1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپ سنگین سیاسی و معاشی بحران کے دہانے پر ہے، فرانسیسی صدر

شکور رحیم اے ایف پی
10 فروری 2026

صدر ماکروں نے یورپی قیادت کو ٹرمپ کے زیر صدارت امریکہ کی یورپی یونین سے متعلق دباؤ کی پالیسیوں کے آگے نہ جھکنے کا مشورہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سمجھوتے کی پالیسیاں یورپ کے لیے نقصان دہ رہی ہیں۔

https://p.dw.com/p/58S6r
 ماکروں نے کہا کہ تجارتی محاذ پر چین ایک ''سونامی‘‘ کی مانند ہے جبکہ امریکا کی جانب سے ہر لمحہ بدلتی ہوئی صورتحال یورپ کے لیے عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے
ماکروں نے کہا کہ تجارتی محاذ پر چین ایک ''سونامی‘‘ کی مانند ہے جبکہ امریکا کی جانب سے ہر لمحہ بدلتی ہوئی صورتحال یورپ کے لیے عدم استحکام کا باعث بن رہی ہےتصویر: John Thys/AFP

فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے خبردار کیا ہے کہ یورپ اس وقت ایک سنگین سیاسی اور معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یورپی یونین امریکہ اور چین کے مقابلے میں ''پس منظر میں دھکیل دی جا سکتی ہے۔‘‘

یورپی یونین کے رہنماؤں کے جمعرات کو ہونے والے اجلاس سے قبل متعدد یورپی اخبارات سے گفتگو کرتے ہوئے ماکروں نے کہا کہ تجارتی محاذ پر چین ایک ''سونامی‘‘ کی مانند ہے جبکہ امریکا کی جانب سے ہر لمحہ بدلتی ہوئی صورتحال یورپ کے لیے عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے۔ ان کے بقول یہ دونوں بحران یورپ کے لیے ایک گہرے دھچکے اور ایک واضح موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

گرین لینڈ پر قبضے کے ٹرمپ کے منصوبے کے خلاف اس جزیرے کے باسی احتجاج کرتے ہوئے
ماکروں نے کہا کہ وہ یورپی رہنماؤں پر زور دیں گے کہ وہ ''گرین لینڈ کے لمحے‘‘ کو  بیرونی خطرات کے بارے میں ایک تنبیہی اشارہ سمجھیں تصویر: Sean Gallup/Getty Images

ماکروں نے کہا کہ وہ یورپی رہنماؤں پر زور دیں گے کہ وہ ''گرین لینڈ کے لمحے‘‘ کو  بیرونی خطرات کے بارے میں ایک تنبیہی اشارہ سمجھیں اور اسے سنجیدگی سے لیں اور بالآخر معاشی اصلاحات پر عمل درآمد کرتے ہوئے امریکہ اور چین پر انحصار کم کریں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ حالیہ عرصے میں گرین لینڈ، ٹیکنالوجی اور تجارت کے معاملات پر تنازعات کے بعد امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں عارضی کمی کے باعث یورپی یونین کو کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے دھمکیاں اور دباؤ آتا ہے، پھر اچانک واشنگٹن پیچھے ہٹ جاتا ہے اور یورپ یہ سمجھ لیتا ہے کہ معاملہ ختم ہو گیا، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے مطابق ادویات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں روزانہ کی بنیاد پر نئے خطرات سامنے آ رہے ہیں۔

ماکروں نے خاص طور پر خبردار کیا کہ اگر یورپی یونین ٹیکنالوجی کمپنیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ استعمال کرتی ہے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے درآمدی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کھلی جارحیت ہو تو جھکنا یا سمجھوتہ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ حکمت عملی نہ صرف ناکام ثابت ہوئی ہے بلکہ اس سے یورپ کا انحصار بیرونی قوتوں پر مزید بڑھتا ہے۔

فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ دباؤ کی پالیسی کے آگے جھکنا درست طرز عمل نہیں ہو گا
فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ دباؤ کی پالیسی کے آگے جھکنا درست طرز عمل نہیں ہو گاتصویر: picture alliance/ZUMAPRESS.com/Daniel Torok

جمعرات کے اجلاس میں فرانس کی جانب سے ''میڈ اِن یورپ‘‘ حکمت عملی پر بھی بحث متوقع ہے، جس کے تحت یورپ میں تیار کی جانے والی مصنوعات میں یورپی ساختہ مواد کی کم از کم حد مقرر کی جائے گی۔ اس تجویز نے یورپی ممالک کو تقسیم کر دیا ہے اور کار ساز کمپنیوں کو بھی تشویش لاحق ہے جبکہ جرمنی، اٹلی اور شمالی یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ سخت یورپی پابندیاں سرمایہ کاری کو خوفزدہ کر سکتی ہیں۔

ماکروں نے کہا کہ یورپ کو ایک طاقت بنانے کی معاشی حکمت عملی اس تصور پر مبنی ہونی چاہیے جسے وہ ''تحفظ‘‘ کہتے ہیں، جو ان کے بقول تحفظ پسندی نہیں بلکہ یورپی ترجیح کا اصول ہے۔

ادارت: جاوید اختر 

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں