک کی جامع مسجد کو آگ لگانے کی کوشش کی اور اس علاقے میں موساد کے نیٹ ورک کی سرگرمیوں کا سربراہ تھا۔‘‘ اسے آج منگل کی صبح پھانسی دے دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق یہ سزائے موت اس حالیہ سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے، جس میں ایرانی حکام حکومت مخالف مظاہروں کے بعد سے تیزی لا چکے ہیں۔ تہران حکومت ان گزشتہ احتجاجی مظاہروں کا الزام ملکی اپوزیشن گروپوں اور بیرونی مداخلت بالخصوص اسرائیل اور امریکہ پر عائد کرتی ہے۔

https://p.dw.com/p/5CZev
ایرانی مذاکراتی وفد اب تک پاکستان کے لیے روانہ نہیں ہوا سیکشن پر جائیں
21 اپریل 2026

ایرانی مذاکراتی وفد اب تک پاکستان کے لیے روانہ نہیں ہوا

پہلے مذاکراتی دور میں ایرانی وفد کی قیادت ملکی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی تھی۔
پہلے مذاکراتی دور میں ایرانی وفد کی قیادت ملکی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی تھیتصویر: Pakistan Ministry of Foreign Affairs/AP Photo/picture alliance

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے ایران کا کوئی وفد ابھی تک پاکستان کے لیے روانہ نہیں ہوا۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق، ’’اب تک ایران سے کوئی وفد پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کے لیے روانہ نہیں ہوا، خواہ وہ مرکزی وفد ہو یا ذیلی وفد، بنیادی ہو یا ثانوی۔‘‘

اس بیان کے ذریعے ان خبروں کو مسترد کر دیا گیا ہے، جن میں اس کے برعکس دعوے کیے جا رہے تھے۔

ادھر امریکی منصوبہ بندی سے واقف ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ امریکہ کا ایک وفد امن مذاکرات کے نئے دور کے لیے ’’جلد‘‘ پاکستان روانہ ہو گا۔

امریکی ٹیم کی قیادت متوقع طور پر ملکی نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے جبکہ ایران نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ اس کے وفد کی قیادت کون کرے گا۔ گیارہ اپریل کو ہونے والے پہلے مذاکراتی دور میں ایرانی وفد کی قیادت ملکی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی تھی۔

https://p.dw.com/p/5CZeC
ایران جنگ کے باعث تاریخ کا توانائی کا سب سے بڑا بحران، انٹرنیشنل انرجی ایجنسی سیکشن پر جائیں
21 اپریل 2026

ایران جنگ کے باعث تاریخ کا توانائی کا سب سے بڑا بحران، انٹرنیشنل انرجی ایجنسی

یہ صورت حال روسی یوکرینی جنگ کے اثرات کے ساتھ سنگین تر ہو گئی ہے
یہ صورت حال روسی یوکرینی جنگ کے اثرات کے ساتھ سنگین تر ہو گئی ہےتصویر: Sunil Ghosh/Hindustan Times/IMAGO

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ ڈاکٹر فاتح بیرول نے منگل کے روز کہا کہ ایران جنگ نے ایک کثیر الملکی تنازعے کے طور پر دنیا میں توانائی کے شعبے میں تاریخ کا سب سے بڑا بحران پیدا کر دیا ہے۔

انہوں نے فرانسیسی ریڈیو’فرانس انٹر‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا، ’’یہ واقعی تاریخ کا سب سے بڑا بحران ہے۔‘‘

ڈاکٹر بیرول نے مزید کہا، ’’اگر آپ روس سے متعلق گیس کے بحران اور پٹرول کے بحران کے اثرات کو بھی شامل کریں، تو یہ بحران پہلے ہی بہت بڑا ہو چکا ہے۔‘‘

مشرق وسطیٰ میں موجودہ جنگ نے آبنائے ہرمز میں سمندری آمد و رفت کو شدید متاثر کیا ہے، جو عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے تقریباً پانچویں حصے کی برآمدی ترسیل کے لیے اہم ترین راستہ ہے۔

یہ صورت حال اس روسی یوکرینی جنگ کے اثرات کے ساتھ سنگین تر ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں روس کی طرف سے یورپ کو گیس کی فراہمی پہلے ہی طویل عرصے سے متاثر ہے۔

بیرول اس مہینے کے آغاز میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ عالمی سطح پر توانائی کی موجودہ صورتحال 1973، 1979 اور 2022 کے توانائی کے بحرانوں کی مجموعی شدت سے بھی زیادہ سنگین ہے۔

مارچ میں بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے اپنے اسٹریٹیجک ذخائر میں سے 400 ملین بیرل تیل جاری کرنے کا ریکارڈ فیصلہ کیا تھا، جس کا سبب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث پیدا ہونے والا دباؤ تھا۔

https://p.dw.com/p/5CZBP
پاکستان میں امریکی ایرانی امن مذاکرات: بحالی تاحال غیر یقینی سیکشن پر جائیں
21 اپریل 2026

پاکستان میں امریکی ایرانی امن مذاکرات: بحالی تاحال غیر یقینی

کل 22 اپریل بدھ کے روز ایران جنگ میں موجودہ فائر بندی کے اپنے اختتام کے قریب آتے جانے کے ساتھ ساتھ اہم رکاوٹیں اور غیر یقینی صورتحال بدستور موجود ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے اور اسٹاک مارکیٹ میں دھچکوں کو روکے، لیکن انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت نہیں ہونا چاہیے۔

دوسری طرف تہران چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو استعمال کرتے ہوئے ایسا معاہدہ کر سکے، جو جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کو روکے، پابندیوں میں نرمی لائے اور اس کے جوہری پروگرام میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک ایرانی عہدیدار نے کہا کہ تہران مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے ’مثبت انداز میں جائزہ‘ لے رہا ہے، حالانکہ اس سے پہلے اس امکان کو مسترد کر دیا گیا تھا، تاہم اس اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے واضح کیا کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

مذاکرات کی کوششوں میں شامل ایک پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ بدھ کے روز مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے پیش رفت ہو رہی ہے اور اگر کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ڈونلڈ ٹرمپ ذاتی طور پر یا ورچوئل سطح پر اس میں شرکت کر سکتے ہیں۔

اس ذریعے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، ’’معاملات آگے بڑھ رہے ہیں اور مذاکرات کے لیے درست سمت میں جا رہے ہیں۔‘‘

مذاکرات کی کوششوں میں شامل ایک پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ بدھ کے روز مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے پیش رفت ہو رہی ہے
مذاکرات کی کوششوں میں شامل ایک پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ بدھ کے روز مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے پیش رفت ہو رہی ہےتصویر: Aamir Qureshi/AFP

’جنگ کے لیے تیار‘

امریکہ اور ایران دونوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ بندی ختم ہو گئی تو وہ جنگ کے لیے تیار ہیں۔ اس دوران ان مذاکرات کے بارے میں غیر یقینی صورتحال بھی برقرار ہے جن کے بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ پاکستان میں دوبارہ شروع ہوں گے۔

موجودہ چودہ روزہ جنگ بندی بدھ کے روز ختم ہونے والی ہے۔ اس حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا، ’’مجھے ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے۔‘‘

دوسری طرف ایران کے بااثر پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف، جنہوں نے گزشتہ بات چیت میں ایرانی وفد کی قیادت کی تھی، نے کہا، ’’ڈونلڈ ٹرمپ ناکہ بندی مسلط کر کے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کر کے اس مذاکراتی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں بدلنا چاہتے ہیں یا اپنی مرضی کے مطابق دوبارہ دشمنی کو جواز دینا چاہتے ہیں۔‘‘

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’ہم دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں کرتے، اور گزشتہ دو ہفتوں میں ہم میدان جنگ میں نئے پتے دکھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔‘‘

دریں اثنا وائٹ ہاؤس نے کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس دوبارہ پاکستان جانے کے لیے تیار ہیں، جہاں مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی اور عالمی منڈیوں کو ہلا دینے والی ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے دوسرے دور کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

ادارت: مقبول ملک

https://p.dw.com/p/5CZ0F
مزید پوسٹیں
Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