پاکستان میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین رہیں یا جائیں: ایک دن باقی رہ گیا | حالات حاضرہ | DW | 29.06.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین رہیں یا جائیں: ایک دن باقی رہ گیا

یو این ایچ سی آر کے پاس رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی پاکستان میں قیام کے لیے مقررہ مدت میں صرف ایک دن باقی رہ گیا ہے۔ ملکی کابینہ کے اگلے اجلاس میں ان افغان مہاجرین کے قیام کی مدت میں توسیع کی امید کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں رہائش پذیر افغان پناہ گزینوں کے مزید قیام کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر متحرک ہوگیا ہے۔ پاکستان میں یو این ایچ سی آر کے ترجمان پُرامید ہیں کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کے لیے حکومت مزید ایک سال کی توسیع دے گی۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے قیصر آفریدی نے بتایا، ''ہم پرامید ہیں کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان رجسٹرڈ مہاجرین کے قیام میں توسیع کرے گا۔‘‘

اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین  کے پاس اس وقت چودہ لاکھ افغان مہاجرین رجسٹرڈ ہیں۔ تاہم کورونا وائرس کی وبا کے سبب افغان مہاجرین کی رضا کارانہ واپسی کا پروگرام گزشتہ چار ماہ سے ملتوی کیا گیا ہے۔ اس بارے میں آفریدی کا مزید کہنا ہے کہ کورونا کے ساتھ ساتھ سرحد کی صورتحال بھی مانیٹر کی جا رہی ہے اور حالات سازگار ہوتے ہی رضاکارانہ واپسی کا پروگرام بحال کیا جائے گا۔ ان کے بقول، ''رجسٹرڈ مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی پر ادارے کی جانب سے انہیں دو ہزار ڈالر امداد دی جاتی ہے۔‘‘

 پاکستان میں رہائش پذیر افغان مہاجرین کی تین کیٹیگریز ہیں جن میں چودہ لاکھ یو این ایچ سی آر کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ دوسری کیٹگری کو پاکستان نے افغان سٹیزن کارڈ جاری کیے ہیں اور ان کی تعداد آٹھ لاکھ اسی ہزار بتائی جاتی ہے۔ ان کی رجسٹریشن سال 2017  میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ تیسری کیٹگری میں ایسے مہاجرین ہیں جن کے پاس 'افغان سٹیزن کارڈ‘  اور 'پروف آف رجسٹریشن‘  موجود نہیں ہیں۔ ایسے افراد کی تعداد پانچ لاکھ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان میں افغان مہاجرین بھی مشکلات کا شکار

یو این ایچ سی آر ہر سال یکم دسمبر سے اٹھائیس مارچ تک ر‌ضاکارانہ واپسی کا پروگرام بند کرتا ہے۔ تاہم رواں سال کے دوران جب دو مارچ کو واپسی کا پروگرام شروع ہوا تو اسے کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے بند کردیا گیا۔

 

افغان مہاجرین کو درپیش مسائل

افغان مہاجر کیمپوں میں رہائش پذیر افغان مہاجرین کئی ماہ سے متعدد مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ مثلاﹰ بے روزگاری،کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے لیے صحت کی عدم سہولیات اور اشیائے خورد و نوش کی قلت۔  ان مسائل کے پیش نظر افغان مہاجرین کے ایک وفد نے پشاور میں سابق وزیر داخلہ اور قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاو سے ملاقات کی۔ 

یہ بھی پڑھیے: پاکستان نے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی میں کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا: گوٹیریش

اس موقع پر آفتاب شیرپاو نے کہا، ''وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت پاکستان یہاں رہائش پذیر افغان مہاجرین کو تمام تر سہولیات فراہم کرے اور انہیں احساس پروگرام میں شامل کرکے نقد مالی معاونت کے ساتھ ساتھ بیماریوں کا سامنا کرنے والے افراد کو صحت کی سہولیات فراہم کرے۔  ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آبادحکومت کو چاہیے کہ افغانستان کے ساتھ آمد و رفت کے تمام راستے کھولے جائیں اور افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں مؤثر کردار ادا کیا جائے۔ شیرپاؤ کے بقول، ''افغانستان میں امن ہوگا تو پاکستان میں بھی ترقی اور امن قائم ہوگا ۔‘‘

پاکستان نے حال ہی میں افغانستان کے ساتھ منسلک تین بارڈرز کھولے ہیں جبکہ ہفتے میں ایک دن پیدل جانے والے افغان باشندوں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:05

پناہ گزین خواتین کے روزگار اور بہبود کا منصوبہ ’میڈ ففٹی ون‘

DW.COM