پالیسی سازوں کی دانش کی داد | دستک | DW | 01.08.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

پالیسی سازوں کی دانش کی داد

پالیسی سازوں کا کام ہوتا ہے کہ وہ درپیش وسائل و مسائل کو دیکھتے ہوئے بہترین منصوبہ بندی کریں تاکہ اس کے ثمرات عوام تک پہنچ سکیں۔ لیکن اگر ان کا سمجھ بوجھ کا مسئلہ ہو تو مسائل ختم ہونے کے بجائے دوچند ہو سکتے ہیں۔

اگر آپ پاکستان کے موجودہ پالیسی سازوں کی دانش کو سمجھنا چاہتے ہیں تو کسی ایک مسئلے پر ان کے ردعمل کو ہی پرکھ لیں۔ آج ہم بات کرتے ہیں پاکستان میں سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر کے بارے میں۔ موجودہ حکومت سرکاری ملازمین کو ادا کی جانے والی پینشن کی وجہ سے معیشت پر بڑھتے بوجھ کو کم کرنا چاہتی ہے۔ کبھی سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھائی جاتی ہے تو کبھی تنقید کے بعد فیصلہ واپس لے لیا جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے پالیسی ساز نئی بھرتیوں کے خزانے پر بوجھ کے ڈر سے ریٹائرمنٹ کی عمر 63 برس کر چکے تھے۔ حکومت نے منظوری بھی دے دی اور قانون بھی پاس ہو گیا لیکن عدالت میں کیس دائر ہوا تو عدالت نے فروری 2020 کو ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 63 برس کرنے کا حکومتی فیصلہ الٹ دیا۔ جس پر خیبر پختونخوا کی حکومت نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔

حال ہی میں خیبر پختنوا کے وزیر  خزانہ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے ایک انوکھی خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ خیبر پختونخوا میں بھارتی طرز کا پینشن قانون لانا چاہتے ہیں، جس پر بہت سارے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کے پالیسی ساز کیا کر رہے ہیں؟

یہ بھی پڑھیے: نیا سال، نئی قیادت، نئے چیلنجز

پالیسی سازی کی بات اگر چل ہی نکلی ہے تو اس پر کچھ دانشوروں کی رائے بھی سن لیں۔ جناب ڈاکٹر عشرت حسین جن کی عمر تقریباﹰ 85 برس ہے۔ موصوف مختلف سرکاری عہدوں سے ہوتے ہوئے آج کل مشیر وزیراعظم کے عہدے پر براجمان ہیں اور یادرہے ابھی تک ریٹائر نہیں ہوئے ان کے بارے میں چہ مگوئیاں یہ ہیں کہ یہ جناب جو گورنمنٹ آف پاکستان کی پینشن کے ساتھ ساتھ ورلڈ بینک،آئی ایم ایف، ایشیئن ڈویلپمنٹ بینک سے بھی مراعات لیتے رہے آج کل سرکاری ملازمین کے لیے پالیسی سازی کر کے معیشت کا بوجھ کم کرنے کے مشن پر ہیں۔

 وفاق میں سرکار ریٹائرمنٹ کی عمر 55 برس کرنے پر غور کر رہی تھی، جب اس خبر نے گردش کی تو تمام انگلیاں خود وزیر اعظم اور ان کے مشیروں کی طرف اٹھنے لگی۔ طنز و مزاح کی تو پی ٹی آئی کی حکومت پہلے دن سے ہی شکار رہی ہے لیکن اس بار عوام کے نشتر کچھ زیادہ ہی تیز دھار ہیں۔کچھ لوگ تو ایک الگ ہی مطالبہ کرتے نظر آرہے ہیں کہ عوام کو ہی یہ رونا کیوں سنایا جا رہا ہے؟

پاکستان کے عسکری ملازمین  کی پینشن کی مد میں ہونے والی ادائیگیوں کو کب قابو کیا جائے گا؟  اس دعوے پر جب کچھ اعداد و شمار اکٹھے کرنے کی جسارت کی تو معاملہ کچھ یوں سامنے آیا وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق فوجی پینشن 300 ارب سالانہ سے زیادہ اور سویلین پینشن کی مد میں سال کے 90 ارب روپے جاتے ہیں۔ اس حساب سے تو عسکری پینشن پر پالیسی سازی ہونے کا مطالبہ جائز محسوس ہوتا ہے۔

اس مطالبے سے قبل ایک اور معاملے پر بھی نظر ثانی کر ہی لینی چاہے، آیا فوجی ملازمین کو ریٹائرمنٹ کی مد میں کیا مراعات ملتی ہیں اور سول ملازمین کن مراعات کے مزے لیتے ہیں۔ توقصہ کچھ یوں ہے کہ عسکری ملازمین کو ریٹائر ہونے کے بعد پینشن کی مد میں زرعی یا غیر زرعی زمین یعنی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹ کا تو آپ نے سنا ہی ہوگا، تا عمر پینشن، علاج و معالجہ کی سہولت کے لیے عسکری ہسپتال میسر ہیں، یہ بھی سنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے:  ابنارمل تو ہم لوگ ہیں

اس کے ساتھ ساتھ سی ایس ڈیز پر رعایتی قیمتوں پر اشیاء ضروریات کی فراہمی بھی ان مراعات کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ عہدے کے حساب سے ان مراعات میں اضافہ ہی ہوتا ہے کمی آج تک نہیں ہوئی۔

اب تازہ ترین شائع ہونے والے اثاثوں کی تفصیلات پر ہی غور کر لیں کابینہ ڈویژن نے معاونین خصوصی وزیراعظم اور ریٹائرڈ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ عاصم سلیم باجوہ 15 کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں اور دستاویز کے مطابق ان کے پاس گلبرگ گرین میں 7 کروڑ روپے مالیت کا فارم ہاؤس بھی ہے۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ کراچی، لاہور اسلام آباد میں معاون خصوصی اطلاعات کے پاس 5 پلاٹس بھی ہیں، جب کہ عاصم سلیم باجوہ رحیم یار خان اور بہاولپور میں 65 ایکڑ اراضی کے بھی مالک ہیں۔ گریڈ اکیس کے ملازم کے برابر تنخواہ لینے والے جنرل نے اتنے اثاثے کیسے بنائے یہ تو منی ٹریل سامنے آنے پر ہی پتہ لگ سکتا ہے اس کر برعکس سول ملازمین کا کل اثاثہ صرف اور صرف پنشن کی مد میں ملنے والی رقم ہی ہوتی ہے ۔

یہ تو بات ہوگئی مراعات اور پینشن کی کچھ نظر ریٹائرمنٹ کی عمر پر بھی ڈال لیں تو معاملہ یوں ہے کوئی بھی شخص 18 سال کی عمر سے پاک فوج میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے اور 25 سال کی سروس کے بعد ریٹائر ہوسکتا ہے جبکہ سروس کی میعاد میں کمی کی گنجائش بھی ہے۔

اگر کمی نہ بھی کی جائے تو یہ بنتے ہیں کوئی 45 برس۔ اس حساب سے عسکری ملازمین 45 برس کی عمر میں ریٹائر ہوں گے اور سول ملازمین 55 برس کی عمر میں جبکہ آرمی چیف 63 برس کی عمر میں ریٹائر ہوں گے۔

ہر فرد ہر ادارے کے لیے دہرا قانون کیوں؟ سول ملازمین کو ایکسٹینشن دے کر پینشن کی مد میں موجود بوجھ کو معیشت سے ہٹایا جانا چاہیے لیکن عسکری ملازمین کو ریٹائرمنٹ دینا اور پینشن کی مد میں مراعات بھی زیادہ دینا کیایہ ملک و قوم پر بوجھ نہیں؟ 

یہ بھی پڑھیے: چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور پر تنقید، مداحوں کی بھی کمی نہیں

جس حساب سے موجودہ حکومت پالیسی سازی کر رہی ہے، پھر تو تمام عسکری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں بھی توسیع کرنی پڑے گی کیوں کہ ایک ادارہ جس کا بجٹ ملک میں موجود تمام اداروں سے زیادہ ہے جس کی پینشن کی مد میں ادائیگیاں اور مراعات تمام اداروں سے زیادہ ہیں معیشت پر بوجھ کم کرنے کے لیے انہیں سب سے پہلے ایکسٹینشن دینی پڑے گی۔

گزارش صرف اتنی ہے جناب کہ ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے اور کم کرنے سے معیشت پر دن بدن بڑھتے بوجھ کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ پی ٹی آئی حکومت وقتی طور پر ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھا کر پینشن کی ادائیگیوں سے تو بچ جائے گی لیکن نئے مسائل میں ٹانگ اٹکا کر بیٹھ جائے گی۔

مسائل حل کرنے کے لیے نئے مسائل کو جنم نہ دیں۔ ایک منظم اور جدید پالیسی سازی کریں۔ سول اور عسکری دونوں ملازمین کو اس پالیسی کا حصہ بنائیں پینشن کا قانون وضع کریں۔ سول سرونٹس اور عسکری سرونٹس کی پینشن کی مد میں ادائیگیوں اور ریٹائرمنٹ کی عمر میں موجود واضح فرق کو کم کریں آخر کار تمام ادارے کام تو پاکستان کے لیے ہی کر رہے ہیں۔

DW.COM