ڈیرہ اسماعیل خان: خاتون کا خود کش حملہ، نو افراد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 21.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ڈیرہ اسماعیل خان: خاتون کا خود کش حملہ، نو افراد ہلاک

ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے دو واقعات میں نو افراد ہلاک جب کہ تیس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ خود کش حملہ ایک خاتون نے کیا۔ پاکستانی طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

نیوز ایجنسی اے پی نے ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک سینیئر پولیس اہلکار سلیم ریاض خان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایک موٹر سائیکل پر سوار مسلح حملہ آوروں نے ایک رہائشی علاقے میں دو پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

اس واقعے کے بعد جب ہلاک ہونے والے افراد کو ہسپتال پہنچایا گیا تو ہسپتال کے داخلی راستے پر وہاں پہلے سے موجود ایک خاتون نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس خود کش حملے میں چار مزید پولیس اہلکار اور تین دیگر افراد ہلاک ہو گئے۔

سلیم ریاض خان کے مطابق اس واقعے میں تیس افراد زخمی ہوئے جن میں آٹھ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں سے زیادہ تر کی حالت نازک ہے اس لیے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

فرانزک ماہر عنایت اللہ کے مطابق خاتون خود کش حملہ آور نے سات کلو بارودی مواد دھماکے سے اڑایا اور دھماکا خیز مواد میں بال بیئرنگ بھی موجود تھے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق دھماکے سے ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کو بھی شدید نقصان پہنچا جس کے بعد اسے بند کر دیا گیا ہے۔ زخمی ہونے والے افراد کو فوجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

پاکستانی طالبان نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ خود کش حملہ آور ایک خاتون تھی۔ یہ شدت پسند گروہ ماضی میں بھی ایسے حملے کرتا رہا ہے تاہم عام طور مردوں اور نوجوانوں کو خود کش حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستانی فوج نے پاکستانی طالبان اور دیگر عسکریت پسندوں کے خلاف کئی آپریشن کیے ہیں جن کے بعد دہشت گردانہ حملوں میں کمی واقع ہوئی ہے، لیکن اب بھی یہ گروہ اپنی موجودگی دکھانے کے لیے وقتا فوقتا اپنی کارروائیاں جاری رکھتے ہیں۔

ش ح / ا ب ا (اے پی، ڈی پی اے)

ویڈیو دیکھیے 02:28

بی ایل اے دہشت گرد تنظیم قرار: شاہ زیب جیلانی کے ساتھ تین سوال تین جواب

DW.COM

Audios and videos on the topic