خاتون پر تشدد، شوہر نے اہلیہ کی ناک کاٹ دی | وجود زن | DW | 17.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

وجود زن

خاتون پر تشدد، شوہر نے اہلیہ کی ناک کاٹ دی

لاہور میں ایک شخص نے مبنیہ طور پر اپنی اہلیہ کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی ناک کاٹ دی۔ چھہ بچوں کی والدہ شازیہ کو محلے والوں نے بچا کر ہسپتال پہنچایا۔

اطلاعات کے مطابق سجاد احمد نامی شخص نے اپنی اہلیہ شازیہ کو پلاسٹک کے پائپوں سے مارا پیٹا اور پھر چاقو سے ان کی ناک کاٹ دی۔ کچھ پڑوسی ان کی اور ان کے بچوں کی چیخیں سن کے مدد کو پہنچے۔ انہوں نے شازیہ کو ان کے شوہر کے ہاتھوں بچایا اور پولیس کو مطلع کیا۔ اخبار ڈان کے مطابق پڑوسیوں نے پولیس کو بتایا کہ سجاد اکثر اپنی بیوی پر تشدد کرتا تھا اور پہلے بھی پڑوسی اسے کئی مرتبہ بچا چکے ہیں۔

پاکستان کا شمار دنیا میں خواتین کے لیے خطر ناک قرار دیے جانے والے ملکوں میں ہوتا ہے، جہاں گھریلو تشدد ایک بڑا مسئلہ ہے۔

'ظلم برداشت کرنا بھی گناہ ہے‘

گھریلو تشدد اور ہمارا دوہرا معیار

شازیہ نے پولیس کو بتایا کہ وہ محلے میں اپنی ایک بیٹی کے سسرال گئی ہوئی تھیں جہاں سے ان کا شوہر انہیں زبردستی واپس گھر لے گیا اور مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ بیان کے مطابق ان کے شوہر کا الزام تھا کہ انہیں جو پیسے دکان کے کرائے کے لیے دینا تھے وہ پیسے شازیہ نے اپنے علاج پر خرچ کر دیے۔  ہسپتال میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ شازیہ کا چہرہ  پلاسٹک سرجری سے ٹھیک ہو سکتا ہے۔ 

ادھر لاہور پولیس نے ان کے شوہر کے خلاف کیس درج کر لیا گیا ہے۔

ب ج، ش ج

DW.COM