1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتپاکستان

بلوچستان میں بدامنی کا خاتمہ ’ایک ایس ایچ او کی مار‘ ہے؟

31 جنوری 2026

سیاسی مبصرین کے مطابق بلو چستان کی سلامتی کے لیے اب تک اپنائی گئی غیر مؤثر حکمت عملی نے حالات مزید بگاڑ دیے ہیں۔ اب یہ سوال بھی کیا جارہا ہے کہ عسکریت پسند کوئٹہ کے ریڈ زون جیسےحساس حصے تک پہنچنے میں کیسے کامیا ب ہوئے؟

https://p.dw.com/p/57oHp
Pakistan Quetta 2026 | Verletzter nach Angriff von Separatisten in Belutschistan
تصویر: Adnan Ahmed/AFP/Getty Images

بلوچستان میں علیحدگی پسند عسکریت پسندوں کے تازہ اور مربوط حملوں نے اس شورش زدہ صوبے میں ایک بار پھر  امن و امان کی مخدوش صورتحال اور اس سے نمٹنے کے لیے داخلی سلامتی کے اداروں کو درپیش چیلنجز عیاں کر دیے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بلو چستان کی سلامتی کے لیے اب تک اپنائی گئی غیر مؤثر حکمت عملی نے حالات کو سنبھالنے کے بجائے مزید بگاڑ دیا ہے، جس سے صوبہ ایک نئے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں میں بلوچستان میں عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں  110 سے زائد عسکریت پسند جبکہ 10 سکیورٹی اہلکار مارے جا چکے ہیں۔ کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن ارمی ( بی ایل اے)  نے ان مربوط حملوں کو تنظیم کے آپریشن ''ہیروف  2 ‘‘کا تسلسل قرار دیا ہے۔

بلوچ عسکریت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث صوبے میں مزید کشیدگی پھیل گئی ہے
بلوچ عسکریت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث صوبے میں مزید کشیدگی پھیل گئی ہے تصویر: Adnan Ahmed/AFP/Getty Images

بلوچ عسکریت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث صوبے میں مزید کشیدگی پھیل گئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ہنگامی  دورے پر کوئٹہ  پہنچے ۔  ماضی میں بلوچستان کی بدامنی کے حوالے سے ان کی جانب سے دیے گئے اس بیان کو بھی عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے،  جس میں انہوں نے اس صوبے میں دہائیوں سے جاری بدامنی کا خاتمہ ''ایک ایس ایچ او کی مار‘‘ قرار دیا تھا۔  بلوچستان کے امور پر نظر رکھنے والے مبصرین کہتے ہیں کہ بلوچستان کے حالات سے ناواقف حکومتی عہدیداروں نے ہمیشہ اپنی بے حسی کی وجہ سے صوبے کو نقصان پہنچایا ہے۔

کثیرجہتی جنگ میں بلوچستان حکومت بے بس کیوں؟

 بلوچستان  سے تعلق رکھنے والے سابق صوبائی وزیر اور قبائلی رہنماء  وڈیرہ خدا بخش مری کہتے ہیں کہ بلوچستان کے حالات موجوہ صوبائی حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث دن بدن خراب ہو رہے ہیں اور وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم نے ان   حالات پر قابو پانے کے بجائے صوبے کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے ۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، '' ہم نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ بلوچستان کی تباہی کے ذمہ دار جو لوگ ہیں، ان کا پہلے احتساب  کیا جائے ۔ صوبائی حکومت میں بیٹھے یہ لوگ جنگی مفاد  پرست ہیں اور انہوں نےخراب صورتحال سے ہمیشہ فائدہ اٹھایا ہے ۔‘‘ مری نے الزام لگایا، ''وزیراعلیٰ یہ نہیں چاہتا کہ یہاں استحکام آئے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اس کی حکومت اسی جنگی بیانیے پر چل رہی ہے اور یہ لوگ اپنے انہی  منفی عزائم کی وجہ سے براہ راست ریاست کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں ۔"

بلوچستان میں بدامنی کے حوالے سے پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ صوبے کے علیحدگی پسند عناصر بیرونی خاص طور پر بھارت کی معاونت سے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں
بلوچستان میں بدامنی کے حوالے سے پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ صوبے کے علیحدگی پسند عناصر بیرونی خاص طور پر بھارت کی معاونت سے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیںتصویر: SA-ZM-230525/Newscom World/IMAGO

وڈیرہ خدابخش مری کا کہنا تھا کہ ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں بلوچستان کے حوالے سے جواقدامات کیے جارہے ہیں ان کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

خدا بخش مری کا کہنا تھا، ''بلوچستان میں ہونے والے حملے پاکستان کے خلاف ایک کثیر جہتی جنگ کا حصہ ہیں، جن میں دہشت گردی، پروپیگنڈا اور بیرونی حمایت سب شامل ہیں، اس لیے اس کا مقابلہ صرف عسکری طاقت سے نہیں بلکہ قومی اتحاد، مؤثر سفارت کاری اور انفارمشن وارفیئر کے ذریعے ہی ممکن ہے۔‘‘

