پاکستان کے کہنے پر ٹرمپ نے سیز فائر کی مدت میں توسیع کر دی
وقت اشاعت 21 اپریل 2026آخری اپ ڈیٹ 22 اپریل 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- اسلام آباد مذاکرات میں ایرانی شرکت تاحال مبہم
- پاکستان کا مقامی ساختہ اینٹی شپ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ
- امریکہ اور ایران دونوں نے اسلام آباد میں نئے جنگ بندی مذاکرات میں شرکت کا اشارہ دے دیا
- صدر ڈونلڈ ٹرمپ بائبل پڑھنے کے طویل پروگرام میں حصہ لیں گے
- اس سال اب تک روس یوکرین کے 1,700 مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر چکا، روسی جنرل
- جرمنی کا ایران سے امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کرنے کا مطالبہ
- جنگ سے پیدا شدہ بحران کے سبب یورپ کو مشکل موسم گرما کا سامنا ہو گا
- حزب اللہ کے سربراہ کو ’اپنی جان دے کر قیمت چکانا ہو گی،‘ اسرائیلی وزیر دفاع
- پاکستان ایرانی وفد کی اسلام آباد آمد کے بارے میں پرامید
- ایران نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دے دی
- ایرانی مذاکراتی وفد اب تک پاکستان کے لیے روانہ نہیں ہوا
- ایران جنگ کے باعث تاریخ کا توانائی کا سب سے بڑا بحران، انٹرنیشنل انرجی ایجنسی
- پاکستان میں امریکی ایرانی امن مذاکرات: بحالی تاحال غیر یقینی
ٹرمپ نے سیز فائر کی مدت میں توسیع کر دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار رہے گی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کے نئے دور کے انتظام کے لیے اب پاکستان کو مزید وقت مل گیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ موجودہ جنگ بندی کے ختم ہونے سے صرف چند گھنٹے قبل پاکستان کی درخواست پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایران کی جانب سے ایک ’’متفقہ تجویز‘‘ کا انتظار ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر لکھا کہ وہ جنگ بندی کو اس وقت تک برقرار رکھیں گے جب تک ایران کی جانب سے تجویز پیش نہیں کر دی جاتی اور اس پر مذاکرات کسی ایک نتیجے تک نہیں پہنچ جاتے، چاہے وہ نتیجہ جو بھی ہو۔ تاہم اس تناظر میں انہوں نے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا۔
ٹرمپ کے اس اعلان سے وقتی طور پر دوبارہ لڑائی شروع ہونے کا خطرہ ٹل گیا۔ تاہم فریقین کے درمیان اختلافات اب بھی خاصے سنگین ہیں۔ ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کی بندش کے جواب میں امریکہ نے اس اہم آبی راستے اور ایرانی بندگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ جب تک یہ ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی وہ مذاکرات کی میز پر نہیں آئے گا۔ ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ پہلے ایران کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہوئے قیام امن کے لیے ڈیل کرنا ہو گی۔
اس تنازعے کی وجہ سے اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا دور تعطل کا شکار ہے۔ منگل کے دن امریکہ اور ایران کی طرف سے ایسے اشارے دیے گئے کہ اسلام آباد میں یہ مذاکرات بدھ کو شروع ہو سکتے ہیں۔ لیکن ابھی تک سرکاری طور پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
اسلام آباد مذاکرات میں ایرانی شرکت تاحال مبہم
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے منگل 21 اپریل کی شام سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اسلام آباد امن مذاکرات میں شرکت کے لیے ایرانی وفد کی تصدیق کے بارے میں تہران کی جانب سے کوئی باضابطہ جواب تب تک موصول نہیں ہوا تھا۔
تارڑ کا کہنا تھا کہ ایران جنگ میں موجودہ فائر بندی کی مدت پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح چار بج کر 50 منٹ پر ختم ہو رہی ہے۔ لہٰذا ایران کی جانب سے اس سے قبل بات چیت میں شمولیت کا فیصلہ بہت اہم ہے۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا پاکستان مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے ایرانی قیادت کو قائل کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔
تارڑ نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایرانی قیادت کو مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت پر آمادہ کرنے کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں اور امید ظاہر کی ہے کہ ایران اس مکالمت میں شامل ہو گا۔
