1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تصویر: PPI/Zumapress/picture alliance

شہباز گل کی گرفتاری، پاکستانی سیاست میں مزید تناؤ کا خدشہ

9 اگست 2022

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے قریبی معتمد شہباز گل کی گرفتاری سے ملکی سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ کئی مبصرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے، جس سے سیاسی تناؤ اور زیادہ ہو سکتا ہے۔

https://www.dw.com/ur/%D8%B4%DB%81%D8%A8%D8%A7%D8%B2-%DA%AF%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%DA%AF%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D8%B2%DB%8C%D8%AF-%D8%AA%D9%86%D8%A7%D8%A4-%DA%A9%D8%A7-%D8%AE%D8%AF%D8%B4%DB%81/a-62758472

شہباز گل کی گرفتاری پر پی ٹی آئی نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنی پارٹی کے اس رہنما کی گرفتاری کے بعد ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے جبکہ سابق گورنر پنجاب سرفراز چیمہ نے عدالت سے اس گرفتاری کا نوٹس لینے کی درخواست کر دی ہے۔

آئی ایم ایف کی قسط، امریکہ سے بات کرنا ’آرمی چیف کا کام نہیں‘: عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے مراد سعید، فواد چوہدری اور دیگر رہنماؤں نے اس گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ سابق وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اس گرفتاری کو اغوا قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر شہباز گل کے ایک معاون کی ایسی ویڈیو بھی وائرل ہو گئی، جس میں وہ اس گرفتاری کی تفصیلات بتاتے نظر آتے ہیں۔ اس ویڈیو کو عمران خان سمیت پارٹی کے کئی رہنماؤں نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔

پاکستان کے کئی روزناموں نے اپنی آن لائن اشاعت میں تصدیق کی کہ پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گل کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اردو کے ایک کثیر الاشاعت جریدے نے پولیس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ شہباز گل کے خلاف تھانہ بنی گالہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ان پر بغاوت پر اکسانے کا الزام ہے۔

پولیس کے مطابق شہباز گل کے خلاف مقدمے میں اداروں اور ان کے سربراہان کے خلاف اکسانے سمیت کئی دیگر دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ تاہم جب ڈی ڈبلیو نے تھانہ بنی گالہ سے رابطہ کیا تو وہاں موجود اہلکاروں نے ایسے کسی مقدمے کے اندارج سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

’سوال اٹھانا کوئی جرم نہیں‘

پاکستان میں عمومی خیال یہ ہے کہ تحریک انصاف اور مقتدر حلقوں کے مابین گزشتہ کچھ عرصے سے کشیدگی چل رہی ہے اور یہ کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب پی ٹی آئی نے بلوچستان میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے حالیہ کریش سے متعلق سوال اٹھانا شروع کر دیے۔ کچھ ناقدین کے خیال میں اس پارٹی نے فوج کے خلاف مبینہ طور پر ایک منظم مہم بھی چلائی اور اس مہم کے بعد کچھ گرفتاریاں بھی ہوئیں۔

پاکستان: سیاسی یا معاشی بحران، ترجیحی حل کس کا؟

دوسری طرف پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ اس نے ملکی فوج کے خلاف کوئی مہم نہیں چلائی۔ پاکستان تحریک انصاف کی ایک رہنما مسرت جمشید چیمہ کا کہنا ہے کہ سوال اٹھانا کوئی جرم نہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کو کہا، ''جس انداز میں شہباز گل کو گرفتار کیا گیا ہے، اس سے لگتا ہے کہ اس ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں اور ملک میں جنگل کا قانون نافذ کر دیا گیا ہے۔ غدار وہ نہیں ہیں، جو سوالات اٹھا رہے ہیں بلکہ غدار وہ ہیں جو اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر رہے اور آئین سے انحراف کر رہے ہیں۔‘‘

بلوچستان، فوج کی مدد سے سیلاب زدگان کا انخلا

مسرت چیمہ کے بقول جو لوگ اس طرح کی حرکتیں کر رہے ہیں، وہ صرف ایک ٹویٹ کی مار ہیں۔ ''عمران خان کی طرف سے ایک ٹویٹ آ جائے، تو سخت رد عمل کارکنان کی طرف سے آ سکتا ہے۔ لیکن پی ٹی آئی نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی حب الوطنی پر یقین رکھتی ہے اور تحمل سے کام لینا چاہتی ہے۔‘‘ مسرت چیمہ کے مطابق پی ٹی آئی قانونی راستہ اپناتے ہوئے شہباز گل کی گرفتاری کے خلاف عدالت میں جائے گی۔

’کشیدگی بڑھے گی‘

لاہور سے تعلق رکھنے والے سیاسی مبصر حبیب اکرم کا کہنا ہے کہ شہباز گل کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی اور طاقت ور حلقوں کے درمیان دوریاں اور بڑھ جائیں گی۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شہباز گل نے متضاد باتیں کہی تھیں، لیکن اگر کسی شخص نے کوئی قابل اعتراض بات کی ہے تو اس کا حل یہ ہے کہ مزید بات چیت کی جائے۔ مکالمت کی جائے۔ اس طرح صرف اظہار رائے پر کسی کو گرفتار کرنا مناسب نہیں۔‘‘

پرویز مشرف کی وطن واپسی کی خواہش، فوج کی طرف سے حمایت

 حبیب اکرم کے بقول پی ٹی آئی اس وقت سب سے بڑی جماعت ہے اور اس میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ہے، ''موجودہ گرفتاری کے بعد خطرہ اس بات کا ہے کہ پی ٹی آئی اور مقتدر حلقوں میں کشیدگی بڑھ جائے گی اور چونکہ پی ٹی آئی کی جڑیں گراس روٹ لیول تک ہیں، اس لیے خدشہ ہے کہ یہ کشیدگی کہیں گراس روٹ لیول تک نہ چلی جائے۔‘‘

’پیچ کسے جا رہے ہیں‘

کئی ناقدین کا خیال ہے کہ جب پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تھی، تو اسے مقتدر حلقوں کی بھرپور حمایت حاصل تھی اور عدلیہ بھی اس سے مخاصمت نہیں رکھتی تھی۔ تاہم اب کئی مبصرین کے خیال میں پی ٹی آئی سے متعلق اداروں کا رویہ بدل رہا ہے۔

عمران خان کے دعووں کے متعلق پاکستانی فوج کے بیان سے متفق ہیں، امریکہ

نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر اکرم بلوچ کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اب پی ٹی آئی کے پیچ کسے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا، ''لوگوں میں یہ تاثر تھا کہ پی ٹی آئی کو بہت چھوٹ دے دی گئی ہے۔ اس نے کئی اشتعال انگیز بیانات دیے لیکن انہیں نظر انداز کر دیا گیا۔ ممنوعہ فنڈنگ کے حوالے سے بھی نرمی برتی گئی اور فیصلہ کئی برسوں بعد سامنے آیا۔‘‘

اکرم بلوچ نے کہا، ’’اس گرفتاری سے لگتا یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو اب مزید کوئی چھوٹ نہیں دی جائے گی اور اگر یہ پارٹی کوئی غیر قانونی کام کرتی ہے، تو اس کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا اور جو عناصر غیر قانونی کام کریں گے، انہیں بھی جواب دہ بنایا جائے گا۔‘‘

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Pakistan Sindh Tharparkar Frauen arbeiten an Solarenergieanlage

پاکستان: شمسی توانائی سے دو ہزار میگا واٹ بجلی، منصوبہ منظور

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں