1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Pakistan Abdul Qadeer Khan Vater der pakistanischen Atombombe
تصویر: Reuters

عبد القدیر خان: پاکستانیوں کے ہیرو، مغرب کے لیے ولن

30 جون 2018

پاکستانی سائنس دان عبدالقدیر خان نے پاکستان کو جوہری طاقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اسی بنیاد پر انہیں پاکستان میں قومی ہیرو کا درجہ حاصل ہے تاہم مغرب انہیں ایٹمی راز اسمگل کرنے والا خطرناک شخص سمجھتا ہے۔

https://www.dw.com/ur/%D8%B9%D8%A8%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%AF%DB%8C%D8%B1-%D8%AE%D8%A7%D9%86-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%92-%DB%81%DB%8C%D8%B1%D9%88-%D9%85%D8%BA%D8%B1%D8%A8-%DA%A9%DB%92-%D9%84%DB%8C%DB%92-%D9%88%D9%84%D9%86/a-44469567

یکم اپریل سن 1936 کے روز بھارتی شہر بھوپال میں پیدا ہونے والے پاکستانی ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان میں جوہری ہتھیاروں کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستانی عوام کے نزدیک وہ سن 1998 میں پاکستان کے کامیاب ایٹمی تجربے کے بعد اس حوالے سے بھارت کے ہم پلہ ہو جانے اور ملکی دفاع کو ’ناقابل تسخیر‘ بنانے کی وجہ سے قومی ہیرو ہیں۔

لیکن ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو غیر قانونی طور پر جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے الزامات سامنے آنے کے بعد ان کی حیثیت بھی متنازع ہو گئی۔ انہوں نے سن 2004 میں غیر قانونی طور پر جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے جرم کا اعتراف بھی کیا جس کے بعد انہیں اسلام آباد ہی میں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔

فروری سن 2009 میں عدالتی حکم پر ان کی نظر بندی تو ختم کر دی گئی لیکن وہ اپنی نقل و حرکت کے بارے میں حکام کو مطلع کرنے کے پابند ہیں۔ خان ہمہ وقت سکیورٹی کے حصار میں رہتے ہیں۔

بھوپال سے اسلام آباد تک کا سفر

بھارتی شہر بھوپال میں پیدا ہونے والے عبدالقدیر خان کا خاندان سن 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان منتقل ہو گیا۔ سن 1960 میں کراچی یونیورسٹی سے سائنس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے جرمن دارالحکومت برلن چلے آئے۔ بعد ازاں انہوں نے ہالینڈ اور بیلجیم میں بھی تعلیم حاصل کی۔

پاکستانی جوہری پروگرام کے لیے خان نے یورینیم سینٹریفیوجیز کے بلیو پرنٹ حاصل کیے تھے جو انہوں نے ہالینڈ میں قائم یرینکو نامی کمپنی میں کام کرتے ہوئے چرائے تھے اور سن 1976 میں انہیں اپنے ساتھ پاکستان لے گئے تھے۔ اس جرم میں ہالینڈ میں ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔

بھٹو سے مشرف تک

پاکستان آمد کے بعد اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں یورینیم کی افزودگی کے منصوبے کا انچارج بنا دیا۔ اپنے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بتایا کہ ان کی ٹیم سن 1978 تک یورینیم کی افزودگی کر چکی تھی اور چھ برس بعد، یعنی سن 1984 میں پاکستان ایٹم بم کا تجربہ کرنے کے قابل ہو گیا تھا۔

زوال کا سفر

مختلف وجوہات کی بنا پر پاکستان نے ایٹمی تجربہ کرنے سے گریز کیا اور آخر کار یہ کام سن 1998 میں مکمل ہوا جس کے بعد عبدالقدیر خان قومی ہیرو کے طور پر سامنے آئے۔ لیکن ان کا زوال اس وقت شروع ہوا جب سن 2001 میں امریکی دباؤ کے بعد پرویز مشرف نے انہیں کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کی سربراہی سے ہٹا کر انہیں خصوصی مشیر بنا دیا۔ تاہم پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو بھی شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان کا ہیرو اس قدر متنازع بھی ہو جائے گا۔

اقوام متحدہ کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق واچ ڈاگ نے اسلام آباد کو ایک خط ارسال کیا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ پاکستانی جوہری سائنس دانوں نے جوہری راز فروخت کیے ہیں۔ بعد ازاں خان نے سرکاری ٹی وی پر آ کر اس جرم کا اعتراف کیا۔ اعتراف جرم کے بعد جنرل مشرف نے ان کے لیے معافی کا اعلان کر دیا۔

تاہم بعد ازاں عبدالقدیر خان اس بیان سے مکر گئے۔ سن 2008 میں انہوں نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ’’میں نے پہلی مرتبہ پاکستان کو جوہری طاقت بنا کر بچایا اور دوسری مرتبہ میں نے تمام الزام اپنے سر لے کر ملک کو بچایا۔‘‘

’بے نظیر بھٹو کے حکم پر جوہری راز دیے‘

چھ برس قبل جولائی سن 2012 میں عبدالقدیر خان نے ’تحریک تحفظ پاکستان‘ نامی ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کرتے ہوئی عملی سیاست میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ ان کی جماعت نے ملک بھر سے ایک سو گیارہ امیدوار نامزد کیے، جن میں سے کوئی بھی کامیاب نہ ہو پایا اور ایک سال بعد انہوں نے جماعت ختم کر دی۔

اسی برس انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ سابق پاکستانی وزیراعظم بینظیر بھٹو کی ہدایات پر انہوں نے دو ممالک کو ایٹمی راز مہیا کیے تھے تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام نہیں بتائے۔ بھٹو کی جماعت نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سامنے آنے والے متعدد تنازعات کے باجود عبدالقدیر خان کی عوامی مقبولیت میں بظاہر کوئی کمی نہیں آئی۔ آج بھی پاکستان میں کئی تعلیمی ادارے ان کے نام پر قائم ہیں اور ان کی تصاویر کتابوں اور اسٹیشنری پر چھاپی جاتی ہیں۔

ش ح/ع ق (اے ایف پی)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Pakistan Textilinsdustrie

پاکستان کے بڑھتے ہوئے قرضے، حالات کس قدر سنگین ہیں؟

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں