1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان اور افغانستان کے مابین نئے امن مذاکرات سعودی عرب میں

امتیاز احمد اے پی، اے ایف پی، روئٹرز اور ڈی پی اے کے ساتھ
وقت اشاعت 3 دسمبر 2025آخری اپ ڈیٹ 3 دسمبر 2025

افغانستان کی طالبان انتظامیہ اور پاکستان نے سعودی عرب میں نئے امن مذاکرات کرتے ہوئے جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ سعودی عرب میں مذاکرات ان جنوبی ایشیائی ہمسایوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی تازہ ترین کوشش ہے۔

https://p.dw.com/p/54frg
اکتوبر میں سرحد پر مہلک جھڑپوں کے بعد سے دونوں فریقین ابھی تک کسی مستقل امن معاہدے پر نہیں پہنچ سکے
اکتوبر میں سرحد پر مہلک جھڑپوں کے بعد سے دونوں فریقین ابھی تک کسی مستقل امن معاہدے پر نہیں پہنچ سکےتصویر: Wakil Kohsar/AFP
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے سے نکل جائے، اقوام متحدہ میں قرارداد منظور
  • تاجکستان نے افغان سرحد کی حفاظت کے لیے روسی مدد کی تجویز مسترد کر دی
  • جرمنی سابق افغان مقامی عملے کے تحفظ کے لیے طالبان کو رقم ادا کرے، پاکستان
  • ایران کی کرنسی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی
  • پاکستان اور افغانستان کے مابین نئے امن مذاکرات سعودی عرب میں
  • ایشیائی ممالک میں تباہ کن سیلاب، 1400 سے زائد افراد ہلاک
  •  ایرانی سرحد پر 10 افغانوں کو گولی مار دی گئی، حکام
  • امریکہ نے 19 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگریشن  روک دی
  •  امریکہ، روس: جنگ بندی مذاکرات میں ’کچھ پیش رفت‘ ہوئی
اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے سے نکل جائے، اقوام متحدہ میں قرارداد منظور سیکشن پر جائیں
3 دسمبر 2025

اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے سے نکل جائے، اقوام متحدہ میں قرارداد منظور

جنرل اسمبلی کے مندوبین نے فلسطینی علاقوں اور گولان پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والی دو قراردادوں کو منظور کر لیا ہے
جنرل اسمبلی کے مندوبین نے فلسطینی علاقوں اور گولان پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والی دو قراردادوں کو منظور کر لیا ہےتصویر: Timothy A. Clary/AFP/Getty Images

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے مندوبین نے فلسطینی علاقوں اور گولان پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والی دو قراردادوں کو منظور کر لیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منگل کو ان دو قراردادوں کو منظور کر لیا ہے، جن میں اسرائیل کو مغربی کنارے اور غزہ کے ساتھ ساتھ شام کی گولان پہاڑیوں سے انخلاء کا حکم دیا گیا ہے۔ ان دونوں قراردادوں کو بڑی اکثریت سے منظور کیا گیا، جو اسرائیل کی موجودہ علاقائی پوزیشن کی مخالفت کرتی ہیں۔ 
قراردادوں میں کیا کہا گیا؟
پہلی قرارداد، جس کا عنوان ’’فلسطین کے سوال کا پرامن حل‘‘ ہے، 151 ووٹوں سے منظور ہوئی۔ 11 ووٹ اس کے خلاف تھے، جبکہ 11ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ اس قرارداد میں تمام حتمی حیثیت کے مسائل پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی فوری کوششوں کا مطالبہ بھی کیا گیا اور ماسکو میں ایک بین الاقوامی کانفرنس بلانے کی اپیل کی گئی تاکہ جامع امن معاہدے کو آگے بڑھایا جائے۔
ماسکو کو مقام کے طور پر منتخب کرنا 2008ء کی ایک قرارداد کے مطابق ہے، جو اسرائیل اور ایک آزاد فلسطینی ریاست پر مشتمل دو ریاستی حل کے وژن کا اعادہ کرتی ہے۔
اس قرارداد میں اسرائیل سے کئی براہ راست مطالبات کیے گئے ہیں۔ اس میں اسرائیل کو ’’مقبوضہ فلسطینی علاقے میں غیر قانونی موجودگی‘‘ ختم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
 اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل تمام نئی یہودی بستیوں کی تعمیر روک دے اور علاقے سے تمام آبادکاروں کو نکال لے۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ کی آبادی یا سرحدوں میں تبدیلی کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
گولان پہاڑیوں سے انخلاء کا مطالبہ
دوسری قرارداد میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 1967ء میں قبضے میں لی گئیں اور 1981ء  میں الحاق کر لی گئیں گولان پہاڑیوں سے انخلاء کرے۔ قرارداد 123 ووٹوں سے منظور ہوئی، جبکہ اس کے خلاف سات ووٹ پڑے، جن میں اسرائیل اور امریکہ بھی شامل تھے۔ 41 ممالک نے رائے شماری میں حصہ لینے سے گریز کیا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے برعکس ان دونوں قراردادوں پر قانونی طور پر عمل درآمد لازمی نہیں ہے۔
 

https://p.dw.com/p/54hq3
تاجکستان نے افغان سرحد کی حفاظت کے لیے روسی مدد کی تجویز مسترد کر دی سیکشن پر جائیں
3 دسمبر 2025

تاجکستان نے افغان سرحد کی حفاظت کے لیے روسی مدد کی تجویز مسترد کر دی

تاجکستان نے بدھ کو اس بات سے انکار کر دیا ہے کہ اسے افغانستان کے ساتھ غیر مستحکم سرحد کی حفاظت کے لیے روس کی مدد درکار ہے
تاجکستان نے بدھ کو اس بات سے انکار کر دیا ہے کہ اسے افغانستان کے ساتھ غیر مستحکم سرحد کی حفاظت کے لیے روس کی مدد درکار ہےتصویر: Mohammed Shoaib Amin/AP Photo/picture alliance

تاجکستان نے بدھ کو اس بات سے انکار کر دیا ہے کہ اسے افغانستان کے ساتھ غیر مستحکم سرحد کی حفاظت کے لیے روس کی مدد درکار ہے۔ گزشتہ ماہ وہاں مسلح جنگجوؤں کے سرحد پار حملوں میں پانچ چینی مزدور ہلاک ہو گئے تھے۔ ابھی تک نہ تاجکستان اور نہ ہی افغانستان نے حملہ آوروں کی شناخت کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں۔
تاجکستان نے انہیں ’’مسلح دہشت گرد گروپ کے ارکان‘‘ قرار دیا ہے، جبکہ افغانستان کے طالبان حکمرانوں نے انہیں ’’افراتفری پیدا کرنے والے عناصر‘‘ کہتے ہوئے تحقیقات کا وعدہ کیا ہے۔ 
تاہم آج تاجکستان کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں ماسکو کی طرف سے سرحد کی نگرانی کے لیے فوجیں تعینات کرنے کے امکان پر بات چیت کی خبروں کی تردید کی۔ بیان میں کہا گیا، ’’ریاستی سرحد کی صورتِ حال مستحکم ہے اور اس پر متعلقہ اداروں کا مکمل کنٹرول ہے۔‘‘
مسلم اکثریتی تاجکستان، جو سابق سوویت یونین کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے، 2021ء میں طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد سے انتہاپسندانہ تشدد کے خدشات میں مبتلا رہا ہے۔
اس لینڈ لاک ملک میں ہزاروں چینی مزدور کام کر رہے ہیں، جو زیادہ تر کان کنی یا بیجنگ کی طرف سے انفراسٹرکچر منصوبوں پر کام کرتے ہیں۔

https://p.dw.com/p/54hm5
جرمنی سابق افغان مقامی عملے کے تحفظ کے لیے طالبان کو رقم ادا کرے، پاکستان سیکشن پر جائیں
3 دسمبر 2025

جرمنی سابق افغان مقامی عملے کے تحفظ کے لیے طالبان کو رقم ادا کرے، پاکستان

وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے جرمن حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سابق افغان مقامی عملے کے تحفظ کے لیے طالبان کو رقم کی پیشکش کرے
وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے جرمن حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سابق افغان مقامی عملے کے تحفظ کے لیے طالبان کو رقم کی پیشکش کرےتصویر: Pedro Pardo/AFP/Getty Images

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے جرمن حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سابق افغان مقامی عملے کے تحفظ کے لیے طالبان کو رقم کی پیشکش کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سابق ملازمین میں سے بہت سے، جو کبھی جرمن حکومت کے لیے کام کرتے تھے، پاکستان بھاگ آئے ہیں اور وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔
پاکستان اب انہیں واپس افغانستان بھجوانے کی دھمکی دے رہا ہے، جہاں طالبانِ حکومت ان سے بدلہ لی سکتی ہے۔
خواجہ آصف نے بدھ کو جرمن اخبار دی ویلٹ کو بتایا، ”یقیناً آپ انہیں ایک دن میں افغانستان واپس بھیج کر سزائے موت نہیں دلوا سکتے۔ اگر جرمنی اسے روکنا چاہتا ہے تو اسے طالبان سے مذاکرات کرنا چاہئیں۔ رقم ان لوگوں کی اپنے وطن میں حفاظت یقینی بنا سکتی ہے۔“
پاکستان نے جرمن حکومت کو رواں سال کے آخر تک اپنے سابق افغان ملازمین کے جرمنی میں داخلے کا عمل مکمل کرنے کی مہلت دی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا، ”اگر جرمنی انہیں قبول نہیں کرتا تو ہم انہیں ڈی پورٹ کر دیں گے۔ بات بس اتنی سی ہے۔‘‘
منگل کو اسلام آباد سے ایک چارٹر فلائٹ پر مزید افغان، جو جرمنی داخلے کی منظوری حاصل کر چکے تھے، جرمنی پہنچے۔ درجنوں افغان اب بھی پاکستانی دارالحکومت میں جرمنی روانگی کے منتظر ہیں۔ کُل ملا کر تقریباً دو ہزار افراد اس معاملے میں شامل ہیں، جن میں جرمن مسلح افواج کے سابق مقامی عملے کے علاوہ جج، وکلاء اور صحافی بھی شامل ہیں، جنہوں نے مغربی ممالک کا ساتھ دیا تھا۔
منگل کو جرمنی کے ایوینجلیکل چرچ نے اعلان کیا کہ وہ گرجا گھروں میں جمع کیے گئے چندے سے ایک لاکھ یورو ان افغانوں کی قانونی لڑائی کے لیے فراہم کرے گا، جو خطرے میں ہیں اور جرمنی میں پناہ مانگ رہے ہیں۔

https://p.dw.com/p/54h5i
ایران کی کرنسی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی سیکشن پر جائیں
3 دسمبر 2025

ایران کی کرنسی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی

ایران کی کرنسی بدھ کو ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں 12 لاکھ ریال کی نئی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی
ایران کی کرنسی بدھ کو ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں 12 لاکھ ریال کی نئی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئیتصویر: Vahid Salemi/AP/picture alliance

ایران کی کرنسی بدھ کو ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں 12 لاکھ ریال کی نئی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ناتواں معاشی ڈھانچے پر جوہری پابندیوں کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
ایرانی ریال کی یہ نئی ریکارڈ گراوٹ خوراک کی قیمتوں اور دیگر ضروری اشیاء پر دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے، جس سے ایرانی عوام کی روزمرہ زندگی مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ گوشت، چاول اور ایرانی کھانوں کی دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔
ایران کی معیشت پر عالمی پابندیوں کا شدید اثر پڑا ہے، خاص طور پر اس وقت سے، جب 2018ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر ایران کے عالمی طاقتوں سے طے پانے والے جوہری معاہدے سے امریکہ کو علیحدہ کر لیا تھا۔
 2015ء کے اس معاہدے کے وقت ایک ڈالر کے مقابلے میں ریال کی قدر 32 ہزار تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس واپس آنے کے بعد تہران کے خلاف اپنی ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی مہم دوبارہ شروع کر دی تھی۔ انہوں نے ایرانی تیل کی تجارت کرنے والی کمپنیوں، جن میں چین کو رعایتی نرخوں پر تیل بیچنے والی کمپنیاں بھی شامل ہیں، کو دوبارہ نشانہ بنایا۔
اسی طرح  ستمبر کے آخر میں اقوام متحدہ نے ’’سنیپ بیک میکینزم‘‘ کے ذریعے ایران پر جوہری پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی تھیں اور ان پابندیوں کے تحت ایران کے بیرون ملک اثاثے منجمد کر دیے گئے تھے۔

https://p.dw.com/p/54h3s
پاکستان اور افغانستان کے مابین نئے امن مذاکرات سعودی عرب میں سیکشن پر جائیں
3 دسمبر 2025

پاکستان اور افغانستان کے مابین نئے امن مذاکرات سعودی عرب میں

پاکستانی حکام نے بتایا کہ اسلام آباد کی نمائندگی فوجی، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور وزارتِ خارجہ سے وابستہ عہدیداروں نے کی
پاکستانی حکام نے بتایا کہ اسلام آباد کی نمائندگی فوجی، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور وزارتِ خارجہ سے وابستہ عہدیداروں نے کیتصویر: Sanaullah Seiam/AFP

 افغانستان کی طالبان انتظامیہ اور پاکستان نے سعودی عرب میں نئے امن مذاکرات کرتے ہوئے جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ سعودی عرب میں مذاکرات ان جنوبی ایشیائی ہمسایوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی تازہ ترین کوشش ہے۔
افغانستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی حالیہ چند ہفتوں سے برقرار ہے۔ اکتوبر میں سرحد پر مہلک جھڑپوں کے بعد سے دونوں فریقین ابھی تک کسی مستقل امن معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔
تین افغان اور دو پاکستانی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ تازہ مذاکرات سعودی عرب میں ہوئے اور دونوں فریقین نے جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ، اس کی فوج، افغان طالبان کے ترجمان اور سعودی عرب کی حکومت میں سے کسی نے بھی روئٹرز کے طرف سے اس تناظر میں مزید معلومات فراہم کا جواب نہیں دیا۔

پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے درمیان افغانستان کی بھارت کو تجارتی پیشکش
ایک سینیئر افغان طالبان اہلکار نے بتایا کہ یہ مذاکرات سعودی اقدام کے بعد ہوئے: ’’ہم مثبت نتیجہ دیکھنے کے لیے مزید ملاقاتوں کے لیے کھلے ہیں۔‘‘
پاکستانی حکام نے بتایا کہ اسلام آباد کی نمائندگی فوجی، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور وزارتِ خارجہ سے وابستہ عہدیداروں نے کی۔
پاکستان اور افغانستان نے اکتوبر کے دوران دوحہ میں جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے لیکن گزشتہ مہینے استنبول میں دوسرے دور کے مذاکرات بغیر کسی طویل مدتی معاہدے کے ناکام ہو گئے تھے۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ وہ کابل سے پاکستان مخالف دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی تحریری یقین دہانی چاہتا ہے لیکن افغان طالبان کا کہنا ہے کہ وہ ایسی کوئی گارنٹی فراہم نہیں کر سکتے۔

https://p.dw.com/p/54g3P
ایشیائی ممالک میں تباہ کن سیلاب، 1400 سے زائد افراد ہلاک سیکشن پر جائیں
3 دسمبر 2025

ایشیائی ممالک میں تباہ کن سیلاب، 1400 سے زائد افراد ہلاک

سری لنکا میں اس سیلاب کے ملکی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے
سری لنکا میں اس سیلاب کے ملکی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہےتصویر: Akila Jayawardena/REUTERS

گزشتہ ہفتے شدید بارشوں، سیلابوں اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے انڈونیشیا، سری لنکا، تھائی لینڈ اور ملائیشیا میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 14سو بڑھ گئی ہے۔ 
انڈونیشیا نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے، جہاں کم از کم 753 اموات کی اطلاع ملی ہے، جبکہ سری لنکا میں 465 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ سری لنکن حکام نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں ہلاکتوں کی درست تعداد کا تعین کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔ تھائی لینڈ میں کم از کم 185 اور ملائیشیا میں تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
سری لنکا میں اس سیلاب کے ملکی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے، جو پہلے ہی ایک غیر معمولی معاشی بحران کے بعد حال ہی میں مستحکم ہوئی ہے۔ اگرچہ معاشی نقصان مکمل کا جائزہ ابھی لیا جا رہا ہے لیکن انفراسٹرکچر کی تعمیر نو اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے اخراجات خزانے پر شدید دباؤ ڈالیں گے۔ 
بھارت، پاکستان اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک نے پہلے ہی امداد کی کوششیں شروع کر دی ہیں، جبکہ سری لنکن وزیرِ اعظم سے ملنے والے دیگر غیر ملکی سفارت کاروں نے اضافی امداد کا وعدہ کیا ہے۔
 

https://p.dw.com/p/54g36
ایرانی سرحد پر 10 افغانوں کو گولی مار دی گئی، حکام سیکشن پر جائیں
3 دسمبر 2025

ایرانی سرحد پر 10 افغانوں کو گولی مار دی گئی، حکام

ہر سال ہزاروں افغان ایران میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں
ہر سال ہزاروں افغان ایران میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیںتصویر: Wakil Kohsar/AFP/Getty Images

ایک مقامی افغان اہلکار کے مطابق دستاویزات کے بغیر ایران میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران  دس افغان شہریوں کو ایرانی سرحد پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ 
مقامی پولیس کے ترجمان محمد ناصر بدر نے بتایا کہ یہ واقعہ افغانستان کے مغربی صوبہ فرح میں مشترکہ سرحد پر پیر اور منگل کی درمیانی شب پیش آیا۔
پولیس کے مطابق سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے گروپ کے دو مزید ارکان لاپتہ ہیں۔ ایک دوسرے مقامی اہلکار نے بھی جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔
ہر سال ہزاروں افغان ایران میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں، جو افغانستان میں شدید غربت، بے روزگاری اور جاری معاشی مشکلات سے مجبور ہوتے ہیں۔
سن 2025 میں ایران سے لاکھوں افغان مہاجرین اور پناہ گزینوں کو ملک بدر کر دیا گیا تھا۔ تہران نے  چھ جولائی کی ڈیڈ لائن عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ غیر دستاویزی افغان ملک چھوڑ دیں۔

https://p.dw.com/p/54fva
امریکہ نے 19 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگریشن روک دی سیکشن پر جائیں
3 دسمبر 2025

امریکہ نے 19 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگریشن روک دی

امریکی حکومت نے افغانستان، یمن اور ہیٹی سمیت 19 ممالک کے شہریوں کی امیگریشن کی درخواستوں کو روک دیا ہے
امریکی حکومت نے افغانستان، یمن اور ہیٹی سمیت 19 ممالک کے شہریوں کی امیگریشن کی درخواستوں کو روک دیا ہےتصویر: Geoffrey Clowes/Sipa USA/picture alliance

امریکی حکومت نے افغانستان، یمن اور ہیٹی سمیت 19 ممالک کے شہریوں کی امیگریشن کی درخواستوں کو روک دیا ہے۔ امریکی حکام نے بتایا کہ جون میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اعلان کردہ سفری پابندیوں کا شکار ممالک سے تعلق رکھنے والوں کے لیے گرین کارڈ اور شہریت کی پروسیسنگ کو معطل کر دیا ہے۔
ان 19 ممالک میں وینزویلا، سوڈان اور صومالیہ بھی شامل ہیں۔
 اعلیٰ امریکی حکام نے حال ہی میں امیگریشن کے حوالے سے پابندیوں کو انتہائی سخت کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ یہ صورت حال گزشتہ ہفتے دو نیشنل گارڈ فوجیوں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد مزید خراب ہوئی ہے۔ اس فائرنگ میں ایک فوجی ہلاک ہوا جبکہ مرکزی ملزم ایک افغان شہری ہے۔
صدر ٹرمپ نے 26 نومبر کو فائرنگ کے بعد کہا تھا کہ وہ ’تمام ترقی پذیر ممالک سے ہجرت کو مستقل طور پر روکنے کا منصوبہ رکھتے ہیں تاکہ امریکی نظام مکمل طور پر بحال ہو سکے‘۔ 
دریں اثنا امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کی سربراہ کرسٹی نوئم نے نئی سفری پابندیوں کے دائرہ کار میں شامل ممالک کی فہرست کو وسعت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر کہا، ’’میں نے ابھی صدر سے ملاقات کی ہے۔ میں ہر اس ملک پر مکمل سفری پابندی کی سفارش کر رہی ہوں، جو ہمارے ملک کو قاتلوں اور منشیات فروشوں سے بھر رہا ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے مزید ممالک کے نام نہیں بتائے۔
سفری پابندیاں فی الحال برونڈی، چاڈ، جمہوریہ کانگو، کیوبا، گنی، ایریٹریا، ایران، لاؤس، لیبیا، میانمار، سیرا لیون، ٹوگو اور ترکمانستان پر لاگو کی گئی ہیں۔

https://p.dw.com/p/54fuz
امریکہ، روس: جنگ بندی مذاکرات میں ’کچھ پیش رفت‘ ہوئی سیکشن پر جائیں
3 دسمبر 2025

امریکہ، روس: جنگ بندی مذاکرات میں ’کچھ پیش رفت‘ ہوئی

کریملن کے اعلیٰ معاون یوری عوشاکوف نے کہا کہ یوکرین میں علاقوں کی تقسیم کے اہم معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکا
کریملن کے اعلیٰ معاون یوری عوشاکوف نے کہا کہ یوکرین میں علاقوں کی تقسیم کے اہم معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکاتصویر: Kristina Kormilitsyna/Sputnik/AP Photo/picture alliance

امریکہ اور روس دونوں ممالک کے حکام نے منگل کو یوکرین میں جنگ ختم کرنے سے متعلق بات چیت میں کچھ پیش رفت کی تصدیق کی ہے تاہم اہم رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔
روس کے صدر ولادیمیر پوٹن اور امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف سمیت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے درمیان کئی گھنٹوں کی یہ بات چیت کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئی۔
کریملن کے اعلیٰ معاون یوری عوشاکوف نے کہا کہ یوکرین میں علاقوں کی تقسیم کے اہم معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکا لیکن انہوں نے نوٹ کیا کہ ’’کچھ امریکی تجاویز پر بحث کی جا سکتی ہے۔‘‘
انہوں نے بات چیت کو ’’بہت مفید اور تعمیری‘‘ قرار دیا، حالانکہ روس کی طرف سے کئی تجاویز پر تنقیدی، ’’بلکہ منفی‘‘ رائے کا اظہار کیا گیا۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو بتایا کہ بات چیت کا محور کییف کی قابلِ قبول شرائط کا تعین کرنا رہا، جبکہ اس کی طویل مدتی سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کو امید ہے کہ معاہدہ یوکرینیوں کو ’’صرف اپنی معیشت کی تعمیر نو نہیں بلکہ ملک کے طور پر خوشحالی حاصل کرنے‘‘ کی اجازت دے گا۔

ادارت: عاطف بلوچ

https://p.dw.com/p/54ftb
مزید پوسٹیں
DW Mitarbeiterportrait | Imtiaz Ahmad
امتیاز احمد ڈی ڈبلیو اکیڈمی سے جرنلزم کی عملی تربیت حاصل کی اور بطور ملٹی میڈیا ایڈیٹر کام کر رہے ہیں۔