دوشنبہ: افغانستان سے متعلق پانچویں علاقائی کانفرنس | حالات حاضرہ | DW | 26.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دوشنبہ: افغانستان سے متعلق پانچویں علاقائی کانفرنس

افغانستان سے متعلق علاقائی اقتصادی تعاون کی پانچویں کانفرنس آج پیر کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں شروع ہوئی۔ کانفرنس کا مقصد 2014 ء میں افغانستان سے بین الاقوامی فوج کے انخلاء کے بعد اس کی بحالی پر توجہ دینا ہے۔

اس دو روزہ کانفرنس میں افغانستان، پاکستان، ایران اور تاجکستان کے صدور اور 40 ملکوں کے وزرائے خارجہ کے علاوہ 33 بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی شریک ہیں۔

آج کانفرنس کے پہلے روز ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے اپنے خطاب میں امریکا پر کڑی تنقید کی اور افغانستان سے غیر ملکی افواج کے فوری انخلاء پر زور دیا۔ انہوں نے کہا: ’’نیٹو اور افغانستان کو اپنی پالیسی تبدیل کر لینی چاہیے کیونکہ اب وہ زمانے گئے، جب وہ دیگر ملکوں پر اپنے احکامات چلایا کرتے تھے۔ دیگر ملکوں کو ڈرانے دھمکانے اور انہیں نو آبادی بنانے کی بجائے ان کا احترام کرنا کہیں زیادہ بہتر ہے۔ استعماریت کا دور لد چکا ہے۔‘‘

ایرانی صدر نے امریکا پر الزام لگایا کہ افغانستان میں امریکی فورسز کی موجودگی کا مقصد دفاعی نقطہ نظر سے اہم اس پورے خطے کا گھیراؤ کرنا ہے۔

Wiederherstellung der Strassen um und in Kabul

کانفرنس کا مقصد 2014 ء میں افغانستان سے بین الاقوامی فوج کے انخلاء کے بعد اس کی اقتصادی بحالی پر توجہ دینا ہے

امریکا کے نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا رابرٹ بلِیک کی زیر قیادت امریکی وفد نے صدر احمدی نژاد کی تقریر کا بائیکاٹ کیا۔

کل اتوار کو دوشنبہ میں ہونے والے چہار فریقی اجلاس میں تاجکستان، افغانستان، ایران اور پاکستان کے صدور نے چاروں ملکوں کے درمیان افغانستان کی معیشت کی تعمیر نو اور ٹرانسپورٹ و راہداری کے امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

ایرانی صدر نے افغان صدر حامد کرزئی اور اپنے تاجک ہم منصب امام علی رحمان کے ساتھ ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے، جس کے تحت تینوں ملکوں سے گزرنے والی ایک ریلوے لائن تعمیر کی جائے گی۔ اس کا ایک مقصد ایران کی تیل کی مصنوعات اور قدرتی گیس کی سپلائی میں اضافہ کرنا ہے۔

Iran Mahmud Ahmadinedschad

اجلاس میں ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے افغانستان میں نیٹو فورسز کی موجودگی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا

افغانستان کے بارے میں یہ کانفرنس ایک ایسے وقت ہو رہی ہے جب نیٹو کے بگرام فوجی اڈے پر قرآن سوزی کے واقعے اور طالبان کی جنم بھومی قندھار میں ایک امریکی فوجی کے ہاتھوں سولہ افغان شہریوں کے قتل کے بعد واشنگٹن اور کابل کے درمیان کشیدگی میں انتہائی اضافہ ہو چکا ہے۔

بین الاقوامی فورسز ملک میں سلامتی کی ذمہ داریاں افغان فوج کے سپرد کر کے 2014 ء کے اختتام تک اس جنگ زدہ ملک سے انخلاء کا ارادہ رکھتی ہیں۔ تاہم ملک میں سکیورٹی کی حالت بدستور تشویش ناک ہے۔ آج پیر کو صوبہ ہلمند کے صدر مقام لشکر گاہ میں افغان فوج کی وردی میں ملبوس ایک حملہ آور نے فائرنگ کر کے نیٹو کے دو فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔ رواں سال اب تک افغان فوجیوں کے ہاتھوں نیٹو کے گیارہ فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

رپورٹ: حماد کیانی / خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

اشتہار