طالبان: پابندیوں کے خلاف افغان خواتین کا مظاہرہ | معاشرہ | DW | 20.09.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

طالبان: پابندیوں کے خلاف افغان خواتین کا مظاہرہ

طالبان حکومت کے خواتین ملازمین کو گھروں تک محدود رہنے کے مبینہ حکم کے خلاف خواتین نے کابل میں مظاہرے کیے۔ وہ خواتین کو بھی ملازمت اور تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

کوئی ایک درجن سے زائد خواتین نے کابل میں خواتین امور کی وزارت کے اس دفتر کے باہر اتوار کے روز مظاہرہ کیا، طالبان حکومت نے جس کا نام تبدیل کر کے اب وزارت برائے 'امر بالمعروف او نہی عن المنکر‘  یعنی'نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے‘ کی وزارت کر دیا ہے۔

خواتین نے حقوق اور انسانی حقوق کے حق میں نعرے بھی لگائے۔ ایک پلے کارڈ پر لکھا تھا،”جس سماج میں خواتین سرگرم نہ ہوں وہ ایک مردہ سماج ہے۔"

خواتین کو گھروں پر رہنے کا حکم

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق طالبان کے کابل کے عبوری میئر حمد اللہ نامونی نے اتوار کے روز کہا کہ اگلے فیصلے تک خواتین ملازمین کو گھروں میں رہنے کو کہا گیا ہے۔

حمد اللہ نامونی کا کہنا تھا کہ خواتین کو گھروں سے باہر جا کر صرف ان کاموں کی اجازت ہو گی، جو مرد نہیں کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”چند ایسے شعبے ہیں، جہاں مرد کام نہیں کر سکتے۔ ہم اپنے خواتین عملے کو وہ کمی پورا کرنے کے لیے کہیں گے، اس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔"

افغان خواتین کس طرح طالبان حکومت کے خلاف مزاحمت کر رہی ہیں

رپورٹ کے مطابق افغانستان بھر میں سرکاری اور نجی دونوں سطح پر خواتین کو گھروں میں رہنے کو کہا گیا ہے تاہم طالبان نے خواتین کے کام کرنے کے حوالے سے اب تک باقاعدہ پالیسی کا اعلان نہیں کیا ہے۔

خواتین کے حوالے سے طالبان کا موقف کیا ہے؟

سن 1990 کی دہائی میں افغانستان میں طالبان دور میں خواتین کے تئیں انتہائی سخت پالیسیاں نافذ کی تھیں، جن میں مکمل پردے کے بغیر گھروں سے باہر نکلنے والی خواتین کو سر عام مارا پیٹا بھی جاتا تھا۔

گزشتہ ماہ اقتدار پر قابض ہونے کے بعد طالبان نے اپنی سخت گیر پالیسیوں کو نرم کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے 'اسلامی حدود کے اندر‘ انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کو نافذ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ طالبان نے جس نئی عبوری کابینہ کا اعلان کیا ہے، اس میں کسی خاتون کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

سیکنڈری اسکولوں میں پڑھنے والی لڑکیوں کو اب تک اسکول جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے اور یونیورسٹیوں میں کلاسوں میں لڑکوں اور لڑکیوں کو الگ الگ رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔

خواتین پر عائد پابندیوں کے خلاف گزشتہ ماہ بھی سینکڑوں خواتین نے سڑکوں پر مارچ کیا تھا۔

افغانستان: بچیوں کی تعلیم کو ایک بڑا دھچکا

 اتوار کے روز ہونے والے مظاہرے میں شامل ایک خاتون کا کہنا تھا کہ خواتین امور کی وزارت کو بحال کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کو گھروں میں رکھ کر اور اسکول جانے کی اجازت نہ دے کر افغانستان میں خواتین کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا۔ ان کا مزیدکہنا تھا،”افغانستان کی آج کی خواتین 26 برس پہلے والی خواتین نہیں ہیں۔"

ج ا/     (اے پی، ڈی پی اے)

DW.COM