1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اقوام متحدہ کی ٹی ٹی پی سے متعلق پاکستانی مؤقف کی توثیق

جاوید اختر اے پی، اے ایف پی، روئٹرز، ڈی پی اے کے ساتھ
وقت اشاعت 11 فروری 2026آخری اپ ڈیٹ 11 فروری 2026

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کالعدم دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے افغانستان سے پاکستان پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

https://p.dw.com/p/58Umd
پاکستان دہشت گردی
رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان کی کارروائیاں اس ممنوعہ تنظیم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیںتصویر: Banaras Khan/AFP/Getty Images
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • قازقستان میں نئے آئین پر 15 مارچ کو ریفرنڈم
  • روس کے دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے، میسیجنگ ایپ ٹیلیگرام کے سی ای او
  • جرمن عدالت نے امریکی شہری کو جاسوسی کا مجرم قرار دیا
  • مڈغاسکر: طاقتور سمندری طوفان میں 20 افراد ہلاک
  • یوکرین میں جلد صدارتی انتخابات کے اعلان کا امکان: رپورٹ
  • بھارت: راہول گاندھی کا حکومت پر ملک بیچنے کا الزام 
  • روسی حملوں میں یوکرین میں تین کم سن بچوں سمیت چار افراد ہلاک 
  • ترکی: ایردوآن نے وزیرِ انصاف اور وزیرِ داخلہ کو تبدیل کر دیا
  • اگر امریکہ جوہری ہتھیاروں کی حد پر قائم رہے تو ماسکو بھی تیار، روس
  • آسٹریلیا: چین کے لیے جاسوسی کے الزام میں دو افراد پر فردِ جرم عائد
  • کینیڈا کے ایک ہائی اسکول میں فائرنگ، حملہ آور سمیت 10 افراد ہلاک
  • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ٹی ٹی پی سے متعلق پاکستانی مؤقف کی  تائید کر دی
قازقستان میں نئے آئین پر 15 مارچ کو ریفرنڈم سیکشن پر جائیں
11 فروری 2026

قازقستان میں نئے آئین پر 15 مارچ کو ریفرنڈم

قازقستان کے صدر صدر قاسم جومارت توکایووف
توکایووف، جو پہلے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ رہ چکے ہیں، 2019 میں قازقستان کے پہلے صدر نورسلطان نظربایف کے منتخب جانشین کے طور پر اقتدار میں آئے تھےتصویر: Kazakhstan's Presidential Press Office/picture alliance/AP

قازقستان نے بدھ کے روز نئے آئین پر 15 مارچ کو ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا ہے، جو صدر قاسم جومارت توکایووف کو وسطی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت کی قیادت جاری رکھنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ وہ فی الحال 2029 کے بعد اقتدار میں رہنے کے اہل نہیں ہیں۔
نئے مسودہ آئین کے تحت پارلیمان کو سادہ بنایا جائے گا، دو ایوانوں کی جگہ ایک ایوان ہو گا اور اراکین کی تعداد کم کی جائے گی، جبکہ نائب صدر کا عہدہ بحال کیا جائے گا، جسے 1996 میں ختم کر دیا گیا تھا۔
سابق سوویت اور قازق سفارتکار توقایف، جو پانچ زبانیں بولتے ہیں اور اقوام متحدہ کے جنیوا دفتر کی قیادت بھی کر چکے ہیں، اس وقت ایک سات سالہ مدت تک صدر ہیں جو 2029 میں ختم ہو گی ۔ یہ پابندی انہوں نے خود 2022 میں متعارف کرائی تھی۔
نئے مسودے کے تحت قازق صدور اب بھی سات سال کی ایک ہی مدت تک محدود رہیں گے۔
 اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ وہ 2029 میں عہدہ چھوڑ دیں گے، تاہم نیا آئین ممکنہ طور پر ایک بالواسطہ راستہ فراہم کر سکتا ہے کہ اگر اس کی منظوری کو پرانی آئینی مدت کو کالعدم قرار دینے کے مترادف سمجھا جائے تو وہ دوبارہ ایک مدت حاصل کر سکیں گے۔
روس، بیلاروس، ازبکستان اور تاجکستان سمیت کئی سابق سوویت ریاستوں کے رہنماؤں نے ماضی میں نئے یا ترمیم شدہ آئین کے ذریعے اپنی قانونی مدتِ اقتدار کی حدیں ازسرنو مقرر کی ہیں۔
یہ اقدام قازقستان کے لیے اندرونی طور پر ایک حساس وقت میں سامنے آیا ہے، جہاں یوکرین جنگ سے جزوی طور پر پیدا ہونے والی مہنگائی کے باعث ملک گیر ٹیکس بڑھائے گئے ہیں۔ اس کی تیل کی صنعت، جو عالمی تیل پیداوار کا تقریباً 2 فیصد فراہم کرتی ہے، کو بھی کئی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
توکایووف، جو پہلے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ رہ چکے ہیں، 2019 میں قازقستان کے پہلے صدر نورسلطان نظربایف کے منتخب جانشین کے طور پر اقتدار میں آئے تھے۔ نظربایف نے ابتدا میں ’’قومی رہنما‘‘ کے طور پر نمایاں اثر و رسوخ برقرار رکھا۔
تاہم، 2022 میں ملک گیر بدامنی کے بعد توکایووف نے اپنے پیش رو کو عہدوں اور اثر و رسوخ سے محروم کر دیا۔ اس بدامنی میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے اور نظربایف اور ان کے خاندان کو مبینہ بدعنوانیوں میں ملوث ہونے پر عوامی عتاب کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

https://p.dw.com/p/58Xw1
روس کے دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے، ٹیلیگرام کے سی ای او سیکشن پر جائیں
11 فروری 2026

روس کے دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے، ٹیلیگرام کے سی ای او

 ٹیلیگرام  ایپ
روس نے 2018 میں ٹیلیگرام کو بلاک کرنے کی کوشش کی تھی، مگر ناکام رہاتصویر: Jakub Porzycki/NurPhoto/picture alliance

میسیجنگ ایپ ٹیلیگرام کے سی ای او نے کہا ہے کہ وہ مقبول میسیجنگ ایپ تک رسائی محدود کرنے کی روسی کوششوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ 
ٹیلیگرام کے روسی نژاد بانی پاول دوروف نے کہا کہ وہ روسی حکام کے دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے اور لکھا کہ یہ ایپ ’’ہر قسم کے دباؤ کے باوجود آزادی اور رازداری کی علامت ہے۔‘‘
ٹیلیگرام ایپ کو کریملن، عدالتیں اور جلا وطن اپوزیشن سمیت مختلف حلقے استعمال کرتے ہیں۔
روس کے سرکاری مواصلاتی نگران ادارے نے اس سے قبل کہا تھا کہ مقبول میسیجنگ ایپ کو مزید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ اس نے سابقہ خلاف ورزیوں کی اصلاح نہیں کی۔ 
ریاستی خبر رساں ادارے ریانووستی کے مطابق بدھ کے روز روسی عدالت نے ممنوعہ مواد ہٹانے سے انکار پر، جسے حکام انتہا پسند سمجھتے ہیں، ایپ پر تقریباً 11 ملین روبل (142,400 ڈالر) جرمانہ عائد کیا۔
منگل کے روز صارفین نے سروس کی رفتار کم ہونے اور ڈاؤن لوڈ میں تاخیر کی شکایات کیں۔  ناقدین کا کہنا ہے کہ روس ملک میں عوامی اور نجی مواصلات کے اہم ذرائع پر کنٹرول سخت کر رہا ہے۔
روس کے مواصلاتی نگران ادارے روسکومنادزور نے ایک  بیان میں کہا کہ وہ روسی قوانین کی عدم تعمیل پر ٹیلیگرام پر ’’مرحلہ وار پابندیاں‘‘ عائد کرتا رہے گا۔
دوروف، جن کے پاس فرانس اور متحدہ عرب امارات کی شہریت بھی ہے، کو 2024 میں فرانس میں بچوں سے متعلق فحش مواد، منشیات کی اسمگلنگ اور دھوکہ دہی کے لین دین سے متعلق ایپ کے استعمال کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم، دوروف نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ایپ نے فعال طور پر جرائم کو فروغ دیا۔ فرانس نے گزشتہ سال تحقیقات کے دوران ان پر عائد سفری پابندیاں بھی ہٹا دی تھیں۔

https://p.dw.com/p/58WqT
جرمن عدالت نے امریکی شہری کو جاسوسی کا مجرم قرار دیا سیکشن پر جائیں
11 فروری 2026

جرمن عدالت نے امریکی شہری کو جاسوسی کا مجرم قرار دیا

جرمنی جاسوسی
جج کے مطابق اس سے پہلے کہ کوئی حساس ڈیٹا لیک ہوتا، اس شخص کو 7 نومبر 2024 کو گرفتار کر لیا گیا تھاتصویر: Ina Fassbender/AFP

جرمنی کی ایک عدالت نے بدھ کو ایک امریکی شہری کو چین کو حساس امریکی فوجی معلومات فراہم کرنے کی پیشکش کرنے کا مجرم قرار دیا۔
شہر کوبلنس کی ہائر ریجنل کورٹ کے مطابق، 39 سالہ شخص نے پہلے امریکی بحریہ میں کام کیا، پھر جرمنی میں ایک امریکی فوجی اڈے پر ایک سول کنٹریکٹر کے طور پر ملازمت کی۔
عدالت نے کہا کہ اس شخص نے 2024 میں بار بار چینی حکام سے رابطہ کر کے حساس امریکی فوجی معلومات فراہم  کیں۔ اس جرم کے لیے اسے دو سال آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ 

جج کے مطابق اس سے پہلے کہ کوئی حساس ڈیٹا لیک ہوتا، اس شخص کو 7 نومبر 2024 کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ اس کے اقدامات کی وجہ امریکی فوج کے ساتھ اس کا تنازع تھا، جس میں مبینہ بلنگ فراڈ بھی شامل تھا۔
ملزم نے بتایا کہ اس نے یہ مسائل اپنے آجر اور امریکی حکام کے سامنے اٹھائے، لیکن جب اسے لگا کہ اس کی بات نہیں سنی جا رہی تو اس نے حد سے آگے بڑھتے ہوئے قدم اٹھا لیا۔
عدالت کے مطابق چینی حکام نے پیش کی گئی معلومات میں خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی۔

https://p.dw.com/p/58Wek
مڈغاسکر: طاقتور سمندری طوفان میں 20 افراد ہلاک سیکشن پر جائیں
11 فروری 2026

مڈغاسکر: طاقتور سمندری طوفان میں 20 افراد ہلاک

مڈغاسکر طوفان
 دفتر برائے خطرات اور ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کے مطابق 20 اموات ریکارڈ کی گئیں، جن میں سے بیشتر گھروں کے گرنے کے سبب ہوئیں۔تصویر: ALFREDO ZUNIGA/UNICEF /AFP

شدید ہواؤں کے ساتھ آنے والے ایک طوفان نے مڈغاسکر میں کم از کم 20 افراد کی جان لے لی، گھروں کو منہدم کر دیا اور بہت بڑا علاقہ سیلاب کی زد میں آگیا۔
جزیرہ نما ملک کی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی نے بدھ کو بتایا کہ سائیکلون گیزانی منگل کو ساحل سے ٹکرایا اور ملک کے دوسرے بڑے شہر توآماسینا میں داخل ہوا، جہاں ہواؤں کی رفتار 250 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی۔
 دفتر برائے خطرات اور ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کے مطابق 20 اموات ریکارڈ کی گئیں، جن میں سے بیشتر گھروں کے گرنے کے سبب ہوئیں۔ ادارے نے بتایا کہ 15 افراد لاپتہ ہیں اور کم از کم 33 زخمی ہوئے ہیں۔
ادارے کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ڈرون فوٹیج میں تقریباً 4 لاکھ آبادی والا مشرقی ساحلی شہر شدید سیلاب میں ڈوبا دکھائی دے رہا ہے، عمارتوں کی چھتیں اڑ گئیں اور درخت جڑوں سے اکھڑ گئے۔
ہیومینیٹیرین گروپ ایکشن اگینسٹ ہنگر کے ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کے سربراہ ریجا راندریاناریسوئا نے کہا، ’’یہ غیر معمولی نقصان ہے، 90 فیصد گھروں کی چھتیں مکمل یا جزوی طور پر اڑ چکی ہیں۔‘‘
ملک کے نئے رہنما کرنل مائیکل راندریانیرینا، جنہوں نے اکتوبر میں اقتدار سنبھالا تھا، نے بدھ کو متاثرہ علاقوں کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ 
فرانس کے ری یونین جزیرے پر واقع سی ایم آر ایس سائیکلون فورکاسٹر نے کہا کہ یہ طوفان فروری 1994 کے سائیکلون گیرالڈا کے برابر تھا، جس میں کم از کم 200 افراد ہلاک اور پانچ لاکھ سے زائد متاثر ہوئے تھے۔
جنوب مغربی بحرِ ہند میں سائیکلون کا موسم عام طور پر نومبر سے اپریل تک رہتا ہے اور وہاں ہر سال تقریباً ایک درجن طوفان آتے ہیں۔

https://p.dw.com/p/58WeA
یوکرین میں جلد صدارتی انتخابات کے اعلان کا امکان: رپورٹ سیکشن پر جائیں
11 فروری 2026

یوکرین میں جلد صدارتی انتخابات کے اعلان کا امکان: رپورٹ

وولودیمیر ‍زیلنسکی
یوکرین میں صدارتی انتخابات کا مطالبہ ابتدا میں ماسکو کی جانب سے سامنے آیا تھا، کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ زیلنسکی کی ابتدائی مدت ختم ہونے کے بعد وہ اب جائز فریق نہیں رہےتصویر: Ukrainian Presidential Office/AFP

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی موسم بہار (مارچ سے مئی کے درمیان)  صدارتی انتخابات اور امن ریفرنڈم کی تیاریوں کا اعلان کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ رپورٹ میں یوکرینی اور یورپی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کی مزید تفصیلات 24 فروری کو سامنے آئیں گی۔
رپورٹ کے مطابق، کییف روس کے ساتھ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے پر ریفرنڈم کے ساتھ ساتھ قومی انتخابات کرانے پر غور کر رہا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے بھی گزشتہ ہفتے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ امریکی اور یوکرینی مذاکرات کار بھی اس امکان پر غور کر رہے ہیں۔ روئٹرز کے مطابق ممکنہ انتخاب مئی کے آغاز میں ہو سکتا ہے۔
یوکرین میں صدارتی انتخابات کا مطالبہ ابتدا میں ماسکو کی جانب سے سامنے آیا تھا، کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ زیلنسکی کی ابتدائی مدت ختم ہونے کے بعد وہ اب جائز فریق نہیں رہے۔ 
کییف نے اب تک واضح کیا ہے کہ روس کی جنگ کے نتیجے میں نافذ مارشل لا کے باعث انتخابات ممکن نہیں۔ مزید یہ کہ روسی حملوں کے دوران، جب لاکھوں مرد محاذ پر ہوں اور اندرون و بیرون ملک لاکھوں پناہ گزین موجود ہوں، ایسے میں ووٹنگ کا انعقاد قابلِ عمل نہیں ہے۔
اسی دوران صدر زیلنسکی نے مسلسل روسی حملوں کا مقابلہ کرنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے فضائی دفاع میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے مقصد سے منگل کو اعلیٰ فوجی حکام کے ساتھ ملاقات کی۔

https://p.dw.com/p/58W3a
بھارت: راہول گاندھی کا حکومت پر ملک بیچنے کا الزام سیکشن پر جائیں
11 فروری 2026

بھارت: راہول گاندھی کا حکومت پر ملک بیچنے کا الزام

راہول گاندھی
راہول گاندھی نے کہا کہ امریکہ نے وزیر اعظم مودی کی گردن پکڑ رکھی ہے اور وزیر اعظم کی آنکھوں میں خوف نظر آ رہا ہےتصویر: ANI

بھارتی پارلیمان کے ایوان زیریں، لوک سبھا، میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے بدھ، 11 فروری کو مرکزی حکومت پر ملک کو فروخت کردینے کا الزام لگایا۔ 
انہوں نے کہا، ’’میں کہہ رہا ہوں کہ آپ نے بھارت کو بیچ دیا ہے۔ کیا آپ کو بھارت بیچنے پر شرم نہیں آتی... آپ نے ہماری بھارت ماتا کو بیچ دیا، کیا آپ کو کوئی شرم نہیں ہے؟‘‘
راہول نے کہا کہ عام حالات میں وزیر اعظم بھارت کو نہیں بیچتے، لیکن (امریکہ نے) ان کی گردن پکڑ رکھی ہے اور وزیر اعظم کی آنکھوں میں خوف نظر آ رہا ہے۔
اس سے پہلے راہول نے کہا کہ امریکہ کی بالادستی کو چین، روس اور دیگر طاقتیں چیلنج کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توانائی اور مالیات کو ہتھیار بنا دیا گیا ہے اور ہم استحکام سے عدم استحکام کی طرف جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ایک سپر پاور والی دنیا سے ایک ایسی دنیا کی طرف بڑھ رہے ہے جس میں شاید دو یا اس سے زیادہ سپر پاورز ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور چین کی لڑائی میں بھارتی ڈیٹا سب سے اہم اثاثہ ہے۔ انہوں نے بھارت کی بڑی آبادی کو ایک طاقت قرار دیا اور کہا کہ یہ طاقت اسی وقت معنی رکھتی ہے جب آپ ڈیٹا کی اہمیت کو سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ’’انڈیا‘‘ بلاک امریکی صدر ٹرمپ سے بات کرتا تو سب سے پہلے کہتا کہ اس مساوات میں سب سے اہم چیز بھارتی ڈیٹا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہم دوسری بات یہ کہتے کہ صدر ٹرمپ، اگر آپ اس ڈیٹا تک رسائی چاہتے ہیں تو براہ کرم سمجھ لیجیے کہ آپ ہم سے برابری کی سطح پر بات کریں ۔ آپ ہم سے اس طرح بات نہیں کریں گے جیسے ہم آپ کے نوکر ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن انڈیا اتحاد توانائی کی سلامتی اور کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے معاملے پر بھی امریکہ سے صاف صاف  بات کرتا۔

https://p.dw.com/p/58W3D
روسی حملوں میں یوکرین میں تین کم سن بچوں سمیت چار افراد ہلاک سیکشن پر جائیں
11 فروری 2026

روسی حملوں میں یوکرین میں تین کم سن بچوں سمیت چار افراد ہلاک

مشرقی یوکرین کے ڈونیٹسک ریجن کے شہر سلوویانسک میں روسی گائیڈڈ بموں سے نشانہ بننے والی ایک جگہ پر فائر فائٹر کام کرتا ہوا
رپورٹ کے مطابق 2025 میں جنگ کے نتیجے میں یوکرین میں 2,514 شہری ہلاک اور 12,142 زخمی ہوئے، یہ تعداد 2024 کے مقابلے میں 31 فیصد زیادہ ہیںتصویر: Tommaso Fumagalli/ZUMA/picture alliance

یوکرین کے حکام نے بدھ کو بتایا کہ روسی ڈرون نے یوکرین کے شمال مشرقی خارکیف خطے میں رات کے وقت ایک گھر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک باپ اور اس کے تین کم سن بچے ہلاک ہو گئے جبکہ ان بچوں کی والدہ، جو حاملہ ہیں، شدید زخمی ہو گئیں۔
خارکیف علاقائی پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق حملے میں اینٹوں کا گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور اس میں آگ لگ گئی، جس سے خاندان ملبے تلے دب گیا۔
گورنر اولیا سینیہوبوف نے بدھ کے روز ٹیلیگرام پر بتایا کہ ہلاک ہونے والے بچوں اور ایک 34 سالہ مرد کی لاشیں ایک گھر کے ملبے سے نکالی گئیں۔ جبکہ  35 سالہ حاملہ خاتون اور 73 سالہ ایک دیگر خاتون زخمی ہوئیں۔
یہ حملہ خارکیف کے شمال مغرب میں واقع چھوٹے قصبے بوہودوخِف پر کیا گیا۔
روس کی جانب سے ہمسایہ ملک پر حملے کو تقریباً چار سال ہو چکے ہیں، اور امریکی قیادت میں حالیہ امن کوششوں کے باوجود یوکرینی شہری مسلسل فضائی حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نگرانی مشن کے مطابق دوہزار بائیس کے بعد  2025 یوکرین میں شہریوں کے لیے سب سے مہلک سال رہا، جب روس نے محاذ کے پیچھے فضائی حملے تیز کر دیے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں جنگ کے نتیجے میں یوکرین میں 2,514 شہری ہلاک اور 12,142 زخمی ہوئے، یہ تعداد 2024 کے مقابلے میں 31 فیصد زیادہ ہیں۔

https://p.dw.com/p/58Vop
ترکی: ایردوآن نے وزیرِ انصاف اور وزیرِ داخلہ کو تبدیل کر دیا سیکشن پر جائیں
11 فروری 2026

ترکی: ایردوآن نے وزیرِ انصاف اور وزیرِ داخلہ کو تبدیل کر دیا

ترکی کے صدر رجب طیب اردوآن
وزارت میں ردوبدل کی کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی گئی، تاہم سرکاری گزٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں وزراء نے خود اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کی درخواست کی تھیتصویر: TUR Presidency/Mustafa Kamaci/Anadolu Agency/IMAGO

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے بدھ کے روز اچانک کابینہ میں محدود ردوبدل کرتے ہوئے وزیرِ انصاف اور وزیرِ داخلہ کو تبدیل کر دیا۔
سرکاری گزٹ کے مطابق استنبول کے چیف پراسیکیوٹر آکِن گُرلیک کو یلماز تُنچ کی جگہ وزیرِ انصاف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مشرقی صوبے ارزورم کے گورنر مصطفیٰ چِفتچی کو علی یرلیکایا کی جگہ وزیرِ داخلہ بنایا گیا ہے۔
ردوبدل کی کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی گئی، تاہم سرکاری گزٹ میں کہا گیا ہے کہ تُنچ اور یرلیکایا نے خود اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کی درخواست کی تھی۔
یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ترکی ممکنہ آئینی اصلاحات پر بحث کر رہا ہے اور کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے ساتھ امن اقدام پر عمل پیرا ہے تاکہ دہائیوں پرانا تنازع ختم کیا جا سکے۔ پارلیمنٹ سے توقع ہے کہ وہ اس عمل کی حمایت میں اصلاحات منظور کرے گی۔
گُرلیک کی تقرری کو متنازع سمجھا جا رہا ہے۔ سابق پراسیکیوٹر کی حیثیت سے انہوں نے مرکزی حزبِ اختلاف ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) کے کئی رہنماؤں کے خلاف ہائی پروفائل مقدمات کی قیادت کی تھی۔
سی ایچ پی کے زیرِ انتظام بلدیات کے درجنوں عہدیدار بدعنوانی کی تحقیقات میں گرفتار ہو چکے ہیں، جن میں استنبول کے میئر اکرم امام اولو بھی شامل ہیں، جنہیں ایردوآن کا بڑا سیاسی حریف سمجھا جاتا ہے اور جنہیں گزشتہ سال گرفتار کیا گیا تھا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات سیاسی محرکات کے تحت ہیں، جبکہ حکومت کا اصرار ہے کہ عدلیہ آزادانہ طور پر کام کرتی ہے۔

https://p.dw.com/p/58VnY
اگر امریکہ جوہری ہتھیاروں کی حد پر قائم رہے تو ماسکو بھی تیار، روس سیکشن پر جائیں
11 فروری 2026

اگر امریکہ جوہری ہتھیاروں کی حد پر قائم رہے تو ماسکو بھی تیار، روس

روس کا سرمت بین البراعظمی میزائل روس میں ایک نامعلوم مقام پر دکھایا گیا ہے
نیو اسٹارٹ معاہدے  کے تحت امریکہ اور روس دونوں کو 1,550 جوہری وارہیڈز رکھنے کی اجازت تھیتصویر: AP Photo/picture-alliance

روس نے بدھ کے روز کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ ختم ہونے والے اسلحہ کنٹرول معاہدے میں طے شدہ جوہری ہتھیاروں کی حدود کی پابندی کرے گا، بشرطیکہ واشنگٹن بھی ایسا ہی کرے۔
نیو اسٹارٹ معاہدہ ، جو دنیا کی دو بڑی جوہری طاقتوں کے درمیان آخری معاہدہ تھا، اس ماہ کے آغاز میں ختم ہو گیا۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی جانب سے جوہری ذخیرے کی حد کو ایک سال کے لیے بڑھانے کی پیشکش پر امریکہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ ماسکو کو نئے ہتھیار تیار کرنے اور تعینات کرنے کی کوئی جلدی نہیں۔ یہ بات ان کی وزارت کے گزشتہ ہفتے کے بیانات کے برعکس ہے جن میں کہا گیا تھا کہ روس خود کو معاہدے کی شرائط کا پابند نہیں سمجھتا۔
لاوروف نے روسی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ہم اس بات سے رہنمائی لیتے ہیں کہ ہمارے صدر کی جانب سے اعلان کردہ یہ پابندی برقرار رہے گی، لیکن صرف اس وقت تک جب تک امریکہ مقررہ حدود سے تجاوز نہیں کرتا۔‘‘
دونوں فریقوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ایک نیا اسلحہ کنٹرول معاہدہکرنا چاہتے ہیں۔
واشنگٹن چاہتا ہے کہ چین کو بھی مذاکرات میں شامل کیا جائے، کیونکہ اس کا جوہری ذخیرہ بڑھ رہا ہے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ اگر چین کو کسی نئے معاہدے میں شامل کیا جاتا ہے تو پھر امریکہ کے جوہری اتحادی برطانیہ اور فرانس کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
نیو اسٹارٹ معاہدے کے خاتمے کے بعد، کئی دہائیوں میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ دنیا کے سب سے تباہ کن ہتھیاروں کی تعیناتی کو محدود کرنے والا کوئی معاہدہ موجود نہیں۔ اس سے نئی اسلحہ دوڑ کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
نیو اسٹارٹ معاہدے  کے تحت امریکہ اور روس دونوں کو 1,550 جوہری وارہیڈز رکھنے کی اجازت تھی۔

