1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یوکرین کے لیے فنڈنگ: منجمد روسی اثاثوں کا استعمال زیر غور

کشور مصطفیٰ ای پی، اے ایف پی، روئٹرز
وقت اشاعت 18 دسمبر 2025آخری اپ ڈیٹ 18 دسمبر 2025

جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے بیلجیم کے مطالبات ماننے اور جرمنی میں موجود روسی مرکزی بینک کے اثاثے یوکرین کی مدد کے لیے فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

https://p.dw.com/p/55aaI
Belgien Brüssel 2025 | Bart De Wever im Gespräch mit europäischen Regierungschefs beim EU-Gipfel
یورپی حکومتی سربراہان کی یورپی یونین کے اجلاس میں ملاقات۔تصویر: Geert Vanden Wijngaert/AP Photo/dpa/picture alliance
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

 * غزہ میں سیلاب کے سبب اموات سے ’مکمل طور پر بچا جا سکتا تھا،‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل

* امریکی تاریخ کا سب سے بڑا اسلحہ معاہدہ، تائیوان کے لیے 11.1 بلین ڈالر کا اسلحہ پیکج منظور

 سوڈان میں صحت کی سہولیات پر حملے، 1,600 سے زائد افراد ہلاک: ڈبلیو ایچ او

اسرائیل کے لبنان میں شدید فضائی حملے، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی ڈیڈ لائن قریب

امریکہ وینزویلا میں کوئی ’مہلک غلطی‘ نہ کرے، روس کا انتباہ

535 افغان شہریوں کی جرمنی آمد جلد متوقع

پیرس اجلاس: سعودی، فرانسیسی اور امریکی حکام کا حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے پر زور

یورپی یونین سربراہی اجلاس: یوکرین کے لیے روسی منجمد اثاثے ایجنڈے میں سرفہرست

یورپی یونین سربراہی اجلاس: یوکرین کے لیے روسی منجمد اثاثے ایجنڈے میں سرفہرست سیکشن پر جائیں
18 دسمبر 2025

یورپی یونین سربراہی اجلاس: یوکرین کے لیے روسی منجمد اثاثے ایجنڈے میں سرفہرست

بیلجیم کے وزیراعظم  ڈے ویور کے دفتر میں یوکرینی صدر زیلنسکی کے ساتھ ان کی ملاقات کی تصویر
بیلجیم کا مطالبہ ہے کہ یورپی یونین کے تمام ممالک، جن میں روسی منجمد اثاثے موجود ہیں، اس فنڈنگ اسکیم میں حصہ لیںتصویر: Belgian Premier Minister office


یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کے رہنما آج جمعرات کو برسلز میں ملاقات کر رہے ہیں۔ میٹنگ کے  ایجنڈے میں یوکرین، یونین میں توسیع اور مہاجرت شامل ہیں۔ جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے بیلجیم کے مطالبات ماننے اور جرمنی میں موجود روسی مرکزی بینک کے اثاثے یوکرین کی مدد کے لیے فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

اجلاس کے اہم ترین موضوعات

۔ یوکرین کے لیے فنڈنگ، ممکنہ طور پر منجمد روسی اثاثوں کے ذریعے
۔ یورپی یونین کی جغرافیائی اور معاشی صورتحال
۔ یورپی یونین میں توسیع کی پالیسی
۔ یورپی دفاع
۔ 2028 تا 2034  کا طویل المدتی بجٹ

سفارتی ذرائع کے مطابق جرمن چانسلر فریڈرش میرس بیلجیم کے مطالبات پر عمل کرنے اور جرمنی میں موجود روسی مرکزی بینک کے اثاثے یوکرین کی امداد کے لیے فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یورپی کمیشن نے تجویز دی ہے کہ یوکرین کو یورپی یونین میں منجمد روسی اثاثوں سے 210 بلین یورو (246 بلین ڈالر) تک بطور ’معاوضہ قرض‘ فراہم کیے جائیں، جن میں سے 90 بلین یورو 2026 اور 2027 میں مالی اور عسکری ضروریات کے لیے مختص ہوں گے۔

یورپی یونین کے اجلاس میں شریک جرمن جانسلر فریڈرش میرس
جرمن چانسلر فریڈرش میرس جرمنی میں موجود روسی مرکزی بینک کے اثاثے یوکرین کی امداد کے لیے فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیںتصویر: Yves Herman/REUTERS


جرمنی نے طویل عرصے تک یہ موقف اپنایا کہ پہلے بیلجیم کی کمپنی یوروکلیئر کے زیر انتظام تقریباً 185 بلین یورو کے روسی مرکزی بینک کے فنڈز استعمال کیے جائیں۔ برلن کی ہچکچاہٹ کی ایک وجہ یہ تھی کہجرمنی میں صرف چند سو ملین یورو کے روسی اثاثے موجود ہیں، جن کی درست مالیت حکومت نے خفیہ رکھی ہوئی ہے۔

بیلجیم کا مطالبہ ہے کہ یورپی یونین کے تمام ممالک، جن میں روسی منجمد اثاثے موجود ہیں، اس فنڈنگ اسکیم میں حصہ لیں تاکہ بیلجیم واحد ہدف نہ بنے اور ممکنہ روسی جوابی اقدامات کا خطرہ بھی کم رہے۔ برسلز کو خاص طور پر خدشہ ہے کہ ماسکو یورپی کمپنیوں اور افراد کے خلاف روس میں اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات کر سکتا ہے، اس لیے حفاظتی اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے۔
یورپی کمیشن کے مطابق بیلجیم کے علاوہ روسی اثاثے جرمنی، فرانس، سویڈن، قبرص اور لکسمبرگ میں بھی موجود ہیں، تاہم زیادہ تر قابل استعمال روسی فنڈز فرانس میں منجمد ہیں۔

منجمد روسی اثاثے، یورپی کمیشن یوکرین کو کیسے دے گا؟


 

https://p.dw.com/p/55ed3
پیرس اجلاس: سعودی، فرانسیسی اور امریکی حکام کا حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے پر زور سیکشن پر جائیں
18 دسمبر 2025

پیرس اجلاس: سعودی، فرانسیسی اور امریکی حکام کا حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے پر زور

حزب اللہ کے جنگجو ایرانی ساختہ طیارہ شکن میزائل سے لیس نظر آ رہے ہیں۔
اسرائیل نے لبنانی فوج کی حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں پر سوال اٹھایا ہے۔تصویر: Hussein Malla/AP/picture alliance


فرانسیسی، سعودی اور امریکی حکام نے جمعرات کو پیرس میں لبنان کے رہنماؤں سے ملاقات کی، جس کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے ایک واضح روڈ میپ تیار کرنا تھا۔ سفارت کاروں کے مطابق یہ اقدام خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ بندی کی ناکامی کے خطرے کو کم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل اور لبنان نے 2024 میں امریکی ثالثی کے تحت ایک جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، جس نے ایک سال سے زائد عرصے تک جاری اسرائیل-حزب اللہ لڑائی کو ختم کیا۔ اس لڑائی نے ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ تاہم جنگ بندی کے بعد بھی دونوں فریق ایک دوسرے پر سیزفائر کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔

فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کر لینے کے فرانسیسی ارادے پر فلسطینی خوش، اسرائیل برہم


اسرائیل نے لبنانی فوج کی حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں پر سوال اٹھایا ہے، جبکہ اسرائیلی فضائی حملے جنوبی لبنان اور بیروت تک پہنچ چکے ہیں۔
فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پیرس میں سہ فریقی مذاکرات کے بعد کہا کہ اس ملاقات میں اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ لبنانی فوج کی کوششوں کو شواہد کے ساتھ دستاویزی شکل دی جائے، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے عمل کو فعال کیا جائے، اور موجودہ جنگ بندی کو مستحکم بنانے کے لیے ایک میکینزم تیار کیا جائے۔

جنگ بندی خطرے میں
چار یورپی اور لبنانی سفارت کاروں اور حکام نے روئٹرز کو بتایا کہ ان بڑھتے ہوئے خدشات کے پس منظر میں کہ جنگ بندی سرے سے ختم بھی ہو سکتی ہے، پیرس منعقدہ اجلاس کا مقصد زیادہ مضبوط حالات پیدا کرنا تھا تاکہ حزب اللہ کے غیر مسلح کیے جانے کے عمل کی شناخت، حمایت اور تصدیق کی جا سکے اور اسرائیل کو بھی کشیدگی میں اضافے سے روکا جا سکے۔
 

https://p.dw.com/p/55eBS
535 افغان شہریوں کی جرمنی آمد جلد متوقع سیکشن پر جائیں
18 دسمبر 2025

535 افغان شہریوں کی جرمنی آمد جلد متوقع

2021 میں رام اشٹائن میسن باخ، جرمنی میں لینڈ کرنے والے اہل پناہ گزینوں کو مزید مستقل مقامات پر منتقل  کیا جا رہا ہے۔
جرمن وزیر داخلہ الیکسانڈر ڈوبرنٹ کے مطابق 535 افغان شہری، جنہیں داخلے کی منظوری دی جا چکی ہے، اس سال کے اختتام سے قبل جرمنی پہنچ سکتے ہیں۔تصویر: Airman Edgar Grimaldo/U.S. Air Force/ZUMA/IMAGO


برلن حکومت کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ رواں سال کے آخر تک افغان پناہ گزینوں کی اسکریننگ اور منظوری مکمل ہو جائے گی۔ جرمن وزیر داخلہ الیکسانڈر ڈوبرنٹ  کے مطابق 535 افغان شہری، جنہیں داخلے کی منظوری دی جا چکی ہے، اس سال کے اختتام سے قبل جرمنی پہنچ سکتے ہیں۔
جرمنی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے اداروں کے سابق مقامی عملے اور دیگر خطرات سے دوچار افراد کو پناہ دے گا، لیکن خاص طور پر پاکستان میں پھنسے ہوئے پناہ گزینوں کو اس بارے میں ملے جلے اشارے مل رہے ہیں  اور وہ شدید بے یقینی کا شکار ہیں۔

جرمن حکومت کی طرف سے افغان پناہ گزینوں کے لیے یہ امید افزا بیان دراصل ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں اور مائیگریشن کے امور کے ماہرین کی طرف سے برلن حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے۔ مہاجرت سے متعلقہ امور پر کام کرنے والی ایک ماہر نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا، ’’جرمنی کی مہاجرین کی پالیسی، جو قدامت پسند قیادت والی موجودہ مخلوط حکومت کے تحت نافذ ہے، ملک میں پناہ گزینوں کی تعداد میں کمی پر بہت کم اثر ڈال رہی ہے۔‘‘

پاکستان سے جرمنی پہنچنے والے افغان نئی زندگی کی تلاش میں

مائیگریشن ریسرچر وکٹوریہ ریٹیگ نے منگل کے روز کہا تھا کہ  گزشتہ سال کے مقابلے میں پہلی بار پناہ کی درخواستوں میں نمایاں کمی زیادہ تر شام میں بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال اور بین الاقوامی معاہدوں کے اثرات کی وجہ سے ہوئی ہے، نہ کہ جرمنی کی قومی پالیسی کی وجہ سے۔
ریٹیگ، جو جرمن کونسل برائے خارجہ تعلقات (DGAP) کے تھنک ٹینک میں سینٹر فار مائیگریشن کی سربراہ ہیں، نیورمبرگ مائیگریشن ڈیز کے موقع پر بات کر رہی تھیں، جس کا اہتمام وفاقی جرمن دفتر برائے مہاجرین اور مہاجرت ’بامف‘ (BAMF) نے کیا تھا۔
بامف کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے پہلے 10 مہینوں میں جرمنی میں 142,495 پناہ کی درخواستیں دی گئیں، جن میں 97,277 پہلی بار دی گئی درخواستیں شامل تھیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً نصف تعداد بنتی ہے۔
 

https://p.dw.com/p/55dlD
امریکہ وینزویلا میں کوئی ’مہلک غلطی‘ نہ کرے، روس کا انتباہ سیکشن پر جائیں
18 دسمبر 2025

امریکہ وینزویلا میں کوئی ’مہلک غلطی‘ نہ کرے، روس کا انتباہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں ہائی ٹک بزنس ایگزیکٹیوز کے ساتھ  ایک گول میز کانفرنس کرتے ہوئے۔
ٹرمپ وینزویلا کے پابندیوں کے شکار آئل ٹینکرز کو روکنے کا حکم دے چکے ہیں، جس کے بعد سے واشنگٹن اور کراکس کے درمیان کشیدگی بڑھ چکی ہے۔تصویر: Pool/ABACA/abaca/picture alliance

ماسکو نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ وینزویلا کے بحران میں کوئی ’’مہلک غلطی‘‘ نہ کرے ۔ ساتھ ہی کریملن نے  خطے میں کشیدگی کو کم کرنے پر بھی زور دیا ہے۔ روس نے صدر مادورو کی حکومت کی حمایت کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ وینزویلا کے ساتھ مسلسل رابطوں میں ہے۔

امریکی اقدام


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کے پابندیوں کے شکار آئل ٹینکرز کو روکنے کا حکم دے چکے ہیں، جس کے بعد سے واشنگٹن اور کراکس کے درمیان کشیدگی بڑھ چکی ہے۔ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں یہ بھی کہا تھا کہ وینزویلا کے پاس اس وقت ’’جنوبی امریکا کی تاریخ کا سب سے بڑا آرماڈا موجود ہے،‘‘ جس کے باعث وہاں امریکی مداخلت کا امکان بھی ہے۔ واضح رہے کہ Armada ہسپانوی زبان کا ایسا لفظ ہے، جو بحری بیڑے یا جنگی جہازوں کے بڑے گروپ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے وینزویلا کے آئل ٹینکرز کو روکنے کا حکم دیا تھا، جس سے وہاں بائیں بازو کے آمر صدر نکولاس مادورو کی حکومت اور واشنگٹن کے درمیان ایک نئی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔
وینزویلا نے امریکی صدر پر تنقید کرتے ہوئے اصرار کیا ہے کہ اس کی خام تیل کی برآمدات ٹرمپ کے اعلان سے متاثر نہیں ہوئیں۔ صدر مادورو کریملن کے دیرینہ حلیف ہیں اور برسوں سے ماسکو میں باقاعدہ مہمان بنتے چلے آ رہے ہیں۔ 

روس کا ردعمل


ماسکو میں روسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اسے امید ہے کہ وائٹ ہاؤس وینزویلا سے متعلق کسی ’’مہلک غلطی‘‘ کا ارتکاب نہیں کرے گا اور کسی ایسی صورتحال کو پیدا ہونے سے روکے گا، جس میں پورے مغربی نصف کرہ ارض کے لیے غیر متوقع نتائج کا خطرہ ہو۔‘‘
کریملن نے خطے کے ممالک سے تحمل کی اپیل کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال مغربی نصف کرہ ارض کے لیے غیر متوقع نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ علاقائی تناؤ امریکی روسی تعلقات، توانائی کی سیاست، اور لاطینی امریکا میں طاقت کے توازن پر گہرے منفی اثرات کی وجہ بن سکتا ہے۔
 

https://p.dw.com/p/55dQa
اسرائیل کے لبنان میں شدید فضائی حملے، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی ڈیڈ لائن قریب سیکشن پر جائیں
18 دسمبر 2025

اسرائیل کے لبنان میں شدید فضائی حملے، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی ڈیڈ لائن قریب

اسرائیلی فضائی حملوں سے تباہ ہونے والی ایک اسرائیلی مرکزی شاہراہ۔
اسرائیلی فوج کے مطابق تازہ حملوں میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے، راکٹ لانچنگ سائٹس اور ایک فوجی کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا۔تصویر: Karamallah Daher/REUTERS

اسرائیل نے جمعرات کو جنوبی اور شمال مشرقی لبنان میں متعدد فضائی حملے ایسے وقت پر کیے جب حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی ڈیڈ لائن ختم ہو رہی ہے۔ 

یہ حملے امریکی ثالثی میں جنگ بندی کے نفاذ کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کے اجلاس سے ایک روز قبل ہوئے۔

یہ اجلاس اس میکینزم کا دوسرا اجلاس ہوگا، جس میں امریکہ، فرانس اور اقوام متحدہ کی امن فوج شامل ہیں۔ اس سے قبل اسرائیل اور لبنان نے فوجی کمیٹی میں سویلین ارکان کی تقرری کی تھی۔
پیرس میں لبنان کے فوجی کمانڈر جنرل روڈولف ہیکل امریکی، فرانسیسی اور سعودی حکام سے ملاقات کرنے والے ہیں تاکہ سرحدی علاقے میں فوجی موجودگی بڑھانے کے لیے تعاون پر بات کی جا سکے۔ لبنانی حکومت نے کہا ہے کہ ملکی فوج کو سال رواں کے آخر تک دریائے لیطانی کے جنوب میں حزب اللہ کی مسلح موجودگی کو ختم کرنا تھا۔

بیروت میں حزب اللہ کے ہیڈکوارٹرز پر اسرائیلی حملے

اسرائیلی فوج کے مطابق تازہ حملوں میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے، راکٹ لانچنگ سائٹس اور ایک فوجی کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا، جو عسکری تربیت کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ فوج نے مزید کہا کہ اس نے اسلحہ ذخیرہ کرنے والے متعدد تعمیراتی ڈھانچوں کو بھی تباہ کر دیا۔
لبنانی خبر رساں ادارے نے بتایا کہ حملے ریحان پہاڑ سے لے کر ہرمل تک پھیلے ہوئے تھے، جبکہ جنوبی قصبے طیبہ کے قریب ایک کار پر کیے گئے ایک ڈرون حملے میں ہلاکتیں بھی ہوئیں۔
دریں اثناء لبنان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بیری نے کہا ہے کہ یہ حملے پیرس اجلاس کے لیے اسرائیلی پیغام ہیں۔ حالیہ اسرائیل-حزب اللہ جنگ اکتوبر 2023 میں شروع ہوئی تھی اور اقوام متحدہ کے مطابق اب تک اس میں 127 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
 

https://p.dw.com/p/55blx
سوڈان میں صحت کی سہولیات پر حملے، 1,600 سے زائد افراد ہلاک: ڈبلیو ایچ او سیکشن پر جائیں
18 دسمبر 2025

سوڈان میں صحت کی سہولیات پر حملے، 1,600 سے زائد افراد ہلاک: ڈبلیو ایچ او

سوڈانی ٹرانزٹ مہاجر کیمپ میں غروب آفتاب کے وقت کا منظر۔
سوڈان اپریل 2023 میں بھر افراتفری کا شکار اس وقت ہوا، جب فوج اور RSF کے درمیان اقتدار کی لڑائی کھلی جنگ میں تبدیل ہو گئی۔تصویر: Amr Abdallah Dalsh/REUTERS


جنگ زدہ سوڈان میں اس سال اب تک طبی سہولیات اور صحت کی دیکھ بھال کے مراکز پر حملوں میں 1,600 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ تشویش ناک اعداد و شمار بدھ کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ نے جاری کیے، جو اس افریقی ملک میں جاری تباہ کن تنازعے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس کے مطابق جنوری سے اب تک وہاں صحت کی سہولیات پر 65 حملوں کا جو دستاویزی ریکارڈ تیار کیا گیا ہے، اس کے مطابق  ان حملوں میں 276 افراد زخمی بھی ہوئے۔ تازہ ترین حملہ اتوار کو جنوبی کردفان صوبے کے دارالحکومت دلنگ میں ایک فوجی ہسپتال پر ڈرون حملے کی صورت میں کیا گیا، جہاں سوڈانی فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر چکی ہے۔ اس حملے میں نو افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے۔
 ایڈہانوم گیبریئسس  نے ایک بیان میں کہا، ’’ہر حملہ اور زیادہ لوگوں کو صحت کی خدمات اور ادویات سے محروم کر دیتا ہے، جبکہ سہولیات کی دوبارہ تعمیر اور خدمات کی بحالی میں بھی وقت لگتا ہے۔‘‘

سوڈانی رضاکار بے گھر افراد کے لیے الفاد کیمپ میں خیمے تیار کر رہے ہیں۔
سوڈان کی جنگ نے دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران پیدا کر دیا ہے، جس میں 14 ملین سے زائد افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔تصویر: Ebrahim Hamid/AFP


سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک نے اس ڈرون حملے کا الزام نیم فوجی دستوں پر عائد کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک کے مطابق 4 دسمبر سے کردفان کے علاقے میں ہونے والے حملوں میں کم از کم 104 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
صحت کی سہولیات پر حملوں میں اکتوبر میں دارفور کے شہر الفاشر میں سعودی ہسپتال پر RSF کا حملہ بھی شامل ہے، جہاں ڈبلیو ایچ او کے مطابق کم از کم 460 افراد مارے گئے اور طبی عملے کے بہت سے ارکان کو اغوا بھی کر لیا گیا۔
سوڈان اپریل 2023 میں بھر افراتفری کا شکار اس وقت ہوا، جب فوج اور RSF کے درمیان اقتدار کی لڑائی کھلی جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ یہ تنازعہ اب تیسرے سال میں داخل ہو چکا ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق 40,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
اس جنگ نے دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران پیدا کر دیا ہے، جس میں 14 ملین سے زائد افراد بے گھر ہو گئے ہیں، جبکہ ملک کے کئی حصوں میں بیماریوں اور قحط نے صورتحال مزید خراب کر دی ہے۔

سوڈانی جرنیلوں کی اقتدار کی جنگ کی قیمت ادا کرتے عام شہری


 

https://p.dw.com/p/55bRE
امریکی تاریخ کا سب سے بڑا اسلحہ معاہدہ، تائیوان کے لیے 11.1 بلین ڈالر کا اسلحہ پیکج منظور سیکشن پر جائیں
18 دسمبر 2025

امریکی تاریخ کا سب سے بڑا اسلحہ معاہدہ، تائیوان کے لیے 11.1 بلین ڈالر کا اسلحہ پیکج منظور

جنوبی جزیرے کے قریب HIMARS میزائل سسٹم کا تجربہ۔
یہ پیکج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ انتظامیہ کے تحت دوسرا بڑا معاہدہ ہے جو ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب چین تائیوان پر فوجی اور سفارتی دباؤ بڑھا رہا ہے۔تصویر: Chiang Ying-ying/AP Photo/picture alliance

امریکہ نے بدھ کے روز تائیوان کے لیے 11.1 بلین ڈالر (9.45 بلین يورو) مالیت کا اسلحے کی فروخت کا ایک پیکج منظور کیا، جو اس جزیرہ ریاست کے لیے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا اسلحہ معاہدہ ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ اقدام ’’امریکی قومی، اقتصادی اور سلامتی کے مفادات‘‘ کے تحت تائیوان کی دفاعی صلاحیت کو جدید بنانے اور خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔

پیکج میں شامل اہم ہتھیاروں کی تفصیلات

۔ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل
۔ ہاوٹزر توپیں
۔ ڈرونز
HIMARS- راکٹ سسٹمز
۔ جویلن اینٹی ٹینک میزائل
Altius- لوئٹرنگ میونیشن ڈرونز
۔ ہارپون میزائل ریفربشمنٹ کٹس
۔ فوجی سافٹ ویئر اور ہیلی کاپٹروں کے پرزے

یہ پیکج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ انتظامیہ کے تحت دوسرا بڑا معاہدہ ہے جو ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب چین تائیوان پر فوجی اور سفارتی دباؤ بڑھا رہا ہے۔
تائیوان کی وزارت دفاع نے کہا کہ امریکہ ’’تائیوان کی کافی دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے اور مضبوط ڈیٹرینس پاور قائم کرنے میں مدد دے رہا ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔‘‘
 

https://p.dw.com/p/55ahh
غزہ میں سیلاب کے سبب اموات سے ’مکمل طور پر بچا جا سکتا تھا،‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل سیکشن پر جائیں
18 دسمبر 2025

غزہ میں سیلاب کے سبب اموات سے ’مکمل طور پر بچا جا سکتا تھا،‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل

غزہ شہر کے زیتون محلے میں شدید بارش کے بعد بے گھر فلسطینیوں کو پناہ دینے والے عارضی کیمپ میں ایک لڑکا پانی کے تالاب سے ایک ڈبہ لے جا رہا ہے۔
پناہ گاہوں کی تعمیر کے لیے ضروری سامان کی فراہمی پر اسرائیلی پابندیوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔تصویر: Omar Al-qattaa/AFP

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے غزہ پٹی میں حالیہ تباہ کن سیلاب کو ’’مکمل طور پر قابل تدارک‘‘ قرار دیتے ہوئے اسرائیل کو اس سانحے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ تباہی صرف ’’خراب موسم‘‘ کا نتیجہ نہیں بلکہ اسرائیل کی طرف سے جاری پابندیوں اور بنیادی ڈھانچے کی مرمت کے لیے ضروری سامان کی ترسیل روکنے کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔

ایمنسٹی کا موقف

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سینئر ڈائریکٹر برائے تحقیق و پالیسی، ایرکا گیوارا روساس نے کہا، ’’کوئی حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک مکمل طور پر قابل تدارک سانحہ تھا۔ غزہ پٹی میں ڈوبے ہوئے خیموں اور منہدم عمارتوں کے مناظر صرف خراب موسم کی وجہ سے نہیں، بلکہ اسرائیل کی طرف سے جاری نسل کشی اور تعمیر و مرمت کے لیے درکار سامان کی ترسیل روکنے کی پالیسی کے نتیجے میں سامنے آئے۔‘‘

غزہ میں قیام امن، اصل امتحان ابھی باقی ہے

اس تنظیم نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر غزہ پٹی کی ’’ظالمانہ ناکہ بندی‘‘ ختم کرے اور ضروری اشیاء، مرمتی سامان اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی کو یقینی بنائے۔

یہ سانحہ ایسے وقت پیش آیا جب غزہ پٹی پہلے ہی دو سالہ جنگ کے نتیجے میں تباہ حال ہے۔ بنیادی ڈھانچے کی مرمت اور پناہ گاہوں کی تعمیر کے لیے ضروری سامان کی فراہمی پر اسرائیلی پابندیوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

ایمنسٹی نے اس سانحے کو اسرائیل کی طرف سے ’’نسل کشی‘‘ اور ’’منظم ناکہ بندی‘‘ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

فلسطینی سیلاب زدہ خیمہ کیمپوں میں مٹی ہٹا رہے ہیں۔
غزہ پٹی میں تقریباً 20 لاکھ افراد خیموں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔تصویر: Mahmoud Issa/REUTERS

غزہ پٹی میں بارشوں سے تباہ کاری

مسلسل بارشوں نے کئی دنوں تک غزہ پٹی کو شدید متاثر کیا، بے گھر افراد کے کیمپوں میں سیلاب آ گیا اور وہ بہت سی عمارتیں بھی منہدم ہو گئیں، جو دو سالہ جنگ میں پہلے ہی خراب حالت میں تھیں۔

کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے، جن میں صرف دو ہفتے کی عمر کا ایک نومولود بچہ بھی شامل تھا۔ یہ اموات 16 دسمبر کو رپورٹ کی گئیں۔

غزہ پٹی کی وزارت صحت کے مطابق اس نومولود بچے کی موت اس کا جسمانی درجہ حرارت بہت کم ہو جانے (ہائپو تھرمیا) کے باعث ہوئی۔

غزہ پٹی میں تقریباً 20 لاکھ افراد خیموں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ پچھلے ہفتے کے دوران بعض علاقوں میں 150 ملی میٹر (تقریباً 9 انچ) بارش ریکارڈ کی گئی، جس سے بے گھر افراد کے کیمپ شدید متاثر ہوئے۔

ادارت: مقبول ملک، رابعہ بگٹی
 

https://p.dw.com/p/55acb
مزید پوسٹیں