بن لادن کے بیٹے کی خاندان کو رہا کروانے کی کوشش | حالات حاضرہ | DW | 30.06.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بن لادن کے بیٹے کی خاندان کو رہا کروانے کی کوشش

اسامہ بن لادن کے ایک بیٹے کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں زیر حراست اپنے اہل خانہ کو اقوام متحدہ کے ذریعے رہا کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔

عمر بن لادن اپنی برطانوی اہلیہ جین فیلکس براؤن کے ساتھ

عمر بن لادن اپنی برطانوی اہلیہ جین فیلکس براؤن کے ساتھ

دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کے بیٹے عمر بن لادن کا کہنا کہ اسے شبہ ہے کہ بن لادن ہلاک ہوا بھی ہے یا نہیں۔ خیال رہے کہ بن لادن کو امریکی اسپیشل فورسز نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ایک خفیہ فوجی آپریشن کے دوران ہلاک کردیا تھا۔ بن لادن کے کمپاؤنڈ میں اس کی دو بیویاں اور بچے بھی تھے جو کہ اس وقت پاکستان میں زیر حراست ہیں۔ عمر بن لادن کا کا کہنا ہے امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے اس کے والد کی تصاویر شائع نہ کرنے کے سبب شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں۔

عمر بن لادن کا کہنا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ذریعے پاکستان میں مقید اسامہ کے خاندان کو رہا کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ’’ میں پاکستانی حکمرانوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ بن لادن کے اہل خانہ جہاں جانا چاہتے ہیں وہ اس میں ان کی مدد کریں۔ پاکستانی حکومت ان کو تحفظ دے کیوں کہ وہ معصوم بچے اور خواتین ہیں۔‘‘

Osama bin Laden / Pakistan / USA

دو مئی کو امریکی فورسز نے اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں ایک فوجی کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا تھا

عمر بن لادن، جو ایک خودنوشت کا مصنف بھی ہے، قطر کے دارالحکومت میں قیام پزیر ہے جہاں وہ قطر بن لادن گروپ کا آغاز کرنا چاہتا ہے۔ خیال رہے کہ بن لادن گروپ کے سعودی عرب سمیت کئی ممالک میں تعمیرات اور ریئل اسٹیٹ جیسے کاروبار ہیں۔

عمر بن لادن کا کہنا ہے کہ اس کی بہن فاطمہ اور اس کے شوہر کے علاوہ اس کے خاندان کے تمام افراد ایران چھوڑ چکے ہیں، جہاں انہوں نے سن دو ہزار گیارہ کے بعد پناہ لے لی تھی۔

عمر بن لادن نے اسامہ کی ہلاکت پر تو شبے کا اظہار کیا تاہم یہ اعتراف کیا کہ امریکی کارروائی میں اس کا بھائی خالد مارا گیا تھا۔ ’میں نے اس کی تصویر دیکھی ہے، اور وہ اس کی ہے،‘‘ عمر بن لادن کے الفاظ۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM