سکھوں اور مسلمانوں کو لڑوا کرکشمیر کے خرمن میں آگ لگانے کی سازش | دستک | DW | 18.07.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

سکھوں اور مسلمانوں کو لڑوا کرکشمیر کے خرمن میں آگ لگانے کی سازش

شادی تو ویسے دو بالغ افرا کی نجی پسند کا معاملہ ہوتا ہے۔ مگر اگر ان دو افراد کا تعلق دو الگ الگ مذاہب سے ہے، تو اس پر ایک طوفان کھڑا ہو جاتا ہے۔ کئی بار فساد بھی برپا ہوجاتا ہے۔ یہ دہُرا معیار کیوں؟ روہنی سنگھ کا بلاگ۔

 

سماج اور مذاہب کے ٹھیکے داروں کا دہرا معیار تو دیکھیے، اگر لڑکی نے دوسرے مذہب کے لڑکے سے شادی کی ہے، توہنگامہ ہونا لازمی ہے۔ اور اگر اسکا الٹ ہو یعنی لڑکے نے دوسرے مذہب کی لڑکی کو پٹا کر شادی کی ہے، تو یہی ٹھیکے دار اسکی واہ واہ ہی کرتے نہیں تھکتے ہیں۔ جیسے اس لڑکے نے کوئی قلعہ فتح کیا ہو۔ مگر یہی کام لڑکی کرے، تو سماج اور خاندان کی ناک کا سوال آجاتا ہے۔

پچھلے دنوں ایسا ہی واقعہ کچھ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں پیش آیا۔ ایک بالغ سکھ لڑکی نے مسلمان لڑکے سے شادی کیا کرلی کہ ایک طوفان کھڑا ہوگیا۔ سیاسی دکان چمکانے کے لیے دہلی سے لیڈران سرینگر پہنچ گئے۔ ان لیڈروں کے لیے لگتا تھا کہ کشمیر کی انتظامیہ جیسے استقبال کرنے کے لیے تیار کھڑی تھی۔ یاد رہے یہ وہی انتظامیہ ہے، جس نے پچھلے سال اپوزیشن لیڈرغلام نبی آزاد اور دیگر لیڈران کو ایئرپورٹ سے ہی باہر نہیں آنے دیا تھا۔ دلیل یہ دی تھی کہ ان کی وجہ سے مقامی نظم و نسق کے بگڑنے کا اندیشہ ہے۔رشتے ناطے نبھانا اب قطعاً ضروری نہیں رہا

 

ویسے تو بھارت میں بین المذاہب شادیاں کوئی نئی بات نہیں۔ مغل بادشاہ اکبر سے لیکر تقریباً سب ہی مغل فرمانرواؤں کی رانیاں راجپوت شاہی خاندانوںسے تعلق رکھتی تھیں۔ حتیٰ کہ اورنگ زیب جیسے کٹر مذہبی بادشاہ کی دو رانیاں ادھے پوری اور نواب بائی نسلاً ہندو راجپوت تھیں۔ سکھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سب سے چہیتی بیوی مسلمان تھی۔ دکن میں عادل شاہی سلطنت کے بانی یوسف شاہ عادل کی رانی ایک برہمن خاندان سے تھی۔ بالی ووڈ کے کئی اداکاراؤں، سیاستدانوں، اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے دیگر مذاہب میں شادیاں کی ہیں۔ بھارت جیسے کثیرالنسلی و کثیرالمذاہب ملک میں ایک ہی گاؤں یا شہر یا ہاؤسنگ سوسائٹی یا ایک ہی دفتر میں کام کرتے ہوئے جوان دلوں کا ایک دوسرے میں دلچسپی لینا تو فطری بات ہے۔ جب پیار پروان چڑھتا ہے، تو وہ سماج کی دیواروں کو نہیں دیکھتا ہے۔ چونکہ اس سرینگر والے معاملے میں لڑکا مسلمان تھا، مذاہب کے ٹھیکہ داروں نے اسکو Love Jihad یعنی زبردستی کی شادی قرار دیکر فرقہ وارانہ ماحول سے مکدر کر دیا۔

جھانسی کی رانی سے پونم پنڈت تک

ہندو انتہا پسندوں کی مربی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سائے میں پلی تنظیمیں تو تاک میں لگی ہوتی ہیں۔ وہ جلد ہی ہندو خطرے میں ہے کا نعرہ ند کرکے ہندو فرقہ کو خوش کرتی ہیں۔ چونکہ ان کے نزدیک سکھ، جین اور بدھ بھی ہندو دھرم کا ہی حصہ ہیں، اس لیے وہ ان پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ اب ان سے کوئی پوچھے کہ ایک ہزار سال کے مسلم دور حکومت اور پھر کم و بیش دوسو سال کے برطانوی دور حکومت کے دوران جب ہندوؤں کی آبادی کم نہیں ہوئی یا ان کے مذہب کو کوئی خطرہ درپیش نہیں آیا، تو اب آزاد بھارت میں اور وہ بھی اب وزیر اعظم نریندر مودی کے دور حکومت میں ہندو کو کیوں کر خطرہ ہوسکتا ہے؟ 80 فیصد ہندو آبادی کو آخر 15فیصد سے بھی کم مسلمانوں سے کیا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے؟ اندازہ کریں کہ کس حد تک مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا ہے کہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی کئی صوبائی حکومتوں نے باضابط قانون سازی کرکے بین المذاہب شادیوں پر یا تو پابندی لگادی ہے، یا ان کو اس قدر پیچیدہ بنایا ہے کہ کوئی اس طرح کی شادی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔ حالانکہ اسی سال بمبئی ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلہ میں صاف کہا تھا کہ دو بالغ افراد چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، شادی کے معاملے میں اپنی مرضی کے مالک ہیں۔ عدالت نے بین المذاہب شادیوں کے رجحان کو سراہا بھی تھا اورلکھا تھا کہ اس سے ملک کی گنگا جمنی تہذیب اور کلچرکی آبیاری ہوتی ہے۔

مولانا وحیدالدین کی وفات اور روشن خیالوں کا سوگ، کیا ہم سب مذہبی ہیں؟

کشمیر میں چونکہ یہ سکھ لڑکی اور مسلمان لڑکے کے پیار و محبت اور شادی کا معاملہ تھا، اسی لیے فرقہ پرستوں نے ا ن دونوں طبقات کو  لڑوانے کی بھر پور سازش رچانے کا بھی انتظام کیا ہوا تھا۔ 1947ء کے خونریز فسادات کے بعد جو پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے زیادہ تر سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان ہوئے تھے، اس کے بعد ان دونوں فرقوں کے درمیاں خاصی حد تک خلیج پٹ چکی ہے 2019 ء میں کشمیر میں پلوامہ کے مقام پر خود کش حملوں کے بعد جب پورے ملک میں کشمیری طالب علموں اور تاجروں کے خلاف شر انگیزی کا ایک طوفان برپا ہوگیا تھا، تو مختلف جگہوں پر سکھ فرقہ نے ان کو اپنی امان میں لے لیا۔ پنجاب میں سکھ فرقہ نے اپنے گوردواروں نیز گھروں کے دروازے کھول کر ان کو فرقہ پرستوں کے قہر سے نجات دلوائی۔ وادی کشمیر میں  سکھوں کی  آبادی 2 فیصد سے بھی کم ہے۔پنجاب اور ملک کے یگر علاقوں میں سکھوں کی اس خیر سگالی کا رد عمل کشمیر مفی لیے مفت کھانے اور رہائش کی آفر دے ی۔ ایک ٹریولنگ ایجنٹ جو حج و عمرہ کا کام کرتا ہے، نے تو سکھوں کیلئے مفت حج اور عمرہ کی آفر دے دی۔ بعد میں اسکو احساس ہوا کہ حج اور عمرہ توصرف مسلمانوں کے لیے ہوتا ہے، پھر اس نے سکھوں کی چوائس کے کسی بھی مقامات مقدسہ کی زیا ارت کے لیے کرایہ میں چھوٹ دینے کی پیشکش کی۔‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍ سن 1686 ء میں مغل حکمران اکبر کے کشمیر پر قبضے کے بعد سے ہی وہاں کے باسیوں کے لیے تاریک رات کا سلسلہ شروع ہوا، جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔ مغل دور کے بعد افغان، سکھ اور پھر ڈوگرہ دور ا س خطے کے سیاہ ترین باب ہیں۔ کسانوں اور دست کاروں پر ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیا گیا تاکہ وہ نسل در نسل قرضوں کے گردآب میں پھنسے رہیں۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کا دورحکومت جہاں پنجاب کے لیے ایک سنہری دور رہا ہے، اس کے برعکس کشمیر میں اسکے گورنروں نے وہاں کے باسیوں کا جینا دوبھر کر دیا تھا۔ ہاں سکھ سلطنت کے آخری دور میں کشمیریوں نے تھوڑی راحت کی سانس لی۔ معمر سیاستدان پروفیسر سیف الدین سوز کے مطابق حکمرانوں کو احساس ہو گیا تھا کہ سکھوں کی طرح، مسلمان بھی توحید پر یقین رکھتے ہیں۔ اس لیے مہاراجہ کھڑک سنگھ نے کشمیر میں جامع مسجد کو  25  سال بعد عوام کے لیے دوبارہ کھول دیا اور وہاں ایک مسلمان  شیخ امام الدین کو گورنر بنا کر بھیجا۔

کیا گالی دینا پنجاب کا کلچر ہے؟

 80 کی دہائی میں جب پنجاب میں عسکریت پسندی کی وجہ سے سکھ زیر عتاب تھے، تو کشمیر میں ان کو خاصی پذیرائی اور پناہ  ملتی تھی۔  پچھلے تیس سالوں کے دوران کشمیر میں دگرگوں حالات کے باوجود مقامی مسلمانوں نے سکھ فرقہ کا بھر پور خیال رکھا۔ اسی اتحاد اور بھائی چارہ کو پار ہ پارہ کرنے کے لیے دہلی میں اکالی دل کےگ ایک خود ساختہ لیڈر، جو حال تک بھارتیہ جنتا پارٹی میں تھے، نے اس سکھ لڑکی کی شادی کے بہانے وادی کشمیر کے خرمن میں آگ لگانے کی کوشش کی۔ لیکن مقامی سکھ اور مسلمان کیونٹی نے اسکی ایک نہ چلنے دی اور معاملہ کو خوش اسلوبی کے ساتھ نمٹایا۔ جب میں نے آل پارٹی سکھ کواڈینیشن کمیٹی کے سربراہ جگموہن سنگھ رینہ سے اس معاملے کے بارے میں جاننے کی کوشش کی، تو انہوں نے بتایا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کشمیری سکھوں کو استعمال کرکے فرقہ وارانہ کھیل کھیلنا چاہتے تھے۔ اکالی دل تو پچھلی کئی دہائیوں سے بی جے پی کا ایک دم چھلہ بن گئی تھی۔ جب اس کے گڑھ پنجاب میں مرکزی حکومت کے کسانوں کے تئیں رویے کی وجہ سے اسکی سبکی ہو رہی تھی، تو وہ اپنی ساکھ بچانے کے لیے بی جے پی اور حکومت سے الگ تو ہوگئی، مگر سکھوں کی اکثریت کی حمایت سے ابھی بھی وہ محروم ہے۔ اس لیے کشمیر میں سکھ خطرے میں ہے کا الارم بجا کر وہ اپنا سیاسی الو سیدھا کرنا چاہتی تھی، جس کو مقامی آبادی نے ناکام بنادیا۔

روہنی سنگھ، نئی دہلی