1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جنوبی غزہ پٹی میں محفوظ زونز کا تصور مضحکہ خیز، اقوام متحدہ

مقبول ملک روئٹرز، اے پی، اے ایف پی، ڈی پی اے کے ساتھ۔ ادارت: | افسر اعوان | کشور مصطفیٰ
وقت اشاعت 3 اکتوبر 2025آخری اپ ڈیٹ 3 اکتوبر 2025

اقوام متحدہ نے زور دے کر کہا ہے کہ اسرائیل نے غزہ سٹی کے جن لاکھوں فلسطینیوں کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا ہے، ان کے لیےکوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق جنوبی غزہ پٹی میں محفوظ زونز کا تصور ہی مضحکہ خیز ہے۔

https://p.dw.com/p/51Rmp
قریب دو سالہ جنگ میں غزہ پٹی کا تقریباً پورے کا پورا علاقہ تباہ ہو چکا ہے
قریب دو سالہ جنگ میں غزہ پٹی کا تقریباً پورے کا پورا علاقہ تباہ ہو چکا ہےتصویر: Abdallah F.s. Alattar/Anadolu/picture alliance
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • جنوبی غزہ پٹی میں کسی محفوظ زون کا تصور ہی مضحکہ خیز ہے، اقوام متحدہ
  • امریکا کا نیا غزہ امن منصوبہ مسلم ممالک کی تجاویز سے مطابقت نہیں رکھتا، پاکستانی وزیر خارجہ
  • مراکش میں نوجوانوں کی قیادت میں ملک گیر احتجاجی مظاہرے جاری، وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ
  • اسرائیلی دستوں نے آخری کشتی بھی روک لی، غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین کا بیان
  • مانچسٹر میں سیناگوگ کے باہر خونریز دہشت گردانہ حملے کے بعد پورے برطانیہ میں ہائی الرٹ
  • ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ امن منصوبے کے جائزے کے لیے ابھی مزید وقت درکار، اعلیٰ حماس عہدیدار
جنوبی غزہ پٹی میں کسی محفوظ زون کا تصور ہی مضحکہ خیز، اقوام متحدہ سیکشن پر جائیں
3 اکتوبر 2025

جنوبی غزہ پٹی میں کسی محفوظ زون کا تصور ہی مضحکہ خیز، اقوام متحدہ

غزہ سٹی میں جنگ سے بربادی اور تباہی کا ایک منظر
غزہ سٹی میں جنگ سے بربادی اور تباہی کا ایک منظرتصویر: Omar Ashtawy Apaimages/APA Images/picture alliance

اقوام متحدہ نے زور دے کر کہا ہے کہ اسرائیل نے غزہ سٹی کے جن لاکھوں فلسطینیوں کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا ہے، ان کے لیےکوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق جنوبی غزہ پٹی میں محفوظ زون کا تصور ہی مضحکہ خیز ہے۔

اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ پٹی کا شمالی غزہ سے آخری رابطہ بھی منقطع کر دیا

جنیوا سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اقوام متحدہ نے جمعہ تین اکتوبر کے روز اصرار کیا کہ دو سالہ جنگ سے تباہ شدہ غزہ پٹی کے جنوبی حصے میں اسرائیل نے اب تک جن نام نہاد محفوظ علاقوں کی تخصیص کی ہے، وہ دراصل ’’موت کی جگہیں‘‘  یا ’’مقامات مرگ‘‘ ہیں۔

اسرائیل نے اگست کے مہینے میں غزہ شہر پر مکمل قبضے کے لیے وہاں جن بڑے فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا، ان کے تسلسل میں ستمبر کے وسط میں غزہ سٹی میں ایک بڑا زمینی فوجی آپریشن بھی شروع کر دیا گیا تھا۔

غزہ پٹی میں جنگ سے بری طرح تباہ ہو جانے والا ایک رہائشی علاقہ
جنگ سے وسیع تر رہائشی علاقے بری طرح تباہ ہو چکے ہیںتصویر: Hashem Zimmo/ZUMAPRESS/picture alliance

