’’گرو مہاراج سے کورونا کے خاتمے کی دعا کریں گے‘‘ | مکالمہ | DW | 30.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

مکالمہ

’’گرو مہاراج سے کورونا کے خاتمے کی دعا کریں گے‘‘

بھارت سے پاکستان کی جانب روانہ ہونے والے سکھ یاتریوں نے کہا ہے کہ وہ بابا گرو نانک کی جائے پیدائش پر دنیا سے کورونا کی وبا کے خاتمے کی دعا کریں گے۔

سکھ یاتریوں کا ایک جتھا بھارت سے پاکستانی علاقے ننکانہ صاحب کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔ یہ سکھ یاتری ننکانہ صاحب میں واقع سکھ مت کے بانی اور پہلے گرو بابا نانک کے جائے پیدائش پر حاضری دیں گے اور گرو نانک کا 551واں یوم پیدائش منائیں گے۔

سکھ برادری، نانک کی تعلیمات اور بھارت اور پاکستان کے مناقشات

سکھ اور مسلمان کیسے قریب آ گئے؟

کورونا وائرس کے سائے

کورونا وائرس کی وبا کے تناظر میں اس بار یاترا کے حوالے سے خصوصی بندوبست کیا گیا ہے۔ یہ یاتری پاکستان کی جانب سے بنائے گئے کرتارپور کوریڈور کے ذریعے ننکانہ صاحب پہنچ رہے ہیں، تاہم اس بار اس یاترہ سے قبل کورونا ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل نومبر کی 19 تاریخ کو بھارتی وزارت خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ سکھ جتھے کی ننکانہ صاحب یاترہ کے لیے تیاریوں میں مصروف ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ یہ جتھا ستائیس نومبر سے یکم دسمبر تک اس یاترہ میں گرو نانک کا 551ویں یوم پیدائش کا جشن منائے گا۔
کورونا وائرس کی وبا کے باوجود پاکستانی حکومت نے ان یاتریوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دی ہے، تاہم درخواست کی گئی ہے کہ وہ کورونا وائرس سے متعلق ضوابط کا خیال رکھیں۔ پاکستان میں انٹری کے لیے تمام یاتریوں کو کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ ساتھ رکھنے کا کہا گیا ہے۔
اکتوبر تک عالمی وبا کے تناظر میں اس یاترہ کے حوالے سے خاصے شکوک و شبہات موجود تھے۔ پاکستانی حکومت کی جانب سے ایک تو اس یاترہ کے لیے آنے والے جتھے کی تعداد کو محدود کیا گیا تھا اور دوسرا یاتریوں سے کہا گیا تھا کہ وہ صرف بابا گرونانک کی جنم بھومی تک محدود رہیں۔ اس بار پاکستانی سرزمین پر پہنچنے والے ان سکھ یاتریوں کو کسی بھی دوسرے گردوارے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ایک یاتری نے ایک بھارتی نشریاتی ادارے سے بات چیت میں کہا کہ وہ گرو مہارج کے پاس جا کر عالمی وبا کے خاتمے کی دعا کریں گے۔

تاریخ ساز اقدام

پاکستان کی جانب سے گزشتہ برس کرتارپور سرحدی کورویڈور کھولا گیا تھا۔ اس تاریخی اقدام کا مقصد بھارت میں بسنے والے سکھ یاتریوں کو پاکستانی ویزے کے حصول کی طویل مشقت سے نجات دیتے ہوئے باآسانی سکھ مذہب کے انتہائی اہم مقام باباگرو نانک کی جائے پیدائش کی یاترہ کا موقع فراہم کرنا تھا۔
بابا گرونانک کی جائے وفات پاکستان اور بھارت کی سرحد سے فقط چار کلومیٹر دور ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے بھارت میں بسنے والے سکھوں کے لیے اس مقام تک رسائی انتہائی مشکل رہی ہے۔ اس قریب چار کلومیٹر طویل کوریڈور کے ذریعے تاہم سکھوں کے لیے یہ یاترہ آسان بنا دی گئی ہے۔ گزشتہ برس بارہ نومبر کو سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک کے 550ویں یوم پیدائش کے موقع پر اس راہداری کا افتتاح پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے کیا تھا۔