1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

غزہ میں جنگ بندی پر عمل جاری، غیر یقینی صورتحال بھی برقرار

عاطف بلوچ اے ایف پی، ڈی پی اے، روئٹرز کے ساتھ | ادارت | مقبول ملک | کشور مصطفیٰ
وقت اشاعت 14 اکتوبر 2025آخری اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2025

غزہ پٹی میں جنگ بندی منگل کو بھی برقرار رہی تاہم امریکی حمایت یافتہ امن منصوبے کے کئی اہم پہلو اب بھی غیر واضح ہیں۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں اور یرغمالیوں کا تبادلہ جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ تھا۔

https://p.dw.com/p/51wq8
غزہ، حماس، سیز فائر
غزہ پٹی میں جنگ بندی منگل کو بھی برقرار رہی تاہم امریکی حمایت یافتہ امن منصوبے کے کئی اہم پہلو اب بھی غیر واضح ہیںتصویر: Eyad Baba/AFP/Getty Images
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  •  زندہ یرغمالی واپس، مگر لاشوں کی واپسی میں تاخیر پر اسرائیل میں غم و غصہ
  • غزہ میں امن ڈیل کا پہلا مرحلہ مکمل

  • تحریک لبیک پاکستان کی قیادت کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج

  • زیلنسکی کی ٹرمپ سے لانگ رینج میزائلوں کے لیے درخواست

  • غزہ امن معاہدہ: بائیڈن اور کلنٹن کی ٹرمپ کی ستائس 

  • حکام کا کہنا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • اسرائیل اور حماس دونوں ہی تقریب میں شریک نہ ہوئے
     

غزہ پٹی کی آئندہ حکمرانی بھی ایک بڑا سوال ہے سیکشن پر جائیں
14 اکتوبر 2025

غزہ پٹی کی آئندہ حکمرانی بھی ایک بڑا سوال ہے

غزہ، حماس
دو سالہ اس مسلح تنازعے کے بعد غزہ پٹی کھنڈرات کا منظر پیش کرتی ہےتصویر: Ebrahim Hajjaj/REUTERS

غزہ پٹی میں جنگ بندی منگل کو بھی برقرار رہی تاہم امریکی حمایت یافتہ امن منصوبے کےکئی اہم پہلو اب بھی غیر واضح ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ حماس کب ان 24 اسرائیلی یرغمالیوں کی جسمانی باقیات واپس کرے گی، جنہیں غزہ میں ہلاک شدہ تصور کیا جاتا ہے۔ اسرائیل نے اس معاملے میں فوری پیش رفت کا مطالبہ کیا ہے جبکہ حماس کی جانب سے کوئی واضح ٹائم لائن یا بیان سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب اسرائیل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کیا جائے تاکہ غزہ میں مستقبل میں ایک پائیدار اور محفوظ نظام قائم کیا جا سکے۔ لیکن حماس کی جانب سے اس مطالبے پر مزاحمت جاری ہے اور اس فلسطینی عسکریت پسند تنظیم نے اب تک ہتھیار ڈالنے سے انکار کر رکھا ہے۔

غزہ میں قیام امن، اصل امتحان ابھی باقی ہے

غزہ پٹی کی آئندہ حکمرانی بھی ایک بڑا سوال بنی ہوئی ہے۔ جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں مختلف امکانات زیرغور ہیں، جن میں عبوری حکومت، بین الاقوامی نگرانی یا مقامی قیادت کی تشکیل شامل ہو سکتی ہیں۔اس تناظر میں ابھی تک کوئی واضح خاکہ سامنے نہیں آ سکا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں طے پانے والے امن منصوبے کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے لیکن زمینی حقائق اور فریقین کے درمیان عدم اعتماد اس عمل کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک تمام فریق مکمل طور پر اس عمل میں شامل نہیں ہوتے،امن کی راہ کا ہموار ہونا مشکل ہی رہے گا۔

https://p.dw.com/p/51ywl
حماس غزہ پٹی کے شہروں پر گرفت پھر مضبوط کرنے کی کوشش میں سیکشن پر جائیں
14 اکتوبر 2025

حماس غزہ پٹی کے شہروں پر گرفت پھر مضبوط کرنے کی کوشش میں

غزہ ، حماس
حماس کے ایک خصوصی سکیورٹی یونٹ نے مسلح قبائلی گروہوں اور مبینہ اسرائیل نواز گینگز کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیںتصویر: Jehad Alshrafi/AP Photo/picture alliance

امریکی حمایت یافتہ امن معاہدے کے تحت حماس کو غیر مسلح کرنے کی عالمی کوششوں کے باوجود منگل کے روز غزہ پٹی میں حماس کی سکیورٹی فورسز نے اس تباہ حال خطے کے شہروں پر اپنی گرفت دوبارہ مضبوط کرنے کی کوششیں کیں۔

اسرائیلی جیلوں سے رہا ہونے والے قیدیوں کی غزہ  پٹی میں آمد پر ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے حماس کی عزالدین القسام بریگیڈز نے سلامتی کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری سنبھال لی جبکہ شمالی غزہ پٹی میں اسرائیلی افواج کے انخلا کے بعد حماس کے نقاب پوش پولیس اہلکاروں نے دوبارہ گشت کرنا شروع کر دی۔

کیا اسرائیل کے لیے حماس کو مکمل تباہ کرنا ممکن ہے؟

ادھر حماس کے ایک خصوصی سکیورٹی یونٹ نے مسلح قبائلی گروہوں اور مبینہ اسرائیل نواز گینگز کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ مقامی شہری یحییٰ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’’شدید جھڑپیں شروع ہو چکی ہیں اور اس وقت بھی جاری ہیں، حماس کا مقصد مبینہ مخبروں کا خاتمہ کرنا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ شرم الشیخ میں ہونے والے حالیہ امن اجلاس میں امریکہ، مصر، قطر اور ترکی نے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے، جس میں غزہ میں حماس کے مستقبل کے کردار کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

تاہم زمینی حقائق اس امن کوشش کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں، جہاں حماس نہ صرف پھر سکیورٹی کنٹرول سنبھال رہی ہے بلکہ داخلی مخالفین کے خلاف بھی کارروائیاں کر رہی ہے۔
 

https://p.dw.com/p/51yiI
غزہ پٹی میں حماس اور مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپوں کی خبریں، یورپی یونین کو تشویش سیکشن پر جائیں
14 اکتوبر 2025

غزہ پٹی میں حماس اور مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپوں کی خبریں، یورپی یونین کو تشویش

    کایا کالاس
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس تصویر: Nicolas Tucat/AFP

یورپی یونین نے غزہ پٹی میں حماس اور مسلح قبائلی گروہوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مبینہ پرتشدد جھڑپوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس کے ترجمان نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا، ’’ہم ان اطلاعات پر فکر مند ہیں، جن میں غزہ پٹی میں حماس اور مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں کی خبر دی گئی ہے۔‘‘

ابتدائی اطلاعات کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ میں حماس کے ارکان اور مقامی مسلح قبائل کے درمیان تصادم جاری ہے، جس میں ٹارگٹ کلنگ اور انتقامی کارروائیوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

کالاس کے ترجمان نے کہا، ’’ہم تمام فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں، جو جنگ بندی کو خطرے میں ڈال سکتے ہوں۔‘‘

یورپی یونین نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ غزہ کے مستقبل میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔ ترجمان نے مزید کہا، ’’ہم اپنے موقف کو دہراتے ہیں کہ حماس کو غیر مسلح ہونا چاہیے اور غزہ کی حکمرانی میں اس کا کوئی مستقبل نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

غزہ امن منصوبے پر دستخطوں کے بعد بھی وہاں سکیورٹی صورتحال انتہائی نازک بنی ہوئی ہے۔ یورپی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر غزہ میں طاقت کا خلا پیدا ہوا یا خانہ جنگی کی صورت حال بنی، تو حالات لیبیا یا صومالیہ جیسے ہو سکتے ہیں۔ ان ممالک میں جنگجو گروہوں نے ریاستی نظام کو مفلوج کر رکھا ہے۔
 

https://p.dw.com/p/51yHi
ایران نے غزہ امن سمٹ میں شرکت کیوں نہ کی؟ سیکشن پر جائیں
14 اکتوبر 2025

ایران نے غزہ امن سمٹ میں شرکت کیوں نہ کی؟

اسرائیل، غزہ ، ایران
اصلاحات پسند اخبار ’’شرق‘‘ کا کہنا ہے کہ امن اجلاس میں شرکت نہ کرنا ’’غیر فعالیت، سفارتی بے بصیرتی اور موقع گنوانے‘‘ کے مترادف ہےتصویر: Doaa Albaz/Anadolu/picture alliance

ایران نے منگل کے روز اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ اس نے غزہ امن سمٹ میں شرکت نہ کر کے ایک سفارتی موقع ضائع کر دیا ہے۔ یہ سمٹ کل پیر کو مصر کے شہر شرم الشیخ میں منعقد ہوئی تھی، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مرکزی کردار ادا کیا۔

ایران میں مقامی میڈیا نے البتہ اس اجلاس میں شرکت کے لیے مصری دعوت کو مسترد کرنے پر تہران حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اصلاحات پسند اخبار ’’شرق‘‘ نے منگل کے روز لکھا کہ اجلاس میں شرکت نہ کرنا ’’غیر فعالیت، سفارتی بے بصیرتی اور موقع گنوانے‘‘ کے مترادف ہے۔

حماس کے اتحادی ملک ایران نے کہا ہے کہ وہ ایسے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکتا، جس کی صدارت وہ ملک کر رہا ہو جو ’’ایرانی عوام پر حملے کرتا ہے اور مسلسل دھمکیاں دیتا اور پابندیاں لگاتا ہے۔‘‘

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے جون میں امریکہ کی جانب سے ایک غیر قانونی اور مجرمانہ حملہ برداشت کیا، جس میں اسرائیل نے بھی امریکی تعاون سے کردار ادا کیا۔ ایسے حالات میں ہم اس اجلاس میں شرکت نہیں کر سکتے، جس کی صدارت ایسے کسی فریق کے ہاتھ میں ہو۔‘‘
 
شرم الشیخ میں منعقدہ سربراہی اجلاس میں صدر ٹرمپ، مصر، قطر اور ترکی کے رہنماؤں نے غزہ پٹی میں جنگ بندی کے لیے ایک اعلامیے پر دستخط کیے، تاہم اس میں اسرائیل، فلسطینیوں یا غزہ کے مستقبل کے حوالے سے کوئی واضح تفصیلات شامل نہیں تھیں۔
 

https://p.dw.com/p/51yXa
ایران نے صدر ٹرمپ کی امن پیشکش کو ’منافقانہ‘ قرار دے دیا سیکشن پر جائیں
14 اکتوبر 2025

ایران نے صدر ٹرمپ کی امن پیشکش کو ’منافقانہ‘ قرار دے دیا

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بقول صدر ٹرمپ یا تو امن کے صدر ہو سکتے ہیں یا جنگ کے، لیکن دونوں کے نہیںتصویر: Farshid-Motahari Bina/dpa/picture alliance

ایرانی وزارت خارجہ نے منگل 14 اکتوبر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کل پیر کو اسرائیلی پارلیمنٹ میں ایران کے ساتھ مذاکرات کی خواہش کے اظہار کو ’’منافقانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تنقید کی ہے۔ اس وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ کی امن کی پیشکش ان کے ایران کے خلاف ’’مجرمانہ اور معاندانہ رویے‘‘ سے متصادم ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ایکس پر لکھا، ’’مسٹر ٹرمپ یا تو امن کے صدر ہو سکتے ہیں یا جنگ کے، لیکن دونوں کے نہیں۔‘‘

یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ وہ ایران کے ساتھ ایک معاہدے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم ایران نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی حالیہ کارروائیاں بالخصوص جون میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے، امن کی کوششوں سے متصادم ہیں۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ تہران ہمیشہ ’’احترام اور باہمی مفاد پر مبنی سفارتی روابط‘‘ کے لیے تیار رہا ہے لیکن واشنگٹن کی موجودہ پالیسیوں نے مذاکرات کے دروازے بند کر دیے ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی رواں سال کے آغاز پر امریکہ کی جانب سے ایرانی یورینیم کی افزودگی روک دینے کے مطالبے کو ’’غیر معقول اور توہین آمیز‘‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ ایران سے ’’فرمانبرداری‘‘ چاہتا ہے، جو ناقابل قبول ہے۔

مغربی ممالک ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں کا الزام لگاتے ہیں لیکن ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن شہری مقاصد کے لیے ہے۔
 

https://p.dw.com/p/51y8N
روسی حملے میں یوکرین کا ہسپتال متاثر، زیلنسکی کی ٹرمپ سے لانگ رینج میزائلوں کے لیے درخواست سیکشن پر جائیں
14 اکتوبر 2025

روسی حملے میں یوکرین کا ہسپتال متاثر، زیلنسکی کی ٹرمپ سے لانگ رینج میزائلوں کے لیے درخواست

یوکرین پر روسی حملے، کییف
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ اس حملے کا اصل ہدف توانائی کے بنیادی ڈھانچے تھےتصویر: Odesa Region Administration/AP Photo/picture alliance

 روسی افواج نے یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف پر رات کے وقت طاقتور گلائیڈ بموں اور ڈرونز سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں شہر کا مرکزی ہسپتال نشانہ بنا اور کم از کم سات افراد زخمی ہو گئے۔ بتایا گیا ہے کہ اس حملے کے بعد  ہسپتال میں زیر علاج پچاس مریضوں کو فوری طور پر وہاں سے منتقل کرنا پڑا۔

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ اس حملے کا اصل ہدف توانائی کے بنیادی ڈھانچے تھے۔ انہوں نے ٹیلیگرام پر لکھا، ’’ہر دن، ہر رات، روس بجلی گھروں، پاور لائنز اور قدرتی گیس کی تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے۔‘‘

کییف حکومت کا کہنا ہے کہ ان تازہ روسی حملوں کا مقصد یوکرین کی توانائی سپلائی کو مفلوج کرنا ہے تاکہ سردیوں میں شہریوں کو ہیٹنگ اور پانی سے محروم کیا جا سکے۔ صدر زیلنسکی نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ یوکرین کو مزید فضائی دفاعی نظام فراہم کرے تاکہ روس کے طویل فاصلے سے کیے جانے والے حملوں کو روکا جا سکے۔  

اڑتے جہاز میں سے روسی ڈرون طیاروں کو نشانہ بنانے والے یوکرینی فوجی

تاہم جرمنی کے کیل انسٹیٹیوٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں یوکرین کو ملنے والی فوجی امداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ جولائی اور اگست میں امداد میں 43 فیصد کمی دیکھی گئی۔

یوکرینی صدر زیلنسکی جمعے کو واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے، جہاں وہ یوکرین کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی میزائلوں، خاص طور پر ٹوما ہاک کروز میزائلوں کی فراہمی پر بات کریں گے۔

امریکہ کے صدر ٹرمپ پہلے ہی ماسکو کو خبردار کر چکے ہیں کہ وہ یوکرین کو ٹوما ہاک میزائل فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ میزائل یوکرین کے موجودہ ہتھیاروں کے مقابلے میں زیادہ طاقتور اور دور مار ہیں اور ماسکو سمیت روس میں بہت سے اندرونی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
 

https://p.dw.com/p/51yEW
اسرائیل اور حماس دونوں ہی تقریب میں شریک نہ ہوئے سیکشن پر جائیں
14 اکتوبر 2025

اسرائیل اور حماس دونوں ہی تقریب میں شریک نہ ہوئے

Ägypten Scharm el-Scheich 2025 | Donald Trump vor dem Gruppenfoto beim Gaza-Friedensgipfel
تصویر: Yoan Valat/REUTERS

 اس تاریخی تقریب میں دنیا کے 20 سے زائد ممالک کے رہنما شریک ہوئے لیکن نہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو شریک ہوئے اور نہ ہی حماس کے نمائندے ۔ دونوں فریقوں نے امن مذاکرات میں شرکت کے لیے قطری اور مصری ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ کردار ادا کیا لیکن رسمی تقریب سے دور رہے۔ 

