کلثوم نواز کے شہر لاہور میں ’غم کے سائے‘ | حالات حاضرہ | DW | 11.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کلثوم نواز کے شہر لاہور میں ’غم کے سائے‘

پاکستان کی سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز کی میت پاکستان لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق ان کی تدفین جاتی عمرہ میں میاں نواز شریف کے والد میاں محمد شریف کی قبر کے قریب کی جائے گی۔

مسلم لیگ کے صدر میاں شہباز شریف اپنے صاحب زادے حمزہ شہباز شریف کے ہمراہ لندن پہنچ رہے ہیں۔ شریف فیملی کے قریبی ذرائع کے مطابق بیگم کلثوم نواز کے جسد خاکی کو پاکستان لانے میں دو سے تین دن لگ سکتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحب زادی مریم نواز اور ان کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر نے منگل کی شام کلثوم نواز کی رحلت کی اطلاع سنی تو وہ آبدیدہ ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد اڈیالہ جیل کے الگ الگ کمروں میں قید شریف فیملی کے ان تینوں افراد کو ایک کمرے میں اکٹھا کر دیا گیا۔ انہیں اپنے عزیزوں سے ملنے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔ شہباز شریف نے منگل کی شام نواز شریف سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اور کلثوم نواز کی رحلت کے بعد کے حالات کے حوالے سے مشاورت کی۔

وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق شریف فیملی کے مقید افراد کی پیرول پر رہائی کے لیے قانونی دستاویزات مکمل کی جا رہی ہیں۔ لیکن نواز شریف کے وکلا کے مطابق وہ کل بدھ کے روز عدالت سے نواز شریف کی ضمانت کی استدعا کریں گے۔

Pakistan: Die Ehefrau des ehemaligen Premiers Nawaz Sharif verstorben (DW/T. Shahzad)

لاہور کے نواحی علاقے جاتی عمرہ میں میاں نواز شریف کے گھر میں بڑی تعداد میں جمع ہونے والے لوگ دکھ اور افسوس کا اظہار کر رہے ہیں

لاہور کے نواحی علاقے جاتی عمرہ میں میاں نواز شریف کے گھر میں بڑی تعداد میں جمع ہونے والے لوگ دکھ اور افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نون نے پاکستان بھر میں اپنی تمام سیاسی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں اور ملک بھر سے نون لیگی کارکن لاہور پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔

 اس وقت بھی ماڈل ٹاون کے ایچ بلاک میں مسلم لیگ نون کے مرکزی دفتر میں مسلم لیگ نون کے کارکن بڑی تعداد میں موجود ہیں اور وہاں جذباتی مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔  بہت سے لوگ اشک بار آنکھوں سے کلثوم نواز کو یاد کر رہے ہیں۔

بیگم کلثوم نواز کی موت پر دکھ کا اظہار کرنے والوں میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے شہری بھی شامل ہیں۔ لاہور کی مال روڈ پر موجود ایک شخص محمد امین کا کہنا تھا کہ یہ بات مزید دکھ کا باعث ہے کہ زندگی کے آخری لمحوں میں نواز شریف اپنی اہلیہ کے پاس نہیں تھے۔ بیگم کلثوم نواز کی وفات کا واقعہ ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔ لوگ اپنے اپنے انداز میں تعزیت کا اظہار کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر میاں نواز شریف کی وہ وڈیو وائرل ہو چکی ہے، جس میں وہ پاکستان آمد سے پہلے ہسپتال کے بیڈ پر بے ہوش پڑی کلثوم نواز کو مخاطب کر کے متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس موقعے پر نواز شریف کی طرف سے دی جانے والی دعائیں رقت انگیز منظر پیش کر رہی ہیں۔

پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں ان لوگوں کو بھی تنقید کا سامنا ہے، جو کلثوم نواز کی بیماری کو بہانہ قرار دیتے ہوئے ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما چوہدری اعتزاز احسن نے اسی ضمن میں دیے گئے اپنے ایک بیان پر کلثوم نواز کی رحلت کے فوراﹰ بعد معافی مانگی ہے۔

نواز شریف کی اہلیہ لندن میں انتقال کر گئیں

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تمام بڑے سیاسی اور مذہبی رہنماوں نے بیگم کلثوم نواز کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کی دعا کی ہے۔

تجزیہ نگار حفیظ اللہ خان نیازی نے ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بیگم کلثوم نواز کی وفات ایک ایسے موقعے پر ہوئی ہے، جب ان کے خاوند، بیٹی اور داماد کو ایک ایسے متنازعہ ٹرائل کی وجہ سے قید و بند کا سامنا ہے، جس پر قوم کے بڑے حصے کو اعتراض ہے۔

 ان کے بقول فیئر ٹرائل ریاست کی ذمہ داری تھی۔ ان کے بقول ماضی میں بھٹو فیملی کو ٹارگٹ کیا گیا تو اس تلخی ابھی تک لوگ نہیں بھول پائے۔ اب پنجاب میں جس طرح شریف فیملی کو بے رحمی اور سنگدلی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس سے لوگوں میں غصے، دکھ اور تلخی کے جذبات میں اضافہ ہوگا، ’’ہم نے پچھلے دنوں جو نعرے سنے وہ کبھی نہیں سنے تھے، اب قوم میں پائی جانے والی خلیج میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ پاکستان میں با اثر لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘

DW.COM

اشتہار