غزہ سٹی کے باشندوں سے انخلا کے مطالبات

اس آپریشن کو دن بہ دن وسعت دیتے ہوئے اب تک اسرائیلی فوج اور وزراء کی طرف سے کئی بار غزہ سٹی کے لاکھوں فلسطینیوں سے یہ مطالبہ کیا جا چکا ہے کہ وہ غزہ پٹی کے اس سب سے بڑے شہری مرکز کو چھوڑ کر اس تنگ ساحلی علاقے کے جنوب کی طرف چلے جائیں۔

اس پس منظر میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوام متحدہ کے بچوں کے امدادی ادارے یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے جمعے کے روز صحافیوں کو بتایا، ’’غزہ پٹی کے جنوب میں تو کسی محفوظ علاقے کا تصور ہی مضحکہ خیز ہے۔‘‘

اسرائیل کا غزہ فلوٹیلا کے گرفتار کارکنان کو ملک بدر کرنے کا اعلان

جیمز ایلڈر نے، جو اس وقت غزہ پٹی کے وسطی علاقے میں دیر البلح نامی شہر میں ہیں، وہاں سے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ کس طرح غزہ پٹی میں بم یوں گرائے جاتے ہیں کہ یہ درست پیش گوئی تک کی جا سکتی ہے کہ وہ کہاں گریں گے اور کتنا نقصان کریں گے۔

رفع شہر میں جنگ سے تباہی کا ایک منظر
رفع شہر میں جنگ سے تباہی کا ایک منظرتصویر: Ahmad Hasaballah/Getty Images

’اسکولوں اور خیموں پر گرنے والے بم‘

انہوں نے کہا، ’’جنوبی غزہ پٹی میں وہ اسکول، جن کی عارضی پناہ گاہوں کے طور پر نشان دہی کی گئی ہے، وہاں بم گرتے ہیں اور انہیں باقاعدگی سے ملبے کے ڈھیر بنا دیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ وہاں لگائے گئے خیموں کو تو بار بار کیے جانے والے فضائی حملوں کے نتیجے میں آگ کے شعلے نگل جاتے ہیں۔‘‘

غزہ میں فلسطینی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اب 66 ہزار سے زائد

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ابھی کل ہی کہا تھا کہ غزہ سٹی سے جو فلسطینی نہیں نکلیں گے، انہیں ’’دہشت گرد اور دہشت گردوں کے حامی‘‘ سمجھا جائے گا۔

اس بارے میں یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے کہا، ’’پوری شہری آبادی کو مجموعی طور پر کسی علاقے سے انخلا کا حکم دے دینا، اس کا مطلب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ جو لوگ وہاں سے نہ جائیں، وہ شہری تحفظ کے اپنے بنیادی حق سے محروم ہو جائیں۔‘‘

غزہ سے واپس آنے والے ہسپانوی ڈاکٹر نے وہاں کیا دیکھا؟

https://p.dw.com/p/51StT
امریکا کا نیا غزہ امن منصوبہ مسلم ممالک کی تجاویز سے مطابقت نہیں رکھتا، پاکستان سیکشن پر جائیں
3 اکتوبر 2025

امریکا کا نیا غزہ امن منصوبہ مسلم ممالک کی تجاویز سے مطابقت نہیں رکھتا، پاکستان

صدر ٹرمپ کے ساتھ آٹھ مسلم ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات کے دوران نیو یارک میں لی گئی پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی تصویر، پس منظر میں درمیان میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار
صدر ٹرمپ کے ساتھ آٹھ مسلم ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات کے دوران نیو یارک میں لی گئی پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی تصویر، پس منظر میں درمیان میں وزیر خارجہ اسحاق ڈارتصویر: Chip Somodevilla/Getty Images/AFP

پاکستانی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے غزہ پٹی میں جنگ بندی اور قیام امن کے لیے اسی ہفتے پیش کردہ امن منصوبہ سرکردہ مسلم ممالک کے گروپ کی تجاویز سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اسحاق دار کے بقول صدر ٹرمپ نے غزہ میں قیام امن کے لیے جو نیا منصوبہ پیش کیا ہے، اور جس کی اسرائیل نے بھی حمایت کی ہے، وہ ان امن تجاویز سے مطابقت نہیں رکھتا، جو امریکی صدر کو مسلم اکثریتی آبادی والے ممالک کے ایک گروپ نے گزشتہ ماہ ایک مسودے کی شکل میں پیش کی تھیں۔

پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار امریکی ہم منصب مارکو روبیو کے ساتھ
پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار امریکی ہم منصب مارکو روبیو کے ساتھتصویر: Lenin Nolly/NurPhoto/picture alliance

بائیس ستمبر کو صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک ملاقات میں مسلم ممالک کے گروپ نے جو تجاویز پیش کی تھیں، ان میں غزہ پٹی سے اسرائیل کے مکمل انخلا کی بات کی گئی تھی، جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جو پلان پیش کیا، اس میں حماس کے عسکریت پسندوں کے زیر قبضہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی تیاری کے طور پر صرف جزوی اسرائیلی انخلا کی بات کی گئی ہے۔

مسودے میں ’تبدیلیاں‘ کی گئی ہیں

پاکستانی وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے ملکی پارلیمان کے ارکان کے سامنے دیے گئے ایک بیان میں واضح کیا، ’’میں یہ وضاحت کر چکا ہوں کہ وہ 20 نکات جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے منصوبے میں پیش کیے ہیں، وہ وہی نہیں ہیں، جو ہمارے تھے۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ مسودہ جو ہمارے پاس تھا، اور جو ہم نے امریکی صدر کو پیش کیا تھا، اس میں کچھ تبدیلیاں کر دی گئی ہیں۔‘‘

اسرائیلی فوجی ٹینکوں کی ایک قطار
اسرائیلی فوجی ٹینکوں کی ایک قطارتصویر: Jack Guez/AFP

امریکی صدر نے اپنے اس امن منصوبے کا اعلان آٹھ مسلم اکثریتی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ اپنی ملاقات کے ایک ہفتے بعد کیا تھا۔ یہ ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن،ترکی، انڈونیشیا اور پاکستان تھے۔

امریکی صدر کے پیش کردہ نئے غزہ امن منصوبے میں بہت سی عملی تفصیلات کا طے کیا جانا اطراف کے مذاکراتی نمائندوں اور ثالثوں پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

اس منصوبے پر عمل درآمد کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس اسے قبول کرتی ہے یا نہیں۔ حماس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے آج جمعے کے روز کہا کہ اس امن پلان کا حماس کی طرف سے جائزہ اور مشاورت جاری ہیں، جن میں ابھی مزید کچھ وقت لگے گا۔ اس کے بعد ہی حماس کا حتمی ردعمل سامنے آئے گا۔

نیتن یاہو دو ریاستی حل کو مغربی کنارے میں دفن کر رہے ہیں؟

https://p.dw.com/p/51SnQ
مراکش میں نوجوانوں کی قیادت میں ملک گیر احتجاجی مظاہرے جاری، وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ سیکشن پر جائیں
3 اکتوبر 2025

مراکش میں نوجوانوں کی قیادت میں ملک گیر احتجاجی مظاہرے جاری، وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ

مراکش میں ایک عوامی احتجاجی مظاہرے کے نوجوان شرکاء
مراکش میں یہ عوامی احتجاجی مظاہرے گزشتہ ماہ کے اواخر میں شروع ہوئے تھےتصویر: AFP

مراکش میں بدعنوانی کے خلاف اور تعلیم اور صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے نوجوانون کی قیادت میں ملک گیر احتجاجی مظاہرے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب مسلسل چھٹی رات بھی جاری رہے۔ بدھ کی رات تین افراد پولیس کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔

مراکش میں کم عمری کی شادیوں سے متعلق اصلاحات کی کوشش

مراکش میں یہ مظاہرین اب ملکی وزیر اعظم عزیز اخنوش کی حکومت کے استعفے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ اس ملک گیر احتجاجی تحریک کے دوران اکثریتی طور پر نوجوانوں پر مشتمل مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ شمالی افریقہ کی اس عرب ریاست میں پائی جانے والی ابتر صورت حال اب آخرکار بہتر ہونا چاہیے۔

رباط میں ایک عوامی مظاہرے کی تصویر
اوپر: رباط میں ایک عوامی مظاہرے کی تصویر۔ نیچے: مظاہرین کے روکنے کے لیے تعینات پولیس اہلکارتصویر: Abdel Majid Bziouat/AFP/Getty Images
 مظاہرین کے روکنے کے لیے تعینات پولیس اہلکار
تصویر: Ahmed El Jechtimi/REUTERS

پولیس کے ہاتھوں مظاہرین کی ہلاکتیں

کل رات بھر جاری رہنے والے ان مظاہروں کے بارے میں یہ خدشہ بھی تھا کہ پولیس کی طرف سے طاقت کے دوبارہ استعمال سے حالات خراب تر اور پرتشدد بھی ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اس وجہ سے کہ ایک رات قبل صورت حال پر قابو پانے کی کوششوں کی دوران پولیس کے ہاتھوں تین افراد مارے بھی گئے تھے۔
یہ مظاہرے مراکش کے کم از کم درجن بھر شہروں میں ہو رہے ہیں، جن میں کاسا بلانکا بھی شامل ہے۔

ہزاروں تارکین وطن کی تیر کر مراکش سے اسپین پہنچنے کی کوشش

مراکش کے شاہ محمد ششم
اوپر: مراکش کے شاہ محمد ششم۔ نیچے: مراکش کے وزیر اعظم عزیز اخنوشتصویر: Marin Ludovic/Pool/ABACA/picture alliance
مراکش کے وزیر اعظم عزیز اخنوش
تصویر: AP Photo/picture alliance

شاہ محمد ششم سے مداخلت کا مطالبہ

شروع میں یہ عوامی مظاہرے زیادہ تر پرامن تھے، لیکن پھر پولیس کے ہاتھوں تین مظاہرین کی ہلاکت کے بعد معاملات خونریز شکل اختیار کر گئے۔ اس دوران پیش آنے والے بدامنی کے واقعات میں مختلف شہروں میں بینک لوٹ لیے گئے اور بہت سی گاڑیوں کو آگ بھی لگا دی گئی تھی۔

مراکش میں اعلیٰ ترین ریاستی اختیارات ملکی بادشاہ کے پاس ہوتے ہیں۔ لیکن مظاہرین حکومت کے خلاف مظاہرے اس لیے کر رہے ہیں کہ ان کے مطابق حکومت اس ایجنڈے پر عمل درآمد میں ناکام رہی ہے، جو اسے سونپا گیا تھا۔

اسی لیے گزشتہ روز مظاہرین ملکی بادشاہ محمد ششم سے یہ مطالبہ بھی کر رہے تھے کہ وہ موجودہ صورت حال میں مداخلت کریں اور اخنوش حکومت کو برطرف کیا جانا چاہیے۔

https://p.dw.com/p/51SWi
اسرائیلی دستوں نے آخری کشتی بھی روک لی، غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین کا بیان سیکشن پر جائیں
3 اکتوبر 2025

اسرائیلی دستوں نے آخری کشتی بھی روک لی، غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین کا بیان

اسرائیلی فوجیوں کی کل جمعرات کے روز گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل ایک کشتی پر سوار ہو جانے کے دوران بنائی گئی ایک ویڈیو سے لی گئی ایک تصویر
اسرائیلی فوجیوں کی کل جمعرات کے روز گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل ایک کشتی پر سوار ہو جانے کے دوران بنائی گئی ایک ویڈیو سے لی گئی ایک تصویرتصویر: Global Sumud Flottilla/dpa/picture alliance

اسرائیلی فوج نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے نام سے غزہ پٹی کی طرف امداد لے کر جانے والے بین الاقوامی کارکنوں کے سمندری قافلے میں شامل آخری کشتی بھی جمعہ تین اکتوبر کو روک لی۔

ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے جائزے کے لیے مزید وقت درکار، اعلیٰ حماس عہدیدار

یہ فلوٹیلا غزہ پٹی کی اسرائیل کی طرف سے بحری ناکہ بندی کو توڑنے کے ارادے سے اور فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان لے کر غزہ پٹی کی طرف سفر میں تھا۔

آج اس فلوٹیلا میں شامل آخری کشتی کے بھی روک لیے جانے سے ایک دن قبل اسرائیلی بحری فوج نے اس سمندری قافلے میں شامل زیادہ تر کشتیوں کو روک کر ان پر سوار تقریباﹰ 450 کارکنوں کو حراست میں لے لیا تھا۔

سرگرم سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ
سرگرم سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگتصویر: Burak Akbulut/Anadolu/picture alliance

ان میں سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن اور غزہ پٹی کی جنگ میں  کھل کر فلسطینیوں کی حمایت کرنے والی گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی فلسطینی تنازعے میں ویسٹ بینک کی حیثیت مرکزی کیسے؟

گلوبل صمود فلوٹیلا کی آخری محو سفر کشتی

گلوبل صمود فلوٹیلا نامی مہم کے منتظمین نے بتایا ہے کہ اس فلوٹیلا میں شامل اور آخر تک غزہ کی طرف سفر جاری رکھنے والی کشتی کا نام ’مارینیٹ‘ ہے اور اسے جمعے کی صبح اسرائیلی بحری دستوں نے اپنے قبضے میں لے لیا۔

فلوٹیلا میں شامل ایک شپ پر سوار ہونے والے اسرائیلی فوجیوں میں سے ایک وہاں موجود رضاکاروں پر بندوق تانے ہوئے
فلوٹیلا میں شامل ایک شپ پر سوار ہونے والے اسرائیلی فوجیوں میں سے ایک وہاں موجود رضاکاروں پر بندوق تانے ہوئےتصویر: Global Sumud Flotilla/REUTERS

غزہ میں فلسطینی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اب 66 ہزار سے زائد

فلوٹیلا کے منتظمین نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا، ’’مارینیٹ نامی کشتی کو اسرائیلی فوج نے جمعے کی صبح غزہ پٹی کے ساحل سے 42.5 سمندری میل (79 کلومیٹر) کے فاصلے پر روک کر اپنے کنٹرول میں لے لیا۔‘‘

اس پیش رفت کے کچھ ہی دیر بعد اسرائیلی فوجی ریڈیو نے بھی تصدیق کر دی کہ ملکی فوجی دستوں نے اس فلوٹیلا میں شامل آخری کشتی کو اپنے قبضے میں اور اس پر سوار تمام افراد کو اپنی حراست میں لے لیا، جس کے بعد اس کشتی کو اسرائیل میں اسدود کی بندرگاہ کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔

غزہ پٹی جانے کی کوشش کرنے والے گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل کل 42 امدادی جہازوں اور کشتیوں میں سے چند ایک کی سمندر میں لی گئی ایک تصویر
غزہ پٹی جانے کی کوشش کرنے والے گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل کل 42 امدادی جہازوں اور کشتیوں میں سے چند ایک کی سمندر میں لی گئی ایک تصویرتصویر: Str/AP Photo/dpa/picture alliance

اسرائیلی وزارت خارجہ نے مارینیٹ کے قبضے میں لیے جانے پر روئٹرز کے استفسار کے باوجود کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

جنگ جاری رہے گی، نیتن یاہو کی اقوام متحدہ میں جارحانہ تقریر

دوسری طرف گلوبل صمود فلوٹیلا کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’اسرائیلی فوجی دستے اب ہماری تمام  42 کشتیوں کو غیر قانونی طور پر روک چکے ہیں، جن میں سے ہر ایک پر غزہ پٹی کی شہری آبادی کے لیے امدادی سامان لدا ہوا تھا، ہر ایک پر رضاکار سوار تھے اور اس پورے عمل کا مقصد اسرائیل کی طرف سے غزہ پٹی کی غیر قانونی ناکہ بندی کو توڑنا تھا۔‘‘

کیا اسرائیل کے لیے حماس کو مکمل تباہ کرنا ممکن ہے؟

https://p.dw.com/p/51SK2
مانچسٹر میں سیناگوگ کے باہر خونریز دہشت گردانہ حملے کے بعد پورے برطانیہ میں ہائی الرٹ سیکشن پر جائیں
3 اکتوبر 2025

