جنوبی غزہ پٹی میں محفوظ زونز کا تصور مضحکہ خیز، اقوام متحدہ
وقت اشاعت 3 اکتوبر 2025آخری اپ ڈیٹ 3 اکتوبر 2025
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- جنوبی غزہ پٹی میں کسی محفوظ زون کا تصور ہی مضحکہ خیز ہے، اقوام متحدہ
- امریکا کا نیا غزہ امن منصوبہ مسلم ممالک کی تجاویز سے مطابقت نہیں رکھتا، پاکستانی وزیر خارجہ
- مراکش میں نوجوانوں کی قیادت میں ملک گیر احتجاجی مظاہرے جاری، وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ
- اسرائیلی دستوں نے آخری کشتی بھی روک لی، غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین کا بیان
- مانچسٹر میں سیناگوگ کے باہر خونریز دہشت گردانہ حملے کے بعد پورے برطانیہ میں ہائی الرٹ
- ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ امن منصوبے کے جائزے کے لیے ابھی مزید وقت درکار، اعلیٰ حماس عہدیدار
جنوبی غزہ پٹی میں کسی محفوظ زون کا تصور ہی مضحکہ خیز، اقوام متحدہ
اقوام متحدہ نے زور دے کر کہا ہے کہ اسرائیل نے غزہ سٹی کے جن لاکھوں فلسطینیوں کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا ہے، ان کے لیےکوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق جنوبی غزہ پٹی میں محفوظ زون کا تصور ہی مضحکہ خیز ہے۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ پٹی کا شمالی غزہ سے آخری رابطہ بھی منقطع کر دیا
جنیوا سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اقوام متحدہ نے جمعہ تین اکتوبر کے روز اصرار کیا کہ دو سالہ جنگ سے تباہ شدہ غزہ پٹی کے جنوبی حصے میں اسرائیل نے اب تک جن نام نہاد محفوظ علاقوں کی تخصیص کی ہے، وہ دراصل ’’موت کی جگہیں‘‘ یا ’’مقامات مرگ‘‘ ہیں۔
اسرائیل نے اگست کے مہینے میں غزہ شہر پر مکمل قبضے کے لیے وہاں جن بڑے فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا، ان کے تسلسل میں ستمبر کے وسط میں غزہ سٹی میں ایک بڑا زمینی فوجی آپریشن بھی شروع کر دیا گیا تھا۔
غزہ سٹی کے باشندوں سے انخلا کے مطالبات
اس آپریشن کو دن بہ دن وسعت دیتے ہوئے اب تک اسرائیلی فوج اور وزراء کی طرف سے کئی بار غزہ سٹی کے لاکھوں فلسطینیوں سے یہ مطالبہ کیا جا چکا ہے کہ وہ غزہ پٹی کے اس سب سے بڑے شہری مرکز کو چھوڑ کر اس تنگ ساحلی علاقے کے جنوب کی طرف چلے جائیں۔
اس پس منظر میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوام متحدہ کے بچوں کے امدادی ادارے یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے جمعے کے روز صحافیوں کو بتایا، ’’غزہ پٹی کے جنوب میں تو کسی محفوظ علاقے کا تصور ہی مضحکہ خیز ہے۔‘‘
اسرائیل کا غزہ فلوٹیلا کے گرفتار کارکنان کو ملک بدر کرنے کا اعلان
جیمز ایلڈر نے، جو اس وقت غزہ پٹی کے وسطی علاقے میں دیر البلح نامی شہر میں ہیں، وہاں سے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ کس طرح غزہ پٹی میں بم یوں گرائے جاتے ہیں کہ یہ درست پیش گوئی تک کی جا سکتی ہے کہ وہ کہاں گریں گے اور کتنا نقصان کریں گے۔
’اسکولوں اور خیموں پر گرنے والے بم‘
انہوں نے کہا، ’’جنوبی غزہ پٹی میں وہ اسکول، جن کی عارضی پناہ گاہوں کے طور پر نشان دہی کی گئی ہے، وہاں بم گرتے ہیں اور انہیں باقاعدگی سے ملبے کے ڈھیر بنا دیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ وہاں لگائے گئے خیموں کو تو بار بار کیے جانے والے فضائی حملوں کے نتیجے میں آگ کے شعلے نگل جاتے ہیں۔‘‘
