پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی لگائی جائے، پشاور ہائی کورٹ | حالات حاضرہ | DW | 11.03.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی لگائی جائے، پشاور ہائی کورٹ

پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت میں پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو حکم دیا ہے کہ ویڈیو شیئرنگ سوشل میڈیا ایپلیکیشن ٹک ٹاک پر ملک بھر میں پابندی لگا دی جائے۔

پشاور سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق یہ بات آج جمعرات گیارہ مارچ کو ٹک ٹاک سے متعلق ایک مقدمے میں پاکستان ٹیلی مواصلاتی اتھارٹی کی نمائندگی کرنے والے وکیل کی طرف سے بتائی گئی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پشاور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ایک نجی شکایت میں کہا گیا تھا کہ ٹک ٹاک کے ذریعے پاکستانی معاشرے میں فحش اور اخلاقی طور پر نامناسب مواد پھیلایا جا رہا ہے۔

اٹلی: ٹک ٹاک بناتے ہوئے دس سالہ بچی کے ہلاکت کے بعد ٹک ٹاک کے خلاف کارروائی

اس مقدمے میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی نمائندگی کرنے والے ماہر قانون جہاں زیب محسود نے روئٹرز کو بتایا کہ عدالت نے کہہ دیا ہے کہ وہ حکومت کو ہدایت کر رہی ہے کہ اس ویڈیو شیئرنگ ایپ پر پاکستان میں پابندی لگا دی جائے۔

Tik Tok

پاکستان میں ٹک ٹاک کا کوئی دفتر نہیں ہے اور اس کمپنی کے صدر دفاتر سنگاپور میں ہیں جبکہ اس کا کاروبار دبئی سے کنٹرول کیا جاتا ہے

ٹک ٹاک ویڈیو بناتے ہوئے پاکستانی نوجوان ہلاک

پاکستانی معاشرے کے لیے 'ناقابل قبول ویڈیوز‘

دنیا کے کئی دیگر ممالک کی طرح ٹک ٹاک پاکستان میں بھی سوشل میڈیا صارفین میں انتہائی مقبول ایپ ہے۔ لیکن اس ایپ کے خلاف عدالت عالیہ میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ ٹک ٹاک کے ذریعے ملک میں 'فحاشی‘ پھیل رہی ہے۔

پاکستان میں ٹک ٹاک ایپ کے استعمال کی دوبارہ اجازت

اس درخواست پر اپنے فیصلے میں پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید خان نے حکومت کو حکم دیا کہ ملک میں ٹک ٹاک کا استعمال ممنوع قرار دے دیا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا، ''ٹک ٹاک پر جو ویڈیوز اپ لوڈ کی جا رہی ہیں، وہ پاکستانی معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہیں۔ ٹک ٹاک ایپ نوجوانوں کو سب سے زیادہ متاثر کر رہی ہے اور اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے بارے میں ملنے والی رپورٹیں افسوس ناک ہیں۔‘‘

چیف جسٹس قیصر رشید خان کی طرف سے دیے جانے والے حکم کے وقت پی ٹی اے کے ڈائریکٹر کامران گنڈاپور بھی عدالت میں موجود تھے۔

ٹاک ٹاک کی بندش، پاکستان میں بحث

ویڈیو دیکھیے 03:35

ٹک ٹاک پر پابندی اظہار رائے پر پابندی ہے، نگہت داد

ماضی میں بھی پابندی لگائی گئی

ٹک ٹاک پلیٹ فارم کی مالک ایک چینی کمپنی ہے اور اس ایپ کے پاکستان میں استعمال پر پی ٹی اے کی طرف سے گزشتہ برس اکتوبر میں بھی پابندی لگائی گئی تھی۔ تب اس پابندی کی وجہ ٹک ٹاک کو کی جانے والے وہ متعدد تنبیہات بنی تھیں، جن کا سبب 'غیر اخلاقی مواد‘ بتایا گیا تھا مگر جن کا پی ٹی اے کے مطابق کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا۔

’فحاشی‘ کنٹرول نہ کرنے پر پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی

بعد ازاں تاہم پاکستانی ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹرز نے یہ پابندی اس شرط پر ختم کر دی تھی کہ ٹک ٹاک کی طرف سے پاکستانی قوانین کا احترام کیا جائے گا اور یہ ایپ اپنے صارفین کو یہ پلیٹ فارم کسی بھی طرح کے فحش یا غیر اخلاقی مواد کے پھیلاؤ کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

پاکستان میں ٹک ٹاک کا کوئی دفتر نہیں ہے اور اس کمپنی کے صدر دفاتر سنگاپور میں ہیں جبکہ اس کے کاروبار کو دبئی سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔

م م / ک م (روئٹرز)