1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Pakistan Imran Khan
تصویر: Aamir Qureshi/AFP

حکومت کا مستقبل: حالات کس رخ پر جارہے ہیں

23 ستمبر 2022

سابق وزیر اعظم عمران خان کے مارچ اور احتجاج کے اعلان کے بعد ملک کے کئی حلقوں میں ایک بار پھر موجودہ حکومت کا مستقبل، سیاسی بے یقینی اور سیاسی حالات کے حوالے سے بحث ہورہی ہے۔

https://p.dw.com/p/4HGP7

عمران خان نے اپنے ایک خطاب میں کہا تھا کہ وہ اس بار مکمل تیاری کے ساتھ آئیں گے۔ کئی حلقے ان کی اس تیاری کو تصادم یا کشیدہ سیاسی حالات کے ابھرنے سے تعبیر کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کی طرف سے بھی اس طرح کے اشارے ملے ہیں کہ کسی تصادم کی شکل میں وہ بھرپور طاقت استعمال کرے گی اور ریاست کی رٹ کو قائم کرے گی۔

جج کو دھمکی دینے کا مقدمہ: عمران خان معافی مانگنے پر تیار

مذہب کا سیاسی استعمال: کئی حلقوں کو تشویش

سیاسی بے یقینی

واضح رہے کہ جب سے عمران خان کو اقتدار سے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا ہے،ملک کے کئی حلقوں میں یہ تاثر ہے کہ یہ حکومت مستحکم نہیں ہے اور ہر بار جب عمران خان جب کسی مارچ کا اعلان کرتے ہیں تو حکومت کے مستقبل اور سیاسی بے یقینی کے حوالے سے بحث پھر چھڑ جاتی ہے۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار ایوب ملک کا کہنا ہے کہ حالات ایک بار پھر سیاسی بے یقینی کی طرف جارہے ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''جب بھی عمران خان کسی احتجاج یا مارچ کا اعلان کرتے ہیں، اس کے اثرات اسٹاک ایکسچینج اور کاروباری معاملات پر پڑتے ہیں۔ اس بار بھی ان کے احتجاج سے یہ تاثر جائے گا اور ملک ایک بار پھر بے یقینی کا شکار ہوگا۔ حالات مذید کشیدگی کی طرف جائیں گے کیوں کہ ممکنہ طور پر پولیس یا حکومت سے مظاہرین کو کنٹرول کرنے میں غلطی ہو سکتی ہے۔‘‘

موجودہ حکومت کے لیے مشکلات

ایوب ملک کا دعویٰ تھا کہ اس احتجاج سے یہ تاثر جائے گا کہ موجودہ حکومت کمزور ہے۔ ''حکومت پہلے بھی عمران خان کے احتجاجوں کو روک نہیں سکیاور اب بھی روک نہیں سکے گی۔ اس سے یہ تاثر جائے گا کہ یہ حکومت کمزور ہے اور اس کمزوری کی وجہ سے کئی حلقوں میں یہ مطالبہ سر اٹھا سکتا ہے کہ ملک میں انتخابات کرائے جائیں۔ ایسے کسی مطالبے کی شکل میں موجودہ حکومت مشکل کا شکار ہوجائے گی کیوں کہ ابھی تک یہ مطالبہ صرف پی ٹی آئی کی طرف سے ہے لیکن اگر اس طرح کا مطالبہ دوسری سیاسی جماعتوں نے بھی کیا تو حکومت کو الیکشن کرانے پڑیں گے۔‘‘

حکومت اسٹیبلشمنٹ کی آکسیجن پر ہے

موجودہ حالات میں کچھ ناقدین ملک کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے حوالے سے بھی بحث کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے کچھ ساتھی یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ جی ایچ کیو غیر جانبدار ہے جب کہ نواز شریف کے قریب سمجھے جانے والے نون لیگی یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ عمران خان اب بھی طاقتور حلقوں کو لاڈلہ ہے۔ تاہم کچھ سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ طاقت ور حلقے عمران خان کے ساتھ نہیں ہیں۔ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے معروف سیاست دان لشکری رئیسانی کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کے سہارے کھڑی ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''جب سے یہ حکومت آئی ہے اس نے عوام کو کچھ نہیں دیا ہے۔ عمران خان عوام میں مقبول ہورہا ہے اور ایسے میں اسٹیبلمشنٹ کبھی بھی انتخابات ہونے نہیں دے گی کیونکہ وہ کسی بھی پاپولر لیڈر کو برداشت نہیں کر سکتے۔ آنے والے مہینوں میں پہلے عمران خان کو تھوڑا کمزور کیا جائے گا۔ پھر انتخابات ہوں گے۔‘‘

پی ٹی آئی کی لانگ مارچ کے خلاف حکومت کی رکاوٹیں

لشکری رئیسانی کے بقول انتخابات سیلاب کی وجہ سے بھی ممکن نہیں ہیں۔ ''ایک تہائی سے زیادہ ملک ڈوبا ہوا ہے۔ سٹرکیں اور راستے تباہ ہیں۔ عوام بدحال ہیں۔ تو ایسے میں انتخابات اگلے برس ہی ہو سکیں گے۔‘‘

کوئٹہ کے اس سیاست دان کا دعویٰ تھا کہ عمران خان اس طرح شور کرتے رہیں گے۔ ''ملک میں سیاسی بے یقینی رہے گی۔ احتجاج اور مارچ ہوتے رہیں گے لیکن ملک اگلے برس تک ایسے ہی چلے گا اور انتخابات اگلے برس ہی ہوں گے۔‘‘

ملتے جلتے موضوعات سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Indien Pakistan Kaschmir Flusstal Zanskar und Indus River

بھارت کا سندھ طاس معاہدے میں ترمیم کے لیے پاکستان کو نوٹس

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں