1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Indien Tihar Gefängnis in New Delhi
تصویر: ROBERTO SCHMIDT/AFP/GettyImages
معاشرہبھارت

بھارت میں 461 پاکستانی اور پاکستان میں 682 بھارتی قید

جاوید اختر، نئی دہلی
2 جولائی 2022

بھارت اور پاکستان نے اپنی جیلوں میں بند ایک دوسرے کے قیدیوں کی تازہ ترین فہرست کا یکم جولائی کو تبادلہ کیا۔ اس کے مطابق بھارت کی مختلف جیلوں میں اس وقت461 پاکستانی اور پاکستانی جیلوں 682 بھارتی قید ہیں۔

https://www.dw.com/ur/%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-461-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-682-%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%D8%AA%DB%8C-%D9%82%DB%8C%D8%AF/a-62336495

بھارت اور پاکستان سن 2008 کے قیدیوں کو قونصلر رسائی کے حوالے سے ایک معاہدے کے تحت اپنے اپنے یہاں کی جیلوں میں موجود دوسرے ملک کے قیدیوں کی فہرست کا تبادلہ سال میں دو مرتبہ، یکم جنوری اور یکم جولائی کو کرتے ہیں۔

نئی دہلی میں بھارتی وزارت خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کو جو فہرست سونپی ہے اس کے مطابق اس وقت پاکستان کی مختلف جیلوں میں 682 بھارتی قیدی موجود ہیں۔ ان میں 49 سویلین اور 633 ماہی گیر ہیں۔ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو بھی اسی طرح کی ایک فہرست سونپی گئی جس کے مطابق بھارت کی مختلف جیلوں میں اس وقت 461 پاکستانی موجود ہیں ان میں 345 سویلین اور 116 ماہی گیر شامل ہیں۔

 بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان 536 بھارتی ماہی گیروں اور تین سویلین قیدیوں کو فوراً رہا کرکے بھارت واپس بھیج دے جنہوں نے اپنی سزائیں مکمل کرلی ہیں اور جن کی قومیت کی بھی تصدیق ہوچکی ہے۔ بھارت نے پاکستان سے ان 105 ماہی گیروں اور 20 شہری قیدیوں کو فوراً قونصلر رسائی کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا جن کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ وہ بھارتی شہری ہیں۔

Bildergalerie Die Hochsicherheitsgefängnisse der Welt | Arthur Road Gefängnis, Indien
تصویر: Getty Images/AFP/I. Mukherjee

بیان میں کہا گیا ہے، ''بھارتی حکومت پاکستان میں قید اپنے سویلین قیدیوں، لاپتہ بھارتی دفاعی اہلکاروں اور ماہی گیروں کو ان کی کشتیوں سمیت فوراً رہا کرنے اور بھارت کے حوالے کرنے کی درخواست کرتی ہے۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے، ''پاکستان سے ان 356 بھارتی ماہی گیروں اور تین سویلین قیدیوں کو فوراً رہا کرنے اور بھارت کے حوالے کرنے کے اقدامات تیز کرنے کی اپیل کی گئی ہے جنہوں نے اپنی سزائیں مکمل کرلی ہیں اور جن کی قومیت کی تصدیق ہوچکی ہے۔‘‘

نئی دہلی نے مزید کہا کہ اس نے پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی طرف سے ان 57 پاکستانی قیدیوں کی قومیت کی تصدیق کے لیے ضروری اقدامات تیز کرے جو وطن واپسی کے لیے پاکستان کی جانب سے قومیت کی تصدیق کے منتظر ہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت تمام انسانی بشمول ایک دوسرے کے ملکوں کے قیدیوں اور ماہی گیروں کے حوالے سے امور کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے عہد کا پابند ہے۔

دریں اثناء پاکستانی میڈیا کے مطابق پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار احمد نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سزائیں مکمل کرنے والے پاکستانی شہریوں کی جلد سے جلد رہائی یقینی بنائے اور کورونا وبا کی وجہ سے پاکستانی قیدیوں کو سہولتیں مہیا کی جائیں۔

Indien Monsunregen & Überschwemmungen in Kerala
تصویر: picture-alliance/AP Photo/P. Elamakkara

ماہی گیروں کی گرفتاریاں ایک اہم مسئلہ

بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کے ماہی گیروں کو سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے کے نتیجے میں اکثر گرفتار کرتے رہتے ہیں۔ عام طور پر یہ ماہی گیر جدید نیویگیشن ٹیکنالوجی نہ ہونے کے سبب مچھلیاں پکڑنے کے لیے ہمسایہ ملک کے پانیوں میں داخل ہوجاتے ہیں۔ بحریہ کی سکیورٹی فورسز ان بھٹکے ہوئے ماہی گیروں کی کشتیاں ضبط کر کے انہیں جیلوں میں ڈال دیتی ہیں۔ عام طور پر یہ ماہی گیر کئی سال بغیر کسی عدالتی کارروائی کے جیلوں میں گزار دیتے ہیں۔ بعد ازاں ان ماہی گیروں کو دونوں ممالک کے مابین مذاکرات کے بعد رہا کر دیا جاتا ہے۔

 دونوں ملکوں کے سویلین شہریوں کی گرفتاریاں اکثر ویزا کی طے شدہ مدت سے زیادہ قیام یا ایسے شہروں اور مقامات کا سفر کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے جہاں جانے کی انہیں اجازت نہیں دی جاتی۔

بھارت اور پاکستان کی جیلوں میں بند ایک دوسرے ملکوں کے قیدیوں کے مسائل پر غورو خوض کے لیے سن 2007 میں بھارت۔پاک مشترکہ عدالتی کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ آٹھ ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل اس کمیٹی میں دونوں ملکوں کے چار چار جج شامل ہیں۔  اس کا بنیادی مقصد سویلین قیدیوں پرعائد الزامات کی تفتیش کرنا اور ان کی رہائی میں مدد کرنا ہے۔

اس کمیٹی نے سن 2011 میں کراچی، لاہور، راولپنڈی، امرت سر، جے پور اور دہلی کے تہاڑ جیل کے دورے کیے تھے تاہم کمیٹی سن 2013میں تعطل کا شکار ہوگئی۔ البتہ سن 2018 سے اس نے دوبارہ کام شروع کردیا ہے۔

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Israel | Palästinenser | Raketenangriffe aus dem Gzsastreifen

مصری ثالثی سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ بندی

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں