1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اسرائیل کی جنوبی لبنانی شہر صور سے بھی عوامی انخلا کی وارننگ

مقبول ملک روئٹرز، اے پی، اے ایف پی اور ڈی پی اے کے ساتھ
وقت اشاعت 27 مئی 2026آخری اپ ڈیٹ 27 مئی 2026

لبنان جنگ میں سیزفائر کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی زمینی فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کے ایک دن بعد بدھ 27 مئی کو شہر صور اور نواحی علاقوں کے رہائشیوں کو بھی وہاں سے فوری انخلا کی وارننگ جاری کر دی۔

https://p.dw.com/p/5EO1H
جنوبی لبنانی شہر صور کے نواح میں برج شمالی نامی گاؤں پر منگل 26 مئی کو کیے گئے اسرائیلی فضائی حملے کے بعد کا ایک منظر
جنوبی لبنانی شہر صور کے نواح میں برج شمالی نامی گاؤں پر منگل 26 مئی کو کیے گئے اسرائیلی فضائی حملے کے بعد کا ایک منظرتصویر: Mohammed Zaatari/AP Photo/picture alliance
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے شہر صور اور نواحی علاقوں کے لیے بھی انخلا کی وارننگ جاری کر دی
  • غزہ پٹی کے لیے صدر ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس کا باضابطہ غزہ فنڈ ابھی تک خالی، باخبر ذرائع
  • فن لینڈ کی افواج کو شبہ کہ ایک روسی فوجی طیارے نے ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی
  • ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے پیش منظر میں امریکی صدر ٹرمپ کی کابینہ کا اجلاس
  • اسرائیل اور امریکہ کا اب تک بھی ہدف ایران میں اسلامی جمہوریہ کا خاتمہ ہے، تہران کا دعویٰ
  • آبنائے ہرمز بند رہی تو دنیا کو تیل اور گیس کا استعمال اور کم کرنا پڑے گا، ڈیلس فیڈرل ریزرو چیف
  • امریکہ سے دوبارہ جنگ شروع ہونے کا امکان کم ہے، ایرانی پاسداران انقلاب کے اعلیٰ اہلکار کا بیان
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے شہر صور اور نواحی علاقوں کے لیے بھی انخلا کی وارننگ جاری کر دی سیکشن پر جائیں
27 مئی 2026

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے شہر صور اور نواحی علاقوں کے لیے بھی انخلا کی وارننگ جاری کر دی

جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں نئی شدت کے بعد ضلع صور میں فلسطینی مہاجرین کے رشیدیہ کیمپ پر پیر کے روز کیے گئے ایک فضائی حملے کے بعد وہاں سے اٹھنے والا دھواں
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں نئی شدت کے بعد ضلع صور میں فلسطینی مہاجرین کے رشیدیہ کیمپ پر پیر کے روز کیے گئے ایک فضائی حملے کے بعد وہاں سے اٹھنے والا دھواںتصویر: Kawant Haju/AFP

لبنان جنگ میں بظاہر فائر بندی معاہدے کے نفاذ کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی زمینی فوجی کارروائیوں کو کل منگل کو  مزید وسعت دے دی تھی۔ اس کے ایک دن بعد آج بدھ 27 مئی کو اسرائیل کی فوج نے جنوبی لبنان کے شہر صور (Tyre) اور اس کے نواحی علاقوں کے رہائشیوں کو بھی یہ وارننگ جاری کردی کہ وہ سارا علاقہ خالی کر دیں۔

ایران کے ساتھ ڈیل یا تو بامعنی ہو گی یا ہو گی ہی نہیں، ٹرمپ

یروشلم سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی فوج نے اپنی یہ تازہ ترین عسکری تنبیہ اس تناظر میں جاری کی ہے کہ وہ لبنان کی ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ساتھ اپنی مقابلتاﹰ شدید ہوتی جا رہی کارروائیوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کو مزید پھیلا دینا چاہتی ہے۔

امریکی مذاکرات کار ایران امن ڈیل میں جلد بازی نہ کریں، ٹرمپ

جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی متعدد میتیں جو اجتماعی نماز جنازہ سے قبل بندرگاہی شہر صور کی ایک مسجد میں رکھی گئی تھیں، جمعرات اکیس مئی کو لی گئی ایک تصویر
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی متعدد میتیں جو اجتماعی نماز جنازہ سے قبل بندرگاہی شہر صور کی ایک مسجد میں رکھی گئی تھیں، جمعرات اکیس مئی کو لی گئی ایک تصویرتصویر: Mohammed Zaatari/AP Photo/picture alliance

ایران جنگ کے اثرات، خلیج میں نئے اتحاد اور پرانی تقسیم

اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں تحریری پوسٹ کے ساتھ ایک نقشہ بھی شائع کیا۔ اس میں جنوبی لبنان کے شہر صور کے علاوہ اس کے نواحی علاقے بھی دیکھے جا سکتے تھے۔

حزب اللہ کے سستے ڈرونز اسرائیلی آئرن ڈوم کے لیے بڑا چیلنج؟

اس پوسٹ میں اسرائیلی فوجی ترجمان نے کہا، ’’نقشے میں دکھائے گئے صور شہر اور اس کے نواحی علاقوں اور کیمپوں کے رہائشیوں کے نام فوری وارننگ: دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کی طرف سے کی جانے والی فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کے پیش نظر، اسرئیلی دفاعی افواج مجبور ہو گئی ہیں کہ وہ حزب اللہ کے ‌خلاف پوری طاقت سے کارروائی کریں۔‘‘

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو گزشتہ ماہ جنوبی لبنان میں تعنیات اسرائیلی فوجی دستوں سے ملاقات کرتے ہوئے
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو گزشتہ ماہ جنوبی لبنان میں تعنیات اسرائیلی فوجی دستوں سے ملاقات کرتے ہوئےتصویر: Kobi Gideon/Israel GPO/ZUMA/IMAGO

اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین فائر بندی ناکامی کے راستے پر

ساتھ ہی اس پوسٹ میں مقامی رہائشیوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ پورا مذکورہ علاقہ فوری طور پر خالی کر دیں۔

لبنان میں جھڑپیں: اقوامِ متحدہ کا ایک اور امن فوجی ہلاک

نیوز ایجسی اے ایف پی نے لکھا ہے کہ اس اسرائیلی فوجی پوسٹ میں مزید کہا گیا، ’’اسرائیلی فوج آپ کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ لیکن خود اپنی حفاظت کے لیے آپ کو اپنے گھر اور رہائش گاہیں فوری طور پر خالی کر دینا چاہییں، ان تمام علاقوں میں، جو نقشے میں دکھائے گئے ہیں۔ آپ سب کو نقل مکانی کر کے دریائے زہرانی کے شمال کی طرف چلے جانا چاہیے۔‘‘

’گریٹر اسرائیل‘ کیا ہے؟

https://p.dw.com/p/5EQRP
غزہ پٹی کے لیے صدر ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس کا باضابطہ غزہ فنڈ ابھی تک خالی، باخبر ذرائع سیکشن پر جائیں
27 مئی 2026

غزہ پٹی کے لیے صدر ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس کا باضابطہ غزہ فنڈ ابھی تک خالی، باخبر ذرائع

غزہ امن بورڈ کے قیام کی مناسبت سے گزشتہ برس اکتوبر میں مصر میں شرم الشیخ کے مقام پر ہونے والی مشرق وسطیٰ امن کانفرنس کے شرکاء کی ایک تصویر
غزہ امن بورڈ کے قیام کی مناسبت سے گزشتہ برس اکتوبر میں مصر میں شرم الشیخ کے مقام پر ہونے والی مشرق وسطیٰ امن کانفرنس کے شرکاء کی صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک تصویرتصویر: Blondet Eliot/ABACAPRESS/IMAGO

فلسطینی علاقے غزہ پٹی کی جنگ میں فائر بندی معاہدے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے قائم کردہ بورڈ آف پیس کا سرکاری غزہ فنڈ ابھی تک خالی ہے اور اس میں جنگ سے تباہ شدہ اس خطے کی تعمیر نو کے لیے سرے سے کوئی رقوم موجود ہی نہیں ہیں۔

