سویڈش سرویلنس نظام کی فروخت، خریدار ممکنہ طور پر پاکستان | حالات حاضرہ | DW | 06.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سویڈش سرویلنس نظام کی فروخت، خریدار ممکنہ طور پر پاکستان

سویڈش دفاعی کمپنی ’ساب‘ نے حال ہی میں 165 ملین ڈالرز کے ایک معاہدے کے تحت ’ساب 2000 ایری آئی اواکس‘ طیاروں کی فروخت کا اعلان کیا ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق ان طیاروں کا خریدار ممکنہ طور پر پاکستان ہے۔

اس معاہدے کے بارے میں جاری اعلامیہ میں ان طیاروں کی تعداد اور خریدار ملک کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ کمپنی کے ترجمان کے مطابق ان طیاروں کی فراہمی کا عمل  2020 سے 2023 کے دوران مکمل ہوگا۔ دفاعی ذرائع کے مطابق ان طیاروں کا خریدار ممکنہ طور پر پاکستان ہے۔

ساب ایری آئی اواکس سسٹم کے مختلف ماڈلز اب تک آٹھ ممالک کو فروخت کیے جاچکے ہیں جن میں سویڈن، یونان، برازیل، میکسیکو، تھائی لینڈ، پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں جبکہ ساب 2000 ماڈل اواکس طیارے فی الحال صرف دو ممالک پاکستان اور سعودی عرب کے زیراستعمال ہیں۔ پاک فضائیہ کے پاس چھ اور رائل سعودی ایئرفورس کے پاس دو ساب اواکس طیارے ہیں۔

ساب 2000، ایری آئی اور دیگر جدید سینسرز سے لیس ملٹی مشن صلاحیتوں کا حامل راڈار سسٹم ہے جسے ساب 2000 ایئرکرافٹ پرنصب کیا جاتا ہے۔ یہ راڈار، ایکٹیو الیکٹرانک اسکین ارے (اے ای ایس اے) ٹیکنالوجی کا حامل ہے جو فضائی اور سمندری سرحدوں کی نگرانی کے علاوہ سرچ اینڈ ریسکیو مشنز اور سول ضروریات کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کراچی نیول ایئربیس پر حملہ، 11 اہلکار ہلاک

بھارتی پائلٹ کی گرفتاری، مودی کی سبکی ہے؟

پاکستان سے فضائی جھڑپ میں اپنا ہیلی کاپٹر خود ہی مار گرایا تھا، بھارت

فروری 2019 میں بالاکوٹ پر بھارتی حملے کے بعد پیدا ہونے والی پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاک فضائیہ نے اس ایری آئی ریڈارکی مدد سے پاکستانی حدود میں ایک بھارتی مگ طیارہ مار گرایا تھا اور طیارے کے پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کرلیا تھا۔ اس واقعے کے بعد بھارت نے سویڈن سے اس راڈار سسٹم کی پاکستان کو فروخت کے خلاف سفارتی سطح پر احتجاج بھی کیا تھا۔ 

دفاعی اثاثوں کی تحقیق اورمعاہدوں پر نظر رکھنے والے ادارے ''سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘‘ (سپری) کے سینیئر تحقیق کار پیٹر ویزمین کے مطابق اس ڈیل میں کسی نئے ملک کے خریدار ہونے کا امکان نہیں ہے کیونکہ ساب گروپ نے اپنے پرانے ایری آئی سسٹم کی پیداوارکو بند کردیا ہے اور اپنے نئے گاہکوں کے لیے گلوبل آئی سسٹم متعارف کرا چکا ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا، '' 2017 میں ان طیاروں کا آخری خریدار پاکستان تھا۔  یقینی طور پر نیا آرڈر کسی سابقہ گاہک کی جانب سے ہی دیا گیا ہے اور قوی امکان ہے کہ یہ گاہک پاکستان ہے کیونکہ پاکستان ہی اب تک اس نظام کا سب سے بڑا خریدار ہے۔‘‘

پاکستان نے پہلی بار 2009 میں ساب گروپ سے چار ایری آئی طیارے حاصل کیے تھے۔ 2012 میں منہاس ائیر بیس پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں چار میں سے تین طیاروں کو نقصان پہنچا تھا جن میں سے ایک طیارہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا جبکہ دیگر دو طیاروں کو پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ میں مقامی طور پر مرمت کر لیا گیا تھا۔

2017 میں پاکستان نے مزید تین نئے ساب 2000 ایری آئی طیاروں کی خریداری کا معاہدہ کیا۔ یہ تینوں طیارے 2017 اور 2019 کے درمیانی عرصے میں حاصل کیے گئے تھے۔ سویڈش آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سویڈن نے 2019 میں 152 ملین امریکی ڈالرز کے راڈار سسٹم پاکستان کو فروخت کیے تھے۔ پاکستانی وزارت دفاعی پیداوار کے ذیلی ادارے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ڈیفنس پرچیز کی سالانہ رپورٹ 18-2017 میں بتایا گیا کہ 94.95 ملین ڈالرز کے عوض چھٹا ایری آئی طیارہ خریدا گیا تھا۔ یہ آخری طیارہ اپریل 2019 میں پاک فضائیہ کے حوالے کیا گیا۔   

Pakistan | Jet

فروری 2019 میں بالاکوٹ پر بھارتی حملے کے بعد پیدا ہونے والی پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاک فضائیہ نے اس ایری آئی ریڈارکی مدد سے پاکستانی حدود میں ایک بھارتی مگ طیارہ مار گرایا تھا اور طیارے کے پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کرلیا تھا۔

معروف برطانوی دفاعی جریدے (جینس) کی جانب سے امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ موجودہ آرڈر ساب 2000 سسٹم کے پچھلے خریداروں، پاکستان اور سعودی عرب میں سے کسی ایک نے دیا ہے۔ سعودی عرب نے پہلی اور آخری بار 2014 میں ساب سے دو ایری آئی طیارے خریدے تھے۔ 2015 کے دوران سعودی عرب کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سویڈن نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات منقطع کردیے تھے۔

ڈیفنس نیوز اینڈ انفارمیشن گروپ کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر یہ آرڈر سابقہ خریدار کی جانب سے دیا گیا ہے تو معاہدے کی رقم دو سسٹمز کی خریداری کو پورا کرسکتی ہے جبکہ نئے خریدار  کے لیے  اس رقم میں ایک سسٹم کا حصول ہی ممکن ہے۔ پاکستان کی طرف سے معاہدے کی صورت میں 2023 تک پاکستان کے پاس ساب 2000 اواکس طیاروں کی تعداد آٹھ  تک پہنچ جائے گی۔

تاہم ڈی ڈبلیو کی جانب سے رابطہ کرنے پر پاکستان ائیر فورس کے ترجمان آفس سے اس معاہدے میں پاکستان کی شمولیت کی تردید کی گئی ہے۔