حماس کے ترجمان حسام بدران نے واضح کیا کہ تنظیم کے لیے امن منصوبے میں ’’غزہ چھوڑنے‘‘ کی تجویز ناقابل قبول ہے اور اسی لیے وہ اس معاہدے کی تقریب میں شریک نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاہدہ ناکام ہوا تو حماس دوبارہ جنگ کے لیے تیار ہے۔ ساتھ ہی حماس نے ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

غزہ میں قیام امن، اصل امتحان ابھی باقی ہے

اسرائیل کی جانب سے بھی تقریب میں شرکت نہیں کی گئی حالانکہ اسرائیلی حکومت نے قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے معاہدے کی منظوری تو دے دی لیکن اسرائیل کی طرف سے سیاسی سطح پر شرم الشیخ میں تقریب سے دوری اختیار کی گئی۔

اس صورتحال نے قیام امن کی کوششوں پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اگرچہ قیدیوں اور یرغمالیوں کا تبادلہ مکمل ہو چکا ہے اور عالمی برادری نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے لیکن دونوں مرکزی فریقوں کی غیر موجودگی سے معاہدے کی پائیداری سے متعلق خدشات جنم لے رہے ہیں۔

تاہم صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ معاہدہ ’’برقرار رہے گا‘‘ اور خطے میں امن و استحکام کی بنیاد بنے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک اسرائیل اور حماس براہ راست اور مکمل طور پر اس عمل میں شامل نہیں ہوتے،امن کی راہ ہموار ہونا مشکل رہے گا۔

https://p.dw.com/p/51wqq
سعد رضوی سمیت تحریک لبیک پاکستان کی قیادت کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج سیکشن پر جائیں
14 اکتوبر 2025

سعد رضوی سمیت تحریک لبیک پاکستان کی قیادت کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج

تحریک لبیک پاکستان
حکام کا کہنا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گیتصویر: Arif Ali/AFP

 تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی، ان کے بھائی انس رضوی اور جماعت کے دیگر مرکزی رہنماؤں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ یہ مقدمات پاکستان کے صوبے پنجاب کے مختلف اضلاع میں حالیہ پرتشدد مظاہروں کے بعد درج کیے گئے، جن میں پولیس اہلکاروں پر حملے کرنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کے الزامات شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کے مظاہرین نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکیں بلاک کیں، ٹائر جلائے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر پٹرول بموں اور آتشیں اسلحے سے حملے کیے۔ لاہور کے قریب مریدکے میں مظاہرین کی فائرنگ سے ایس ایچ او فیکٹری ایریا ہلاک جبکہ درجنوں اہلکار زخمی ہوئے۔
 
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سعد رضوی نے اسٹیج سے براہ راست فائرنگ کی، جس سے ایس ایچ او شدید زخمی ہوئے اور طبی امداد دیے جانے کے باوجود جانبر نہ ہو سکے۔

تحریک لبیک پاکستان
پولیس ترجمان کے مطابق مظاہرین نے 40 سے زائد سرکاری و نجی گاڑیوں کو نذر آتش کیاتصویر: Arif Ali/AFP

راولپنڈی، شیخوپورہ اور دیگر شہروں میں بھی ٹی ایل پی کے کارکنوں کے خلاف دہشت گردی، اقدام قتل، مجرمانہ سازش اور عوام کو اکسانے جیسے سنگین الزامات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ پولیس نے حافظ سعد رضوی، قاری بلال، قاری ابرار، قاری دانش سمیت متعدد افراد کو نامزد کیا ہے جبکہ درجنوں نامعلوم افراد کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے۔

شیخوپورہ کے تھانہ فیروز والا میں درج مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات 6 اور 7 شامل کی گئی ہیں، جن کے تحت جرم ثابت ہونے پر سزائے موت یا عمر قید ہو سکتی ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق مظاہرین نے 40 سے زائد سرکاری و نجی گاڑیوں کو نذر آتش کیا، جن میں ایک یونیورسٹی بس بھی شامل تھی جبکہ متعدد دکانوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔

پولیس نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے اور متعدد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
 

https://p.dw.com/p/51xiJ
زندہ یرغمالی واپس، مگر لاشوں کی واپسی میں تاخیر پر اسرائیل میں غم و غصہ سیکشن پر جائیں
14 اکتوبر 2025

زندہ یرغمالی واپس، مگر لاشوں کی واپسی میں تاخیر پر اسرائیل میں غم و غصہ

اسرائیل، حماس، یرغمالی
عسکریت پسند فلسطینی تنظیم حماس سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ  ہلاک ہو جانے والے یرغمالیوں کی جسمانی باقیات پیر تک  واپس کر دے گیتصویر: Israel Defense Forces/REUTERS

 اسرائیل نے غزہ پٹی سے 20 زندہ یرغمالیوں کی واپسی کا خیرمقدم کیا ہے لیکن اس بات پر شدید مایوسی کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ حماس کے قبضے میں ہلاک ہو جانے والے 28 اسرائیلی یرغمالیوں میں سے اب تک صرف چار کی جسمانی باقیات واپس کی گئی ہیں۔ منگل کے روز اسرائیلی حکام نے اس صورتحال پر ’’صدمے اور غصے‘‘ کا اظہار کیا۔

عسکریت پسند فلسطینی تنظیم حماس سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ  ہلاک ہو جانے والے یرغمالیوں کی جسمانی باقیات پیر تک  واپس کر دے گی۔ تاہم حماس کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ اس تنظیم سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ غزہ پٹی میں شدید تباہی کے باعث باقی ماندہ لاشوں کی بازیابی کے لیے مزید وقت اور آلات درکار ہیں۔

سات اکتوبر کو ہوا کیا؟ جس کے بعد اسرائیلی حملے شروع ہوئے!

تاہم اسرائیلی حکومت ان دعووں پر یقین نہیں کرتی۔ مقامی میڈیا رپورٹوں کے مطابق اسرائیل کو شبہ ہے کہ حماس باقی یرغمالیوں کی جسمانی باقیات کو مزید مذاکرات کے لیے بطور دباؤ استعمال کر رہی ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے حماس پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس کے ’’نتائج‘‘ برآمد ہوں گے۔

دریں اثنا ’’ہوسٹیجز اینڈ مسنگ فیملیز فورم‘‘ نے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک تمام لاشیں واپس نہیں کی جاتیں، امن معاہدے کو فوری طور پر معطل کر دیا جائے۔ اس فورم سے وابستہ ایک یرغمالی کی والدہ نے اس مذاکراتی عمل کو ’’دھوکہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے تمام لاشوں کی واپسی کے لیے کوئی حتمی ڈیڈ لائن مقرر ہی نہیں کی۔

https://p.dw.com/p/51xa4
غزہ امن معاہدہ: بائیڈن اور کلنٹن کی ٹرمپ کو غیر معمولی داد سیکشن پر جائیں
14 اکتوبر 2025

غزہ امن معاہدہ: بائیڈن اور کلنٹن کی ٹرمپ کو غیر معمولی داد

تل ابیب
اس امن ڈیل پر اسرائیل میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئیتصویر: Oded Balilty/AP Photo/picture alliance

 غزہ پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے پر امریکہ کے سابق ڈیموکریٹ صدور جو بائیڈن اور بل کلنٹن نے ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کو سراہا ہے۔ امریکی سیاست میں اس ستائش کو ایک نایاب پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ 

دونوں سابق صدور نے صدر ٹرمپ کی قیادت میں ہونے والے اس امن معاہدے کو خطے میں استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ جو بائیڈن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’میں صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے جنگ بندی کے معاہدے کو کامیابی سے مکمل کرایا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور عالمی شراکت داروں کی مدد سے مشرق وسطیٰ اب ’’امن کی راہ پر گامزن ہے۔‘‘

بائیڈن نے اپنی سابقہ انتظامیہ کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ ان کی حکومت نے ’’یرغمالیوں کی واپسی، فلسطینی شہریوں تک امداد کی فراہمی اور جنگ کے خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔‘‘ غزہ کی جنگ اکتوبر 2023 میں بائیڈن کے دور صدارت میں شروع ہوئی تھی۔

غزہ میں امن کی بحالی کی طرف پہلا قدم

سابق صدر بل کلنٹن نے بھی صدر ٹرمپ کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’صدر ٹرمپ، ان کی انتظامیہ، قطر اور دیگر علاقائی فریق اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں اس معاہدے تک پہنچنے کے لیے سب کو شامل رکھنے پر سراہا جائے۔‘‘

کلنٹن نےاسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی حمایت کے ساتھ ’’اس نازک لمحے کو مستقل امن میں تبدیل کریں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں فریق مل کر کام کریں تو یہ ممکن ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کلنٹن ماضی میں صدر ٹرمپ کے سخت ناقد رہے ہیں اور ان پر الزام لگاتے رہے کہ وہ ایسی پالیسیاں اپناتے ہیں، جو امریکی عوام کی فلاح کے بجائے ذاتی مفادات پر مبنی ہوتی ہیں۔ اس تناظر میں یہ تعریف ایک غیر معمولی سیاسی لمحہ ہے، جو اس معاہدے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
 

https://p.dw.com/p/51x2o
غزہ میں امن ڈیل کا پہلا مرحلہ مکمل سیکشن پر جائیں
14 اکتوبر 2025

غزہ میں امن ڈیل کا پہلا مرحلہ مکمل

امریکی صدر
غزہ میں دو سالہ جنگ کے بعد بالآخر امن معاہدے کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ تصویر: Michael Kappeler/dpa/picture alliance

غزہ میں دو سالہ جنگ کے بعد بالآخر امن معاہدے کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ فلسطینی تنظیم حماس نے تمام 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا ہے جبکہ اسرائیل نے تقریباً 2,000 فلسطینی قیدیوں کو آزاد کیا ہے، جن میں 250 عمر قید کے سزا یافتہ افراد بھی شامل ہیں۔ اس تبادلے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں طے پانے والےامن منصوبے کا پہلا عملی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
 
صدر ٹرمپ نے اس موقع کو ’’مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک شاندار دن‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ معاہدہ دیرپا امن کی بنیاد بنے گا۔

اس تاریخی تقریب میں دنیا کے 20 سے زائد ممالک کے رہنما شریک ہوئے، جنہوں نے غزہ میں ’’جامع اور پائیدار امن‘‘ کے قیام کے عزم کا اظہار کیا۔

تاہم امن کی راہ میں کئی رکاوٹیں ابھی باقی ہیں۔ حماس نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ اسرائیل نے غزہ سے مکمل انخلا کی کوئی ضمانت نہیں دی۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ایک ریاست یا دو ریاستی حل کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، جس سے مستقبل کے سیاسی منظرنامے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
 
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ ’’ریاستی حل‘‘ پر بات نہیں کر رہے بلکہ ’’غزہ کی تعمیر نو‘‘ پر توجہ مرکوز ہے۔

غزہ معاہدہ کیسے ہوا اور ٹرمپ کا کردار کیا رہا؟

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے اس معاہدے کو انسانی تاریخ کے ایک تکلیف دہ باب کا اختتام قرار دیا اور کہا کہ یہ دو ریاستی حل کی راہ ہموار کرتا ہے۔ دوسری جانب  حماس کے ترجمان نے مطالبہ کیا ہے کہ ثالث اسرائیل کے رویے کی نگرانی جاری رکھیں تاکہ وہ دوبارہ ’’جارحیت‘‘ کا مظاہرہ نہ کرے۔

امن معاہدے کا پہلا مرحلہ نافذ ہو چکا ہے، لیکن اگلے مراحل پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ لڑائی چھڑنے کا خدشہ موجود ہے۔ صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ جنگ بندی برقرار رہے گی اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ دنیا کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ امن برقرار رہتا ہے یا ایک اور بحران جنم لیتا ہے۔
 

https://p.dw.com/p/51wrQ
مزید پوسٹیں
Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