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں زمینی آپریشن میں توسیع کر دی

یہ بات غزہ پیس بورڈ اور اس کی موجودہ صورت حال سے اچھی طرح باخبر معتبر ذرائع نے بدھ 27 مئی کے روز نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتائی۔

غزہ پٹی کی دو سال تک پوری شدت سے جاری رہنے والی جنگ کو رکوانے کی کوشش میں امریکی حمایت سے جو فائر بندی معاہدہ اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے مابین طے پایا تھا، اس کے نتیجے میں غزہ پٹی کی تعمیر نو کے لیے اس غزہ ری کنسٹرکشن فنڈ کے قیام کا تصور بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہی پیش کیا تھا۔

آئرلینڈ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے آمدہ مصنوعات پر پابندی لگانے کا خواہاں

غزہ امن بورڈ اور غزہ فنڈ کے قیام کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (تصویر) نے بھی توثیق کر دی تھی
غزہ امن بورڈ اور غزہ فنڈ کے قیام کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (تصویر) نے بھی توثیق کر دی تھیتصویر: Selçuk Acar/Anadolu Agency/IMAGO

بعد میں اس فنڈ کے حوالے سے اس وقت کئی سوالات اٹھنے لگے تھے، جب امریکی صدر ٹرمپ نے دنیا کے مختلف رہنماؤں کو وسیع پیمانے پر دعوت نامے بھیجنا شروع کر دیے تھے۔

اقوام متحدہ کا اسرائیل سے غزہ میں 'نسل کشی‘ سے بچاؤ کا مطالبہ

ان میں روس کے صدر ولادیمیر پوٹن سے لے کر ان دور دراز ممالک تک کے رہنما بھی شامل تھے، جن کا مشرق وسطیٰ کے دیرینہ تنازعے یا اس کے حل کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں سے دور دور تک کا بھی کوئی تعلق نہیں  تھا۔

پھر جب غزہ بورڈ آف پیس قائم ہوا، تو ساتھ ہی اس کا غزہ فنڈ بھی قائم کر دیا گیا۔ اس فنڈ کا انتظام عالمی بینک کے پاس ہے اور اس کے قیام کی اقوام متحدہ نے بھی توثیق کر دی تھی۔

ایران جنگ کے سبب غزہ کا تنازعہ بین الاقوامی توجہ سے اوجھل

غزہ پٹی کی جنگ کے نتیجے میں یہ فلسطینی علاقہ تقریباﹰ پورے کا پورا ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے
غزہ پٹی کی جنگ کے نتیجے میں یہ فلسطینی علاقہ تقریباﹰ پورے کا پورا ملبے کا ڈھیر بن چکا ہےتصویر: Amir Cohen/Reuters

یورپی یونین کی اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیوں کی منظوری

لیکن غزہ بورڈ آف پیس کے معاملات سے باخبر معتبر ذرائع نے اب نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اس فنڈ میں ابھی تک کسی بھی ڈونر ملک یا ادارے کی طرف سے کوئی رقوم جمع نہیں کرائی گئیں۔

https://p.dw.com/p/5EQLz
فن لینڈ کی مسلح افواج کو شبہ کہ ایک روسی فوجی طیارے نے اس ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی سیکشن پر جائیں
27 مئی 2026

فن لینڈ کی مسلح افواج کو شبہ کہ ایک روسی فوجی طیارے نے اس ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی

فن لینڈ کی فضا میں اس ملک اور نیٹو کی ’آرکٹک چیلنج ایکسرسائز‘ نامی مشترکہ مشق میں حصہ لینے والے جنگی طیارے، فائل فوٹو
فن لینڈ کی فضا میں اس ملک اور نیٹو کی ’آرکٹک چیلنج ایکسرسائز‘ نامی مشترکہ مشق میں حصہ لینے والے جنگی طیارے، فائل فوٹوتصویر: U.S. Air Force/ZUMAPRESS/picture alliance

شمالی یورپ کے ملک فن لینڈ کی مسلح افواج نے بدھ 27 مئی کے روز کہا کہ انہیں شبہ ہے کہ روس کے ایک فوجی طیارے نے اسکینڈے نیویا کی اس ریاست کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔

جرمنی اور فن لینڈ کے درمیان زیر سمندر ڈیٹا کیبل منقطع ہو گئی

فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ملکی ڈیفنس فورسز کی طرف سے بتایا گیا کہ اس روسی ملٹری ایئر کرافٹ نے فن لینڈ کی ایئر اسپیس کی خلاف ورزی مشتبہ طور پر خلیج فن لینڈ کی فضا میں طوفانی موسم سے بچنے کی کوشش کے دوران کی۔

فن لینڈ کی ڈیفنس فورسز کے بدھ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ اس واقعے کا علم ہوتے ہی ملکی ایئر فورس نے اپنی ایک آپریشنل فلائٹ کے ذریعے اپنے فوری ردعمل کا مظاہرہ کیا۔

ناروے کا روس سے متصل سرحد پر باڑ لگانے پر غور

فن لینڈ اور روس کے درمیان ویرولاہٹی کے علاقے میں والیما کی زمینی سرحدی گزرگاہ کی بندش کے بعد لی گئی ایک تصویر، فائل فوٹو
فن لینڈ اور روس کے درمیان ویرولاہٹی کے علاقے میں والیما کی زمینی سرحدی گزرگاہ کی بندش کے بعد لی گئی ایک تصویر، فائل فوٹوتصویر: Lauri Heino/dpa/picture alliance

روس سے غیر قانونی طور پر فن لینڈ جانا اتنا آسان کیوں ہو گیا؟

ہیلسنکی سے آمدہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ فن لینڈ کے جنوب مغربی ساحلی علاقے کی فضا میں پورکالا کے نواح میں پیش آیا۔
ملکی وزیر دفاع انتی ہاکانین نے بتایا کہ فنّش بارڈ گارڈز اس واقعے کی چھان بین کر رہے ہیں۔

https://p.dw.com/p/5EQBO
ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے ممکنہ معاہدے کے پیش منظر میں امریکی صدر ٹرمپ کی کابینہ کا اجلاس سیکشن پر جائیں
27 مئی 2026

ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے ممکنہ معاہدے کے پیش منظر میں امریکی صدر ٹرمپ کی کابینہ کا اجلاس

امریکی صدر ٹرمپ اپنی کابینہ کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے، چھبیس مارچ کو لی گئی ایک تصویر
امریکی صدر ٹرمپ اپنی کابینہ کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے، چھبیس مارچ کو لی گئی ایک تصویرتصویر: Jim Watson/AFP

ایران جنگ میں تہران اور واشنگٹن کے مابین جنگ بندی کے ایک ممکنہ معاہدے کے جلد طے پا جانے کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج بدھ 27 مئی کے روز اپنی کابینہ کے ایک ایسے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں، جس میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ ممکنہ جنگ بندی کے مختلف پہلوؤں پر بھی غور کیا جائے گا۔

امریکہ سے دوبارہ جنگ شروع ہونے کا امکان کم، پاسداران انقلاب

صدر ٹرمپ نے ابھی چند روز قبل ہی کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے لیے ’’مذاکراتی عمل تقریباﹰ مکمل‘‘ ہو گیا ہے۔ اس کے ایک دن بعد انہوں نے اپنے ایک دوسرے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ انہوں نے امریکی مذاکراتی مندوبین کو حکم دیا ہے کہ وہ اس جنگ بندی معاہدے میں کوئی جلد بازی نہ کریں۔

اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ’’یا تو ایک بہت اچھی اور تعمیری ڈیل کی جائے گی یا پھر سرے سے کوئی ڈیل کی ہی نہیں جائے گی۔‘‘

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں زمینی آپریشن میں توسیع کر دی

صدر ٹرمپ اپنی کابینہ کے ایک اجلاس میں ساتھ بیٹھے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے بات کرتے ہوئے
صدر ٹرمپ اپنی کابینہ کے ایک اجلاس میں ساتھ بیٹھے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے بات کرتے ہوئےتصویر: Evelyn Hockstein/REUTERS

جس وقت صدر ٹرمپ واشنگٹن میں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایسے بیانات جاری کر رہے تھے، تقریباﹰ اسی وقت بھارت کے دورے پر گئے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تو ایک سے زائد مرتبہ یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ایران کے ساتھ  ایک باقاعدہ جنگ بندی معاہدہ اگلے چند گھنٹوں میں بھی طے پا سکتا ہے۔

ایران کے ساتھ ڈیل یا تو بامعنی ہو گی یا ہو گی ہی نہیں، ٹرمپ

اب تک لیکن دونوں ممالک کے مابین کوئی جنگ بندی ڈیل طے نہیں پا سکی حالانکہ ایران اور امریکہ دونوں ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات میں کئی متنازعہ امور طے ہو گئے ہیں۔

دوسری طرف اس تنازعے میں ثالثی کرنے والے ممالک پاکستان، قطر اور ترکی کی طرف سے کی جانے والی کوششیں بھی ابھی تک جاری ہیں۔

امریکی مذاکرات کار ایران امن ڈیل میں جلد بازی نہ کریں، ٹرمپ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی حالیہ دورہ بھارت کے دوران ایک پریس کانفرنس کے موقع پر لی گئی ایک تصویر
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی حالیہ دورہ بھارت کے دوران ایک پریس کانفرنس کے موقع پر لی گئی ایک تصویرتصویر: Julia Demaree Nikhinson/AP Photo/picture alliance

واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی کابینہ کے آج کے اجلاس کی صدارت ایک ایسے ماحول میں اور ایسی سوچ کے ساتھ کرنے والے ہیں کہ امریکہ کو یقین ہے کہ وہ ایک ایسے معاہدے کے قریب تر پہنچتا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو معمول کی محفوط تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھلوایا جا سکے گا۔

دوبارہ جنگ ہوئی تو جواب ’زیادہ تباہ کن‘ ہو گا، ایران

مختلف نیوز ایجنسیوں کی واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پا جانے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسی قائل کر دینے والی دلیل کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں، جو اس بارے میں ہو سکتی ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیتوں کا تسلی بخش حد تک خاتمہ کر دیا گیا ہے اور یہ ایسی کامیابی ہے کہ اس کی بنیاد پر تہران کے خلاف جنگ میں فتح کا اعلان کر دیا جائے۔

امریکی فوج نے ایرانی کارگو جہاز پر قبضہ کیسے کیا؟

https://p.dw.com/p/5EPy0
اسرائیل اور امریکہ کا ابھی تک ہدف ایران میں اسلامی جمہوریہ کا خاتمہ ہے، تہران کا دعویٰ سیکشن پر جائیں
27 مئی 2026

اسرائیل اور امریکہ کا ابھی تک ہدف ایران میں اسلامی جمہوریہ کا خاتمہ ہے، تہران کا دعویٰ

ایران میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں سے ہونے والی تباہی کا ایک منظر
ایران میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں سے ہونے والی تباہی کا ایک منظرتصویر: Iranian Red Crescent/UPI Photo/Newscom/picture alliance

ایرانی وزارت انٹیلیجنس نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے پس منظر میں امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ ہدف اب تک بھی یہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران   کا خاتمہ ہونا چاہیے اور یہ ملک ’’تقسیم کا شکار‘‘ ہو جائے۔

امریکہ سے دوبارہ جنگ شروع ہونے کا امکان کم، پاسداران انقلاب

تہران سے بدھ 27 مئی کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق ملکی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں میں ایرانی وزارت انٹیلیجنس کے جاری کردہ ایک بیان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل قریب نصف صدی پہلے اسلامی انقلاب کے بعد بننے والی اسلامی جمہوریہ کو ہر ممکنہ طریقے سے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں زمینی آپریشن میں توسیع کر دی

ایران میں نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی تصویر اور قومی پرچم کے ساتھ مظاہرے کرتی ہوئی خواتین
ایران میں نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی تصویر اور قومی پرچم کے ساتھ مظاہرے کرتی ہوئی خواتینتصویر: AFP

ایران کے ساتھ ڈیل یا تو بامعنی ہو گی یا ہو گی ہی نہیں، ٹرمپ

اس وزارت کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’دشمن اب دیگر ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ کو زوال سے دوچار کر دینے اور ایران کو تقسیم کر دینے کے مقاصد کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہ وہی مقصد ہے جس کا اس جنگ کے آغاز پر کھل کر اعلان بھی کیا گیا تھا، لیکن جو فوجی ذرائع استعمال کرتے ہوئے ابھی تک حاصل نہیں کیا جا سکا۔‘‘

ایران جنگ کے اثرات، خلیج میں نئے اتحاد اور پرانی تقسیم

جہاں تک ایران جنگ میں مسلح حملوں کا تعلق ہے تو ایران پر 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی اس جنگ میں گزشتہ قریب سات ہفتوں سے غیر معینہ مدت کے لیے فائر بندی کا وقفہ جاری ہے۔

ایران کے (اب گزشتہ) وزیر برائے انٹیلیجنس امور اسماعیل خطیب جو مارچ میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے
ایران کے (اب گزشتہ) وزیر برائے انٹیلیجنس امور اسماعیل خطیب جو مارچ میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھےتصویر: Iranian Presidency/ZUMA/picture alliance

دوبارہ جنگ ہوئی تو جواب ’زیادہ تباہ کن‘ ہو گا، ایران

اسی وقفے کے دوران تاہم پیر اور منگل کی درمیانی شب امریکہ نے جنوبی ایرانی صوبے ہرمزگان پر نئے فضائی حملے بھی کیے تھے، جنہیں تہران میں ملکی وزارت خارجہ نے سیزفائر کی ’’شدید خلاف ورزی‘‘ قرار دیا تھا۔

https://p.dw.com/p/5EPQf
آبنائے ہرمز بند رہی تو دنیا کو تیل اور گیس کا استعمال مزید کم کرنا پڑے گا، ڈیلس فیڈرل ریزرو چیف سیکشن پر جائیں
27 مئی 2026

آبنائے ہرمز بند رہی تو دنیا کو تیل اور گیس کا استعمال مزید کم کرنا پڑے گا، ڈیلس فیڈرل ریزرو چیف

اسپین میں ایک پٹرول پمپ کی تصویر
آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں بہت زیادہ ہو چکی ہیںتصویر: Alfredosaz/Pond5 Images/IMAGO

امریکہ میں ڈیلس فیڈرل ریزرو بینک کی صدر لوری لوگن کے مطابق ایران جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز اگر بند ہی رہی، تو دنیا بھر میں تیل اور قدرتی گیس کے استعمال میں واضح حد تک مزید کمی کرنا ناگزیر ہو جائے گا۔

امریکہ سے دوبارہ جنگ شروع ہونے کا امکان کم، پاسداران انقلاب

لوری لوگن نے بدھ 27 مئی کے روز کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں آبنائے ہرمز کے تیل اور گیس کی برآمد کے لیے انتہائی اہم سمندری راستے کو اگر طویل عرصے تک بند رکھا گیا، تو دنیا کو یہ سیکھنا پڑے گا کہ اسے کم تیل اور قدرتی گیس کے ساتھ اپنا گزارہ کیسے کرنا ہے۔

خلیج فارس میں آبنائے ہرمز ایک ایسا تنگ سمندری راستہ ہے جہاں سے جنگ شروع ہونے سے پہلے تک توانائی کی عالمی برآمدات کا تقریباﹰ پانچواں حصہ گزرتا تھا۔ اب لیکن اس آبنائے کی بندش کے نتیجے میں عالمی منڈیوں کے لیے توانائی ترسیل بہت کم ہو چکی ہے اور تیل اور گیس کی قیمتیں بہت زیادہ ہو جانے کے باعث بحران پیدا ہو چکا ہے۔