مانچسٹر میں سیناگوگ کے باہر خونریز دہشت گردانہ حملے کے بعد پورے برطانیہ میں ہائی الرٹ

حملے کے بعد مانچسٹر کے ہیٹن پارک کنیسہ کے باہر جمع مقامی یہودی شہری اور پولیس اہلکار
حملے کے بعد مانچسٹر کے ہیٹن پارک کنیسہ کے باہر جمع مقامی یہودی شہری اور پولیس اہلکارتصویر: Phil Noble/REUTERS

انگلینڈ کے شہر مانچسٹر میں کل جمعرات کو یوم کیپور کے یہودی مذہبی تہوار کے موقع پر ایک سیناگوگ کے باہر کیے جانے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد آج جمعہ تین اکتوبر کو پورے برطانیہ میں دہشت گردی کے خلاف ہائی الرٹ کر دیا گیا۔ یہ حملہ ایک شامی نژاد برطانوی شہری جہاد الشامی نے کیا تھا، جو موقع پر ہی مارا گیا تھا۔

مانچسٹر سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق برٹش پولیس کل کے واقعے کی ایک دہشت گردانہ حملے کے طور پر چھان بین کر رہی ہے۔ اس واقعے میں ایک شخص نے پہلے اپنی گاڑی مانچسٹر میں ہیٹن پارک نامی کنیسہ کے باہر ایک ہجوم پر چڑھا دی تھی اور بعد میں گاڑی سے اتر کر ایک شخص کو چاقو سے حملہ کر کے زخمی بھی کر دیا تھا۔

حملے کے بعد چند منٹ کے اندر اندر پولیس کے خصوصی دستے موقع پر پہنچ گئے تھے
حملے کے بعد چند منٹ کے اندر اندر پولیس کے خصوصی دستے موقع پر پہنچ گئے تھےتصویر: Ryan Jenkinson/News Licensing/IMAGO

اس حملے میں دو افراد ہلاک اور تین دیگر شدید زخمی ہو گئے تھے، جن کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔

اسی دوران آج جمعے کے روز پولیس نے دونوں مرنے والے افراد کی شناخت بھی ظاہر کر دی، جو 53 سالہ ایڈریان ڈالبی اور 66 سالہ میلوین کراوِٹس تھے۔

وزیر داخلہ شبانہ محمود کا ہائی الرٹ سے متعلق موقف

لندن میں وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں یہودی برادری سمیت تمام شہریوں کی حفاظت کے لیے ملک بھر میں ممکنہ دہشت گردی کے خلاف ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

حال ہی میں برطانوی وزیر داخلہ کا عہدہ سنبھالنے والی شبانہ محمود
حال ہی میں برطانوی وزیر داخلہ کا عہدہ سنبھالنے والی شبانہ محمودتصویر: Jack Taylor/REUTERS

برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے آج جمعے کے روز کہا کہ پورے ملک میںیہودی برادری کی عبادت گاہوں اور دیگر مراکز کے لیے حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ شبانہ محمود کے الفاظ میں، ’’ہم اس وقت قطعی طور پر ہائی الرٹ پر ہیں۔‘‘

اسی دوران گریٹر مانچسٹر پولیس کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اس نے اپنی ابتدائی چھان بین کے نتیجے میں 30 اور 40 سال کے درمیان کی عمر کے دو مردوں اور 60 اور 70 سال کے درمیان کی عمر کی ایک خاتون کو گرفتار کر لیا ہے۔

ان تینوں مشتبہ افراد پر شبہ ہے کہ وہ ’’دہشت گردانہ کارروائی کے لیے اشتعال انگیزی، اس کی اجازت دینے اور اس کی تیاری میں مدد‘‘ کے مرتکب ہوئے۔

https://p.dw.com/p/51SCv
ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے جائزے کے لیے مزید وقت درکار، اعلیٰ حماس عہدیدار سیکشن پر جائیں
3 اکتوبر 2025

ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے جائزے کے لیے مزید وقت درکار، اعلیٰ حماس عہدیدار

