کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی : پاکستان مطمئن، بھارت ناراض | حالات حاضرہ | DW | 17.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی : پاکستان مطمئن، بھارت ناراض

مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو’کسی روک ٹوک کے بغیر‘ قونصل رسائی نہیں دینے پرنئی دہلی نے پاکستان سے سخت اعتراض کیا ہے تاہم اسلام آباد کا کہنا ہے کہ بھارت کی بدنیتی سامنے آگئی کہ وہ قونصلر رسائی ہی نہیں چاہتا ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارتی سفارت کاروں کا رویہ حیران کن تھا، انہیں کلبھوشن سے بات ہی نہیں کرنی تھی تو رسائی کیوں مانگی حالانکہ جو باتیں طے ہوئی تھیں، قونصلر رسائی کے دوران ان پر پورا عمل کیا گیا۔

 ادھربھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستوا نے دہلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اس مرتبہ بھی پاکستان نے ویسا ہی رویہ اپنایا جیسا کہ دو ستمبر 2019 کو پہلی قونصلر میٹنگ کے دوران اختیار کیا تھا۔”اس مرتبہ بھی پاکستانی افسران کا رویہ ڈرانے اور دھمکانے والا تھا۔ بھارت کے احتجاج کے باوجود پاکستانی حکام یادیو اور بھارتی سفارت کاروں کے بالکل قریب موجود رہے۔ حکام نے دیکھا کہ کمرے میں ایک کیمرہ بھی نصب ہے جس سے ان کی بات چیت ریکارڈ کی جارہی ہے اور یادیو پر جس طرح کا دباو ڈالا جارہا ہے وہ ان کے چہرے سے نمایاں تھا۔"

انوراگ سریواستوانے مزید بتایا کہ”ملاقات کے کمرے کو جس انداز میں رکھا گیا تھا وہاں کھل کر بات کرنا ممکن نہ تھا۔ بھارتی سفارت کار یادیو سے اس کے قانونی حقوق کے بارے میں بھی بات نہیں کرسکے۔ ان حالات کی روشنی میں یہ قونصلر رسائی 'نہ تو بامعنی تھی اور نہ ہی معتبر‘  اسی لیے بھارتی سفارت کار اپنا احتجاج درج کراتے ہوئے وہاں سے چلے آئے۔"


 پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تاہم ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بھارت کے سفارت کاروں نے جاسوس کلبھوشن یادیو کی قونصلر رسائی کے دوران کوئی بات نہیں سنی اور چلے گئے۔ دوسفارت کاروں کو قونصلر رسائی دی گئی تھی، کلبھوشن بار بار انہیں پکارتا رہا اور کہتا رہا کہا کہ اس کی بات سنی جائے لیکن سفارت کاروں نے اس کی ایک نہ سنی اور چلے گئے۔

پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی سفارتکاروں کا رویہ حیران کن تھا، سفارت کاروں نے کلبھوشن سے بات ہی نہیں کرنی تھی تو رسائی کیوں مانگی۔ بھارتی سفارت کاروں کو درمیان میں شیشے پر اعتراض تھا وہ بھی ہٹا دیا، انہوں نے آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ پراعترض کیا وہ بھی نہیں کی، بھارتی سفارت کاروں کی تمام خواہشات پوری کیں پھر بھی وہ چلے گئے۔ انہوں نے کلبھوشن تک رسائی کے بجائے راہ فرار اختیار کیا۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستوا نے بتایا کہ ”پچھلے ایک سال سے زیادہ عرصے کے دوران بھارت، پاکستان سے 12 سے زیادہ بار کلبھوشن یادیوسے 'بلا روک ٹوک، کسی پابندی کے بغیر اورغیر مشروط‘ قونصلر رسائی دینے کے درخواست کرچکا ہے۔ لیکن پاکستان کا رویہ نہ صرف جولائی 2019 میں آئی سی جے کو اپنی طرف سے کرائی گئی یقین دہانی کے برخلاف تھا بلکہ وہ خود اپنے آرڈی ننس کے مطابق عمل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

لیکن پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی کہتی ہیں کہ پاکستان عالمی عدالت انصاف کے 17 جولائی 2019 کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے اور امید کرتا ہے کہ بھارت اس فیصلے پر پاکستانی عدالت میں مکمل عملدرآمد کے سلسلے میں تعاون کرے گا۔

Pakistan angeblicher indische Spion zum Tode verurteilt

پاکستان نے جولائی 2019 میں کلبھوشن یادیو کو پہلی مرتبہ قونصلر رسائی دی تھی۔

خیال رہے کہ گزشتہ آٹھ جولائی کو پاکستان کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل احمد عرفان نے بتایا تھا کہ پاکستان نے بھارت کو دوسری مرتبہ قونصلر رسائی کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ پاکستان نے کلبھوشن یادیو کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کی بھی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ کلبھوشن یادیو نے اپنی سزا کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے سے انکار کردیا ہے اور اس کے بجائے اپنی زیر التوا رحم کی اپیل پر جواب کے انتظار کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کا دعوی ہے کہ کلبھوشن یادیو بھارتی بحریہ کے حاضر سروس آفسر اور بھارتی جاسوس ہیں جنھیں سنہ 2016 میں پاکستان کے صوبے بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ بھارت ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ کلبھوشن ایک ریٹائرڈ فوجی افسر ہیں اور وہ اپنے کاروبار کے سلسلے میں ایران گئے تھے اور انہیں پاکستان۔ ایران سرحد پر اغوا کرلیا گیا تھا۔ لیکن پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا تھا کہ یادیو بھارتی بحریہ سے کب اور کس طرح ریٹائر ہوئے، کیونکہ پکڑے جانے کے وقت کلبھوشن کی عمر 47 برس تھی۔ نیز کلبھوشن یادیو کے پاس جعلی شناخت کے ساتھ اصلی پاسپورٹ کیسے آیا، جس کو انہوں نے 17 مرتبہ بھارت آنے جانے کے لیے استعمال بھی کیا اور جس میں ان کا نام حسین مبارک پٹیل درج تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان نے کل بھوشن یادیو کو سزائے موت پر نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کے لیے آخری تاریخ 20 جولائی مقرر کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے پاس اب دو ہی متبادل ہیں۔ یا تو وہ پاکستانی عدالت سے رجوع کرے یا پھر عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹائے اور یہ بتائے کہ پاکستان اس کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کررہا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:40

عالمی عدالت انصاف کا کلبھوشن یادیو مقدمے فیصلہ

DW.COM