امن مذاکرات کی کوششوں پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے سائے
وقت اشاعت 23 اپریل 2026آخری اپ ڈیٹ 23 اپریل 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- ڈنمارک میں دو مسافر ریل گاڑیوں میں تصادم، متعدد افراد زخمی
- ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات کی کوششوں پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے سائے
ڈنمارک میں دو مسافر ریل گاڑیوں میں تصادم، متعدد افراد زخمی
جرمنی کے ہمسایہ شمالی یورپی ملک ڈنمارک میں دو مسافر ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں، جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہو گئے۔ یہ حادثہ 23 اپریل جمعرات کی صبح ملکی دارالحکومت کوپن ہیگن کے شمال میں پیش آیا۔
مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق پولیس نے اسے ایک ’سنگین حادثہ‘ قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ پولیس اہلکار اور ہنگامی امدادی ٹیموں کے ارکان بڑی تعداد میں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔
گریٹر کوپن ہیگن فائر ڈیپارٹمنٹ کے ایک ترجمان نے کہا، ’’یہ دونوں لوکل ٹرینیں تھیں، جو آمنے سامنے آ کر ٹکرا گئیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’مسافروں میں سے کئی زخمی ہیں۔ لیکن تمام مسافر اب ٹرینوں سے باہر آ چکے ہیں، اور اب کوئی بھی شخص دونوں میں سے کسی بھی ٹرین کے اندر پھنسا ہوا نہیں ہے۔ ‘‘
سرکاری نشریاتی ادارے ڈینش براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ زخمیوں کی تعداد پانچ سے لے کر دس تک کے درمیان ہو سکتی ہے۔
ڈنمارک کو اپنے محفوظ ٹرانسپورٹ نظام پر فخر ہے، تاہم ماضی میں بھی ایسے حادثات پیش آ چکے ہیں۔
2019 میں ایک ٹرین حادثے میں آٹھ افراد ہلاک اور 16 زخمی ہو گئے تھے، جبکہ گزشتہ سال اگست میں جنوبی ڈنمارک میں جرمنی کے ساتھ سرحد کے قریب ایک ٹرین کے ایک ٹینکر سے ٹکرا کر پٹری سے اتر جانے کے باعث بھی ایک شخص ہلاک اور 27 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔
امن مذاکرات کی کوششوں پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے سائے
ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات کی بحالی کی کوششیں اس وقت مزید غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو گئیں، جب ایران نے آبنائے ہرمز میں تین مال بردار غیر ملکی بحری جہازوں پر فائرنگ کی اور دو کو قبضے میں لے لیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ میں فائر بندی کی مدت میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کرنے کی وجہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات کے لیے مزید وقت دینا ہے۔ پھر کل بدھ کے روز وائٹ ہاؤس نے بھی کہا کہ صدر ٹرمپ نے موجودہ توسیع شدہ سیزفائر کے خاتمے کے لیے کوئی نئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی۔
تاہم ایرانی حکام نے اس اقدام کی اب تک باضابطہ حمایت نہیں کی اور کہا ہے کہ نئے مذاکراتی دور میں شرکت کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ مکمل فائر بندی اسی صورت میں برقرار رہ سکتی ہے جب واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرے۔
ایران اس ناکہ بندی کو عملاﹰ جنگ ہی کے مترادف قرار دیتا ہے۔
باقر قاليباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’فائر بندی کی اتنی کھلی خلاف ورزی کے جاری رہتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ناممکن ہے۔‘‘
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ ایران نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ اسلام آباد میں نئے امن مذاکرات میں شامل ہوگا یا نہیں۔ تہران نے امریکہ پر ’بد نیتی سے کام کرنے‘ کا الزام بھی لگایا ہے۔
اس سے قبل مصر میں ایرانی سفارتی مشن کے سربراہ مجتبیٰ فردوسی پور نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا تھا کہ جب تک واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، کوئی ایرانی مذاکراتی وفد پاکستان نہیں جائے گا۔
خیال رہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں معمول کی تجارتی جہاز رانی معطل کر رکھی ہے، جس سے دنیا بھر کی معیشتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور مسلسل غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر انرجی سکیورٹی کے سلسلے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران جنگ میں فائر بندی کی مدت میں توسیع کے باوجود جمعرات 23 اپریل کو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ ہو گیا۔
ادارت: مقبول ملک