https://p.dw.com/p/58Vl7
آسٹریلیا: چین کے لیے جاسوسی کے الزام میں دو افراد پر فردِ جرم عائد سیکشن پر جائیں
11 فروری 2026

آسٹریلیا: چین کے لیے جاسوسی کے الزام میں دو افراد پر فردِ جرم عائد

آسٹریلیا  چین جاسوسی
آسٹریلوی پولیس نے دو چینی شہریوں کو "غیر ملکی مداخلت" میں ملوث ہونے کے الزام میں حراست میں لے لیا ہےتصویر: Rafael Ben-Ari/Avalon/picture alliance

آسٹریلیا میں پولیس نے 2018 کے قانون کے تحت دو چینی شہریوں پر ’غیر ملکی مداخلت‘ کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر چین کی ایک سکیورٹی ایجنسی کے کہنے پر ایک بدھ مت گروہ کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں۔
ایک پچیس سالہ مرد اور 31 سالہ خاتون کو بدھ کے روز عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ان دونوں پر ’’غیر ملکی مداخلت‘‘ کا الزام ہے،  جرم ثابت ہونے پر اس کی سزا زیادہ سے زیادہ 15 سال قید ہو سکتی ہے۔
یہ چینی شہریوں کے خلاف ان قوانین کے تحت دوسری کارروائی ہے، اور مجموعی طور پر ایسے الزامات کا سامنا کرنے والے یہ چوتھے اور پانچویں افراد ہیں۔
آسٹریلوی وفاقی پولیس کے مطابق یہ دونوں ایک اور چینی خاتون کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے، جس پر گزشتہ اگست میں کینبرا میں واقع گوان ین چِتّا بدھ مت گروہ کے بارے میں خفیہ معلومات جمع کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ یہ جاسوسی سرگرمیاں چین کے پبلک سکیورٹی بیورو، جو ملک کا مرکزی داخلی قانون نافذ کرنے والا ادارہ ہے، کے کہنے پر کی گئیں۔
گوان ین چِتّا گروہ خود کو ’’لوگوں کو بدھ مت کے صحیفے کا مطالعہ کرنے ، زندگی کی آزادی کی مشق کرنے اور زیادہ لوگوں کی مدد کے لیے بڑے عہد کرنے کی ترغیب دینے‘‘ کا پیغام دینے والا گروپ قرار دیتا ہے۔

https://p.dw.com/p/58V9O
کینیڈا کے ایک ہائی اسکول میں فائرنگ، حملہ آور سمیت 10 افراد ہلاک سیکشن پر جائیں
11 فروری 2026

کینیڈا کے ایک ہائی اسکول میں فائرنگ، حملہ آور سمیت 10 افراد ہلاک

کینیڈا فائرنگ
برٹش کولمبیا کے وزیرِاعلیٰ ڈیوڈ ایبی نے کہا کہ اس نوعیت کا واقعہ ہے جس کے بارے میں لگتا ہے کہ یہ کہیں اور ہوسکتا ہے، اپنے گھر کے قریب نہیں۔تصویر: Christinne Muschi/The Canadian Press/ZUMA/picture alliance

