پشاور: بی آر ٹی پھر سے تنقید کی زد میں | حالات حاضرہ | DW | 14.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پشاور: بی آر ٹی پھر سے تنقید کی زد میں

پشاور ریپیڈ بس ٹرانزٹ منصوبے میں مزید نقائص کی خبریں سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اسے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

دو برس قبل بی آر ٹی منصوبے کے افتتاح کے موقع پر اس وقت خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے دعویٰ کیا تھا کہ اس منصوبے کی تکمیل چھ ماہ کی ریکارڈ مدت میں ہوگی اور اس ہدف کے لیے بھرپور منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

دو برس بعد اب بی آر ٹی کے لیے تعمیر کا مرحلہ آخر کار مکمل ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔ تاہم گزشتہ دنوں اس ٹریک پر آزمائشی طور پر جب بسیں چلائی گئیں تو معلوم ہوا کہ اٹھارہ میٹر لمبی بسوں کے لیے پشاور کی سنہری مسجد کے قریب ٹریک پر موجود موڑ تنگ ہے۔ یہ خامی سامنے آنے کے بعد سڑک کشادہ کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر تعمیراتی کام شروع ہو چکا ہے۔

بی آر ٹی کے لیے انتظامیہ نے مجموعی طور پر 220 بسیں خریدی ہیں جن میں ڈیڑھ سو سے زائد بارہ میٹر طویل ہیں جب کہ پینسٹھ کی لمبائی اٹھارہ میٹر ہے۔ اب تک ستر بسیں پشاور پہنچائی جا چکی ہیں۔

اس منصوبے میں ایک اور نقص کی خبریں سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ طاہر خٹک نامی ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا، ’’بی آر ٹی پشاور میٹر بس ناقص ترین کارکردگی پر انجینیئرز کے اساتذہ پر پرچے کروانے کا فیصلہ۔‘‘

فہد کیہر نامی صارف نے لکھا، ’’وقت آ گیا ہے کہ دکانوں پر یہ لکھا ہوا نظر آئے گا: پشاور میٹرو کی تکمیل تک ادھار بند ہے۔‘‘

ایک صارف نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی گزشتہ برس کی گئی ایک ٹوئیٹ شیئر کی جس میں عمران خان نے لکھا تھا، ’’ جب بھی میٹروز اور اورنج لائین جیسے منصوبوں کی پڑتال کی جائے گی یہ راز کھلے گا کہ خسارہ کرنے والے ان منصوبوں کی تعمیر کا اصل مقصد ان کی آڑ میں کمیشن کھانا اور کک بیکس سے اپنی تجوریاں بھرنا تھا۔‘‘ اس کے جواب میں صارف نے لکھا، ’’عمران خان پشاور میٹرو کی بات کر رہے تھے۔‘‘

DW.COM