ایک امریکی بحری بیڑا ایران کے قریب پہنچ رہا ہے، ٹرمپ
23 جنوری 2026
انسانی حقوق کے کارکنوں نے جمعے کے روز کہا کی ایران میں ملک گیر مظاہروں کے خلاف خونریز کریک ڈاؤن میں کم از کم 5,002 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور مزید افراد کے مارے جانے کا خدشہ ہے۔
ایران سے معلومات حاصل کرنے میں مشکلات برقرار ہیں، کیونکہ حکام نے 8 جنوری کو انٹرنیٹ تک رسائی منقطع کر دی تھی۔ اور ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کو دو ہفتے سے زیادہ ہو چکے ہیں۔
امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی نے ہلاکتوں کی تعداد فراہم کرتے ہوئے کہا کہ 4,716 مظاہرین، 203 حکومتی وابستگان، 43 بچے اور 40 ایسے شہری تھے جو احتجاج میں شریک نہیں تھے۔ اس نے مزید بتایا کہ حکام کی جانب سے گرفتاریوں کی مہم میں 26,800 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
یہ ادارہ ماضی میں ایران میں بدامنی کے دوران درست اعداد و شمار فراہم کرتا رہا ہے اور اموات کی تصدیق کے لیے ایران کے اندر کارکنوں کے نیٹ ورک پر انحصار کرتا ہے۔ یہ تعداد دہائیوں میں ایران میں کسی بھی احتجاج یا بدامنی کے دوران ہونے والی ہلاکتوں سے زیادہ ہے اور 1979 کے اسلامی انقلاب کے دوران کی افراتفری کی یاد دلاتی ہے۔
ہلاکتوں کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا مشکل
ایرانی حکومت نے بدھ کو ہلاکتوں کی پہلی تعداد جاری کرتے ہوئے کہا کہ 3,117 افراد مارے گئے۔ اس نے مزید کہا کہ 28 دسمبر کو شروع ہونے والے مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں میں سے 2,427 شہری اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار تھے، جبکہ باقی ''دہشت گرد‘‘ تھے۔ ایران کی حکومت ماضی میں بدامنی کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کم بتاتی رہی ہے یا رپورٹ ہی نہیں کرتی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آزادانہ طور پر ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے، جس کی ایک وجہ حکام کی جانب سے انٹرنیٹ بند کرنا اور بین الاقوامی کالز روکنا ہے۔
ایران میں صحافیوں کی مقامی رپورٹنگ پر بھی مبینہ طور پر پابندیاں لگائی گئی ہیں، جبکہ سرکاری ٹی وی بار بار مظاہرین کو ''فسادی‘‘ قرار دیتا رہا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے اکسانے پر ایسا کر رہے ہیں، تاہم اس کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
اسی دوران امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے کیونکہ ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز گروپ مشرقِ وسطیٰ کے قریب پہنچ رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں اسے ''بیڑا‘‘ قرار دیا۔
ادھر امریکی فوج نے مشرقِ وسطیٰ کی جانب مزید فوجی اثاثے منتقل کیے ہیں، جن میں طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے ساتھ چلنے والے جنگی جہاز شامل ہیں جو بحیرۂ جنوبی چین سے روانہ ہوئے ہیں۔
امریکی بحریہ کے ایک اہلکار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، جمعرات کو بتایا کہ لنکن اسٹرائیک گروپ اس وقت بحرِ ہند میں موجود ہے۔
ٹرمپ نے جمعرات کو ایئر فورس ون پر کہا کہ امریکہ یہ جہاز ایران کی جانب ''صرف احتیاطاً‘‘ لے جا رہا ہے تاکہ اگر وہ کارروائی کرنا چاہیں تو تیار رہیں۔
ٹرمپ نے کہا، ''ہمارا ایک بڑا بیڑا اس سمت جا رہا ہے اور شاید ہمیں اسے استعمال کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔‘‘
ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر امریکی حکام اور ایران کے درمیان ہونے والے کئی دور کے مذاکرات کا بھی ذکر کیا، جو جون میں اسرائیل کی جانب سے اسلامی جمہوریہ پر 12 روزہ جنگ شروع کرنے سے پہلے ہوئے تھے، جس کے دوران امریکی جنگی طیاروں نے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
انہوں نے ایران کو ایسی فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دی جو اس سے پہلے یورینیم افزودگی کے مراکز پر امریکی حملوں سے زیادہ شدید ہو گی۔
دریں اثنا برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ قطر کے ساتھ مشترکہ یورو فائٹر ٹائیفون فائٹر جیٹ اسکواڈرن، 12 اسکواڈرن، کو ''خطے میں کشیدگی کے پیش نظر دفاعی مقاصد کے لیے خلیج فارس میں تعینات کیا گیا ہے۔‘‘
ادارت: صلاح الدین زین
اے پی کے ساتھ