غزہ میں فلسطینی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اب 66 ہزار سے زائد
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ابھی کل ہی کہا تھا کہ غزہ سٹی سے جو فلسطینی نہیں نکلیں گے، انہیں ’’دہشت گرد اور دہشت گردوں کے حامی‘‘ سمجھا جائے گا۔
اس بارے میں یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے کہا، ’’پوری شہری آبادی کو مجموعی طور پر کسی علاقے سے انخلا کا حکم دے دینا، اس کا مطلب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ جو لوگ وہاں سے نہ جائیں، وہ شہری تحفظ کے اپنے بنیادی حق سے محروم ہو جائیں۔‘‘
امریکا کا نیا غزہ امن منصوبہ مسلم ممالک کی تجاویز سے مطابقت نہیں رکھتا، پاکستان
پاکستانی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے غزہ پٹی میں جنگ بندی اور قیام امن کے لیے اسی ہفتے پیش کردہ امن منصوبہ سرکردہ مسلم ممالک کے گروپ کی تجاویز سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اسحاق دار کے بقول صدر ٹرمپ نے غزہ میں قیام امن کے لیے جو نیا منصوبہ پیش کیا ہے، اور جس کی اسرائیل نے بھی حمایت کی ہے، وہ ان امن تجاویز سے مطابقت نہیں رکھتا، جو امریکی صدر کو مسلم اکثریتی آبادی والے ممالک کے ایک گروپ نے گزشتہ ماہ ایک مسودے کی شکل میں پیش کی تھیں۔
بائیس ستمبر کو صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک ملاقات میں مسلم ممالک کے گروپ نے جو تجاویز پیش کی تھیں، ان میں غزہ پٹی سے اسرائیل کے مکمل انخلا کی بات کی گئی تھی، جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جو پلان پیش کیا، اس میں حماس کے عسکریت پسندوں کے زیر قبضہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی تیاری کے طور پر صرف جزوی اسرائیلی انخلا کی بات کی گئی ہے۔
مسودے میں ’تبدیلیاں‘ کی گئی ہیں
پاکستانی وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے ملکی پارلیمان کے ارکان کے سامنے دیے گئے ایک بیان میں واضح کیا، ’’میں یہ وضاحت کر چکا ہوں کہ وہ 20 نکات جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے منصوبے میں پیش کیے ہیں، وہ وہی نہیں ہیں، جو ہمارے تھے۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ مسودہ جو ہمارے پاس تھا، اور جو ہم نے امریکی صدر کو پیش کیا تھا، اس میں کچھ تبدیلیاں کر دی گئی ہیں۔‘‘
امریکی صدر نے اپنے اس امن منصوبے کا اعلان آٹھ مسلم اکثریتی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ اپنی ملاقات کے ایک ہفتے بعد کیا تھا۔ یہ ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن،ترکی، انڈونیشیا اور پاکستان تھے۔
امریکی صدر کے پیش کردہ نئے غزہ امن منصوبے میں بہت سی عملی تفصیلات کا طے کیا جانا اطراف کے مذاکراتی نمائندوں اور ثالثوں پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
اس منصوبے پر عمل درآمد کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس اسے قبول کرتی ہے یا نہیں۔ حماس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے آج جمعے کے روز کہا کہ اس امن پلان کا حماس کی طرف سے جائزہ اور مشاورت جاری ہیں، جن میں ابھی مزید کچھ وقت لگے گا۔ اس کے بعد ہی حماس کا حتمی ردعمل سامنے آئے گا۔
مراکش میں نوجوانوں کی قیادت میں ملک گیر احتجاجی مظاہرے جاری، وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ
مراکش میں بدعنوانی کے خلاف اور تعلیم اور صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے نوجوانون کی قیادت میں ملک گیر احتجاجی مظاہرے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب مسلسل چھٹی رات بھی جاری رہے۔ بدھ کی رات تین افراد پولیس کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔
مراکش میں کم عمری کی شادیوں سے متعلق اصلاحات کی کوشش
مراکش میں یہ مظاہرین اب ملکی وزیر اعظم عزیز اخنوش کی حکومت کے استعفے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ اس ملک گیر احتجاجی تحریک کے دوران اکثریتی طور پر نوجوانوں پر مشتمل مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ شمالی افریقہ کی اس عرب ریاست میں پائی جانے والی ابتر صورت حال اب آخرکار بہتر ہونا چاہیے۔
پولیس کے ہاتھوں مظاہرین کی ہلاکتیں
کل رات بھر جاری رہنے والے ان مظاہروں کے بارے میں یہ خدشہ بھی تھا کہ پولیس کی طرف سے طاقت کے دوبارہ استعمال سے حالات خراب تر اور پرتشدد بھی ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اس وجہ سے کہ ایک رات قبل صورت حال پر قابو پانے کی کوششوں کی دوران پولیس کے ہاتھوں تین افراد مارے بھی گئے تھے۔
یہ مظاہرے مراکش کے کم از کم درجن بھر شہروں میں ہو رہے ہیں، جن میں کاسا بلانکا بھی شامل ہے۔
ہزاروں تارکین وطن کی تیر کر مراکش سے اسپین پہنچنے کی کوشش
شاہ محمد ششم سے مداخلت کا مطالبہ
شروع میں یہ عوامی مظاہرے زیادہ تر پرامن تھے، لیکن پھر پولیس کے ہاتھوں تین مظاہرین کی ہلاکت کے بعد معاملات خونریز شکل اختیار کر گئے۔ اس دوران پیش آنے والے بدامنی کے واقعات میں مختلف شہروں میں بینک لوٹ لیے گئے اور بہت سی گاڑیوں کو آگ بھی لگا دی گئی تھی۔
مراکش میں اعلیٰ ترین ریاستی اختیارات ملکی بادشاہ کے پاس ہوتے ہیں۔ لیکن مظاہرین حکومت کے خلاف مظاہرے اس لیے کر رہے ہیں کہ ان کے مطابق حکومت اس ایجنڈے پر عمل درآمد میں ناکام رہی ہے، جو اسے سونپا گیا تھا۔
اسی لیے گزشتہ روز مظاہرین ملکی بادشاہ محمد ششم سے یہ مطالبہ بھی کر رہے تھے کہ وہ موجودہ صورت حال میں مداخلت کریں اور اخنوش حکومت کو برطرف کیا جانا چاہیے۔
اسرائیلی دستوں نے آخری کشتی بھی روک لی، غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین کا بیان
اسرائیلی فوج نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے نام سے غزہ پٹی کی طرف امداد لے کر جانے والے بین الاقوامی کارکنوں کے سمندری قافلے میں شامل آخری کشتی بھی جمعہ تین اکتوبر کو روک لی۔
ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے جائزے کے لیے مزید وقت درکار، اعلیٰ حماس عہدیدار
یہ فلوٹیلا غزہ پٹی کی اسرائیل کی طرف سے بحری ناکہ بندی کو توڑنے کے ارادے سے اور فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان لے کر غزہ پٹی کی طرف سفر میں تھا۔
آج اس فلوٹیلا میں شامل آخری کشتی کے بھی روک لیے جانے سے ایک دن قبل اسرائیلی بحری فوج نے اس سمندری قافلے میں شامل زیادہ تر کشتیوں کو روک کر ان پر سوار تقریباﹰ 450 کارکنوں کو حراست میں لے لیا تھا۔
ان میں سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن اور غزہ پٹی کی جنگ میں کھل کر فلسطینیوں کی حمایت کرنے والی گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی فلسطینی تنازعے میں ویسٹ بینک کی حیثیت مرکزی کیسے؟
گلوبل صمود فلوٹیلا کی آخری محو سفر کشتی
گلوبل صمود فلوٹیلا نامی مہم کے منتظمین نے بتایا ہے کہ اس فلوٹیلا میں شامل اور آخر تک غزہ کی طرف سفر جاری رکھنے والی کشتی کا نام ’مارینیٹ‘ ہے اور اسے جمعے کی صبح اسرائیلی بحری دستوں نے اپنے قبضے میں لے لیا۔
غزہ میں فلسطینی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اب 66 ہزار سے زائد
فلوٹیلا کے منتظمین نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا، ’’مارینیٹ نامی کشتی کو اسرائیلی فوج نے جمعے کی صبح غزہ پٹی کے ساحل سے 42.5 سمندری میل (79 کلومیٹر) کے فاصلے پر روک کر اپنے کنٹرول میں لے لیا۔‘‘
اس پیش رفت کے کچھ ہی دیر بعد اسرائیلی فوجی ریڈیو نے بھی تصدیق کر دی کہ ملکی فوجی دستوں نے اس فلوٹیلا میں شامل آخری کشتی کو اپنے قبضے میں اور اس پر سوار تمام افراد کو اپنی حراست میں لے لیا، جس کے بعد اس کشتی کو اسرائیل میں اسدود کی بندرگاہ کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے مارینیٹ کے قبضے میں لیے جانے پر روئٹرز کے استفسار کے باوجود کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
جنگ جاری رہے گی، نیتن یاہو کی اقوام متحدہ میں جارحانہ تقریر
دوسری طرف گلوبل صمود فلوٹیلا کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’اسرائیلی فوجی دستے اب ہماری تمام 42 کشتیوں کو غیر قانونی طور پر روک چکے ہیں، جن میں سے ہر ایک پر غزہ پٹی کی شہری آبادی کے لیے امدادی سامان لدا ہوا تھا، ہر ایک پر رضاکار سوار تھے اور اس پورے عمل کا مقصد اسرائیل کی طرف سے غزہ پٹی کی غیر قانونی ناکہ بندی کو توڑنا تھا۔‘‘
مانچسٹر میں سیناگوگ کے باہر خونریز دہشت گردانہ حملے کے بعد پورے برطانیہ میں ہائی الرٹ
انگلینڈ کے شہر مانچسٹر میں کل جمعرات کو یوم کیپور کے یہودی مذہبی تہوار کے موقع پر ایک سیناگوگ کے باہر کیے جانے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد آج جمعہ تین اکتوبر کو پورے برطانیہ میں دہشت گردی کے خلاف ہائی الرٹ کر دیا گیا۔ یہ حملہ ایک شامی نژاد برطانوی شہری جہاد الشامی نے کیا تھا، جو موقع پر ہی مارا گیا تھا۔
مانچسٹر سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق برٹش پولیس کل کے واقعے کی ایک دہشت گردانہ حملے کے طور پر چھان بین کر رہی ہے۔ اس واقعے میں ایک شخص نے پہلے اپنی گاڑی مانچسٹر میں ہیٹن پارک نامی کنیسہ کے باہر ایک ہجوم پر چڑھا دی تھی اور بعد میں گاڑی سے اتر کر ایک شخص کو چاقو سے حملہ کر کے زخمی بھی کر دیا تھا۔
اس حملے میں دو افراد ہلاک اور تین دیگر شدید زخمی ہو گئے تھے، جن کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔
اسی دوران آج جمعے کے روز پولیس نے دونوں مرنے والے افراد کی شناخت بھی ظاہر کر دی، جو 53 سالہ ایڈریان ڈالبی اور 66 سالہ میلوین کراوِٹس تھے۔
وزیر داخلہ شبانہ محمود کا ہائی الرٹ سے متعلق موقف
