فیلڈ مارشل عاصم منیر 'کنگ عبدالعزیز میڈل' سے سرفراز
22 دسمبر 2025
سعودی عرب نے پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے میں ان کے اہم کردار کے اعتراف میں باوقار 'شاہ عبدالعزیز میڈل آف ایکسیلنٹ کلاس' سے نوازا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کی خبروں کے مطابق سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز نے دارالحکومت ریاض میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران انہیں اس اعزاز سے نوازا۔
شہزادہ خالد بن سلمان نے اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا کہ دونوں دیرینہ شراکت داروں کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانے اور دفاعی تعلقات کو مزید بہتر کرنے کے لیے یہ تمغہ فیلڈ مارشل منیر کی "قابل ذکر شراکت" کا اعتراف کرتا ہے۔
اتوار کی شام کو عاصم منیر نے یہ ایوارڈ ریاض میں شہزادہ خالد سے ملاقات کے دوران وصول کیا۔
اس ملاقات کے دوران مزید کیا باتیں ہوئیں؟
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس ملاقات میں بات چیت کے دوران سعودی عرب اور پاکستان کے دیرینہ تعلقات، دفاعی تعاون اور بین الاقوامی امن و سلامتی کی حمایت کے لیے کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ریاض میں سی ڈی ایف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سعودی وزیر دفاع کے استقبال کے دوران یہ تقریب منعقد ہوئی۔
اس حوالے سے رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ "شہزادہ خالد نے فیلڈ مارشل منیر کو پاکستان کی دفاعی افواج کے سربراہ کے طور پر تقرری پر مبارکباد پیش کی اور ان کے اس نئے کردار میں مسلسل ان کی کامیابی کی خواہش کا اظہار کیا۔"
بیان میں مزید کہا گیا، "ملاقات کے دوران، فریقین نے سعودی عرب اور پاکستان کے تاریخی تعلقات اور دفاعی شعبے میں اسٹریٹجک تعاون کا جائزہ لیا، اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی امن و سلامتی کی بنیادوں کے قیام کے لیے کوششوں کے ساتھ ساتھ مشترکہ دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔"
اس کے علاوہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں سعودی وزیر نے کہا، "حرمین شریفین کے متولی کی ہدایت پر، میں نے پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسیلنٹ کلاس سے نوازا۔"
پاکستانی فوج کا بیان
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں کہا کہ ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے باہمی دلچسپی کے امور بشمول علاقائی سلامتی کی حرکیات، دفاعی اور فوجی تعاون، اسٹریٹیجک تعاون اور ابھرتے ہوئے جغرافیائی سیاسی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔
اس بیان میں مزید کہا گیا کہ "اس بات چیت سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے، تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی توثیق ہوتی ہے۔"
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ تمغہ مملکت کا "اعلیٰ ترین قومی اعزاز" ہے۔ یہ اعزاز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ممتاز فوجی خدمات اور قیادت کے ساتھ ساتھ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون، اسٹریٹجک کوآرڈینیشن اور ادارہ جاتی روابط کو آگے بڑھانے میں ان کے مرکزی کردار کو تسلیم کرتا ہے۔
آئی ایس پی آر نے مزید کہا، "انسداد دہشت گردی اور سلامتی میں مسلسل تعاون سمیت یہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے ان کے تعاون کی بھی عکاسی کرتا ہے۔"
سعودی گزٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس میڈل 'کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسیلنٹ کلاس' کی پانچ قسمیں ہیں۔ بہترین، پہلا، دوسرا، تیسرا اور چوتھا۔ یہ عام طور پر ان لوگوں کو دیا جاتا ہے، جنہوں نے سعودی عرب یا اس کے کسی ادارے کے لیے شاندار خدمات انجام دی ہوں۔
رواں برس کے اوائل میں اسلام آباد اور ریاض نے ایک اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں یہ عہد کیا گیا تھا کہ کسی بھی ملک پر کسی بھی حملے کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت مانی جائے گی۔
نومبر میں سعودی عرب کی مسلح افواج کے سربراہ نے پاکستان کے ساتھ دفاعی اور اسٹریٹیجک شراکت داری کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
پھر تین دسمبر کو فیلڈ مارشل منیر نے بھی اپنے ایک بیان میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جاری "مضبوط دفاعی تعاون" پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔
ادارت: جاوید اختر