خیال رہے کہ تارڑ کے اس بیان سے محض چند گھنٹے قبل نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے دو علاقائی حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ دونوں ممالک نے اسلام آباد واپس آ کر آپس میں امن مذاکرات کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
ان ذرائع نے یہ بھی بتایا تھا کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ مذاکرات کار، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف بدھ کی صبح اسلام آباد پہنچ کر مذاکراتی ٹیموں کی قیادت کریں گے۔ ان حکام نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بات بتائی کیونکہ وہ میڈیا سے گفتگو کرنے کے مجاز نہیں تھے۔
پاکستان کا مقامی ساختہ اینٹی شپ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ
پاکستان نے منگل کے روز مقامی طور پر تیار کردہ اینٹی شپ کروز میزائل تیمور کا کامیاب تجربہ کیا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اینٹی شپ کروز میزائل تیمور کا آج منگل 21 اپریل کو کامیاب تجربہ کیا گیا۔ پاکستانی بحریہ کے مطابق اس میزائل کی لائیو فائرنگ کامیابی سے کی گئی۔
یہ اعلان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب پاکستانی بحریہ اہم بحری راستوں خصوصاﹰ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے انہیں بحری اسکواڈ کے ساتھ لے جانے (اسکارٹ کرنے) کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ کروز میزائل غیر معمولی درستی کے ساتھ اپنے ہدف تک پہنچا۔
’’اس تجربے نے پاکستان نیوی کی اس صلاحیت کی توثیق کر دی کہ وہ دور فاصلے سے سمندر میں موجود دشمن کے اہداف کو تلاش کر کے نشانہ بنا سکتی اور انہیں مؤثر طریقے سے تباہ کر سکتی ہے۔‘‘
اس بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی بحریہ کی جانب سے یہ مظاہرہ قومی دفاعی صلاحیت میں ایک اہم اضافہ ہے اور اس سے پاکستانی مسلح افواج کی روایتی جنگی صلاحیتیں اور مشترکہ حملہ کرنے کی استعداد مزید مضبوط ہوئی ہیں۔
بیان کے مطابق ملکی صدر آصف زرداری، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے اس اہم کامیابی پر ملکی سائنس دانوں اور انجینئروں کو مبارک باد دی ہے۔
امریکہ اور ایران کے مابین نئے جنگ بندی مذاکرات بدھ کے روز
منگل 21 اپریل کے روز دو علاقائی حکام نے بتایا کہ دونوں ممالک نے اشارہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی کے نئے مذاکرات میں شامل ہوں گے۔ آٹھ اپریل کو شروع ہونے والی دو ہفتے کی موجودہ فائر بندی کی مدت بدھ 22 اپریل کو ختم ہونے والی ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق دو علاقائی حکام نے آج بتایا کہ دونوں ممالک نے اسلام آباد واپس آ کر آپس میں امن مذاکرات کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ان ذرائع نے بتایا کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ مذاکرات کار، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف بدھ کی صبح اسلام آباد پہنچ کر مذاکراتی ٹیموں کی قیادت کریں گے۔ ان حکام نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بات بتائی کیونکہ وہ میڈیا سے گفتگو کرنے کے مجاز نہیں تھے۔
فریقین کے بیانات اب بھی سخت
ایران اور امریکہ دونوں ہی اب بھی سخت بیانات دے رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر فائر بندی کی آخری تاریخ گزرنے سے پہلے کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ’’بہت سے بم پھٹنے لگیں گے۔‘‘
دوسری طرف ایران کے اعلیٰ ترین مذاکرات کار نے کہا کہ تہران کے پاس میدان جنگ میں ’’نئے پتے‘‘ موجود ہیں، جو ابھی تک ظاہر نہیں کیے گئے۔
گزشتہ اختتام ہفتہ پر ایران نے کہا تھا کہ اسے واشنگٹن کی جانب سے نئی تجاویز موصول ہوئی ہیں، تاہم اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں فریقوں کے مابین اب بھی بڑا اختلاف موجود ہے۔
پچھلے مذاکراتی دور کی بات چیت کی ناکامی کی بڑی وجوہات میں ایران کا جوہری افزودگی کا پروگرام، اس کے علاقائی اتحادی گروہ اور آبنائے ہرمز سے متعلق مسائل شامل تھے۔
محمد باقر قالیباف نے منگل کے روز امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس ایران ’’میدان جنگ میں نئے پتے ظاہر کرنے‘‘ کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’ہم دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں کرتے۔‘‘
پاکستان کو امن مذاکرات آگے بڑھنے کی امید
پاکستانی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران مزید مذاکرات کے لیے اپنا وفد اسلام آباد بھیجے گا۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ حکام نے ہزاروں اہلکار تعینات کر دیے ہیں اور ہوائی اڈے کی طرف جانے والے راستوں پر حفاظتی گشت بھی بڑھا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں مقیم سکیورٹی تجزیہ کار سید محمد علی کے مطابق یہ انتظامات 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مذاکراتی دور کے مقابلے میں زیادہ سخت دکھائی دیتے ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر بات چیت میں پیش رفت ہوئی تو فریقین کی طرف سے مزید اعلیٰ سطحی شخصیات کی شرکت کا امکان بھی موجود ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ بائبل پڑھنے کے طویل پروگرام میں حصہ لیں گے
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کئی سرکردہ مسیحی حامیوں اور اعلیٰ ریپبلکن رہنماؤں کے ساتھ مل کر رواں ہفتے بائبل پڑھنے کے ایک طویل اجتماعی پروگرام میں حصہ لیں گے۔
اس پروگرام کو ’امریکہ 250‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کا مقصد مبینہ طور پر ’’ان روحانی بنیادوں کی طرف واپسی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، جنہوں نے امریکہ کو تشکیل دیا۔‘‘
یہ پروگرام اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ اس میں ہر شرکت کنندہ بائبل کا ایک حصہ بلند آواز میں پڑھتا ہے۔ اس کی لائیو اسٹریمنگ اس ہفتے واشنگٹن میں واقع ’میوزیم آف بائبل‘اور دیگر مقامات سے کی جا رہی ہے۔ اس طویل تقریب میں مسیحیوں کی مقدس کتاب بائبل کو پورا پڑھا جائے گا۔
صدر ٹرمپ اپنے اوول آفس سے خطاب کریں گے اور وہ بائبل کے اس حصے کو پڑھیں گے، جو قدیم یروشلم میں بادشاہ سلیمان کے ہیکل کی تقدیس کے موقع سے متعلق ہے۔ اس میں خدا وعدہ کرتا ہے کہ اگر مستقبل میں لوگ گناہ کریں اور پھر توبہ کر لیں، تو انہیں معاف کر دیا جائے گا۔
اس مسیحی مذہبی پروگرام کی منتظم تنظیم ’کرسچنز انگیجڈ‘ نے اپنے مشن کے بارے میں بتایا، ’’اس میں امریکیوں کو انجیل کے نظریہ حیات اور دعا، ووٹ دینے اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ذمہ داریوں کے بارے میں تربیت دینا شامل ہیں۔‘‘
اس سال اب تک روس یوکرین کے 1,700 مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر چکا، روسی جنرل
روسی افواج نے اس سال یوکرین میں اب تک تقریباً 1,700 مربع کلومیٹر (656 مربع میل) علاقہ اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور ڈونباس کے نام نہاد دفاعی شہروں کی پٹی کی طرف پیش قدمی کر رہی ہیں۔ یہ بات روس کے اعلیٰ فوجی کمانڈر نے ملکی دستوں کا معائنہ کرتے ہوئے کہی۔
روس یوکرین میں فوجی مداخلت کے آغاز کے بعد سے مشرقی یوکرین کے علاقے ڈونباس پر مکمل قبضے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس علاقے میں شدید لڑائی کے باعث کییف حکومت کی افواج کو کئی شہروں کی دفاعی لائن کی طرف پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔
دوسری جانب یوکرین نے بھی دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کی سب سے مہلک جنگ میں کچھ پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔ یوکرین کےاعلیٰ فوجی کمانڈر اولیکسانڈر سرسکی نے کہا کہ یوکرینی افواج نے مارچ میں تقریباً 50 مربع کلومیٹر علاقہ دوبارہ حاصل کر لیا۔
روسی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف ویلری گیراسیموف نے ماسکو میں وزارت دفاع کی جانب سے منگل کے روز جاری کی گئی ایک ویڈیو میں کہا، ’’اس سال کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 80 بستیاں اور 1,700 مربع کلومیٹر سے زائد علاقہ ہمارے کنٹرول میں آ چکے ہیں۔‘‘
خبر رساں ادارہ روئٹرز ان عسکری دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہ کر سکا، جبکہ یوکرینی جنرل اسٹاف کے ایک ترجمان نے روسی دعوے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
جرمنی کا ایران سے امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کرنے کا مطالبہ
وفاقی جرمن حکومت نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واشنگٹن کی جانب سے کی گئی نئے امن مذاکرات کی پیشکش کا جواب دے۔
جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے لکسمبرگ میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس کے موقع پر کہا، ’’ہم اب فوری طور پر ایران سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اسلام آباد آئے اور امریکہ کے ساتھ تعمیری مذاکرات کرے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جنگ جلد ہی اپنے تیسرے مہینے میں داخل ہونے والی ہے اور سب کی خواہش ہے کہ اس تنازعے کو جلد از جلد حل کیا جانا چاہیے۔
جرمن وزیر خارجہ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش پر تنقید بھی کی۔
انہوں نے کہا، ’’ہم ایران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے آبنائے ہرمز کے ذریعے آزادانہ اور محفوظ جہاز رانی کو بحال کرے۔‘‘
واڈے فیہول نے مزید کہا کہ یورپ اس مقصد کے لیے خلیجی خطے میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ متفق ہے اور تنازعہ ختم ہونے کے بعد صورت حال کو مستحکم بنانے میں میں مدد کرنے پر تیار بھی۔
جنگ سے پیدا شدہ بحران کے سبب یورپ کو مشکل موسم گرما کا سامنا ہو گا
یورپی یونین کے توانائی سے متعلقہ امور کے نگران کمشنر ڈین یورگینسن نے منگل کے ورز کہا کہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث یورپ کو آنے والی گرمیوں میں، بہترین ممکنہ صورتحال میں بھی، ایندھن کی کمی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے ہسپانوی دارالحکومت میڈرڈ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین ایران جنگ کے باعث جیٹ فیول کی فراہمی پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کی تیاری کر رہی ہے۔
یورگینسن نے کہا، ’’اگر ضرورت پڑی تو ہم اپنے پاس موجود جیٹ فیول کے وسائل کو دوبارہ تقسیم کر سکتے اور آپس میں بانٹ سکتے ہیں۔‘‘
یورپی فضائی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ کے نتیجے میں چند ہفتوں کے اندر جیٹ فیول کی شدید کمی پیدا ہو سکتی ہے، کیونکہ اس جنگ نے آبنائے ہرمز کے اہم سپلائی روٹ کو بند کر دیا ہے۔
یورپ کا تقریباً 75 فیصد جیٹ فیول مشرق وسطیٰ سے آتا ہے، اسی لیے اس راستے کی بندش سے یورپ کی توانائی اور فضائی نقل و حمل کی صنعت پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔
دریں اثنا فرانس کے وزیر خزانہ رولاں لیسکیور نے بتایا کہ ایران جنگ کے معاشی اثرات نے فرانس کو تقریباً 4 بلین یورو سے لے کر 6 بلین یورو (تقریباً 4.7 بلین تا 7 بلین ڈالر) تک کا نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیرس حکومت اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے نئے اقدامات کی تیاری کر رہی ہے۔
اسی دوران جرمن وزیر اقتصادیات نے بھی منگل کے روز کہا کہ جیٹ ایندھن کی فراہمی کو کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ ریفائنریاں بڑھتی ہوئی طلب کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
حزب اللہ کے سربراہ کو ’اپنی جان دے کر قیمت چکانا ہو گی،‘ اسرائیلی وزیر دفاع
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اس ہفتے واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے نئے مذاکرات سے قبل ایک بار پھر حزب اللہ کے سربراہ کو ہلاک کر دینے کی دھمکی دی ہے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق کاٹز نے منگل کے روز تل ابیب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کو اپنے سر کی قیمت چکانا ہو گی۔‘‘
انہوں نے کہا کہ موجودہ جنگ بندی کے دوران بھی حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اسرائیل کا ایک مرکزی ہدف ہے۔
کاٹز کے مطابق یہ گروہ ’’اپنے ایرانی آقاؤں کی خدمت کرتے ہوئے اسرائیل پر حملے کرتا رہا ہے‘‘ اور اسے اس کی قیمت ادا کرنا ہی پڑے گی۔
اسرائیلی خبر رساں ادارے وائی نیٹ کے مطابق کاٹز نے مزید کہا، ’’جو بھی اسرائیل کے خلاف ہاتھ اٹھائے گا، اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔‘‘
تجزیہ کاروں کے مطابق، سات اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیلی سرحدی بستیوں پر حملے کے بعد اسرائیل نے اپنی فوجی حکمت عملی بدل دی ہے۔ اب وہ صرف روک تھام کی پالیسی کے بجائے بھرپور اور پیشگی عسکری کارروائیوں پر توجہ دے رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان سفیروں کی سطح پر واشنگٹن میں نئے مذاکرات رواں ہفتے جمعرات کو شروع ہوں گے۔
پاکستان ایرانی وفد کی اسلام آباد آمد کے بارے میں پرامید
