پاکستان میں حکومت کا خاتمہ، معیشت بھی بری طرح متاثر | حالات حاضرہ | DW | 05.04.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان میں حکومت کا خاتمہ، معیشت بھی بری طرح متاثر

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ملک میں معیشت بھی ڈگمگا گئی ہے۔ اس پيش رفت سے جہاں سیاسی ایوانوں میں ہلچل مچی وہیں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر بھی نمایاں اثر ہوا اور مندی دیکھی گئی۔

عمران خان نے صدر مملکت کو اتوار کے روز اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویز دی اور کچھ ہی دیر بعد صدر نے تجویز منظور کرتے ہوئے قومی اسمبلی تحلیل کی دی۔

پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں مندی کا رجحان

پیر کو مارکیٹ کے پہلے ہیروز ہنڈریڈ انڈیکس گراوٹ کا شکار نظر آیا اور یہ سلسلہ دن کے آخر تک جاری رہا۔ کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک ہنڈریڈ انڈیکس بارہ سو پچاس پوائنٹس کی کمی کے ساتھ تینتالیس ہزار نو سو دو پر بند ہوا۔

پاکستان کا سیاسی بحران دنیا پر کیسے اثر انداز ہو سکتا ہے؟

پاکستان: سپریم کورٹ میں منگل کو اسمبلی توڑنے کے خلاف درخواستوں کی دوبارہ سماعت

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سابق ڈائریکٹر ظفر موتی نے ڈوئچے ویلے اردو سے بات چیت میں کہا، ''ملک کی سیاسی صورت حال اور ایکسچیج ریٹ میں اضافے نے مارکیٹ کو متاثر کیا۔ سرمایہ کار گھبراہٹ کا شکار ہیں۔ وہ شیئرز کی فروخت کو ترجیح دے کر مارکیٹ سے اپنا سرمایہ نکالنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔‘‘

بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک کی اقتصادی صورت حال پہلے بھی کچھ زیادہ اطمینان بخش نہیں تھی اور اس کی مجموعی ذمہ داری موجودہ صورت حال پر ڈال دينا درست نہيں۔ ملک میں کوئی بھی تبدیلی، سانحہ یا واقعہ ہوتا ہے تو اسٹاک مارکیٹ سب سے پہلے متاثر ہوتی ہے۔ اس بار بھی مارکیٹ نے سیاسی صورت حال پر اپنا ردعمل دیا، جو توقع کے عین مطابق ہے۔

زر مبادلہ مارکیٹ میں ڈالر بے لگام

ڈالر کی قدر بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ منگل کو انٹر بینک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر ہی امریکی ڈالر کی قیمت میں ایک روپے اکتیس پیسے تک اضافہ سامنے آیا۔ پہلی بار انٹر بینک میں امریکی ڈالر کا لین دین ایک سو پچاسی روپے چالیس پیسے کی بلند ترین سطح پر ہوا۔

اقتصادی امور کے ماہر سمیع اللہ طارق نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات چیت میں بتایا، ''کافی عرصے سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستانی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں دباؤ کا شکار ہے اور اس کی وجہ بھاری درآمدی بل، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور بیرونی ادائیگیاں ہیں۔ برامدات میں اضافہ تو ہو رہا ہے لیکن درامدات کافی زیادہ ہیں۔ ترسیلات کا اوسطاً ماہانہ حجم بھی دو ارب ڈالر سے زائد ہے۔ ہمیں ڈالر کی ضرورت ہے۔ انٹر بینک میں ڈالر کی طلب اور قدر دونوں میں ہی اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 04:33

کیا رمضان میں مہنگائی ہونا لازمی ہے؟

ریکارڈ تجارتی خسارہ

ادارہ شماریات پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق بیرونی تجارت میں پاکستان کا خسارہ ستر فیصد بڑھ گیا ہے۔ مالی سال جولائی سے مارچ 2022ء کے دوران پینتیس ارب انتالیس کروڑ ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا۔ اس دوران اٹھاون ارب انہتر کروڑ ڈالر کی درآمدات کی گئیں جبکہ برآمدی مالیت صرف تیئس ارب انتیس کروڑ ڈالر رہی۔

بھاری درآمدی بل

کراچی کے علاقے لائٹ ہاؤس میں کاروبار کرنے والے عبدالمجید نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا، ''ہم عام اشیاء درآمد کر رہے ہیں۔ پیکٹڈ دودھ، دہی، مکھن، موبائل فون سیٹ، ایل ای ڈی، کپڑے، جوتے، ڈائپر، مچھلی، پھل سبزی سمیت متعدد اشیاء کی درآمد جاری ہے۔ ايسے ميں درآمدی بل تو بڑھنا ہی ہے۔ اگرچہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے درآمد پر سو فیصد کیش مارجن کی شرط عائد کر رکھی ہے، اس کے باوجود درجنوں اشیاء باہر سے منگوائی جا رہی ہیں، جو نہ صرف ملکی صنعتوں کے ليے نقصان دہ ہیں، بلکہ معیشت پر بھی بوجھ ہیں۔‘‘

معروف تجزیہ کار طارق ظفر کے مطابق روس یوکرین جنگ کی وجہ سے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل اور دیگر اجناس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس کا اثر پاکستان پر بھی پڑا، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت ایک سو تیس ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو گزشتہ آٹھ سال ميں پہلی بار ہے۔ مہنگا تیل خریدنے سے پاکستان کی معیشت بھی متاثر ہوئی۔ مجموعی درآمدات میں تیل کی درامدی مالیت بڑھ گئی جبکہ عالمی سطح پر کوئلے اور اسٹیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستان میں بھی ان اشیاء کے دام بڑھ گئے۔ لہذا اس صورت حال نے یہاں افراط زر کو بھی بڑھاوا دیا۔ مارچ میں افراط زر کی شرح بارہ فیصد سے بھی زائد رہی۔‘‘

معیشت کے چیلنجز

اقتصادی ماہرین بڑھتے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور درامدات میں اضافے کو اہم چیلنج قرار دے رہے ہیں، کیونکہ توازن ادائیگی کا خسارہ بھی بارہ ارب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے، جبکہ رواں مالی سال نو ماہ کے دوران درآمدی مالیت اٹھاون ارب انہتر کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی، ایک ایسے وقت میں جب ملکی معیشت شدید مشکلات سے دوچار ہے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں نئی حکومت کے ساتھ قرضہ کا پروگرام آگے بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے، یقینا مسقتبل قریب کے لئے مثبت خبر ضرور ہے، لیکن تب تک معیشت کو درپیش مشکلات کیسے حل کی جائیں گی، یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔

ویڈیو دیکھیے 04:08

عمران خان کا سیاسی سفر، تحریک عدم اعتماد تک

DW.COM