ایران کے ساتھ ڈیل یا تو بامعنی ہو گی یا ہو گی ہی نہیں، ٹرمپ

آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے مال بردار بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں میں سے چند کی ایک تصویر
آبنائے ہرمز میں کئی ہفتوں سے بہت سے مال بردار بحری جہاز اور آئل ٹینکر پھنسے ہوئے ہیںتصویر: Amirhosein Khorgooi/ISNA/AP Photo/picture alliance

مودی کی ایندھن کے استعمال میں کمی کی تجویز پر بھارتی باشندے پریشان

لوری لوگن نے جاپان کے مرکزی مالیاتی ادارے بینک آف جاپان کی ایک کانفرنس میں پیش کیے جانے کے لیے تیار کردہ اپنے ریمارکس میں کہا، ’’توانائی کی ترسیل انتہائی محدود ہو جانے کے بعد اگر آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس کی کمرشل شپنگ جلد ہی اپنی جنگ سے پہلے والی سطح پر واپس نہ لوٹی، تو عالمی سطح پر توانائی کے استعمال میں اس حد تک بڑی کمی ضروری ہو جائے گی، جو اب تک ہونے والی کمی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو گی۔‘‘

جنگ کے باعث تیل کی عالمی سپلائی اب یومیہ کتنی کم؟

ڈیلس فیڈرل ریزرو کی خاتون صدر لوگن کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں تیل اور گیس پیدا کرنے والی بڑی خلیجی عرب ریاستوں کی پیداوار کی برآمد اس حد تک محدود ہو چکی ہے کہ اب عالمی منڈیوں میں رسد کم اور طلب زیادہ ہونے کی وجہ سے قیمتیں بہت زیادہ ہو چکی ہیں اور ساتھ ہی برآمدات میں کمی کے باعث توانائی کے خلیجی برآمد کنندہ ممالک کو بے تحاشا مالی نقصانات بھی ہو رہے ہیں۔

امریکی مذاکرات کار ایران امن ڈیل میں جلد بازی نہ کریں، ٹرمپ

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں فیڈرل ریزرو سسٹم کے بورڈ آف گورنرز کی مرکزی عمارت
امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں فیڈرل ریزرو سسٹم کے بورڈ آف گورنرز کی مرکزی عمارتتصویر: Ken Cedeno/REUTERS

لوری لوگن کے بقول ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی منڈیوں کو خام تیل کی ترسیل میں تقریباﹰ 13 ملین بیرل یومیہ کی کمی ہو چکی ہے۔

اسٹریٹیجک غیر جانبداری: ایران جنگ میں شام کیسے فائدہ اٹھا رہا ہے؟

فیڈرل ریزرو بینک آف ڈیلس امریکہ کے 12 فیڈرل ریزرو بینکوں میں سے ایک ہے اور یہ ادارہ واشنگٹن میں قائم فیڈرل ریزرو کے بورڈ آف گورنرز میں نمائندگی کا حامل بھی ہے۔

یہی 12 فیڈرل ریزرو بینک مل کر امریکہ کا وہ مرکزی مالیاتی بینک تشکیل دیتے ہیں، جسے اقتصادی اصطلاح میں امریکی فیڈرل ریزرو سسٹم کہا جاتا ہے۔

ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے ہمیں ’بلیک میل‘ نہیں کر سکتا، ٹرمپ

https://p.dw.com/p/5EP1W
امریکہ سے دوبارہ جنگ شروع ہونے کا امکان کم ہے، ایرانی پاسداران انقلاب کے اعلیٰ اہلکار کا بیان سیکشن پر جائیں
27 مئی 2026

امریکہ سے دوبارہ جنگ شروع ہونے کا امکان کم ہے، ایرانی پاسداران انقلاب کے اعلیٰ اہلکار کا بیان