کوئٹہ ریڈ زون تک عسکریت پسندوں کی رسائی اور حکومتی رٹ

پاکستان پیپلز پارٹی  کے رہنماء اور سیاسی امور کے تجزیہ کار بابر خان خجک کہتے ہیں کہ   بلوچستان  کی مخلوط حکومت کی مفاد پرستی پر مبنی پالیسوں نے صوبے کو شدیدعدم استحکام سے دوچار کر رکھا  ہے۔  ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ''سرفراز بگٹی کی حکومت کو دراصل بلوچستان میں اپنے مفاد کے علاوہ کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔‘‘

انہون نے مزید کہا کہ  آج بلوچستان میں عسکریت پسندوں نے جو حملے کیے ہیں ان علاقوں کے 12 منتخب اراکین صوبائی اسمبلی کہاں ہیں؟  ''ان سے کوئی یہ کیوں  نہیں پوچھ رہا کہ ان کے علاقوں میں بد امنی کی اس بدتر صورتحال کی بہتری کے لیے اب تک انہوں نے کیا اقدامات کیے ہیں ؟‘‘

یہ لوگ اپنے علاقوں میں عوامی رابطوں کی بجائے زاتی مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں اسی  لیے ریاست اور عوام کے درمیان دن بدن دوریاں پیدا ہورہی ہیں۔‘‘

عام طور پر کسی بھی بڑے حملے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف سمیت دیگر وفاقی وزرا صوبے کا دورہ کرتے ہیں اور آئندہ سے اس طرح کے واقعات کا سدباب کیے جانے کے بیانات پر زور دیتے ہیں
عام طور پر کسی بھی بڑے حملے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف سمیت دیگر وفاقی وزرا صوبے کا دورہ کرتے ہیں اور آئندہ سے اس طرح کے واقعات کا سدباب کیے جانے کے بیانات پر زور دیتے ہیںتصویر: Abdul Ghani Kakar/DW

بابرخان کاکہنا تھا کہ  بلوچستان میں حالات کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ سکیورٹ میں بہتری کے تمام تر دعووں کے باوجود عسکریت پسند کوئٹہ کے ریڈ زون جیسےحساس حصے تک  پہنچنے میں کیسے کامیا ب ہوئے۔ انہوں نے مذید کہا، '' وقت آگیا ہے کہ اس تمام صورتحال میں دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کردار وں کا بھی بلا تفریق احتساب کیا جائے، جن کی  مفاد پرستی کی وجہ سے بلوچستان   آج جل رہا  ہے۔‘‘

خطیر سکیورٹی بجٹ مگر عوام غیر محفوظ

مرکز میں حکمران جماعت ن لیگ کے ایک رہنماء اور سابق صوبائی مشیر  مرزا شمشاد نے سوال اٹھایا ہے کہ بلوچستان  میں سکیورٹی کے لیے   96  ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود عوام کا جان ومال کیوں محفوظ نہیں ہے؟

ڈویچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ، ''یوں لگتا ہے بلوچستان میں حکومت کی رٹ ہی ختم ہوگئی ہے ۔ بلندو بانگ دعوے کرنے والے حکومتی اہلکار  منظر عام سے بالکل غائب ہیں۔ ‘‘

انہوں نے مزید کہا،  ’’ اگرصوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں حالات اتنے گھمبیر ہوں گے تو باقی علاقوں کی صورتحال کس طرح بہتر ہوسکتی ہے؟ میرے خیال میں اب وقت اگیا ہے  کہ حکومت  خام خیالی کے بجائے زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے دوراندیشی پر مبنی پالیسیاں مرتب کرے۔‘‘

مرزا شمشاد کا کہنا تھا کہ   غیر تربیت یافتہ لیویز اہلکاروں کو پولیس میں ضم کرکے حکومت نے حالات کو مذید بگاڑ دیا ہے ۔ ایسے اہلکاروں کی چھان بین بہت  ضروری ہے جنہوں نے ماضی میں عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے لیے کوئی تسلی بخش کردار ادا نہیں کیا ہے ۔

بلوچستان میں علیحدگی پسند مسلسل سرکاری املاک، سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے آ رہے ہیں
بلوچستان میں علیحدگی پسند مسلسل سرکاری املاک، سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے آ رہے ہیںتصویر: AFP

کوئٹہ ریڈ زون پر ہونے والے حملے کے بعد صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہاکی چوک کا دورہ  بھی کیا،  جہاں انہیں آئی جی پولیس محمد طاہر نے سکیورٹی صورتحال بریفنگ دی ۔

دورے کے موقع پر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست پوری قوت اور عزم کے ساتھ مصروفِ عمل ہے اور دشمن کے بزدلانہ حملے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا ، ''بلوچستان کے امن پر اس لیے وار کیا گیا ہے کیونکہ ملک دشمن قوتیں اپنے پراکسیز کے ذریعے صوبے کے امن کو ثبوتاژ کرنا چاہتی ہیں ۔عوام کی جان ومال کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدمات کیے جا رہے ہیں۔‘‘

وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا، ''بلوچ قوم کو لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلنے والے عناصر بلوچ قوم کے کبھی خیرخواہ نہیں ہوسکتے۔ امن دشمنوں کے خلاف عوام کو  بھی اب اگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔‘‘

سرفراز بگٹی کا کہنا  تھا کہ  دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا گیا ہے  ۔ اورگزشتہ 12 ماہ کے دوران بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے 700 سے زائد دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا ہے۔

ادارت: شکور رحیم 

بلوچستان میں کئی مقامات پر عسکریت پسندوں کے حملے