1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تصویر: Michael Svarnias/AP Photo/picture alliance
مہاجرتیونان

یونانی جزیرے کے قریب تارکین وطن سے بھری کشتی سمندر میں غرق

10 اگست 2022

یونان کے مشہور تعطیلاتی جزیرے رہوڈز کے قریب تارکین وطن سے بھری ایک کشتی سمندر میں ڈوب گئی۔ اس کشتی میں سوار اور اٹلی پہنچنے کے خواہش مند تارکین وطن میں سے تقریباﹰ تیس کو بچا لیا گیا جبکہ درجنوں دیگر ابھی تک لاپتہ ہیں۔

https://www.dw.com/ur/%DB%8C%D9%88%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%AC%D8%B2%DB%8C%D8%B1%DB%92-%DA%A9%DB%92-%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%A8-%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DA%A9%DB%8C%D9%86-%D9%88%D8%B7%D9%86-%D8%B3%DB%92-%D8%A8%DA%BE%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%D8%B4%D8%AA%DB%8C-%D8%B3%D9%85%D9%86%D8%AF%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%88%D9%88%D8%A8-%DA%AF%D8%A6%DB%8C/a-62766567

یونانی دارالحکومت ایتھنز سے بدھ دس اگست کو ملنے والی رپورٹوں میں ملکی کوسٹ گارڈز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یہ تارکین وطن ایک کھچا کھچ بھری ہوئی کشتی میں سوار تھے، جو خراب موسمی حالات کی وجہ سے سمندر میں ڈوب گئی۔ یہ حادثہ یونانی جزیرے رہوڈز سے جنوب کی طرف تقریباﹰ 40 سمندری میل کے فاصلے پر کھلے پانیوں میں پیش آیا۔

سات بنگلہ دیشی سمندر میں ٹھٹھر کر مر گئے، مصری اسمگلر گرفتار

کوسٹ گارڈز کے ایک ترجمان نے ایک یونانی ریڈیو کو بتایا کہ اس کشتی کے سمندر میں ڈوب جانے کے بعد 29 افراد کو بچا لیا گیا۔ درجنوں افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ جن تارکین وطن کو یونانی کوسٹ گارڈز نے بچایا، انہوں نے بتایا کہ اس کشتی میں تقریباﹰ 80 افراد سوار تھے۔

ریسکیو کارروائیوں میں مشکلات

یونانی کوسٹ گارڈز نے بتایا کہ بحیرہ ایجیئن میں اس حادثے کے بعد لاپتہ ہو جانے والے تارکین وطن کی تلاش کے کام میں خراب موسمی حالات کے باعث کافی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ کشتی کے جن مسافروں کو کھلے سمندر سے ریسکیو کیا گیا، ان کا بچا لیا جانا کوسٹ گارڈز کی گشتی کشتیوں کے عملے اور یونانی بحریہ کے ایک جہاز کی وجہ سے ممکن ہو سکا، جو کچھ ہی دیر میں اس کشتی کی غرقابی کی جگہ پر پہنچ گئے تھے۔

Mittelmeer Lesbos Bootsflüchtlinge
تصویر: picture-alliance/NurPhoto/M. Heine

اس کے علاوہ ان تارکین وطن کو بچانے میں یونانی کوسٹ گارڈز کے ایک ہیلی کاپٹر اور حادثے کی جگہ کے قریب سے گزرنے والے تین مال بردار بحری جہازوں نے بھی حصہ لیا۔

بچا لیے گئے زیادہ تر تارکین وطن افغان باشندے

یونانی ساحلی محافظوں کے مطابق ان تارکین وطن نے اپنا بہت پرخطر سمندری سفر ترکی میں انطالیا سے شروع کیا تھا اور اس کشتی کو انہیں بحیرہ ایجیئن سے ہوتے ہوئے اٹلی لے کر جانا تھا۔ جن 29 افراد کو بچا لیا گیا، وہ سب کے سب مختلف عمروں کے مرد ہیں۔

اسپین پہنچنے کے خواہش مند 4,400 افراد لاپتہ ہوئے، مانیٹرنگ گروپ

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق یونانی کوسٹ گارڈز نے بتایا کہ یہ تمام تارکین وطن افغان شہری ہیں۔ اس کے برعکس نیوز ایجنسی روئٹرز نے دیگر یونانی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ان 29 تارکین وطن میں سے اکثریت کا تعلق افغانستان سے ہے مگر ان میں ایرانی اور عراقی شہری بھی شامل ہیں۔

سفر خطرناک، کشتیاں غیر محفوظ

اندازہ ہے کہ سمندر میں ڈوب جانے والی اس کشتی کے تاحال لاپتہ درجنوں مسافروں میں سے بھی اکثریت کا تعلق افغانستان ہی سے تھا۔

سمندر کی تہہ میں مردہ ماں کے سینے سے چمٹے بچے کی لاش: غوطہ خور رو پڑے

ایسی کشتیوں میں ترکی سے اٹلی تک کا غیر قانونی سمندری سفر کافی طویل ہوتا ہے اور تارکین وطن انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے گروہوں کی مدد سے زیادہ تر ایسی کشتیوں میں سفر کرتے ہیں، جو بہت بھری ہوئی اور انتہائی غیر محفوظ ہوتی ہیں۔

اسی لیے طوفانی لہروں اور بہت تیز ہواؤں کی وجہ سے ایسی کئی کشتیاں اور بہت سے تارکین وطن سمندر میں ڈوب جاتے ہیں۔

م م / ع ا (ڈی پی اے، روئٹرز)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈار کی واپسی: 'مفتاح اسماعیل کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا‘

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں