برلسکونی کے حلیف انتونیو تاجانی یورپی پارلیمان کے نئے اسپیکر | حالات حاضرہ | DW | 18.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برلسکونی کے حلیف انتونیو تاجانی یورپی پارلیمان کے نئے اسپیکر

اٹلی کے سابق وزیر اعظم سلویو برلسکونی کے اتحادی اطالوی سیاستدان انتونیو تاجانی کو یورپی پارلیمان کا نیا اسپیکر منتخب کر لیا گیا ہے۔ تریسٹھ سالہ سابق صحافی تاجانی کا تعلق یورپی پارلیمان میں قدامت پسندوں کی پارٹی سے ہے۔

Frankreich Antonio Tajani im EU-Parlament in Straßburg (Reuters/C. Hartmann)

یورپی پارلیمان کے نو منتخب اسپیکر انتونیو تاجانی

فرانس کے شہر اسٹراسبرگ سے بدھ اٹھارہ جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق انتونیو تاجانی ماضی میں اطالوی نشریاتی ادارے Rai کے علاوہ ’اِل جیورنالے‘ نامی اخبار سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں اور سیاست میں سابق اطالوی وزیر اعظم سلویو برلسکونی ایک طرح سے ان کے استاد رہے ہیں۔

انتونیو تاجانی برلسکونی کی جماعت ’فورسا اِٹالیا‘ کے بانی ارکان میں سے ایک ہیں، جنہیں اب تک یورپی سیاست کا بھی بہت تجربہ ہو چکا ہے۔ ان کے بارے میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اپنے بہت مہنگے اور جدید وضع کے لباس اور بہت قیمتی گھڑیاں پسند کرنے کی وجہ سے مشہور تاجانی کا منگل سترہ جنوری کی رات یورپی پارلیمان کے اسپیکر کے طور پر انتخاب کافی غیر متوقع تھا۔

تاجانی ایک بہت اچھے مقرر ہیں اور انہیں اطالوی کے علاوہ کئی غیر ملکی زبانوں پر بھی مکمل دسترس حاصل ہے، جن میں انگریزی، فرانسیسی اور ہسپانوی زبانیں بھی شامل ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق تاجانی کے بارے میں یورپی پارلیمان کے ایک ذریعے نے تو مذاق کرتے ہوئے یہ بھی کہا، ’’وہ بولتے بہت ہیں لیکن کچھ کہتے نہیں ہیں۔‘‘

تاجانی کے انتخاب کے بعد اس موضوع پر اپنے ایک تفصیلی مراسلے میں اے ایف پی نے اسٹراسبرگ سے لکھا ہے کہ انتونیو تاجانی نے یورپی پارلیمان میں مرکز سے دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والے قدامت پسندوں کے دھڑے میں، جس کا نام یورپی پیپلز پارٹی یا EPP ہے، سابق اطالوی وزیر اعظم برلسکونی کے اثر و رسوخ کو وسعت دینے میں طویل عرصے تک کافی زیادہ کوششیں کیں۔

Frankreich | Berlusconi beginnt EU-Präsidentschaft mit Eklat (picture-alliance/dpa)

سابق اطالوی وزیر اعظم سلویو برلسکونی

تاجانی بظاہر برلسکونی سے اتنے متاثر ہیں کہ وہ انہی کی طرح کے بڑے اسٹائلش سیاہ رنگ کے سوٹ اور ٹائیاں پہنتے ہیں، وہ اگر کسی سے ملتے ہیں تو بڑی مضبوطی سے ہاتھ ملاتے ہیں اور اپنے ہشاش بشاش نظر آنے کو بھی بڑی اہمیت دیتے ہیں۔

تاجانی کا یورپی پارلیمان کے اسپیکر کے طور پر انتخاب یورپی پیپلز پارٹی کے سربراہ مانفریڈ ویبر کے لیے اس وجہ سے ایک دھچکا ہے کہ تاجانی ویبر کے حمایت یافتہ امیدوار نہیں تھے۔

ویبر کے ایک قریبی سیاسی ساتھی نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا، ’’تاجانی صنعتی شعبے کے ساتھ اپنے تعلقات کی وجہ سے بہت متنازعہ ہیں اور ان پر برلسکونی کی چھاپ بھی بہت گہری ہے۔‘‘

یورپی پارلیمان کے جرمنی سے تعلق رکھنے والے رکن آندریاز شواب نے تاجانی کے انتخاب کے بارے میں کہا، ’’یورپی پیپلز پارٹی یورپی پارلیمان میں منتخب ارکان کا سب سے بڑا حزب ہے۔ انتونیو تاجانی اس لیے منتخب کر لیے گئے کہ وہ ہمیشہ مخلص رہے ہیں اور ہر رکن پارلیمان انہیں ذاتی طور پر جانتا ہے۔‘‘

نئے اسپیکر کے بارے میں یہ بات بھی مشہور ہے کہ ان کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ وہ اس 751 رکنی ایوان کے نہ صرف ہر منتخب رکن کو ذاتی طور پر جانتے ہیں بلکہ وہ اب تک 28 رکنی یورپی یونین کے انتظامی بازو یورپی کمیشن کی اعلیٰ قیادت سے بھی بہت اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔

Frankreich Antonio Tajani und Martin Schulz im EU-Parlament in Straßburg (Reuters/C. Hartmann)

یورپی پارلیمان کے موجودہ اسپیکر اور جرمن سوشل ڈیموکریٹ سیاستدان مارٹن شُلس، دائیں، اٹلی کے انتونیو تاجانی کو نیا اسپیکر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے

تاجانی 1994ء سے یورپی پارلیمان کے رکن چلے آ رہے ہیں اور وہ دو ہزار آٹھ سے لے کر دو ہزار دس تک یورپی یونین کے ٹرانسپورٹ سے متعلقہ امور کے نگران کمشنر اور دو ہزار دس سے دو ہزار چودہ تک صنعتی امور کے یورپی کمشنر بھی رہ چکے ہیں۔

انتونیو تاجانی کے یورپی پارلیمان کے اسپیکر کے طور پر انتخاب کے سلسلے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ تاجانی جرمنی سے تعلق رکھنے والے سوشل ڈیموکریٹ مارٹن شُلس کے جانشین منتخب ہوئے ہیں، جن کے اپنے سیاسی کیریئر کے بہت اونچائی تک پہنچنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ یورپی سطح پر سلویو برلسکونی اور ان کی سیاست کے بڑے لیکن اصول پسند ناقد تھے۔

مارٹن شُلس کے دور میں یورپی پارلیمان کے اسپیکر کا عہدہ اتنا مضبوط اور نمایاں ہو گیا تھا جتنا اس سے پہلے کبھی نہیں تھا۔ لیکن تاجانی اپنے پیش رو شُلس کے مقابلے میں مختلف حکمت عملی اپنائیں گے۔ اس کا ایک ثبوت ان کا اپنے انتخاب سے قبل بار بار دیا جانے والا یہ بیان ہے، ’’ہمیں یورپی پارلیمان کے بہت طاقت ور اسپیکر کی نہیں، بہت مضبوط یورپی پارلیمان کی ضرورت ہے۔‘‘

DW.COM