دس سالہ شامی خانہ جنگی میں ہلاکتوں کی تعداد اب نصف ملین | حالات حاضرہ | DW | 01.06.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

دس سالہ شامی خانہ جنگی میں ہلاکتوں کی تعداد اب نصف ملین

مشرق وسطیٰ کے ملک شام میں دس سال سے جاری خانہ جنگی میں انسانی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اب تقریباﹰ نصف ملین ہو گئی ہے۔ یہ خانہ جنگی دو ہزار گیارہ میں بشارالاسد کی حکومت کے خلاف عوامی مظاہروں کے آغاز کے ساتھ شروع ہوئی تھی۔

برطانیہ میں قائم اور شام میں خانہ جنگی کی ہلاکت خیزی پر نگاہ رکھنے والی اپوزیشن تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق کچھ عرصہ پہلے تک خانہ جنگی میں انسانی ہلاکتوں سے متعلق اعداد و شمار بہت کم تھے۔ اب لیکن اس جنگ میں ایک لاکھ سے زائد اضافی ہلاکتوں کی حالیہ تصدیق کے بعد اس جنگ میں اموات کی مجموعی مصدقہ تعداد چار لاکھ چورانوے ہزار چار سو اڑتیس ہو گئی ہے۔

دنیا شامی صدارتی الیکشن مسترد کر دے، شامی ہیومن رائٹس گروپ

سیریئن آبزرویٹری کے حوالے سے لبنانی دارالحکومت بیروت سے منگل یکم جون کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق مارچ 2011ء میں دمشق حکومت نے صدر بشار الاسد کے خلاف عوامی مظاہروں کو جس بھرپور فوجی طاقت کے ساتھ کچلنے کی کوشش کی تھی، اس کے بعد یہ تنازعہ پھیل کر ایک ایسی خانہ جنگی کی شکل اختیار کر گیا، جو دس سال گزر جانے کے باوجود آج تک ختم نہیں ہو سکا۔

مزید ایک لاکھ پانچ ہزار سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق

سیریئن آبزرویٹری نے شام میں اپنے ذرائع کے حوالے سے ملنے والی رپورٹوں اور ہلاکتوں کی دستاویزی تصدیق کے بعد بتایا کہ اس سال مارچ تک اس کے اعداد و شمار کے مطابق شام میں خانہ جنگی کے دوران تین لاکھ اٹھاسی ہزار انسان ہلاک ہو چکے تھے۔

شامی اہداف پر اسرائیلی حملے

Symbolbild IS Soldaten

شامی خانہ جنگی میں اب تک تقریباﹰ اڑسٹھ ہزار جہادی بھی مارے جا چکے ہیں

تاہم ایک لاکھ پانچ ہزار سے زائد اضافی لیکن تصدیق شدہ اموات کے بعد اب ان ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 494,438 بنتی ہے، جو نصف ملین سے صرف تقریباﹰ ساڑھے پانچ ہزار کم ہے۔

زیادہ تر اموات 2012ء کے اواخر سے نومبر 2015ء کے درمیان

اب اپنے دوسرے عشرے میں داخل ہو چکی شامی خانہ جنگی کے دوران انسانی ہلاکتوں سے متعلق نئے اعداد و شمار کے بارے میں سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ''ان تقریباﹰ پانچ لاکھ انسانوں میں سے بہت بڑی اکثریت 2012ء کے اواخر سے لے کر نومبر 2015ء تک کے درمیانی عرصے میں اس وقت ہلاک ہوئی، جب یہ خانہ جنگی اپنے عروج پر تھی۔‘‘

'شام نے شہریوں پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے'

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ جن ایک لاکھ پانچ ہزار اضافی ہلاکتوں کی حال ہی میں تصدیق ہوئی، ان میں سے 42 ہزار عام شہری تھے، جو یا تو شامی حکومتی دستوں کی کارروائیوں میں یا پھر جیلوں میں تشدد سے ہلاک ہوئے۔

شہری ہلاکتیں ایک لاکھ ساٹھ ہزار کے قریب

رامی عبدالرحمان نے بتایا مجموعی طور پر شامی خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ انسٹھ ہزار آٹھ سو کے قریب عام شہری مارے جا چکے ہیں۔ ان میں بہت بڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

جرمنی کا خانہ جنگی سے دو چار شام کے لیے مزید امداد کا وعدہ

اس سے بھی المناک بات یہ ہے کہ ان عام شامی شہریوں کی اکثریت اس وقت ماری گئی، جب دمشق حکومت کے فوجی دستے اور ان کے حامی ملیشیا گروپ حکومت مخالف باغیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے تھے۔

شامی صدر بشار الاسد، اہلیہ اسماء بھی کورونا وائرس سے متاثر

اس کے علاوہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران شامی حکومت کی جیلوں اور دیگر حراستی مراکز میں بند قیدیوں میں سے بھی کم از کم 57,567 افراد مارے گئے۔

سب سے زیادہ جانی نقصان شامی فوج اور حامی ملیشیا گروپوں کا

سیریئن آبزرویٹری کے سربراہ کے مطابق شامی خانہ جنگی میں آج تک سب سے زیادہ جانی نقصان کا سامنا دمشق حکومت کے فوجی دستوں اور ان کے حامی ملیشیا گروپوں کو کرنا پڑا ہے۔

اس جنگ میں اب تک ایک لاکھ اڑسٹھ ہزار تین سو چھبیس شامی فوجی اور ان کے حامی ملیشیا ارکان مارے جا چکے ہیں۔ ان میں سے بھی نصف سے زیادہ تعداد شامی فوجیوں کی تھی۔

اسرائیل نے 2020ء میں شام میں پچاس اہداف پر فضائی حملے کیے

اڑسٹھ ہزار سے زائد جہادی بھی ہلاک

شامی خانہ جنگی کے نقطہ عروج پر دہشت گرد تنظیم ‘اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش نے شام اور عراق کے وسیع تر علاقوں پر اپنی ایک نام نہاد ریاست کے قیام کا اعلان بھی کر دیا تھا۔ یوں مشرق وسطیٰ کے یہ دونوں ممالک ایسی ریاستیں بن گئے تھے، جہاں دنیا بھر سے جہادی اور شدت پسند مسلم جنگجو پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔

ترکی نے چار ہزار شامی جنگجو آذربائیجان بھیجے، آرمینیا کا الزام

رامی عبدالرحمان کے مطابق شام میں اب تک 68 ہزار 393 جہادی اور مذہبی عسکریت پسند بھی مارے جا چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق 'اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش سے تھا یا پھر دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کی حامی مختلف عسکریت پسند تنظیموں سے۔

ان کے علاوہ مجموعی طور پر شام میں اب تک تقریباﹰ 80 ہزار ایسے فائٹر بھی مارے جا چکے ہیں، جن کا تعلق مختلف مسلح اپوزیشن گروپوں سے تھا۔ یہ 79,844 ہلاک شدگان ایسے فائٹر تھے، جو عرف عام میں شامی باغی کہلاتے تھے اور جنہیں کافی عرصے تک دمشق حکومت کے دستوں اور داعش کے جہادیوں دونوں کے خلاف لڑنا پڑا تھا۔

م م / ک م (اے ایف پی)