لندن میں وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں یہودی برادری سمیت تمام شہریوں کی حفاظت کے لیے ملک بھر میں ممکنہ دہشت گردی کے خلاف ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے آج جمعے کے روز کہا کہ پورے ملک میںیہودی برادری کی عبادت گاہوں اور دیگر مراکز کے لیے حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ شبانہ محمود کے الفاظ میں، ’’ہم اس وقت قطعی طور پر ہائی الرٹ پر ہیں۔‘‘
اسی دوران گریٹر مانچسٹر پولیس کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اس نے اپنی ابتدائی چھان بین کے نتیجے میں 30 اور 40 سال کے درمیان کی عمر کے دو مردوں اور 60 اور 70 سال کے درمیان کی عمر کی ایک خاتون کو گرفتار کر لیا ہے۔
ان تینوں مشتبہ افراد پر شبہ ہے کہ وہ ’’دہشت گردانہ کارروائی کے لیے اشتعال انگیزی، اس کی اجازت دینے اور اس کی تیاری میں مدد‘‘ کے مرتکب ہوئے۔
ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے جائزے کے لیے مزید وقت درکار، اعلیٰ حماس عہدیدار
غزہ پٹی سے جمعہ تین اکتوبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی ہفتے واشنگٹن میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی موجودگی میں غزہ پٹی سے متعلق جو نیا امن منصوبہ پیش کیا تھا، اس کے تفصیلی جائزے کے لیے حماس کو ابھی مزید وقت درکار ہے۔
غزہ سٹی کے تمام فلسطینی وہاں سے نکل جائیں، اسرائیلی وزیر دفاع
اس عہدیدار نے کہا، ’’ٹرمپ کے نئے منصوبے سے متعلق حماس کی مشاورت جاری ہے، اور غزہ پٹی کے تنازعے کے ثالثوں کو اطلاع کر دی گئی ہے کہ تاحال جاری مشاورت کی تکمیل کے لیے ابھی مزید وقت درکار ہے۔‘‘
ٹرمپ کی طرف سے حماس کو دی گئی ’تین چار دن‘ کی مہلت
صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی موجودگی میں اس امن منصوبے کو قبول کرنے کے لیے حماس کو ’’تین چار دن‘‘ کی مہلت دی تھی، تاکہ اس پر عمل کرتے ہوئے غزہ پٹی میں اسرائیل اور حماس کے مابین اس خونریز جنگ کو ختم کیا جا سکے، جس کے سات اکتوبر کو ٹھیک دو سال پورے ہو جائیں گے۔
اسرائیل کا غزہ فلوٹیلا کے گرفتار کارکنان کو ملک بدر کرنے کا اعلان
اس امن منصوبے میں غزہ پٹی میں ایسی جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس پر عمل درآمد کے آغاز کے بعد 72 گھنٹوں کے اندر اندر تمام اسرائیلی یرغمالی رہا کیے جانا چاہییں۔
اس کے علاوہ فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس، جس کے اسرائیل میں سات اکتوبر 2023ء کے دہشت گردانہ حملے اور اس کے فوری بعد اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے ساتھ غزہ کی جنگ شروع ہوئی تھی، کو خود کو غیر مسلح کرنا ہو گا۔ مزید یہ کہ اسرائیل بھی غزہ پٹی سے اپنے فوجی دستے بتدریج واپس بلا لے گا۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ پٹی کا شمالی غزہ سے آخری رابطہ بھی منقطع کر دیا
اس امن منصوبے کا عرب دنیا، زیادہ تر مسلم ممالک اور یورپی یونین سمیت بین الاقوامی برادری نے خیر مقدم کیا ہے۔
تاہم اس بارے میں حماس کے پولیٹیکل بیورو کے رکن محمد نزال نے آج جمعے کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا، ’’اس منصوبے میں ایسے نکات بھی شامل ہیں، جن پر تشویش پائی جاتی ہے۔ ہم اس حوالے سے جلد ہی اپنے موقف کا اعلان کر دیں گے۔‘‘