جنرل اسمبلی سے عمران خان کا خطاب: بھارت اور افغانستان پر خصوصی توجہ | حالات حاضرہ | DW | 25.09.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جنرل اسمبلی سے عمران خان کا خطاب: بھارت اور افغانستان پر خصوصی توجہ

وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے عالمی برادری سے فوری اقدامات کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندو انتہاپسندی مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے لیے خطرہ بن گئی ہے -

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76ویں اجلاس سے جمعے کو اپنے ورچوئل خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے بھارت میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ہندو انتہاپسندی اور مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے مبينہ مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ”بھارت میں ہندوتوا کی سوچ والے انتہا پسند ملکی مسلمانوں کو مٹانا چاہتے ہیں۔ ہندو انتہا پسند بھارت میں مساجد پر حملے کر رہے ہیں۔"

عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت میں ہندو انتہاپسندوں نے کی 20 کروڑ کی مسلم آبادی کے خلاف'خوف و تشدد کا بازار گرم‘ کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے لنچنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات، مسلمانوں کے قتل کے واقعات اور جانبدارانہ شہریت قوانین کا حوالہ دیا۔ انہوں نے مزید کہا، ”بھارت کے فوجی تیاریوں، جدید ترین جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور روایتی صلاحیتوں کو غیر مستحکم کرنے کے اقدامات دونوں ملکوں کے مابین باہمی تدارک کو تباہ کر سکتے ہیں۔"

جنوبی ایشیا میں امن کا دار و مدار مسئلہ کشمیر کے حل پر

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اپنے دیگر ہمسایوں کی طرح بھارت کے ساتھ بھی امن کا خواہش مند ہے لیکن جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا دارومدار جموں و کشمیر کے مسئلے کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونے میں ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت میں ہندو انتہاپسندوں نے مسلم آبادی کے خلاف'خوف و تشدد کا بازار گرم‘ کر رکھا ہے

عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت میں ہندو انتہاپسندوں نے مسلم آبادی کے خلاف'خوف و تشدد کا بازار گرم‘ کر رکھا ہے

عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے اس سال کے اوائل میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے سن 2003 کے معاہدے کی تجدید کی تھی اور امید تھی کہ اس سے نئی دہلی کی 'اسٹریٹیجک سوچ‘ میں تبدیلی آئے گی تاہم بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارت کی اشتعال انگیز کارروائیوں اور انسانی حقوق کی مبينہ خلاف ورزیوں نے ماحول کو مزید خراب کر دیا ہے۔

خان نے بھارت پر زور دیا کہ وہ 'بامعنی اور نتیجہ خیز‘ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول تیار کرے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ 5 اگست 2019کے اس فیصلے کو واپس ليا جائے جس کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کر دیا گیا تھا۔

بھارت: ’ہم دیکھیں گے کہ پاکستان افغانستان میں کیا کرتا ہے‘

عمران خان نے کشمیری عوام کے خلاف مبينہ زیادتیوں کو بند کرنے اور انسانی حقوق کی مبينہ خلاف ورزیوں کو روکنے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، ”بھارت کی افواج نے کشمیر میں 13 ہزار سے زائد کشمیریوں کو اغوا کیا اور سینکڑوں کو ماورائے عدالت قتل کیا۔ بھارتی سکیورٹی فورسز کشمیر میں اجتماعی سزاؤں کے اصول پر کام کر رہی ہیں اور انتظامیہ کشمیر کو مسلم اکثریتی سے مسلم اقلیتی علاقہ بنانا چاہتی ہے۔"

 سید علی شاہ گیلانی

سید علی شاہ گیلانی

سید علی گیلانی کا ذکر

اقوام متحدہ سے اپنے خطاب میں وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ بھارت کی کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جنیوا کنونشن کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر کے متعدد سینئر رہنماؤں کو جیلوں میں ڈال رکھا ہے۔

سینئر کشمیری رہنما سید علی شاہ گیلانی کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان نے کہا، ”بھارتی فورسز نے کشمیری رہنما سید علی گیلانی کو اپنی وصیت کے مطابق اور اسلامی عقائد کے مطابق تدفین سے بھی روک دیا۔ وہ ان کی میت کو زبردستی چھین کر لے گئے اور ان کے رشتہ داروں کو بھی نماز جنازہ میں شرکت کی اجاز ت نہیں دی گئی۔"

پاکستانی وزیر اعظم نے اقوام متحدہ سے 91 سالہ بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی کی مناسب طریقے سے تدفین اور آخری رسومات ادا کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔

’ہم سوگوار تھے اور پولیس ہمارے والد کی میت لے گئی‘، نسیم گیلانی

عمران خان نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی حکومت کی کارروائیوں پر عالمی برادری کی خاموشی کی بھی نکتہ چینی کی۔انہوں نے کہا،”انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کا یہ رویہ افسوس ناک ہے، بہت افسوس ناک ہے بلکہ جانبدارانہ بھی ہے۔"  ان کا کہنا تھا،”سیاسی مفادات یا کارپویٹ مفادات، تجارتی مفادات بالعموم بڑی طاقتوں کو اپنے 'متعلقہ‘ ملکوں کی زیادتیوں کو نظر انداز کر دینے کے لیے مجبور کر دیتے ہیں۔"

عمران خان نے کہا کہ امریکا کا اتحادی بننے کی پاکستان کو بھاری قیمت چکانی پڑی ہے

عمران خان نے کہا کہ امریکا کا اتحادی بننے کی پاکستان کو بھاری قیمت چکانی پڑی ہے

امریکا سے شکوہ

عمران خان نے کہا کہ امریکا کا اتحادی بننے کی پاکستان کو بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جنگ کا سب سے زیادہ نقصان افغانستان کے بعد پاکستان کو ہوا، 80 ہزار پاکستانی مارے گئے اور 150ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔لیکن اس کے باوجود پاکستان کی تعریف کرنے کے بجائے مغربی ممالک اسی پر الزام لگاتے ہیں۔

افغانستان سے متعلق امریکا اور پاکستان میں پہلی بات چیت

عمران خان کا کہنا تھا کہ سن اسّی کی دہائی میں افغانستان پر سوویت قبضے کے بعد پاکستان کو روس کے خلاف استعمال کیا گیا، پاکستان اور امریکا نے 'مجاہدین‘ کو لڑنے کی تربیت دی اور انہیں '،مجاہدین‘ میں سے ایک گروہ القاعدہ بھی تھا۔ سوویت فوج کے جانے کے بعد امریکا نے پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا جہاں 50 لاکھ پناہ گزین بھی آ گئے تھے۔”ہمار ے یہاں مذہبی فرقہ پرستی پھیلانے والے عسکری گروپس آ گئے جن کا پہلے کوئی وجود نہیں تھا۔ ”

انہوں نے کہا کہ 2004 اور 2014 کے درمیان 50 مختلف عسکری گروپ پاکستان کی ریاست پر حملہ آور تھے، اور آئے دن ملک میں بم دھماکے ہوتے رہتے تھے۔

عمران خان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ افغانستان سے منہ نہ موڑا جائے کیونکہ وہاں شدید انسانی بحران کا خدشہ ہے

عمران خان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ افغانستان سے منہ نہ موڑا جائے کیونکہ وہاں شدید انسانی بحران کا خدشہ ہے

افغانستان پر کیا کہا؟

افغانستان میں موجودہ صورت حال پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اگر آج دنیا یہ جاننا چاہتی ہے کہ کیوں طالبان واپس اقتدار میں آ گئے ہیں تو اسے پر تفصیلی جائزہ لینا ہوگا کہ کیوں تین لاکھ افغانوں کی تربیت یافتہ فوج بھاگ کھڑی ہوئی۔ ”اس کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا تو دنیا کو معلوم ہوجائے گا کہ طالبان اقتدار میں واپس کیوں آئے ہیں اور یہ پاکستان کی وجہ سے نہیں ہے۔"

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ افغانستان سے منہ نہ موڑا جائے کیونکہ وہاں شدید انسانی بحران کا خدشہ ہے۔ بحران سے دوچار افغانستان ایک بار پھر بین الاقوامی دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن جائے گا، جس سے ہمسایہ ملکوں کو ہی خطرہ ہوگا۔وزیر اعظم پاکستان نے کہا،”آگے جانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ہم افغان عوام کی خاطر لازمی طور پر موجودہ حکومت کو مستحکم کریں۔"

افغانستان کی مالی مدد: چین، پاکستان اور قطر سب سے آگے

انہوں نے کہا کہ طالبان نے انسانی حقوق کے احترام، شمولیتی حکومت اور اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کے ہاتھوں استعمال نہ ہونے کے وعدے کیے ہیں تو اگر عالمی برادری ان کی حوصلہ افزائی اور ان کے ساتھ بات چیت کرتی ہے تو یہ سب کے لیے کامیابی ہو گی۔”اگر دنیا اس سمت میں آگے بڑھنے کے ليے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے تو امریکی اتحاد کی افغانستان میں 20 سال کے دوران کی جانے والی کوششیں ضائع نہیں ہوں گی۔"

عمران خان نے کووڈ انیس سے پید ا شدہ صورت حال اور موسمياتی تبدیلی وغیرہ جیسے دیگر امور پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی آج ہفتے کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔

ج ا / ع س (اے پی، ایجنسیاں)