1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سکھ اور مسلمان کیسے قریب آ گئے؟

12 نومبر 2019

کرتار پور کوریڈور کا افتتاح، جہاں بابا گرو نانک نے اپنی زندگی کے آخری سال اپنے پیروکاروں اور عقیدت مندوں کے لیے گزارے، جنوبی ایشیا کی آئندہ نسلوں کے لیے مذہبی رواداری کے ساتھ بہتر مستقبل کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

https://p.dw.com/p/3SsUw
Pakistan und Indien Eröffnung Sikh Pilgerweg in Kartarpur
تصویر: Getty Images/AFP/A. Qureshi

سکھ مذہب کا آغاز گرو نانک نے (1469-1539) میں کیا تھا۔ وہ تلونڈی نامی ایک گاؤں  میں پیدا ہوئے تھے ، جو آج کل ننکانہ صاحب کے نام سے جانا جاتا ہے اور پاکستان کے شہر لاہور کے قریب واقع ہے۔ ان کے آبا و اجداد کا تعلق کھتری ہندو گھرانے سے تھا۔ گرو نانک کے سوانح نگار اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ بچپن میں انہوں نے ہندوؤں کے ایک روایتی دھاگے کو پہننے سے انکار کر دیا تھا اور وہ ہمیشہ زندگی کے مختلف رنگوں اور مختلف ضوابط حیات میں غرق  رہتے تھے۔ وہ اپنی بڑی بہن سے بہت زیادہ قریب تھے ۔ اُن کی اس بہن کی شادی سن 1475 میں ہوئی تو وہ اُن کے ساتھ  ہی آج کے ہندوستانی پنجاب کے ضلع کپورٹلہ کے ایک اور گاؤں سلطان پور چلے گئے۔

گرونانک کی ابتدائی زندگی

گرونانک نے ابتدائی تعلیم یعنی ریاضی اور فارسی زبان میں کچھ حاصل کرنے کے بعد 16 سال کی عمر میں اپنے بہنوئی اور لاہور کے گورنر دولت خان لودھی کے لیے ملازمت شروع کی۔ 18 سال کی عمر میں انہوں نے مول چند کی بیٹی ماتا سلوکانی سے شادی کی۔ اس جوڑے کے ہاں دو بیٹے ہوئے۔ سری چند اور لکھمی چند۔ کچھ تاریخی حوالوں سے پتا چلتا ہے کہ انہوں نے تبت، سری لنکا، بنگال، افغانستان، ایران، عراق جیسے متعدد ممالک کا دورہ کیا اور وہ مدینہ اور بغداد بھی گئے تاہم  چند مورخین ان سفروں کے بارے میں کہتے ہیں کہ  ان کا ذکر صرف انیسویں صدی کی تاریخ میں شامل کیا گیا تھا۔

Mustafa Kishwar Kommentarbild App
کشور مصطفیٰ

گرونانک کا روایتی رسومات سے انحراف

ایک نوجوان کی حیثیت سے گرونانک نے چند ہندو رسومات کے خلاف احتجاج کیا اور انہیں سب سے زیادہ  نفرت طبقاتی تقسیم سے تھی۔ اس وجہ سے انہوں نے ہندو مت کے ذات پات کے نظام کو ختم کرنے کی بات کی۔ اسلام کی صوفیانہ جہتوں نے انہیں اپنی طرف کھینچا لیکن وہ ملاؤں کے اُن روایتی وعظ و نصیحت سے بھی دور رہنا چاہتے تھے جنہوں نے روح کی باطنی بیداری کی بجائے ظاہری شکل پر زور دیا۔

گرونانک کے بنیادی عقائد

گرو نانک کے عقیدے کو ''سکھی‘‘ کہا جاتا ہے جس کے لغوی معنی سیکھنا اور حاصل کرنا ہے۔ ان کی فکر پر بھکتی تحریک کے اثرات بھی نمایاں ہیں ہے جو اُن سے ایک صدی پہلے بھگت کبیر نے اپنے اشعار کی شکل میں پیش کیے۔ گرونانک کے عقیدے کے بنیادی اصول یہ ہیں:

ایک خالق اور خدا پر یقین۔

کسی بھی طرح کی بت پرستی کی اجازت نہیں۔

اجتماعی دعائیں، جہاں خدا کو یاد کیا جاتا ہے، وہ فرض ہیں۔

ذات پات کے نظام کی مکمل نفی اس یقین کے ساتھ کہ تمام انسان برابر پیدا ہوئے ہیں۔

روحانی اور دنیاوی خواہشات کا حصول صرف مقدس اہداف نہیں ہیں بلکہ معاشرتی بہبود کے لیے بھی ضروری ہیں۔

ایماندارانہ زندگی گزارنا اور ایماندار ذرائع سے معاش کمانا صحیح راہ پر قائم رہنے کے لیے ضروری ہے۔

اسلام اور سکھ مذہب

گرو نانک کی تعلیم در حقیقت اسلام سے متاثر ہونے والی تحریک کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم اس میں  نبی یا پیغمبر کا کوئی تصور نہیں ہے۔ گرو صرف ایک رہنما ہے، یا جیسے صوفی اصطلاحات میں ، ایک مرشد ہے۔ سکھ مذہب میں شیطان کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا لیکن جب انسان روحانی اور دنیاوی تعاقب کے مابین توازن کھو دیتا ہے تو بد ظن یا باطل قوتیں سر اُٹھا لیتی ہیں۔ گرو نانک اس امر پر یقین رکھتے تھے اور انہوں نے اسی کی تعلیم بھی دی کہ وہ انسان جو گرو کی تعلیمات پر چلے، وہ موت سے نہیں ڈرتا بلکہ جو لوگ اپنی ذاتی انا پر چلتے ہیں وہ اپنے خالق کا سامنا کرنے سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔

 سکھ تعلیمات کے مطابق آمدنی کا دس فیصد ''دسوند‘‘ فلاحی کاموں پر خرچ کیا جانا چاہیے۔ مردہ جسم کو کسی ندی میں ٹھکانے لگایا جائے یا میت سوزی کی جانی چاہیے۔ سکھوں کو کسی دوسرے مذہب پر تنقید کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انہیں یقین ہے کہ تمام مذاہب ایک ہی منزل کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہی وہ تعلیم ہے جو مسلمانوں کی مقدس کتاب میں بھی موجود ہے کہ کسی دوسرے کے دین کو بُرا بھلا نا کہو۔

سکھ خدا کو کیسے پکارتے ہیں؟

سکھوں کے مقدس صحیفے میں رحیم، رب اور کریم جیسے عربی کے نام ہی نہیں ملتے بلکہ خدا اور پروردگار جیسے دوسرے الفاظ بھی موجود ہیں، جو جنوبی ایشیاء میں مستعمل تھے۔ اس میں متعدد صوفیا کے کلام موجود ہیں، خاص طور سے پاکپتن کے صوفی بابا فرید گنج شکر کے۔ گرو نانک نے بابا فرید کے مزار پر کئی بار حاضری دی۔ سکھ مذہب کے ماننے والوں کی مذہبی تقاریب میں قوالی اور نعت خوانی کے رنگ بھی نظر آتے ہیں۔ واضح رہے کہ سکھوں کے پہلے گرو کا نام گرونانک تھا اور اُس کے بعد نو مزید گرو اس مذہب کے ماننے والوں کے رہنما رہے ہیں۔

تاریخ کے پاس اُن لوگوں کو دینے کے لیے بے تحاشہ مواد موجود ہے جو ماضی کے واقعات کا بدلا لینے کے لیے نسل کی نسل تباہ کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ ماضی اور حال کی سیاسی کشمکش اور رسہ کشی میں زیادہ تر ایسے انسان پس رہے ہیں، جن کا ماضی کے اُن واقعات سے کوئی لینا دینا بھی نہیں ہوتا۔ دوسری جانب تاریخ کے کئی باب ایسے خوشگوار پہلو بھی پیش  کر سکتے ہیں، جو حال میں امن سازی کی  نئی بنیادیں ثابت ہو سکیں۔