ترکمانستان کے گیس کے ذخائر پر چین کی مضبوط گرفت
26 اپریل 2026
ترکمانستان کے وسیع گیس ذخائر، جو دنیا میں چوتھے بڑے ذخائر سمجھے جاتے ہیں، تک رسائی کے لیے سب سے زیادہ سرمایہ کاری چین کر رہا ہے۔ اگرچہ ترکمانستان یورپ اور برصغیر کی جانب برآمدات بڑھانا چاہتا ہے، لیکن سرمایہ کاری کے ذریعے چین نے اس کے گیس ذخائر میں فیصلہ کن برتری حاصل کر لی ہے۔ ترکمانستان کے وسیع و عریض ریگستان میں، گالکِنیش کے بہت بڑی گیس فیلڈ پر چینی انجینئر دن رات کام کر رہے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا منصوبہ ہے جو اس وسطی ایشیائی ریاست کے بیجنگ کے ساتھ گہرے ہوتے تعلقات کو مزید مستحکم کر رہا ہے۔
گالکِنیش پلانٹ کا افتتاح
اپریل کے وسط میں ترکمانستان کے گالکِنیش پلانٹ کے ایک نئے مرحلے کے افتتاح کے موقع پر ترکمانستان کے سابق صدر اورموجودہ قومی رہنما سمجھے جانے والے قربان گلی بردی محمدوف نے بیجنگ کے ساتھ اپنے ملک کے اہم تعلقات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ''ہمارا ملک چین کو ایک اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔‘‘ بردی محمدوف سفید ہیلی کاپٹر میں تقریب گاہ پہنچے، جہاں رن وے پر روایتی قالین بچھایا گیا تھا۔ اس تقریب میں چین کے نائب وزیرِ اعظم ڈنگ شیو شیانگ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی رنگوں میں ملبوس رقاصوں نے ایک رقص پیش کیا۔
برطانوی توانائی مشاورتی ادارے برطانوی توانائی مشاورتی ادارے گیفنی کلائن اینڈ ایسوسی ایٹس کے مطابق گالکِنیش فیلڈ دنیا کا دوسرا بڑا گیس فیلڈ ہے ۔اندازوں کے مطباق ترکمانستان کی تقریباً 90 فیصد گیس برآمدات پہلے ہی چین جاتی ہیں تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری اعدادوشمار شائع نہیں کیے جاتے۔
ماہرین کے مطابق گیس کے وسیع ذخائر کے باوجود ملک کو اس سے حاصل ہونے والی آمدن کے معاملے میں مکمل آزادی حاصل نہیں کیونکہ اس کا برآمدی نظام بڑی حد تک چین پر ہی منحصر ہے۔
اسٹریٹیجک کمزوری
سابق سوویت ریاست ترکمانستان 2009 تک اپنی گیس زیادہ تر روس کو برآمد کرتی تھی، تاہم ماسکو کے ساتھ سفارتی کشیدگی کے بعد اس کی توجہ تیزی سے بیجنگ کی جانب منتقل ہو گئی۔ اسی سال وسطی ایشیا، چین گیس پائپ لائن کے افتتاح کے بعد اب تک تقریباً 460 ارب مکعب میٹر قدرتی گیس چین پہنچائی جا چکی ہے، جبکہ ترکمانستان گیس کی سالانہ ترسیل 65 ارب مکعب میٹر تک بڑھانا چاہتا ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا قدرتی گیس درآمد کنندہ چین اگرچہ روس اور مشرقِ وسطیٰ سے بھی گیس برآمد کرتا ہے اور ذرائع میں تنوع چاہتا ہے، مگر ماہرین کے مطابق عدم توازن واضح ہے۔ توانائی امور کے ماہر نریم بیتوف کے مطابق، ''ترکمانستان کے لیے چین ناگزیر ہے، لیکن چین کے لیے ترکمانستان محض کئی سپلائرز میں سے ایک ہے۔'' یہی وجہ ہے کہ ماہرین ترکمانستان کے ایک ہی منڈی پر انحصار کو تجارتی نہیں بلکہ اسٹریٹیجک کمزوری قرار دے رہے ہیں۔
ترکمان حکام اُمید کر رہے ہیں کہ گالکِنیش فیلڈ کی توسیع انہیں متبادل راستے فراہم کرے گی۔ سرکاری کمپنی ترکمان گاز کے ایک اہلکار کے مطابق،چین کے علاوہ گالکِنیش کو مستقبل کی تاپی (ترکمانستان–افغانستان–پاکستان– بھارت) پائپ لائن کے لیے بھی دیکھا جا رہا ہے، جس کے تحت 33 بلین کیوبک میٹر گیس فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ملک کے مغرب میں بحیرۂ کیسپین کے ذریعے یورپ کو برآمدات بڑھانے کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔
ادارت: رابعہ بگٹی