اسرائیل کی جنوبی لبنانی شہر صور سے بھی عوامی انخلا کی وارننگ
وقت اشاعت 27 مئی 2026آخری اپ ڈیٹ 27 مئی 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے شہر صور اور نواحی علاقوں کے لیے بھی انخلا کی وارننگ جاری کر دی
- غزہ پٹی کے لیے صدر ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس کا باضابطہ غزہ فنڈ ابھی تک خالی، باخبر ذرائع
- فن لینڈ کی افواج کو شبہ کہ ایک روسی فوجی طیارے نے ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی
- ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے پیش منظر میں امریکی صدر ٹرمپ کی کابینہ کا اجلاس
- اسرائیل اور امریکہ کا اب تک بھی ہدف ایران میں اسلامی جمہوریہ کا خاتمہ ہے، تہران کا دعویٰ
- آبنائے ہرمز بند رہی تو دنیا کو تیل اور گیس کا استعمال اور کم کرنا پڑے گا، ڈیلس فیڈرل ریزرو چیف
- امریکہ سے دوبارہ جنگ شروع ہونے کا امکان کم ہے، ایرانی پاسداران انقلاب کے اعلیٰ اہلکار کا بیان
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے شہر صور اور نواحی علاقوں کے لیے بھی انخلا کی وارننگ جاری کر دی
لبنان جنگ میں بظاہر فائر بندی معاہدے کے نفاذ کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی زمینی فوجی کارروائیوں کو کل منگل کو مزید وسعت دے دی تھی۔ اس کے ایک دن بعد آج بدھ 27 مئی کو اسرائیل کی فوج نے جنوبی لبنان کے شہر صور (Tyre) اور اس کے نواحی علاقوں کے رہائشیوں کو بھی یہ وارننگ جاری کردی کہ وہ سارا علاقہ خالی کر دیں۔
ایران کے ساتھ ڈیل یا تو بامعنی ہو گی یا ہو گی ہی نہیں، ٹرمپ
یروشلم سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی فوج نے اپنی یہ تازہ ترین عسکری تنبیہ اس تناظر میں جاری کی ہے کہ وہ لبنان کی ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ساتھ اپنی مقابلتاﹰ شدید ہوتی جا رہی کارروائیوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کو مزید پھیلا دینا چاہتی ہے۔
امریکی مذاکرات کار ایران امن ڈیل میں جلد بازی نہ کریں، ٹرمپ
ایران جنگ کے اثرات، خلیج میں نئے اتحاد اور پرانی تقسیم
اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں تحریری پوسٹ کے ساتھ ایک نقشہ بھی شائع کیا۔ اس میں جنوبی لبنان کے شہر صور کے علاوہ اس کے نواحی علاقے بھی دیکھے جا سکتے تھے۔
حزب اللہ کے سستے ڈرونز اسرائیلی آئرن ڈوم کے لیے بڑا چیلنج؟
اس پوسٹ میں اسرائیلی فوجی ترجمان نے کہا، ’’نقشے میں دکھائے گئے صور شہر اور اس کے نواحی علاقوں اور کیمپوں کے رہائشیوں کے نام فوری وارننگ: دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کی طرف سے کی جانے والی فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کے پیش نظر، اسرئیلی دفاعی افواج مجبور ہو گئی ہیں کہ وہ حزب اللہ کے خلاف پوری طاقت سے کارروائی کریں۔‘‘
اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین فائر بندی ناکامی کے راستے پر
ساتھ ہی اس پوسٹ میں مقامی رہائشیوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ پورا مذکورہ علاقہ فوری طور پر خالی کر دیں۔
لبنان میں جھڑپیں: اقوامِ متحدہ کا ایک اور امن فوجی ہلاک
نیوز ایجسی اے ایف پی نے لکھا ہے کہ اس اسرائیلی فوجی پوسٹ میں مزید کہا گیا، ’’اسرائیلی فوج آپ کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ لیکن خود اپنی حفاظت کے لیے آپ کو اپنے گھر اور رہائش گاہیں فوری طور پر خالی کر دینا چاہییں، ان تمام علاقوں میں، جو نقشے میں دکھائے گئے ہیں۔ آپ سب کو نقل مکانی کر کے دریائے زہرانی کے شمال کی طرف چلے جانا چاہیے۔‘‘
غزہ پٹی کے لیے صدر ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس کا باضابطہ غزہ فنڈ ابھی تک خالی، باخبر ذرائع
فلسطینی علاقے غزہ پٹی کی جنگ میں فائر بندی معاہدے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے قائم کردہ بورڈ آف پیس کا سرکاری غزہ فنڈ ابھی تک خالی ہے اور اس میں جنگ سے تباہ شدہ اس خطے کی تعمیر نو کے لیے سرے سے کوئی رقوم موجود ہی نہیں ہیں۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں زمینی آپریشن میں توسیع کر دی
یہ بات غزہ پیس بورڈ اور اس کی موجودہ صورت حال سے اچھی طرح باخبر معتبر ذرائع نے بدھ 27 مئی کے روز نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتائی۔
غزہ پٹی کی دو سال تک پوری شدت سے جاری رہنے والی جنگ کو رکوانے کی کوشش میں امریکی حمایت سے جو فائر بندی معاہدہ اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے مابین طے پایا تھا، اس کے نتیجے میں غزہ پٹی کی تعمیر نو کے لیے اس غزہ ری کنسٹرکشن فنڈ کے قیام کا تصور بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہی پیش کیا تھا۔
آئرلینڈ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے آمدہ مصنوعات پر پابندی لگانے کا خواہاں
بعد میں اس فنڈ کے حوالے سے اس وقت کئی سوالات اٹھنے لگے تھے، جب امریکی صدر ٹرمپ نے دنیا کے مختلف رہنماؤں کو وسیع پیمانے پر دعوت نامے بھیجنا شروع کر دیے تھے۔
اقوام متحدہ کا اسرائیل سے غزہ میں 'نسل کشی‘ سے بچاؤ کا مطالبہ
ان میں روس کے صدر ولادیمیر پوٹن سے لے کر ان دور دراز ممالک تک کے رہنما بھی شامل تھے، جن کا مشرق وسطیٰ کے دیرینہ تنازعے یا اس کے حل کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں سے دور دور تک کا بھی کوئی تعلق نہیں تھا۔
پھر جب غزہ بورڈ آف پیس قائم ہوا، تو ساتھ ہی اس کا غزہ فنڈ بھی قائم کر دیا گیا۔ اس فنڈ کا انتظام عالمی بینک کے پاس ہے اور اس کے قیام کی اقوام متحدہ نے بھی توثیق کر دی تھی۔
ایران جنگ کے سبب غزہ کا تنازعہ بین الاقوامی توجہ سے اوجھل
یورپی یونین کی اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیوں کی منظوری
لیکن غزہ بورڈ آف پیس کے معاملات سے باخبر معتبر ذرائع نے اب نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اس فنڈ میں ابھی تک کسی بھی ڈونر ملک یا ادارے کی طرف سے کوئی رقوم جمع نہیں کرائی گئیں۔
فن لینڈ کی مسلح افواج کو شبہ کہ ایک روسی فوجی طیارے نے اس ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی
شمالی یورپ کے ملک فن لینڈ کی مسلح افواج نے بدھ 27 مئی کے روز کہا کہ انہیں شبہ ہے کہ روس کے ایک فوجی طیارے نے اسکینڈے نیویا کی اس ریاست کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔
جرمنی اور فن لینڈ کے درمیان زیر سمندر ڈیٹا کیبل منقطع ہو گئی
فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ملکی ڈیفنس فورسز کی طرف سے بتایا گیا کہ اس روسی ملٹری ایئر کرافٹ نے فن لینڈ کی ایئر اسپیس کی خلاف ورزی مشتبہ طور پر خلیج فن لینڈ کی فضا میں طوفانی موسم سے بچنے کی کوشش کے دوران کی۔
فن لینڈ کی ڈیفنس فورسز کے بدھ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ اس واقعے کا علم ہوتے ہی ملکی ایئر فورس نے اپنی ایک آپریشنل فلائٹ کے ذریعے اپنے فوری ردعمل کا مظاہرہ کیا۔
ناروے کا روس سے متصل سرحد پر باڑ لگانے پر غور
روس سے غیر قانونی طور پر فن لینڈ جانا اتنا آسان کیوں ہو گیا؟
ہیلسنکی سے آمدہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ فن لینڈ کے جنوب مغربی ساحلی علاقے کی فضا میں پورکالا کے نواح میں پیش آیا۔
ملکی وزیر دفاع انتی ہاکانین نے بتایا کہ فنّش بارڈ گارڈز اس واقعے کی چھان بین کر رہے ہیں۔
ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے ممکنہ معاہدے کے پیش منظر میں امریکی صدر ٹرمپ کی کابینہ کا اجلاس
ایران جنگ میں تہران اور واشنگٹن کے مابین جنگ بندی کے ایک ممکنہ معاہدے کے جلد طے پا جانے کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج بدھ 27 مئی کے روز اپنی کابینہ کے ایک ایسے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں، جس میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ ممکنہ جنگ بندی کے مختلف پہلوؤں پر بھی غور کیا جائے گا۔
امریکہ سے دوبارہ جنگ شروع ہونے کا امکان کم، پاسداران انقلاب
صدر ٹرمپ نے ابھی چند روز قبل ہی کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے لیے ’’مذاکراتی عمل تقریباﹰ مکمل‘‘ ہو گیا ہے۔ اس کے ایک دن بعد انہوں نے اپنے ایک دوسرے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ انہوں نے امریکی مذاکراتی مندوبین کو حکم دیا ہے کہ وہ اس جنگ بندی معاہدے میں کوئی جلد بازی نہ کریں۔
اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ’’یا تو ایک بہت اچھی اور تعمیری ڈیل کی جائے گی یا پھر سرے سے کوئی ڈیل کی ہی نہیں جائے گی۔‘‘
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں زمینی آپریشن میں توسیع کر دی
جس وقت صدر ٹرمپ واشنگٹن میں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایسے بیانات جاری کر رہے تھے، تقریباﹰ اسی وقت بھارت کے دورے پر گئے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تو ایک سے زائد مرتبہ یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک باقاعدہ جنگ بندی معاہدہ اگلے چند گھنٹوں میں بھی طے پا سکتا ہے۔
ایران کے ساتھ ڈیل یا تو بامعنی ہو گی یا ہو گی ہی نہیں، ٹرمپ
اب تک لیکن دونوں ممالک کے مابین کوئی جنگ بندی ڈیل طے نہیں پا سکی حالانکہ ایران اور امریکہ دونوں ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات میں کئی متنازعہ امور طے ہو گئے ہیں۔
دوسری طرف اس تنازعے میں ثالثی کرنے والے ممالک پاکستان، قطر اور ترکی کی طرف سے کی جانے والی کوششیں بھی ابھی تک جاری ہیں۔
امریکی مذاکرات کار ایران امن ڈیل میں جلد بازی نہ کریں، ٹرمپ
واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی کابینہ کے آج کے اجلاس کی صدارت ایک ایسے ماحول میں اور ایسی سوچ کے ساتھ کرنے والے ہیں کہ امریکہ کو یقین ہے کہ وہ ایک ایسے معاہدے کے قریب تر پہنچتا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو معمول کی محفوط تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھلوایا جا سکے گا۔
دوبارہ جنگ ہوئی تو جواب ’زیادہ تباہ کن‘ ہو گا، ایران
مختلف نیوز ایجنسیوں کی واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پا جانے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسی قائل کر دینے والی دلیل کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں، جو اس بارے میں ہو سکتی ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیتوں کا تسلی بخش حد تک خاتمہ کر دیا گیا ہے اور یہ ایسی کامیابی ہے کہ اس کی بنیاد پر تہران کے خلاف جنگ میں فتح کا اعلان کر دیا جائے۔
اسرائیل اور امریکہ کا ابھی تک ہدف ایران میں اسلامی جمہوریہ کا خاتمہ ہے، تہران کا دعویٰ
ایرانی وزارت انٹیلیجنس نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے پس منظر میں امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ ہدف اب تک بھی یہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا خاتمہ ہونا چاہیے اور یہ ملک ’’تقسیم کا شکار‘‘ ہو جائے۔
امریکہ سے دوبارہ جنگ شروع ہونے کا امکان کم، پاسداران انقلاب
تہران سے بدھ 27 مئی کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق ملکی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں میں ایرانی وزارت انٹیلیجنس کے جاری کردہ ایک بیان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل قریب نصف صدی پہلے اسلامی انقلاب کے بعد بننے والی اسلامی جمہوریہ کو ہر ممکنہ طریقے سے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں زمینی آپریشن میں توسیع کر دی
ایران کے ساتھ ڈیل یا تو بامعنی ہو گی یا ہو گی ہی نہیں، ٹرمپ
اس وزارت کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’دشمن اب دیگر ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ کو زوال سے دوچار کر دینے اور ایران کو تقسیم کر دینے کے مقاصد کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہ وہی مقصد ہے جس کا اس جنگ کے آغاز پر کھل کر اعلان بھی کیا گیا تھا، لیکن جو فوجی ذرائع استعمال کرتے ہوئے ابھی تک حاصل نہیں کیا جا سکا۔‘‘
ایران جنگ کے اثرات، خلیج میں نئے اتحاد اور پرانی تقسیم
جہاں تک ایران جنگ میں مسلح حملوں کا تعلق ہے تو ایران پر 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی اس جنگ میں گزشتہ قریب سات ہفتوں سے غیر معینہ مدت کے لیے فائر بندی کا وقفہ جاری ہے۔
دوبارہ جنگ ہوئی تو جواب ’زیادہ تباہ کن‘ ہو گا، ایران
اسی وقفے کے دوران تاہم پیر اور منگل کی درمیانی شب امریکہ نے جنوبی ایرانی صوبے ہرمزگان پر نئے فضائی حملے بھی کیے تھے، جنہیں تہران میں ملکی وزارت خارجہ نے سیزفائر کی ’’شدید خلاف ورزی‘‘ قرار دیا تھا۔
آبنائے ہرمز بند رہی تو دنیا کو تیل اور گیس کا استعمال مزید کم کرنا پڑے گا، ڈیلس فیڈرل ریزرو چیف
امریکہ میں ڈیلس فیڈرل ریزرو بینک کی صدر لوری لوگن کے مطابق ایران جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز اگر بند ہی رہی، تو دنیا بھر میں تیل اور قدرتی گیس کے استعمال میں واضح حد تک مزید کمی کرنا ناگزیر ہو جائے گا۔
امریکہ سے دوبارہ جنگ شروع ہونے کا امکان کم، پاسداران انقلاب
لوری لوگن نے بدھ 27 مئی کے روز کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں آبنائے ہرمز کے تیل اور گیس کی برآمد کے لیے انتہائی اہم سمندری راستے کو اگر طویل عرصے تک بند رکھا گیا، تو دنیا کو یہ سیکھنا پڑے گا کہ اسے کم تیل اور قدرتی گیس کے ساتھ اپنا گزارہ کیسے کرنا ہے۔
خلیج فارس میں آبنائے ہرمز ایک ایسا تنگ سمندری راستہ ہے جہاں سے جنگ شروع ہونے سے پہلے تک توانائی کی عالمی برآمدات کا تقریباﹰ پانچواں حصہ گزرتا تھا۔ اب لیکن اس آبنائے کی بندش کے نتیجے میں عالمی منڈیوں کے لیے توانائی ترسیل بہت کم ہو چکی ہے اور تیل اور گیس کی قیمتیں بہت زیادہ ہو جانے کے باعث بحران پیدا ہو چکا ہے۔
ایران کے ساتھ ڈیل یا تو بامعنی ہو گی یا ہو گی ہی نہیں، ٹرمپ
مودی کی ایندھن کے استعمال میں کمی کی تجویز پر بھارتی باشندے پریشان
لوری لوگن نے جاپان کے مرکزی مالیاتی ادارے بینک آف جاپان کی ایک کانفرنس میں پیش کیے جانے کے لیے تیار کردہ اپنے ریمارکس میں کہا، ’’توانائی کی ترسیل انتہائی محدود ہو جانے کے بعد اگر آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس کی کمرشل شپنگ جلد ہی اپنی جنگ سے پہلے والی سطح پر واپس نہ لوٹی، تو عالمی سطح پر توانائی کے استعمال میں اس حد تک بڑی کمی ضروری ہو جائے گی، جو اب تک ہونے والی کمی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو گی۔‘‘
جنگ کے باعث تیل کی عالمی سپلائی اب یومیہ کتنی کم؟
ڈیلس فیڈرل ریزرو کی خاتون صدر لوگن کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں تیل اور گیس پیدا کرنے والی بڑی خلیجی عرب ریاستوں کی پیداوار کی برآمد اس حد تک محدود ہو چکی ہے کہ اب عالمی منڈیوں میں رسد کم اور طلب زیادہ ہونے کی وجہ سے قیمتیں بہت زیادہ ہو چکی ہیں اور ساتھ ہی برآمدات میں کمی کے باعث توانائی کے خلیجی برآمد کنندہ ممالک کو بے تحاشا مالی نقصانات بھی ہو رہے ہیں۔
امریکی مذاکرات کار ایران امن ڈیل میں جلد بازی نہ کریں، ٹرمپ
لوری لوگن کے بقول ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی منڈیوں کو خام تیل کی ترسیل میں تقریباﹰ 13 ملین بیرل یومیہ کی کمی ہو چکی ہے۔
اسٹریٹیجک غیر جانبداری: ایران جنگ میں شام کیسے فائدہ اٹھا رہا ہے؟
فیڈرل ریزرو بینک آف ڈیلس امریکہ کے 12 فیڈرل ریزرو بینکوں میں سے ایک ہے اور یہ ادارہ واشنگٹن میں قائم فیڈرل ریزرو کے بورڈ آف گورنرز میں نمائندگی کا حامل بھی ہے۔
یہی 12 فیڈرل ریزرو بینک مل کر امریکہ کا وہ مرکزی مالیاتی بینک تشکیل دیتے ہیں، جسے اقتصادی اصطلاح میں امریکی فیڈرل ریزرو سسٹم کہا جاتا ہے۔
امریکہ سے دوبارہ جنگ شروع ہونے کا امکان کم ہے، ایرانی پاسداران انقلاب کے اعلیٰ اہلکار کا بیان
ایران کی پاسداران انقلاب اسلامی کور کی بحریہ کے نائب سیاسی سربراہ محمد اکبرزادہ کے مطابق امریکہ سے دوبارہ جنگ شروع ہو جانے کا امکان کم ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کسی بھی نئے حملے کے مقابلے کے لیے تیار ہے۔
تہران سے بدھ 27 مئی کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم نے محمد اکبرزادہ کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا، ’’(دوبارہ) جنگ شروع ہو جانے کا امکان دشمن کی کمزوری کی وجہ سے کم ہے اور ایرانی مسلح افواج (اپنے ہتھیاروں کی) میگزینیں بھرے ہوئے بالکل تیار ہیں۔‘‘
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں زمینی آپریشن میں توسیع کر دی
نیوز ایجنسی تسنیم نے لکھا کہ پاسداران انقلاب کی نیوی کے نائب سیاسی سربراہ اکبرزادہ نے ایران کے طویل جنوبی ساحلی علاقے کے دونوں سروں پر واقع اور اسٹریٹیجک حوالے سے بہت اہم مقامات کا نام لے کر تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ’’اس میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم جارحیت کرنے والوں کے لیے چابہار سے لے کر ماہشہر تک کے علاقے کو ان کا قبرستان بنا دیں گے۔‘‘
ایران کے ساتھ ڈیل یا تو بامعنی ہو گی یا ہو گی ہی نہیں، ٹرمپ
ایران پر تازہ امریکی فضائی حملے
ایرانی پاسداران انقلاب کے اعلیٰ اہلکار محمد اکبرزادہ کا بدھ کے روز دیا جانے والا بیان اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ امریکہ نے ایران جنگ میں تاحال جاری فائر بندی کے باوجود پیر اور منگل کی درمیانی شب ایران پر نئے فضائی حملے کیے تھے، جو امریکی فوج کی مرکزی کمان کے ترجمان کے مطابق اس لیے کیے گئے تھے کہ ایرانی میزائلوں کی لانچنگ سائٹس اور سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو تباہ کیا جا سکے۔
امریکی مذاکرات کار ایران امن ڈیل میں جلد بازی نہ کریں، ٹرمپ
ساتھ ہی امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے کل منگل کو یہ بھی کہا تھا کہ یہ حملے ’’اپنے دفاع‘‘ کے لیے اس وجہ سے بھی کیے گئے کہ امریکی فورسز کو ایران کی وجہ سے لاحق خطرات سے بچایا جا سکے۔
دوبارہ جنگ ہوئی تو جواب ’زیادہ تباہ کن‘ ہو گا، ایران
ان نئے امریکی فضائی حملوں کے بارے میں، جو جنوبی ایرانی صوبے ہرمزگان میں منگل کو علی الصبح تک جاری رہے، ایرانی وزارت خارجہ نے کل کہا تھا کہ یہ ایران جنگ میں گزشتہ قریب سات ہفتوں سے جاری فائر بندی کی ’’شدید خلاف ورزی‘‘ تھے۔
روئٹرز، اے پی، اے ایف پی اور ڈی پی اے کے ساتھ
ادارت: کشور مصطفیٰ