امریکہ اور ایران کے مابین سخت سیاسی بیانات کے باوجود پاکستانی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران بھی منگل کی رات تک اپنا ایک وفد اسلام آباد بھیج دے گا تاکہ مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکیں۔
امریکی سفارتی منصوبہ بندی سے واقف ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ امریکہ کا ایک وفد امن مذاکرات کے نئے دور کے لیے ’’جلد‘‘ پاکستان روانہ ہو گا۔ امریکی ٹیم کی قیادت متوقع طور پر نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی بہت سخت کر دی گئی ہے۔ حکام نے ہزاروں اہلکار تعینات کیے ہیں اور ہوائی اڈے کی طرف جانے والے راستوں پر گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ انتظامات 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے پہلے امریکی ایرانی مذاکراتی دور کے مقابلے میں زیادہ سخت دکھائی دیتے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر مذاکرات میں پیش رفت ہوئی تو اور بھی اعلیٰ سطح کی قیادت کی شرکت بھی ممکن ہے۔
اسلام آباد میں مقیم سکیورٹی تجزیہ کار سید محمد علی نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا، ’’ایسا لگتا ہے کہ پاکستان اس امکان کی تیاری کر رہا ہے کہ اگر مذاکرات اس مرحلے تک پہنچ جائیں جہاں معاہدہ طے ہو سکے، تو امریکہ اور ایران کے اعلیٰ رہنما بھی پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔‘‘
دریں اثنا پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کے روز اپنے مصری ہم منصب بدر عبدالعطی سے ٹیلی فون پر بات کی اور اسلام آباد میں چینی سفیر سے بھی ملاقات کی۔
ایران نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دے دی
ایرانی عدلیہ کی نیوز ویب سائٹ میزان کے مطابق ایک شخص، جس پر اسرائیل کی خفیہ ایجنسی سے منسلک نیٹ ورک کی قیادت اور جنوری میں احتجاج کے دوران تہران کی ایک مسجد کو نذر آتش کرنے کا الزام تھا، کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔
میزان کی ایک رپورٹ کے مطابق امیر علی میر جعفری پر الزام تھا کہ وہ ’’دشمن کے ساتھ تعاون کرنے والے مسلح عناصر میں سے ایک تھا، جس نے قلہک کی جامع مسجد کو آگ لگانے کی کوشش کی اور اس علاقے میں موساد کے نیٹ ورک کی سرگرمیوں کا سربراہ تھا۔‘‘ اسے آج منگل کی صبح پھانسی دے دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق یہ سزائے موت اس حالیہ سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے، جس میں ایرانی حکام حکومت مخالف مظاہروں کے بعد سے تیزی لا چکے ہیں۔ تہران حکومت ان گزشتہ احتجاجی مظاہروں کا الزام ملکی اپوزیشن گروپوں اور بیرونی مداخلت بالخصوص اسرائیل اور امریکہ پر عائد کرتی ہے۔
ایرانی مذاکراتی وفد اب تک پاکستان کے لیے روانہ نہیں ہوا
ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے ایران کا کوئی وفد ابھی تک پاکستان کے لیے روانہ نہیں ہوا۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق، ’’اب تک ایران سے کوئی وفد پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کے لیے روانہ نہیں ہوا، خواہ وہ مرکزی وفد ہو یا ذیلی وفد، بنیادی ہو یا ثانوی۔‘‘
اس بیان کے ذریعے ان خبروں کو مسترد کر دیا گیا ہے، جن میں اس کے برعکس دعوے کیے جا رہے تھے۔
ادھر امریکی منصوبہ بندی سے واقف ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ امریکہ کا ایک وفد امن مذاکرات کے نئے دور کے لیے ’’جلد‘‘ پاکستان روانہ ہو گا۔
امریکی ٹیم کی قیادت متوقع طور پر ملکی نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے جبکہ ایران نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ اس کے وفد کی قیادت کون کرے گا۔ گیارہ اپریل کو ہونے والے پہلے مذاکراتی دور میں ایرانی وفد کی قیادت ملکی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی تھی۔
ایران جنگ کے باعث تاریخ کا توانائی کا سب سے بڑا بحران، انٹرنیشنل انرجی ایجنسی
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ ڈاکٹر فاتح بیرول نے منگل کے روز کہا کہ ایران جنگ نے ایک کثیر الملکی تنازعے کے طور پر دنیا میں توانائی کے شعبے میں تاریخ کا سب سے بڑا بحران پیدا کر دیا ہے۔
انہوں نے فرانسیسی ریڈیو’فرانس انٹر‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا، ’’یہ واقعی تاریخ کا سب سے بڑا بحران ہے۔‘‘
ڈاکٹر بیرول نے مزید کہا، ’’اگر آپ روس سے متعلق گیس کے بحران اور پٹرول کے بحران کے اثرات کو بھی شامل کریں، تو یہ بحران پہلے ہی بہت بڑا ہو چکا ہے۔‘‘