مغربی کینیڈا میں منگل کے روز ایک ہائی اسکول میں فائرنگ کے واقعے میں حملہ آور سمیت 10 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ ملک کی حالیہ تاریخ کے مہلک ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ پولیس کے مطابق حملہ آور ایک خاتون تھیں۔
یہ واقعہ کینیڈا میں اسی نوعیت کی اجتماعی فائرنگ کا تھا جو  پڑوسی ملک امریکہ میں اکثر و بیشتر رونما ہوتا ہے۔ 
رائل کینیڈین ماونٹڈ پولیس کے مطابق برٹش کولمبیا کے قصبے ٹمبلررج کے ایک ہائی اسکول کے اندر چھ افراد کی لاشیں ملیں، دو مزید افراد ایک ایسے گھر میں مردہ پائے گئے جس کا تعلق اس واقعے سے سمجھا جا رہا ہے، جبکہ ایک شخص ہسپتال لے جاتے ہوئے رستے میں ہی دم توڑ گیا۔
کم از کم دو افراد شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں زیر علاج ہیں، جبکہ 25  افراد کو معمولی زخمی ہوئے اور ان  کا علاج کیا جا رہا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ مشتبہ حملہ آور بھی مردہ پائی گئیں۔ پولیس کے مطابق عوام کے لیے کسی خطرے کا مزید امکان نہیں ہے۔
برٹش کولمبیا کے وزیرِاعلیٰ ڈیوڈ ایبی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،’’ اس نوعیت کا واقعہ ہے جس کے بارے میں لگتا ہے کہ یہ کہیں اور ہوسکتا ہے، اپنے گھر کے قریب نہیں۔‘‘
پولیس نے حملہ آور کے بارے میں زیادہ تفصیلات جاری نہیں کیں، سوائے اس کے کہ وہ خاتون تھیں۔ یہ ایک غیر معمولی بات ہے کیونکہ شمالی امریکہ میں زیادہ تر اجتماعی فائرنگ میں مرد ملوث ہوتے ہیں۔
پولیس کے ایک بیان میں مشتبہ شخص کا خاکہ ’’بھورے بالوں والی، لباس پہنے ایک خاتون‘‘ کے طور پرپیش کیا گیا تھا۔ بعد میں پولیس سپرنٹنڈنٹ کین فلائیڈ نے نیوز کانفرنس میں تصدیق کی کہ الرٹ جاری کرتے ہوئے جس شخص کا ذکر تھا وہی اسکول میں مردہ پائی گئی۔ پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ متاثرین میں سے کتنے نابالغ تھے۔

https://p.dw.com/p/58V3i
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ٹی ٹی پی سے متعلق پاکستانی مؤقف کی تائید کر دی سیکشن پر جائیں
11 فروری 2026

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ٹی ٹی پی سے متعلق پاکستانی مؤقف کی تائید کر دی

پاکستان دہشت گردی
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی وسطی اور جنوبی ایشیا کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہےتصویر: Anjum Naveed/AP/picture alliance

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی 37ویں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان ایسے شدت پسندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے جو پاکستان پر حملوں کے لیے اس کی سرزمین استعمال کرتے ہیں۔

4 فروری کو جاری ہونے والی رپورٹ، جس کے اقتباسات پاکستانی میڈیا نے شائع کیے ہیں، کے مطابق افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی وسطی اور جنوبی ایشیا میں تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں تشدد کی ایک نئی لہر جاری ہے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی وسطی اور جنوبی ایشیا کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ، ’’افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان میں حملوں میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں فوجی جھڑپیں ہوئیں۔ علاقائی تعلقات نازک رہے۔ داعش خراسان کے خلاف مسلسل انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے باوجود اس نے بیرونی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت اور ارادہ برقرار رکھا۔‘‘
رپورٹ کے مطابق افغان عبوری حکام کا دعویٰ تھا کہ افغانستان کی سرزمین پر کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں، تاہم ’’کسی بھی رکن ملک نے اس مؤقف کی حمایت نہیں کی۔‘‘
رپورٹ میں مزید کہا گیا، ’’ افغان عبوری حکام نے داعش خراسان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں اور بعض دیگر گروہوں کی بیرونی سرگرمیوں کو کنٹرول کیا۔ تاہم ٹی ٹی پی کو عبوری حکام کی جانب سے زیادہ آزادی اور حمایت ملی، جس کے نتیجے میں پاکستان کے خلاف اس کے حملوں  اور علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔‘‘
رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان کی کارروائیاں تنظیم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیں۔ 

https://p.dw.com/p/58Ur3
مزید پوسٹیں
Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