غزہ پٹی بالخصوص غزہ سٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں ابھی تک جاری ہیں، ایک فضائی حملے کے بعد آسمان کی طرف اٹھنے والا دھواں
غزہ پٹی بالخصوص غزہ سٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں ابھی تک جاری ہیںتصویر: Mostafa Alkharouf/Andalou/picture alliance

غزہ پٹی سے جمعہ تین اکتوبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی ہفتے واشنگٹن میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی موجودگی میں غزہ پٹی سے متعلق جو نیا امن منصوبہ پیش کیا تھا، اس کے تفصیلی جائزے کے لیے حماس کو ابھی مزید وقت درکار ہے۔

غزہ سٹی کے تمام فلسطینی وہاں سے نکل جائیں، اسرائیلی وزیر دفاع

اس عہدیدار نے کہا، ’’ٹرمپ کے نئے منصوبے سے متعلق حماس کی مشاورت جاری ہے، اور غزہ پٹی کے تنازعے کے ثالثوں کو اطلاع کر دی گئی ہے کہ تاحال جاری مشاورت کی تکمیل کے لیے ابھی مزید وقت درکار ہے۔‘‘

کئی تباہ شدہ عمارات کے ملبے کے درمیان کھڑے فلسطینی باشندے
غزہ پٹی کی وزارت صحت کے مطابق اس جنگ میں وہاں اب تک 66 ہزار سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیںتصویر: Mahmoud Issa/Anadolu Agency/IMAGO

ٹرمپ کی طرف سے حماس کو دی گئی ’تین چار دن‘ کی مہلت

صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی موجودگی میں اس امن منصوبے کو قبول کرنے کے لیے حماس کو ’’تین چار دن‘‘ کی مہلت دی تھی، تاکہ اس پر عمل کرتے ہوئے غزہ پٹی میں اسرائیل اور حماس کے مابین اس خونریز جنگ کو ختم کیا جا سکے، جس کے سات اکتوبر کو ٹھیک دو سال پورے ہو جائیں گے۔

اسرائیل کا غزہ فلوٹیلا کے گرفتار کارکنان کو ملک بدر کرنے کا اعلان

اس امن منصوبے میں غزہ پٹی میں ایسی جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس پر عمل درآمد  کے آغاز کے بعد 72 گھنٹوں کے اندر اندر تمام اسرائیلی یرغمالی رہا کیے جانا چاہییں۔

غزہ پٹی میں اس وقت شمال سے جنوب کی طرف ہزاروں بے گھر فلسطینی اپنی جانیں بچانے کے لیے الرشید اسٹریٹ نامی شاہراہ پر سفر میں ہیں
غزہ پٹی میں اس وقت شمال سے جنوب کی طرف ہزاروں بے گھر فلسطینی اپنی جانیں بچانے کے لیے الرشید اسٹریٹ نامی شاہراہ پر سفر میں ہیںتصویر: Hassan Jedi/Anadolu Agency/IMAGO


اس کے علاوہ فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس، جس کے اسرائیل میں سات اکتوبر 2023ء کے دہشت گردانہ حملے اور اس کے فوری بعد اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے ساتھ غزہ کی جنگ شروع ہوئی تھی، کو خود کو غیر مسلح کرنا ہو گا۔ مزید یہ کہ اسرائیل بھی غزہ پٹی سے اپنے فوجی دستے بتدریج واپس بلا لے گا۔

اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ پٹی کا شمالی غزہ سے آخری رابطہ بھی منقطع کر دیا

اس امن منصوبے کا عرب دنیا، زیادہ تر مسلم ممالک اور یورپی یونین سمیت بین الاقوامی برادری نے خیر مقدم کیا ہے۔

تاہم اس بارے میں حماس کے پولیٹیکل بیورو کے رکن محمد نزال نے آج جمعے کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا، ’’اس منصوبے میں ایسے نکات بھی شامل ہیں، جن پر تشویش پائی جاتی ہے۔ ہم اس حوالے سے جلد ہی اپنے موقف کا اعلان کر دیں گے۔‘‘

’کچھ بھی باقی نہیں رہا، ہم ختم ہو گئے ہیں‘

https://p.dw.com/p/51Ro2
مزید پوسٹیں
Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