مشرق وسطیٰ میں موجودہ جنگ نے آبنائے ہرمز میں سمندری آمد و رفت کو شدید متاثر کیا ہے، جو عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے تقریباً پانچویں حصے کی برآمدی ترسیل کے لیے اہم ترین راستہ ہے۔
یہ صورت حال اس روسی یوکرینی جنگ کے اثرات کے ساتھ سنگین تر ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں روس کی طرف سے یورپ کو گیس کی فراہمی پہلے ہی طویل عرصے سے متاثر ہے۔
بیرول اس مہینے کے آغاز میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ عالمی سطح پر توانائی کی موجودہ صورتحال 1973، 1979 اور 2022 کے توانائی کے بحرانوں کی مجموعی شدت سے بھی زیادہ سنگین ہے۔
مارچ میں بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے اپنے اسٹریٹیجک ذخائر میں سے 400 ملین بیرل تیل جاری کرنے کا ریکارڈ فیصلہ کیا تھا، جس کا سبب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث پیدا ہونے والا دباؤ تھا۔
پاکستان میں امریکی ایرانی امن مذاکرات: بحالی تاحال غیر یقینی
کل 22 اپریل بدھ کے روز ایران جنگ میں موجودہ فائر بندی کے اپنے اختتام کے قریب آتے جانے کے ساتھ ساتھ اہم رکاوٹیں اور غیر یقینی صورتحال بدستور موجود ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے اور اسٹاک مارکیٹ میں دھچکوں کو روکے، لیکن انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت نہیں ہونا چاہیے۔
دوسری طرف تہران چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو استعمال کرتے ہوئے ایسا معاہدہ کر سکے، جو جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کو روکے، پابندیوں میں نرمی لائے اور اس کے جوہری پروگرام میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالے۔
نیوز ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک ایرانی عہدیدار نے کہا کہ تہران مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے ’مثبت انداز میں جائزہ‘ لے رہا ہے، حالانکہ اس سے پہلے اس امکان کو مسترد کر دیا گیا تھا، تاہم اس اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے واضح کیا کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
مذاکرات کی کوششوں میں شامل ایک پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ بدھ کے روز مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے پیش رفت ہو رہی ہے اور اگر کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ڈونلڈ ٹرمپ ذاتی طور پر یا ورچوئل سطح پر اس میں شرکت کر سکتے ہیں۔
اس ذریعے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، ’’معاملات آگے بڑھ رہے ہیں اور مذاکرات کے لیے درست سمت میں جا رہے ہیں۔‘‘
’جنگ کے لیے تیار‘
امریکہ اور ایران دونوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ بندی ختم ہو گئی تو وہ جنگ کے لیے تیار ہیں۔ اس دوران ان مذاکرات کے بارے میں غیر یقینی صورتحال بھی برقرار ہے جن کے بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ پاکستان میں دوبارہ شروع ہوں گے۔
موجودہ چودہ روزہ جنگ بندی بدھ کے روز ختم ہونے والی ہے۔ اس حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا، ’’مجھے ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے۔‘‘
دوسری طرف ایران کے بااثر پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف، جنہوں نے گزشتہ بات چیت میں ایرانی وفد کی قیادت کی تھی، نے کہا، ’’ڈونلڈ ٹرمپ ناکہ بندی مسلط کر کے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کر کے اس مذاکراتی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں بدلنا چاہتے ہیں یا اپنی مرضی کے مطابق دوبارہ دشمنی کو جواز دینا چاہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’ہم دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں کرتے، اور گزشتہ دو ہفتوں میں ہم میدان جنگ میں نئے پتے دکھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔‘‘
دریں اثنا وائٹ ہاؤس نے کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس دوبارہ پاکستان جانے کے لیے تیار ہیں، جہاں مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی اور عالمی منڈیوں کو ہلا دینے والی ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے دوسرے دور کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ادارت: مقبول ملک