’شہباز تاثیر کی واپسی کسی معجزے سے کم نہیں‘ | معاشرہ | DW | 09.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’شہباز تاثیر کی واپسی کسی معجزے سے کم نہیں‘

لگ بھگ پانچ سال بعد شہباز تاثیر کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی افراد نے تاثیرخاندان کو تہنیتی پیغامات بھیجے۔

سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی رکن بشریٰ گوہر نے ٹوئٹ کی، ’’خوش آمدید شہباز تاثیر، امید ہے کہ علی حیدر گیلانی اور دہشت گردوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے دوسرے افراد بھی جلد رہا ہوں گے۔‘‘

ٹوئٹر کے ایک صارف احسن رضا نے لکھا یہ وہ غیر معمولی لمحات جب وہ ماں جس نے اپنے شوہر کو کھویا اب اپنے گم شدہ بیٹے سے مل رہی ہیں۔

پاکستان کی نامور فلم ساز شرمین عبید چنائے نے ٹوئٹ میں لکھا، ’ سب سے زبردست خبر‘۔ انہوں نے کافی عرصے سے ٹوئٹر پر شہباز تاثیر کی پروفائل پکچر لگائی ہوئی تھی۔

شہباز تاثیر کی اہلیہ ماہین تاثیر نے لکھا، ’’ شہباز کی واپسی کے لیے تمام دعاؤں کا شکریہ، ’اللہ مشکل کے بعد آسانی ضرور دیتا ہے۔‘‘

بلاول بھٹو زرداری نے شہباز تاثیر اور ان کی والدہ آمنہ تاثیر کی تصویر کو ٹوئٹ کیا اور لکھا کہ ماں کی دعائیں قبول ہو گئیں۔

پاکستان کی ناموراداکارہ ماہرہ خان نے لکھا۔ ’’شہباز تاثیر واپس آگئے، یہ کسی معجزے سے کم نہیں۔‘‘

نامور صحافی حامد میر نے لکھا کہ صرف شہباز تاثیر ہی اب اپنی رہائی سے متعلق معلومات فراہم کر سکیں گے۔

واضح رہے کہ کچھ روز قبل ہی شہباز تاثیر کے والد سلمان تاثیر کے قتل کے جرم میں ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی تھی جس پر پاکستان میں ایک منقسم رائے سامنے آئے تھی۔ سوشل میڈیا پر شہباز تاثیر کی رہائی پر سوشل میڈیا پر چند افراد نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا لیکن اکثریت نے اسے ایک خوش آئند خبرقرار دیا۔

DW.COM

اشتہار