غزہ میں جنگ بندی پر عمل جاری، غیر یقینی صورتحال بھی برقرار
وقت اشاعت 14 اکتوبر 2025آخری اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2025
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- زندہ یرغمالی واپس، مگر لاشوں کی واپسی میں تاخیر پر اسرائیل میں غم و غصہ
-
غزہ میں امن ڈیل کا پہلا مرحلہ مکمل
-
تحریک لبیک پاکستان کی قیادت کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج
-
زیلنسکی کی ٹرمپ سے لانگ رینج میزائلوں کے لیے درخواست
-
غزہ امن معاہدہ: بائیڈن اور کلنٹن کی ٹرمپ کی ستائس
-
حکام کا کہنا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
-
اسرائیل اور حماس دونوں ہی تقریب میں شریک نہ ہوئے
غزہ پٹی کی آئندہ حکمرانی بھی ایک بڑا سوال ہے
غزہ پٹی میں جنگ بندی منگل کو بھی برقرار رہی تاہم امریکی حمایت یافتہ امن منصوبے کےکئی اہم پہلو اب بھی غیر واضح ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ حماس کب ان 24 اسرائیلی یرغمالیوں کی جسمانی باقیات واپس کرے گی، جنہیں غزہ میں ہلاک شدہ تصور کیا جاتا ہے۔ اسرائیل نے اس معاملے میں فوری پیش رفت کا مطالبہ کیا ہے جبکہ حماس کی جانب سے کوئی واضح ٹائم لائن یا بیان سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب اسرائیل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کیا جائے تاکہ غزہ میں مستقبل میں ایک پائیدار اور محفوظ نظام قائم کیا جا سکے۔ لیکن حماس کی جانب سے اس مطالبے پر مزاحمت جاری ہے اور اس فلسطینی عسکریت پسند تنظیم نے اب تک ہتھیار ڈالنے سے انکار کر رکھا ہے۔
غزہ پٹی کی آئندہ حکمرانی بھی ایک بڑا سوال بنی ہوئی ہے۔ جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں مختلف امکانات زیرغور ہیں، جن میں عبوری حکومت، بین الاقوامی نگرانی یا مقامی قیادت کی تشکیل شامل ہو سکتی ہیں۔اس تناظر میں ابھی تک کوئی واضح خاکہ سامنے نہیں آ سکا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں طے پانے والے امن منصوبے کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے لیکن زمینی حقائق اور فریقین کے درمیان عدم اعتماد اس عمل کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک تمام فریق مکمل طور پر اس عمل میں شامل نہیں ہوتے،امن کی راہ کا ہموار ہونا مشکل ہی رہے گا۔
حماس غزہ پٹی کے شہروں پر گرفت پھر مضبوط کرنے کی کوشش میں
امریکی حمایت یافتہ امن معاہدے کے تحت حماس کو غیر مسلح کرنے کی عالمی کوششوں کے باوجود منگل کے روز غزہ پٹی میں حماس کی سکیورٹی فورسز نے اس تباہ حال خطے کے شہروں پر اپنی گرفت دوبارہ مضبوط کرنے کی کوششیں کیں۔
اسرائیلی جیلوں سے رہا ہونے والے قیدیوں کی غزہ پٹی میں آمد پر ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے حماس کی عزالدین القسام بریگیڈز نے سلامتی کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری سنبھال لی جبکہ شمالی غزہ پٹی میں اسرائیلی افواج کے انخلا کے بعد حماس کے نقاب پوش پولیس اہلکاروں نے دوبارہ گشت کرنا شروع کر دی۔
ادھر حماس کے ایک خصوصی سکیورٹی یونٹ نے مسلح قبائلی گروہوں اور مبینہ اسرائیل نواز گینگز کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ مقامی شہری یحییٰ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’’شدید جھڑپیں شروع ہو چکی ہیں اور اس وقت بھی جاری ہیں، حماس کا مقصد مبینہ مخبروں کا خاتمہ کرنا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ شرم الشیخ میں ہونے والے حالیہ امن اجلاس میں امریکہ، مصر، قطر اور ترکی نے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے، جس میں غزہ میں حماس کے مستقبل کے کردار کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تاہم زمینی حقائق اس امن کوشش کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں، جہاں حماس نہ صرف پھر سکیورٹی کنٹرول سنبھال رہی ہے بلکہ داخلی مخالفین کے خلاف بھی کارروائیاں کر رہی ہے۔
غزہ پٹی میں حماس اور مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپوں کی خبریں، یورپی یونین کو تشویش
یورپی یونین نے غزہ پٹی میں حماس اور مسلح قبائلی گروہوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مبینہ پرتشدد جھڑپوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس کے ترجمان نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا، ’’ہم ان اطلاعات پر فکر مند ہیں، جن میں غزہ پٹی میں حماس اور مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں کی خبر دی گئی ہے۔‘‘
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ میں حماس کے ارکان اور مقامی مسلح قبائل کے درمیان تصادم جاری ہے، جس میں ٹارگٹ کلنگ اور انتقامی کارروائیوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
کالاس کے ترجمان نے کہا، ’’ہم تمام فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں، جو جنگ بندی کو خطرے میں ڈال سکتے ہوں۔‘‘
یورپی یونین نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ غزہ کے مستقبل میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔ ترجمان نے مزید کہا، ’’ہم اپنے موقف کو دہراتے ہیں کہ حماس کو غیر مسلح ہونا چاہیے اور غزہ کی حکمرانی میں اس کا کوئی مستقبل نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
غزہ امن منصوبے پر دستخطوں کے بعد بھی وہاں سکیورٹی صورتحال انتہائی نازک بنی ہوئی ہے۔ یورپی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر غزہ میں طاقت کا خلا پیدا ہوا یا خانہ جنگی کی صورت حال بنی، تو حالات لیبیا یا صومالیہ جیسے ہو سکتے ہیں۔ ان ممالک میں جنگجو گروہوں نے ریاستی نظام کو مفلوج کر رکھا ہے۔
ایران نے غزہ امن سمٹ میں شرکت کیوں نہ کی؟
ایران نے منگل کے روز اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ اس نے غزہ امن سمٹ میں شرکت نہ کر کے ایک سفارتی موقع ضائع کر دیا ہے۔ یہ سمٹ کل پیر کو مصر کے شہر شرم الشیخ میں منعقد ہوئی تھی، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مرکزی کردار ادا کیا۔
ایران میں مقامی میڈیا نے البتہ اس اجلاس میں شرکت کے لیے مصری دعوت کو مسترد کرنے پر تہران حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اصلاحات پسند اخبار ’’شرق‘‘ نے منگل کے روز لکھا کہ اجلاس میں شرکت نہ کرنا ’’غیر فعالیت، سفارتی بے بصیرتی اور موقع گنوانے‘‘ کے مترادف ہے۔
حماس کے اتحادی ملک ایران نے کہا ہے کہ وہ ایسے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکتا، جس کی صدارت وہ ملک کر رہا ہو جو ’’ایرانی عوام پر حملے کرتا ہے اور مسلسل دھمکیاں دیتا اور پابندیاں لگاتا ہے۔‘‘
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے جون میں امریکہ کی جانب سے ایک غیر قانونی اور مجرمانہ حملہ برداشت کیا، جس میں اسرائیل نے بھی امریکی تعاون سے کردار ادا کیا۔ ایسے حالات میں ہم اس اجلاس میں شرکت نہیں کر سکتے، جس کی صدارت ایسے کسی فریق کے ہاتھ میں ہو۔‘‘
شرم الشیخ میں منعقدہ سربراہی اجلاس میں صدر ٹرمپ، مصر، قطر اور ترکی کے رہنماؤں نے غزہ پٹی میں جنگ بندی کے لیے ایک اعلامیے پر دستخط کیے، تاہم اس میں اسرائیل، فلسطینیوں یا غزہ کے مستقبل کے حوالے سے کوئی واضح تفصیلات شامل نہیں تھیں۔
ایران نے صدر ٹرمپ کی امن پیشکش کو ’منافقانہ‘ قرار دے دیا
ایرانی وزارت خارجہ نے منگل 14 اکتوبر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کل پیر کو اسرائیلی پارلیمنٹ میں ایران کے ساتھ مذاکرات کی خواہش کے اظہار کو ’’منافقانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تنقید کی ہے۔ اس وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ کی امن کی پیشکش ان کے ایران کے خلاف ’’مجرمانہ اور معاندانہ رویے‘‘ سے متصادم ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’مسٹر ٹرمپ یا تو امن کے صدر ہو سکتے ہیں یا جنگ کے، لیکن دونوں کے نہیں۔‘‘
یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ وہ ایران کے ساتھ ایک معاہدے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم ایران نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی حالیہ کارروائیاں بالخصوص جون میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے، امن کی کوششوں سے متصادم ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ تہران ہمیشہ ’’احترام اور باہمی مفاد پر مبنی سفارتی روابط‘‘ کے لیے تیار رہا ہے لیکن واشنگٹن کی موجودہ پالیسیوں نے مذاکرات کے دروازے بند کر دیے ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی رواں سال کے آغاز پر امریکہ کی جانب سے ایرانی یورینیم کی افزودگی روک دینے کے مطالبے کو ’’غیر معقول اور توہین آمیز‘‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ ایران سے ’’فرمانبرداری‘‘ چاہتا ہے، جو ناقابل قبول ہے۔
مغربی ممالک ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں کا الزام لگاتے ہیں لیکن ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن شہری مقاصد کے لیے ہے۔
روسی حملے میں یوکرین کا ہسپتال متاثر، زیلنسکی کی ٹرمپ سے لانگ رینج میزائلوں کے لیے درخواست
روسی افواج نے یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف پر رات کے وقت طاقتور گلائیڈ بموں اور ڈرونز سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں شہر کا مرکزی ہسپتال نشانہ بنا اور کم از کم سات افراد زخمی ہو گئے۔ بتایا گیا ہے کہ اس حملے کے بعد ہسپتال میں زیر علاج پچاس مریضوں کو فوری طور پر وہاں سے منتقل کرنا پڑا۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ اس حملے کا اصل ہدف توانائی کے بنیادی ڈھانچے تھے۔ انہوں نے ٹیلیگرام پر لکھا، ’’ہر دن، ہر رات، روس بجلی گھروں، پاور لائنز اور قدرتی گیس کی تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے۔‘‘
کییف حکومت کا کہنا ہے کہ ان تازہ روسی حملوں کا مقصد یوکرین کی توانائی سپلائی کو مفلوج کرنا ہے تاکہ سردیوں میں شہریوں کو ہیٹنگ اور پانی سے محروم کیا جا سکے۔ صدر زیلنسکی نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ یوکرین کو مزید فضائی دفاعی نظام فراہم کرے تاکہ روس کے طویل فاصلے سے کیے جانے والے حملوں کو روکا جا سکے۔
تاہم جرمنی کے کیل انسٹیٹیوٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں یوکرین کو ملنے والی فوجی امداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ جولائی اور اگست میں امداد میں 43 فیصد کمی دیکھی گئی۔
یوکرینی صدر زیلنسکی جمعے کو واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے، جہاں وہ یوکرین کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی میزائلوں، خاص طور پر ٹوما ہاک کروز میزائلوں کی فراہمی پر بات کریں گے۔
امریکہ کے صدر ٹرمپ پہلے ہی ماسکو کو خبردار کر چکے ہیں کہ وہ یوکرین کو ٹوما ہاک میزائل فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ میزائل یوکرین کے موجودہ ہتھیاروں کے مقابلے میں زیادہ طاقتور اور دور مار ہیں اور ماسکو سمیت روس میں بہت سے اندرونی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسرائیل اور حماس دونوں ہی تقریب میں شریک نہ ہوئے
اس تاریخی تقریب میں دنیا کے 20 سے زائد ممالک کے رہنما شریک ہوئے لیکن نہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو شریک ہوئے اور نہ ہی حماس کے نمائندے ۔ دونوں فریقوں نے امن مذاکرات میں شرکت کے لیے قطری اور مصری ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ کردار ادا کیا لیکن رسمی تقریب سے دور رہے۔
حماس کے ترجمان حسام بدران نے واضح کیا کہ تنظیم کے لیے امن منصوبے میں ’’غزہ چھوڑنے‘‘ کی تجویز ناقابل قبول ہے اور اسی لیے وہ اس معاہدے کی تقریب میں شریک نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاہدہ ناکام ہوا تو حماس دوبارہ جنگ کے لیے تیار ہے۔ ساتھ ہی حماس نے ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کو بھی مسترد کر دیا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے بھی تقریب میں شرکت نہیں کی گئی حالانکہ اسرائیلی حکومت نے قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے معاہدے کی منظوری تو دے دی لیکن اسرائیل کی طرف سے سیاسی سطح پر شرم الشیخ میں تقریب سے دوری اختیار کی گئی۔
اس صورتحال نے قیام امن کی کوششوں پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اگرچہ قیدیوں اور یرغمالیوں کا تبادلہ مکمل ہو چکا ہے اور عالمی برادری نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے لیکن دونوں مرکزی فریقوں کی غیر موجودگی سے معاہدے کی پائیداری سے متعلق خدشات جنم لے رہے ہیں۔
تاہم صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ معاہدہ ’’برقرار رہے گا‘‘ اور خطے میں امن و استحکام کی بنیاد بنے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک اسرائیل اور حماس براہ راست اور مکمل طور پر اس عمل میں شامل نہیں ہوتے،امن کی راہ ہموار ہونا مشکل رہے گا۔
سعد رضوی سمیت تحریک لبیک پاکستان کی قیادت کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج
تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی، ان کے بھائی انس رضوی اور جماعت کے دیگر مرکزی رہنماؤں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ یہ مقدمات پاکستان کے صوبے پنجاب کے مختلف اضلاع میں حالیہ پرتشدد مظاہروں کے بعد درج کیے گئے، جن میں پولیس اہلکاروں پر حملے کرنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کے الزامات شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کے مظاہرین نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکیں بلاک کیں، ٹائر جلائے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر پٹرول بموں اور آتشیں اسلحے سے حملے کیے۔ لاہور کے قریب مریدکے میں مظاہرین کی فائرنگ سے ایس ایچ او فیکٹری ایریا ہلاک جبکہ درجنوں اہلکار زخمی ہوئے۔
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سعد رضوی نے اسٹیج سے براہ راست فائرنگ کی، جس سے ایس ایچ او شدید زخمی ہوئے اور طبی امداد دیے جانے کے باوجود جانبر نہ ہو سکے۔
راولپنڈی، شیخوپورہ اور دیگر شہروں میں بھی ٹی ایل پی کے کارکنوں کے خلاف دہشت گردی، اقدام قتل، مجرمانہ سازش اور عوام کو اکسانے جیسے سنگین الزامات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ پولیس نے حافظ سعد رضوی، قاری بلال، قاری ابرار، قاری دانش سمیت متعدد افراد کو نامزد کیا ہے جبکہ درجنوں نامعلوم افراد کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے۔
شیخوپورہ کے تھانہ فیروز والا میں درج مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات 6 اور 7 شامل کی گئی ہیں، جن کے تحت جرم ثابت ہونے پر سزائے موت یا عمر قید ہو سکتی ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق مظاہرین نے 40 سے زائد سرکاری و نجی گاڑیوں کو نذر آتش کیا، جن میں ایک یونیورسٹی بس بھی شامل تھی جبکہ متعدد دکانوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔
پولیس نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے اور متعدد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
زندہ یرغمالی واپس، مگر لاشوں کی واپسی میں تاخیر پر اسرائیل میں غم و غصہ
اسرائیل نے غزہ پٹی سے 20 زندہ یرغمالیوں کی واپسی کا خیرمقدم کیا ہے لیکن اس بات پر شدید مایوسی کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ حماس کے قبضے میں ہلاک ہو جانے والے 28 اسرائیلی یرغمالیوں میں سے اب تک صرف چار کی جسمانی باقیات واپس کی گئی ہیں۔ منگل کے روز اسرائیلی حکام نے اس صورتحال پر ’’صدمے اور غصے‘‘ کا اظہار کیا۔
عسکریت پسند فلسطینی تنظیم حماس سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ ہلاک ہو جانے والے یرغمالیوں کی جسمانی باقیات پیر تک واپس کر دے گی۔ تاہم حماس کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ اس تنظیم سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ غزہ پٹی میں شدید تباہی کے باعث باقی ماندہ لاشوں کی بازیابی کے لیے مزید وقت اور آلات درکار ہیں۔
تاہم اسرائیلی حکومت ان دعووں پر یقین نہیں کرتی۔ مقامی میڈیا رپورٹوں کے مطابق اسرائیل کو شبہ ہے کہ حماس باقی یرغمالیوں کی جسمانی باقیات کو مزید مذاکرات کے لیے بطور دباؤ استعمال کر رہی ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے حماس پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس کے ’’نتائج‘‘ برآمد ہوں گے۔
دریں اثنا ’’ہوسٹیجز اینڈ مسنگ فیملیز فورم‘‘ نے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک تمام لاشیں واپس نہیں کی جاتیں، امن معاہدے کو فوری طور پر معطل کر دیا جائے۔ اس فورم سے وابستہ ایک یرغمالی کی والدہ نے اس مذاکراتی عمل کو ’’دھوکہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے تمام لاشوں کی واپسی کے لیے کوئی حتمی ڈیڈ لائن مقرر ہی نہیں کی۔
غزہ امن معاہدہ: بائیڈن اور کلنٹن کی ٹرمپ کو غیر معمولی داد
غزہ پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے پر امریکہ کے سابق ڈیموکریٹ صدور جو بائیڈن اور بل کلنٹن نے ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کو سراہا ہے۔ امریکی سیاست میں اس ستائش کو ایک نایاب پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دونوں سابق صدور نے صدر ٹرمپ کی قیادت میں ہونے والے اس امن معاہدے کو خطے میں استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ جو بائیڈن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’میں صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے جنگ بندی کے معاہدے کو کامیابی سے مکمل کرایا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور عالمی شراکت داروں کی مدد سے مشرق وسطیٰ اب ’’امن کی راہ پر گامزن ہے۔‘‘
بائیڈن نے اپنی سابقہ انتظامیہ کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ ان کی حکومت نے ’’یرغمالیوں کی واپسی، فلسطینی شہریوں تک امداد کی فراہمی اور جنگ کے خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔‘‘ غزہ کی جنگ اکتوبر 2023 میں بائیڈن کے دور صدارت میں شروع ہوئی تھی۔
سابق صدر بل کلنٹن نے بھی صدر ٹرمپ کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’صدر ٹرمپ، ان کی انتظامیہ، قطر اور دیگر علاقائی فریق اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں اس معاہدے تک پہنچنے کے لیے سب کو شامل رکھنے پر سراہا جائے۔‘‘
کلنٹن نےاسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی حمایت کے ساتھ ’’اس نازک لمحے کو مستقل امن میں تبدیل کریں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں فریق مل کر کام کریں تو یہ ممکن ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کلنٹن ماضی میں صدر ٹرمپ کے سخت ناقد رہے ہیں اور ان پر الزام لگاتے رہے کہ وہ ایسی پالیسیاں اپناتے ہیں، جو امریکی عوام کی فلاح کے بجائے ذاتی مفادات پر مبنی ہوتی ہیں۔ اس تناظر میں یہ تعریف ایک غیر معمولی سیاسی لمحہ ہے، جو اس معاہدے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
غزہ میں امن ڈیل کا پہلا مرحلہ مکمل
غزہ میں دو سالہ جنگ کے بعد بالآخر امن معاہدے کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ فلسطینی تنظیم حماس نے تمام 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا ہے جبکہ اسرائیل نے تقریباً 2,000 فلسطینی قیدیوں کو آزاد کیا ہے، جن میں 250 عمر قید کے سزا یافتہ افراد بھی شامل ہیں۔ اس تبادلے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں طے پانے والےامن منصوبے کا پہلا عملی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس موقع کو ’’مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک شاندار دن‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ معاہدہ دیرپا امن کی بنیاد بنے گا۔
اس تاریخی تقریب میں دنیا کے 20 سے زائد ممالک کے رہنما شریک ہوئے، جنہوں نے غزہ میں ’’جامع اور پائیدار امن‘‘ کے قیام کے عزم کا اظہار کیا۔
تاہم امن کی راہ میں کئی رکاوٹیں ابھی باقی ہیں۔ حماس نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ اسرائیل نے غزہ سے مکمل انخلا کی کوئی ضمانت نہیں دی۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ایک ریاست یا دو ریاستی حل کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، جس سے مستقبل کے سیاسی منظرنامے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ ’’ریاستی حل‘‘ پر بات نہیں کر رہے بلکہ ’’غزہ کی تعمیر نو‘‘ پر توجہ مرکوز ہے۔
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے اس معاہدے کو انسانی تاریخ کے ایک تکلیف دہ باب کا اختتام قرار دیا اور کہا کہ یہ دو ریاستی حل کی راہ ہموار کرتا ہے۔ دوسری جانب حماس کے ترجمان نے مطالبہ کیا ہے کہ ثالث اسرائیل کے رویے کی نگرانی جاری رکھیں تاکہ وہ دوبارہ ’’جارحیت‘‘ کا مظاہرہ نہ کرے۔
امن معاہدے کا پہلا مرحلہ نافذ ہو چکا ہے، لیکن اگلے مراحل پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ لڑائی چھڑنے کا خدشہ موجود ہے۔ صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ جنگ بندی برقرار رہے گی اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ دنیا کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ امن برقرار رہتا ہے یا ایک اور بحران جنم لیتا ہے۔