1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتپاکستان

پاکستان مشرقِ وسطیٰ جنگ پر مذاکرات کا میزبان

افسر اعوان اے ایف پی
28 مارچ 2026

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ پر بات چیت کے لیے اسلام آباد میں ملاقات کریں گے۔

https://p.dw.com/p/5BIqT
پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار
وزارت خارجہ کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے: ''دورے کے دوران وزرائے خارجہ مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے، جس میں خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔‘‘تصویر: Ozan Kose/AFP

پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے: ''دورے کے دوران وزرائے خارجہ مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے، جس میں خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔‘‘

بیان کے مطابق مہمان وزرائے خارجہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔

اس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ''ہم پیر کو ایک چار فریقی اجلاس کی میزبانی کریں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وفود کی اتوار کی شام تک پاکستان آمد متوقع ہے۔

ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان
انقرہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے نجی براڈکاسٹر 'اے ہیبر‘ کو بتایا کہ یہ اجلاس پہلے ترکی میں ہونا طے پایا تھا۔تصویر: Ozan Kose/AFP

ایران جنگ طویل ہونے کے ساتھ ہی پاکستان، ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اہم سہولت کار کے طور پر ابھرا ہے، جو دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کی ترسیل کے لیے ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد کے تہران کے ساتھ دیرینہ تعلقات اور خلیجی ممالک میں قریبی روابط ہیں، جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ذاتی ہم آہنگی پیدا کر لی ہے۔

انقرہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے نجی براڈکاسٹر 'اے ہیبر‘ کو بتایا کہ یہ اجلاس پہلے ترکی میں ہونا طے پایا تھا۔ انہوں نے جمعہ کی رات گئے کہا، ''تاہم، چونکہ ہمارے پاکستانی ہم منصبوں کا اپنے ملک میں رہنا ضروری ہے، اس لیے ہم نے اجلاس پاکستان منتقل کر دیا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ہم وہاں اس ہفتے کے آخر میں ملاقات کریں۔‘‘

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف
پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق مہمان وزرائے خارجہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔تصویر: Alexander Kazakov/Sputnik/REUTERS

فیدان نے کہا تھا کہ ان مذاکرات میں چاروں مسلم اکثریتی ممالک کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔

اس سے قبل جمعہ کو جرمنی کے وزیرِ خارجہ یوہان واڈے فہیول نے، اپنے ذرائع کا حوالہ دیے بغیر کہا تھا کہ وہ ''بہت جلد‘‘ پاکستان میں براہِ راست امریکہ - ایران ملاقات کی توقع کر رہے ہیں۔

اگرچہ تہران نے واشنگٹن کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کے اعتراف سے انکار کیا ہے، لیکن ایرانی خبر رساں ایجنسی 'تسنیم‘ کے مطابق، ایک گمنام ذریعے کا کہنا ہے کہ ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 15 نکاتی منصوبے کا جواب اسلام آباد کے ذریعے بھجوا دیا ہے۔

جنگ کے خاتمے کے لیے ایران نے مطالبات پیش کر دیے

ادرات: کشور مصطفیٰ