1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستانی سیاست، مائنس ون فارمولا: منفی روایت ختم ہونا چاہیے

12 ستمبر 2022

پاکستانی سیاست میں ایک بار پھر ایک بڑی سیاسی پارٹی کے حوالے سے ’مائنس ون فارمولا‘ کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔ ملک میں کئی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں ہو رہی ہے کہ اس بار پھر کسی کو سیاست سے نکالنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔

https://p.dw.com/p/4Gjyc
Pakistan PTI Imran Khan
پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وزیر اعظم عمران خانتصویر: K.M. Chaudary/AP Photo/picture alliance

تاہم کئی سیاست دان، سول سوسائٹی کے کارکن اور مبصرین اس فارمولے کی بھرپور مخالفت کر رہے ہیں اور اسے ملک کے لیے ایک نقصان دہ اور منفی روایت قرار دے رہے ہیں۔ گزشتہ جمعے کے روز پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ 'امپورٹڈ‘ حکومت اور اس کے 'ہینڈلرز‘ انہیں سیاست سے آؤٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور 'مائنس ون فارمولا‘ پر کام کیا جا رہا ہے۔ عمران خان کے اس بیان کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں ان کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے پی ان کی پارٹی پی ٹی آئی کے کارکنوں نے مظاہرے بھی کیے تھے۔

عمران خان کا دعویٰ ہے کہ ایسا مبینہ طور پر اس لیے کیا جا رہا ہے کہ 'حکومت اور اس کے ہینڈلرز‘ ان کی مقبولیت سے خائف ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ وہ ان کو سیاسی میدان میں شکست نہیں دے سکتے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان پر کچھ دنوں سے بحث چل رہی ہے اور کچھ اخبارات نے اس حوالے سے اداریے بھی لکھے ہیں۔

’مائنس ون کی سوچ موجود ہے‘

عمران خان کے خلاف ملک کی عدالتوں میں مختلف مقدمات چل رہے ہیں، جن کی وجہ سے کچھ حلقوں میں یہ تاثر بھی ہے کہ کسی ایک مقدمے میں ان کو سزا کے طور پر نا اہل بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس وجیہہ الدین احمد کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی سیاست سے باہر کرنے کا طریقہ صرف سیاسی ہی ہونا چاہیے اور کسی کو عدالت کے ذریعے نااہل کروا دینا یا 'ٹیکنیکل گراؤنڈ پر ناک آؤٹ‘  کرنا مناسب نہیں۔

Yousaf Raza Gilani
سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی جنہیں عدالت نے نااہل قرار دے دیاتصویر: AP

وجیہہ الدین احمد نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''الیکشن کمیشن، اسلام آباد ہائی کورٹ، توشہ خانہ یا کسی اور مسئلے پر عمران خان کو مائنس کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ یوں پی ٹی آئی بحیثیت ایک سیاسی جماعت ختم ہو جائے گی کیونکہ عمران خان کا دوسرا نام پی ٹی آئی ہے اور وہاں کوئی متبادل قیادت موجود نہیں۔ تاہم میں نا اہل قرار دینے کے اس عمل کو منفی سمجھتا ہوں اور اس روایت کو ختم ہونا چاہیے۔‘‘

جسٹس وجیہہ الدین احمد کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ ممکنہ طور پر تحمل کا مظاہرہ کر سکتی ہے کیونکہ عمران خان کی توجیح کوئی اتنی غیر منطقی بھی نہیں ہے۔

’تاریخی تسلسل کے اشارے‘

لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار حبیب اکرم کا کہنا ہے کہ اگر تاریخی تسلسل کو دیکھیں تو لگتا یہ ہے کہ اس 'مائنس ون فارمولے‘ پر عدالتوں کے ذریعے عمل کرایا جائے گا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''پاکستان میں پہلے ذوالفقارعلی بھٹو کو عدالت کے ذریعے مائنس کیا گیا۔ پھر یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کو بھی عدالتوں ہی کے ذریعے مائنس کیا گیا۔ تو اب بھی ایسا ہی لگ رہا ہے کہ عمران خان کو بھی عدالت کے ذریعے ہی مائنس کیا جائے گا۔‘‘

’مقابلہ سیاسی میدان میں ہونا چاہیے‘

پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر لطیف آفریدی کا کہنا ہے کہ سیاست دانوں کا مقابلہ سیاسی میدان میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''حالانکہ عمران خان نے سیاست اور جمہوریت کو بہت نقصان پہنچایا ہے، لیکن پھر بھی کسی ادارے کو یہ استحقاق حاصل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کسی بھی سیاست دان کو سیاست سے باہر کر دے یا مائنس ون کا کوئی فارمولا لے کر آئے۔‘‘

 Pakistan Nawaz Sharif
سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے سابق سربراہ نواز شریف، انہیں بھی عدالت نے نااہل قرار دے دیا تھاتصویر: K.M. Chaudary/AP/dpa/picture alliance

’قومی جرگہ بلایا جائے‘

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سیاست داں حاجی لشکری رئیسانی کا کہنا ہے کہ سیاست میں غیر سیاسی قوتوں کی مداخلت کے خلاف قومی جرگہ بلایا جانا چاہیے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''اس قومی جرگے میں اس بات کا عہد کیا جانا چاہیے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کا احترام کیا جائے گا۔ جمہوریت کو حقیقی معنوں میں طرز سیاست کے طور پر اپنایا جائے گا۔ سیاست میں غیر سیاسی قوتوں کی مداخلت کو ختم کیا جائے گا۔ قوموں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا جائے گا، ان کے حقوق کا احترام کیا جائے گا اور اقتدار کا واحد راستہ جمہوریت ہی کو قرار دیا جائے گا۔‘‘

لشکری رئیسانی کے مطابق اگر ان اصولوں کو مان لیا جائے تو پھر سیاست دان کے خلاف کوئی بھی 'مائنس ون فارمولہ‘ لے کر نہیں آ سکے گا۔

مائنس ون کی حالیہ تاریخ

کئی ناقدین کا خیال ہے کہ مائنس ون کی موجودہ لہر کا آغاز دو ہزار تیرہ میں ہوا، جب ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کو سیاست سے بے دخل کرنے کی بات کی گئی۔ کئی مبصرین کے مطابق ایم کیو ایم کے بانی اپنی 'بھیانک سیاسی غلطیوں‘ کے باعث خود ہی سیاست سے مائنس ہو گئے اور انہیں ان کی پارٹی نے ہی نکال دیا۔

اسی عمل کے تحت نواز شریف کو عدالت کے ذریعے مائنس کرایا گیا اور یہاں تک کہ بعد میں ان کے لیے پارٹی کی قیادت کرنا بھی مشکل ہو گیا۔ اس عمل میں سابق صدر آصف علی زرداری نے کسی نہ طرح اپنے آپ کو بچا لیا لیکن ان کی پیپلز پارٹی صرف سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی۔

سیاست دانوں کو خوشیاں نہیں منانا چاہییں

کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ ن کی خواہش ہے کہ عمران خان کو نا اہل قرار دے دیا جائے تاکہ اس پارٹی کے لیے سیاسی میدان خالی ہو جائے۔ تاہم کچھ مبصرین ایسی خواہشات کو سیاسی طور پر انتہائی خطرناک بھی قرار دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں اس سے سیاست اور سیاست دانوں دونوں کو بہت نقصان ہو گا۔ حبیب اکرم کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بھی ''خواہش سیاسی ناپختگی کو ظاہر کرتی ہے، جو جہموریت اور سیاست دونوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔‘‘

لشکری رئیسانی بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ سیاست دانوں کو سیاست سے غیر جمہوری انداز میں نکالنا کسی بھی طرح کسی جمہوری معاشرے کو زیب نہیں دیتا۔ لشکری رئیسانی کے مطابق عمران خان کو بخوبی علم ہے کہ وہ کس طرح اقتدار میں آئے اور ان کو اب سیاست سے آؤٹ کون کرنا چاہتا ہے۔

رئیسانی نے کہا، ''حالانکہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں کچھ ایسی بدترین مثالیں قائم کیں، جن سے ان کی سیاست، ملکی سیاست اور سیاست دانوں سبھی کو بہت نقصان پہنچا۔ لیکن پھر بھی میں سیاست دانوں کو مائنس ون کے فارمولے کے ذریعے ہٹانے کی حمایت نہیں کر سکتا۔‘‘