پاکستان اور افغانستان کے مابین نئے امن مذاکرات سعودی عرب میں
وقت اشاعت 3 دسمبر 2025آخری اپ ڈیٹ 3 دسمبر 2025
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے سے نکل جائے، اقوام متحدہ میں قرارداد منظور
- تاجکستان نے افغان سرحد کی حفاظت کے لیے روسی مدد کی تجویز مسترد کر دی
- جرمنی سابق افغان مقامی عملے کے تحفظ کے لیے طالبان کو رقم ادا کرے، پاکستان
- ایران کی کرنسی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی
- پاکستان اور افغانستان کے مابین نئے امن مذاکرات سعودی عرب میں
- ایشیائی ممالک میں تباہ کن سیلاب، 1400 سے زائد افراد ہلاک
- ایرانی سرحد پر 10 افغانوں کو گولی مار دی گئی، حکام
- امریکہ نے 19 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگریشن روک دی
- امریکہ، روس: جنگ بندی مذاکرات میں ’کچھ پیش رفت‘ ہوئی
اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے سے نکل جائے، اقوام متحدہ میں قرارداد منظور
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے مندوبین نے فلسطینی علاقوں اور گولان پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والی دو قراردادوں کو منظور کر لیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منگل کو ان دو قراردادوں کو منظور کر لیا ہے، جن میں اسرائیل کو مغربی کنارے اور غزہ کے ساتھ ساتھ شام کی گولان پہاڑیوں سے انخلاء کا حکم دیا گیا ہے۔ ان دونوں قراردادوں کو بڑی اکثریت سے منظور کیا گیا، جو اسرائیل کی موجودہ علاقائی پوزیشن کی مخالفت کرتی ہیں۔
قراردادوں میں کیا کہا گیا؟
پہلی قرارداد، جس کا عنوان ’’فلسطین کے سوال کا پرامن حل‘‘ ہے، 151 ووٹوں سے منظور ہوئی۔ 11 ووٹ اس کے خلاف تھے، جبکہ 11ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ اس قرارداد میں تمام حتمی حیثیت کے مسائل پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی فوری کوششوں کا مطالبہ بھی کیا گیا اور ماسکو میں ایک بین الاقوامی کانفرنس بلانے کی اپیل کی گئی تاکہ جامع امن معاہدے کو آگے بڑھایا جائے۔
ماسکو کو مقام کے طور پر منتخب کرنا 2008ء کی ایک قرارداد کے مطابق ہے، جو اسرائیل اور ایک آزاد فلسطینی ریاست پر مشتمل دو ریاستی حل کے وژن کا اعادہ کرتی ہے۔
اس قرارداد میں اسرائیل سے کئی براہ راست مطالبات کیے گئے ہیں۔ اس میں اسرائیل کو ’’مقبوضہ فلسطینی علاقے میں غیر قانونی موجودگی‘‘ ختم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل تمام نئی یہودی بستیوں کی تعمیر روک دے اور علاقے سے تمام آبادکاروں کو نکال لے۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ کی آبادی یا سرحدوں میں تبدیلی کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
گولان پہاڑیوں سے انخلاء کا مطالبہ
دوسری قرارداد میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 1967ء میں قبضے میں لی گئیں اور 1981ء میں الحاق کر لی گئیں گولان پہاڑیوں سے انخلاء کرے۔ قرارداد 123 ووٹوں سے منظور ہوئی، جبکہ اس کے خلاف سات ووٹ پڑے، جن میں اسرائیل اور امریکہ بھی شامل تھے۔ 41 ممالک نے رائے شماری میں حصہ لینے سے گریز کیا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے برعکس ان دونوں قراردادوں پر قانونی طور پر عمل درآمد لازمی نہیں ہے۔
تاجکستان نے افغان سرحد کی حفاظت کے لیے روسی مدد کی تجویز مسترد کر دی
تاجکستان نے بدھ کو اس بات سے انکار کر دیا ہے کہ اسے افغانستان کے ساتھ غیر مستحکم سرحد کی حفاظت کے لیے روس کی مدد درکار ہے۔ گزشتہ ماہ وہاں مسلح جنگجوؤں کے سرحد پار حملوں میں پانچ چینی مزدور ہلاک ہو گئے تھے۔ ابھی تک نہ تاجکستان اور نہ ہی افغانستان نے حملہ آوروں کی شناخت کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں۔
تاجکستان نے انہیں ’’مسلح دہشت گرد گروپ کے ارکان‘‘ قرار دیا ہے، جبکہ افغانستان کے طالبان حکمرانوں نے انہیں ’’افراتفری پیدا کرنے والے عناصر‘‘ کہتے ہوئے تحقیقات کا وعدہ کیا ہے۔
تاہم آج تاجکستان کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں ماسکو کی طرف سے سرحد کی نگرانی کے لیے فوجیں تعینات کرنے کے امکان پر بات چیت کی خبروں کی تردید کی۔ بیان میں کہا گیا، ’’ریاستی سرحد کی صورتِ حال مستحکم ہے اور اس پر متعلقہ اداروں کا مکمل کنٹرول ہے۔‘‘
مسلم اکثریتی تاجکستان، جو سابق سوویت یونین کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے، 2021ء میں طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد سے انتہاپسندانہ تشدد کے خدشات میں مبتلا رہا ہے۔
اس لینڈ لاک ملک میں ہزاروں چینی مزدور کام کر رہے ہیں، جو زیادہ تر کان کنی یا بیجنگ کی طرف سے انفراسٹرکچر منصوبوں پر کام کرتے ہیں۔
جرمنی سابق افغان مقامی عملے کے تحفظ کے لیے طالبان کو رقم ادا کرے، پاکستان
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے جرمن حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سابق افغان مقامی عملے کے تحفظ کے لیے طالبان کو رقم کی پیشکش کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سابق ملازمین میں سے بہت سے، جو کبھی جرمن حکومت کے لیے کام کرتے تھے، پاکستان بھاگ آئے ہیں اور وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔
پاکستان اب انہیں واپس افغانستان بھجوانے کی دھمکی دے رہا ہے، جہاں طالبانِ حکومت ان سے بدلہ لی سکتی ہے۔
خواجہ آصف نے بدھ کو جرمن اخبار دی ویلٹ کو بتایا، ”یقیناً آپ انہیں ایک دن میں افغانستان واپس بھیج کر سزائے موت نہیں دلوا سکتے۔ اگر جرمنی اسے روکنا چاہتا ہے تو اسے طالبان سے مذاکرات کرنا چاہئیں۔ رقم ان لوگوں کی اپنے وطن میں حفاظت یقینی بنا سکتی ہے۔“
پاکستان نے جرمن حکومت کو رواں سال کے آخر تک اپنے سابق افغان ملازمین کے جرمنی میں داخلے کا عمل مکمل کرنے کی مہلت دی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا، ”اگر جرمنی انہیں قبول نہیں کرتا تو ہم انہیں ڈی پورٹ کر دیں گے۔ بات بس اتنی سی ہے۔‘‘
منگل کو اسلام آباد سے ایک چارٹر فلائٹ پر مزید افغان، جو جرمنی داخلے کی منظوری حاصل کر چکے تھے، جرمنی پہنچے۔ درجنوں افغان اب بھی پاکستانی دارالحکومت میں جرمنی روانگی کے منتظر ہیں۔ کُل ملا کر تقریباً دو ہزار افراد اس معاملے میں شامل ہیں، جن میں جرمن مسلح افواج کے سابق مقامی عملے کے علاوہ جج، وکلاء اور صحافی بھی شامل ہیں، جنہوں نے مغربی ممالک کا ساتھ دیا تھا۔
منگل کو جرمنی کے ایوینجلیکل چرچ نے اعلان کیا کہ وہ گرجا گھروں میں جمع کیے گئے چندے سے ایک لاکھ یورو ان افغانوں کی قانونی لڑائی کے لیے فراہم کرے گا، جو خطرے میں ہیں اور جرمنی میں پناہ مانگ رہے ہیں۔
ایران کی کرنسی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی
ایران کی کرنسی بدھ کو ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں 12 لاکھ ریال کی نئی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ناتواں معاشی ڈھانچے پر جوہری پابندیوں کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
ایرانی ریال کی یہ نئی ریکارڈ گراوٹ خوراک کی قیمتوں اور دیگر ضروری اشیاء پر دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے، جس سے ایرانی عوام کی روزمرہ زندگی مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ گوشت، چاول اور ایرانی کھانوں کی دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔
ایران کی معیشت پر عالمی پابندیوں کا شدید اثر پڑا ہے، خاص طور پر اس وقت سے، جب 2018ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر ایران کے عالمی طاقتوں سے طے پانے والے جوہری معاہدے سے امریکہ کو علیحدہ کر لیا تھا۔
2015ء کے اس معاہدے کے وقت ایک ڈالر کے مقابلے میں ریال کی قدر 32 ہزار تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس واپس آنے کے بعد تہران کے خلاف اپنی ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی مہم دوبارہ شروع کر دی تھی۔ انہوں نے ایرانی تیل کی تجارت کرنے والی کمپنیوں، جن میں چین کو رعایتی نرخوں پر تیل بیچنے والی کمپنیاں بھی شامل ہیں، کو دوبارہ نشانہ بنایا۔
اسی طرح ستمبر کے آخر میں اقوام متحدہ نے ’’سنیپ بیک میکینزم‘‘ کے ذریعے ایران پر جوہری پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی تھیں اور ان پابندیوں کے تحت ایران کے بیرون ملک اثاثے منجمد کر دیے گئے تھے۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین نئے امن مذاکرات سعودی عرب میں
افغانستان کی طالبان انتظامیہ اور پاکستان نے سعودی عرب میں نئے امن مذاکرات کرتے ہوئے جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ سعودی عرب میں مذاکرات ان جنوبی ایشیائی ہمسایوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی تازہ ترین کوشش ہے۔
افغانستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی حالیہ چند ہفتوں سے برقرار ہے۔ اکتوبر میں سرحد پر مہلک جھڑپوں کے بعد سے دونوں فریقین ابھی تک کسی مستقل امن معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔
تین افغان اور دو پاکستانی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ تازہ مذاکرات سعودی عرب میں ہوئے اور دونوں فریقین نے جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ، اس کی فوج، افغان طالبان کے ترجمان اور سعودی عرب کی حکومت میں سے کسی نے بھی روئٹرز کے طرف سے اس تناظر میں مزید معلومات فراہم کا جواب نہیں دیا۔
پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے درمیان افغانستان کی بھارت کو تجارتی پیشکش
ایک سینیئر افغان طالبان اہلکار نے بتایا کہ یہ مذاکرات سعودی اقدام کے بعد ہوئے: ’’ہم مثبت نتیجہ دیکھنے کے لیے مزید ملاقاتوں کے لیے کھلے ہیں۔‘‘
پاکستانی حکام نے بتایا کہ اسلام آباد کی نمائندگی فوجی، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور وزارتِ خارجہ سے وابستہ عہدیداروں نے کی۔
پاکستان اور افغانستان نے اکتوبر کے دوران دوحہ میں جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے لیکن گزشتہ مہینے استنبول میں دوسرے دور کے مذاکرات بغیر کسی طویل مدتی معاہدے کے ناکام ہو گئے تھے۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ وہ کابل سے پاکستان مخالف دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی تحریری یقین دہانی چاہتا ہے لیکن افغان طالبان کا کہنا ہے کہ وہ ایسی کوئی گارنٹی فراہم نہیں کر سکتے۔
ایشیائی ممالک میں تباہ کن سیلاب، 1400 سے زائد افراد ہلاک
گزشتہ ہفتے شدید بارشوں، سیلابوں اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے انڈونیشیا، سری لنکا، تھائی لینڈ اور ملائیشیا میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 14سو بڑھ گئی ہے۔
انڈونیشیا نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے، جہاں کم از کم 753 اموات کی اطلاع ملی ہے، جبکہ سری لنکا میں 465 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ سری لنکن حکام نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں ہلاکتوں کی درست تعداد کا تعین کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔ تھائی لینڈ میں کم از کم 185 اور ملائیشیا میں تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
سری لنکا میں اس سیلاب کے ملکی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے، جو پہلے ہی ایک غیر معمولی معاشی بحران کے بعد حال ہی میں مستحکم ہوئی ہے۔ اگرچہ معاشی نقصان مکمل کا جائزہ ابھی لیا جا رہا ہے لیکن انفراسٹرکچر کی تعمیر نو اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے اخراجات خزانے پر شدید دباؤ ڈالیں گے۔
بھارت، پاکستان اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک نے پہلے ہی امداد کی کوششیں شروع کر دی ہیں، جبکہ سری لنکن وزیرِ اعظم سے ملنے والے دیگر غیر ملکی سفارت کاروں نے اضافی امداد کا وعدہ کیا ہے۔
ایرانی سرحد پر 10 افغانوں کو گولی مار دی گئی، حکام
ایک مقامی افغان اہلکار کے مطابق دستاویزات کے بغیر ایران میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران دس افغان شہریوں کو ایرانی سرحد پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
مقامی پولیس کے ترجمان محمد ناصر بدر نے بتایا کہ یہ واقعہ افغانستان کے مغربی صوبہ فرح میں مشترکہ سرحد پر پیر اور منگل کی درمیانی شب پیش آیا۔
پولیس کے مطابق سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے گروپ کے دو مزید ارکان لاپتہ ہیں۔ ایک دوسرے مقامی اہلکار نے بھی جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔
ہر سال ہزاروں افغان ایران میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں، جو افغانستان میں شدید غربت، بے روزگاری اور جاری معاشی مشکلات سے مجبور ہوتے ہیں۔
سن 2025 میں ایران سے لاکھوں افغان مہاجرین اور پناہ گزینوں کو ملک بدر کر دیا گیا تھا۔ تہران نے چھ جولائی کی ڈیڈ لائن عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ غیر دستاویزی افغان ملک چھوڑ دیں۔
امریکہ نے 19 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگریشن روک دی
امریکی حکومت نے افغانستان، یمن اور ہیٹی سمیت 19 ممالک کے شہریوں کی امیگریشن کی درخواستوں کو روک دیا ہے۔ امریکی حکام نے بتایا کہ جون میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اعلان کردہ سفری پابندیوں کا شکار ممالک سے تعلق رکھنے والوں کے لیے گرین کارڈ اور شہریت کی پروسیسنگ کو معطل کر دیا ہے۔
ان 19 ممالک میں وینزویلا، سوڈان اور صومالیہ بھی شامل ہیں۔
اعلیٰ امریکی حکام نے حال ہی میں امیگریشن کے حوالے سے پابندیوں کو انتہائی سخت کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ یہ صورت حال گزشتہ ہفتے دو نیشنل گارڈ فوجیوں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد مزید خراب ہوئی ہے۔ اس فائرنگ میں ایک فوجی ہلاک ہوا جبکہ مرکزی ملزم ایک افغان شہری ہے۔
صدر ٹرمپ نے 26 نومبر کو فائرنگ کے بعد کہا تھا کہ وہ ’تمام ترقی پذیر ممالک سے ہجرت کو مستقل طور پر روکنے کا منصوبہ رکھتے ہیں تاکہ امریکی نظام مکمل طور پر بحال ہو سکے‘۔
دریں اثنا امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کی سربراہ کرسٹی نوئم نے نئی سفری پابندیوں کے دائرہ کار میں شامل ممالک کی فہرست کو وسعت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر کہا، ’’میں نے ابھی صدر سے ملاقات کی ہے۔ میں ہر اس ملک پر مکمل سفری پابندی کی سفارش کر رہی ہوں، جو ہمارے ملک کو قاتلوں اور منشیات فروشوں سے بھر رہا ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے مزید ممالک کے نام نہیں بتائے۔
سفری پابندیاں فی الحال برونڈی، چاڈ، جمہوریہ کانگو، کیوبا، گنی، ایریٹریا، ایران، لاؤس، لیبیا، میانمار، سیرا لیون، ٹوگو اور ترکمانستان پر لاگو کی گئی ہیں۔
امریکہ، روس: جنگ بندی مذاکرات میں ’کچھ پیش رفت‘ ہوئی
امریکہ اور روس دونوں ممالک کے حکام نے منگل کو یوکرین میں جنگ ختم کرنے سے متعلق بات چیت میں کچھ پیش رفت کی تصدیق کی ہے تاہم اہم رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔
روس کے صدر ولادیمیر پوٹن اور امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف سمیت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے درمیان کئی گھنٹوں کی یہ بات چیت کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئی۔
کریملن کے اعلیٰ معاون یوری عوشاکوف نے کہا کہ یوکرین میں علاقوں کی تقسیم کے اہم معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکا لیکن انہوں نے نوٹ کیا کہ ’’کچھ امریکی تجاویز پر بحث کی جا سکتی ہے۔‘‘
انہوں نے بات چیت کو ’’بہت مفید اور تعمیری‘‘ قرار دیا، حالانکہ روس کی طرف سے کئی تجاویز پر تنقیدی، ’’بلکہ منفی‘‘ رائے کا اظہار کیا گیا۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو بتایا کہ بات چیت کا محور کییف کی قابلِ قبول شرائط کا تعین کرنا رہا، جبکہ اس کی طویل مدتی سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کو امید ہے کہ معاہدہ یوکرینیوں کو ’’صرف اپنی معیشت کی تعمیر نو نہیں بلکہ ملک کے طور پر خوشحالی حاصل کرنے‘‘ کی اجازت دے گا۔
ادارت: عاطف بلوچ