ایرانی پاسداران انقلاب کور کی بحریہ کا ایک اہلکار بندرگاہی شہر بوشہر کے قریب پاسداران کی ایک اسپیڈ بوٹ کو گزرتے ہوئے دیکھتے ہوئے
ایرانی پاسداران انقلاب کور کی بحریہ کا ایک اہلکار بندرگاہی شہر بوشہر کے قریب پاسداران کی ایک اسپیڈ بوٹ کو گزرتے ہوئے دیکھتے ہوئےتصویر: Rouzbeh Fouladi/MEI/SIPA/picture alliance

ایران کی پاسداران انقلاب اسلامی کور کی بحریہ کے نائب سیاسی سربراہ محمد اکبرزادہ کے مطابق امریکہ سے دوبارہ جنگ شروع ہو جانے کا امکان کم ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کسی بھی نئے حملے کے مقابلے کے لیے تیار ہے۔

تہران سے بدھ 27 مئی کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم نے محمد اکبرزادہ کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا، ’’(دوبارہ) جنگ شروع ہو جانے کا امکان دشمن کی کمزوری کی وجہ سے کم ہے اور ایرانی مسلح افواج (اپنے ہتھیاروں کی) میگزینیں بھرے ہوئے بالکل تیار ہیں۔‘‘

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں زمینی آپریشن میں توسیع کر دی

نیوز ایجنسی تسنیم نے لکھا کہ پاسداران انقلاب کی نیوی کے نائب سیاسی سربراہ اکبرزادہ نے ایران کے طویل جنوبی ساحلی علاقے کے دونوں سروں پر واقع اور اسٹریٹیجک حوالے سے بہت اہم مقامات کا نام لے کر تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ’’اس میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم جارحیت کرنے والوں کے لیے چابہار سے لے کر ماہشہر تک کے علاقے کو ان کا قبرستان بنا دیں گے۔‘‘

ایران کے ساتھ ڈیل یا تو بامعنی ہو گی یا ہو گی ہی نہیں، ٹرمپ

امریکی فضائیہ کا ایک جنگی طیارہ
امریکہ نے پیر کی رات اور منگل کو علی الصبح جنوبی ایرانی صوبے ہرمزگان میں کئی اہداف پر نئے فضائی حملے کیے تھےتصویر: Chris Radburn/AFP

ایران پر تازہ امریکی فضائی حملے

ایرانی پاسداران انقلاب کے اعلیٰ اہلکار محمد اکبرزادہ کا بدھ کے روز دیا جانے والا بیان اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ امریکہ نے ایران جنگ میں تاحال جاری فائر بندی کے باوجود پیر اور منگل کی درمیانی شب ایران پر نئے فضائی حملے کیے تھے، جو امریکی فوج کی مرکزی کمان کے ترجمان کے مطابق اس لیے کیے گئے تھے کہ ایرانی میزائلوں کی لانچنگ سائٹس اور سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو تباہ کیا جا سکے۔

امریکی مذاکرات کار ایران امن ڈیل میں جلد بازی نہ کریں، ٹرمپ

ساتھ ہی امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے کل منگل کو یہ بھی کہا تھا کہ یہ حملے ’’اپنے دفاع‘‘ کے لیے اس وجہ سے بھی کیے گئے کہ امریکی فورسز کو ایران کی وجہ سے لاحق خطرات سے بچایا جا سکے۔

دوبارہ جنگ ہوئی تو جواب ’زیادہ تباہ کن‘ ہو گا، ایران

آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران کے مابین جھڑپ، لیکن ’سیز فائر برقرار‘

ان نئے امریکی فضائی حملوں کے بارے میں، جو جنوبی ایرانی صوبے ہرمزگان میں منگل کو علی الصبح تک جاری رہے، ایرانی وزارت خارجہ نے کل کہا تھا کہ یہ ایران جنگ میں گزشتہ قریب سات ہفتوں سے جاری فائر بندی کی ’’شدید خلاف ورزی‘‘ تھے۔
روئٹرز، اے پی، اے ایف پی اور ڈی پی اے کے ساتھ

ادارت: کشور مصطفیٰ

https://p.dw.com/p/5EO5a
مزید پوسٹیں
Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