غزہ میں فلسطینی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اب 66 ہزار سے زائد
وقت اشاعت 28 ستمبر 2025آخری اپ ڈیٹ 28 ستمبر 2025
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- غزہ پٹی میں فلسطینی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اب 66 ہزار سے زائد، 168,162 زخمی
- چین کے سابق وزیر زراعت کو رشوت کے جرم میں سزائے موت سنا دی گئی
- اسرائیلی ٹینک غزہ سٹی کے رہائشی علاقوں میں مزید اندر تک پہنچ گئے، مزید اکیس فلسطینی ہلاک
- تامل ناڈو ریلی میں بھگدڑ میں درجنوں ہلاکتیں، اداکار سیاست دان کی پارٹی قیادت کے خلاف مقدمہ
- روس کے یوکرین پر 500 ڈرونز اور 40 سے زائد میزائلوں کے ساتھ بڑے حملے، چار افراد ہلاک
- ’دہشت گردی کے مرکز‘ پاکستان کو کوئی رعایت نہ دی جائے، بھارتی وزیر خارجہ
- ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق تنازعہ: اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ
غزہ میں فلسطینی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اب 66 ہزار سے زائد
غزہ پٹی کی قریب دو سال سے جاری اسرائیل اور حماس کی جنگ میں فلسطینی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اب 66 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔ یہ بات غزہ پٹی کی وزارت صحت نے اتوار 28 ستمبر کے روز بتائی۔
مصری دارالحکومت قاہرہ سے ملنے والی رپورٹوں میں غزہ پٹی کی حماس کے زیر انتظام کام کرنے والی وزارت صحت کے اعلیٰ حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ سات اکتوبر 2023ء کو شروع ہونے والے اس جنگ میں آج اتوار کی سہ پہر تک فلسطینی ہلاکتوں کی کُل تعداد 66,005 ہو گئی تھی جبکہ زخمیوں کی مجموعی تعداد بھی 168,162 بنتی ہے۔
وزارت صحت کے مطابق ان مرنے والوں میں 79 ایسے شدید زخمی افراد بھی شامل ہیں، جنہیں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران علاج کے لیے مختلف مقامی ہسپتالوں میں لایا گیا تھا۔
اسی دوران غزہ پٹی میں طبی اور امدادی کارکنوں نے بتایا کہ آج اتوار کو جنگ سے تباہ شدہ اس تنگ ساحلی پٹی میں مزید 21 افراد مارے گئے۔ غزہ سٹی کے الناصر نامی علاقے میں ایک فضائی حملے میں مارے جانے والے پانچ فلسطینیوں کے علاوہ وسطی غزہ پٹی میں رہائشی مکانات پر کیے جانے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں بھی کم از کم 16 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
اس کے علاوہ وسطی غزہ پٹی میں مقامی ہسپتالوں کے ذرائع نے نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ 10 دیگر افراد اس وقت مارے گئے جب نصیرات کے مہاجر کیمپ میں کم از کم دو فضائی حملوں میں رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا گیا۔
غزہ پٹی کی جنگ سات اکتوبر 2023ء کو اسرائیل میں حماس کے اس بڑے دہشت گردانہ حملے کے فوری بعد شروع ہوئی تھی، جس میں 1200 سے زائد افراد مارے گئے تھے اور واپس غزہ جاتے ہوئے فلسطینی جنگجو تقریباﹰ 250 افراد کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ بھی لے گئے تھے۔ درجنوں اسرائیلی یرغمالی ابھی تک حماس کے قبضے میں ہیں۔
چین کے سابق وزیر زراعت کو رشوت کے جرم میں سزائے موت
چین میں زراعت اور دیہی امور کے سابق ملکی وزیر تانگ رین جیان کو صوبے جیلن کی ایک عدالت نے اتوار 28 ستمبر کو سزائے موت سنا دی۔
سرکاری نیوز ایجنسی شنہوا کے مطابق انہوں نے 2007ء سے لے کر 2024ء تک مختلف حکومتی عہدوں پر اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران کئی واقعات میں رشوت لی تھی اور ان کے خلاف یہ الزامات ثابت ہو گئے تھے۔
چین کے شہر شین ژین سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق تانگ رین جیان نے تقریباﹰ 17 برس کے عرصے کے دوران نقدی کے ساتھ ساتھ مختلف املاک کی صورت میں بھی جو رشوت وصول کی، اس کی مجموعی مالیت تقریباﹰ 268 ملین یوآن یا 37.6 ملین امریکی ڈالر کے برابر بنتی تھی۔
سابق وزیر زراعت کو یہ سزا چانگ چُن کی پیپلز کورٹ نے سنائی تاہم ان کی سزائے موت پر فوری طور پر عمل درآمد نہیں کیا جائے گا، بلکہ انہیں اس سے قبل دو سال کی مہلت دے دی گئی ہے۔
سابق وزیر نے اعترف جرم کر لیا تھا
عدالت کے مطابق ایسا جزوی معافی کے طور پر اس لیے کیا گیا کہ سابق وزیر نے دوران سماعت اعتراف کر لیا تھا کہ وہ کئی مواقع پر رشوت خوری کے مرتکب ہوئے تھے۔
تانگ رین جیان کو نومبر 2024ء میں چینی کمیونسٹ پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنے عہدے سے بھی برطرف ہو گئے تھے اور ان کے خلاف کرپشن اور رشوت خوری کے الزمات کے تحت تحقیقات شروع کر دی گئی تھیں۔
تانگ رین جیان کے خلاف تفتیشی کارروائی غیر معمولی حد تک کم عرصے میں مکمل کی گئی۔ اسی طرح جیسے ان سے قبل ایسی ہی تفتیش کا سامنا ماضی میں سابق وزیر دفاع لی شانگ فُو اور ان کے پیش رو وزیر وے فینگ ہے کو بھی کرنا پڑا تھا۔
تانگ رین جیان ملکی وزیر زراعت بننے سے قبل 2017ء سے 2020ء تک مغربی چینی صوبے گانسُو کے گورنر بھی رہے تھے۔
اسرائیلی ٹینک غزہ سٹی کے رہائشی علاقوں میں مزید اندر تک پہنچ گئے، مزید اکیس فلسطینی ہلاک
فلسطینی علاقے غزہ پٹی کے سب سے بڑے شہری مرکز غزہ سٹی میں اسرائیلی فوجی دستے اتوار 28 ستمبر کو اس تباہ شدہ شہر کے رہائشی علاقوں کے مزید اندر تک پہنچ گئے۔
غزہ پٹی کے محکمہ صحت کے حکام نے کہا کہ انہیں تشویش ہے کہ غزہ شہر کے نئے عسکری ہدف بنائے گئے رہائشی علاقوں میں مکینوں کی صورت حال کیا ہے، کیونکہ امدادی کارکن اور ریسکیو ٹیمیں فوری مدد کے لیے کل اور آج کی جانے والی بیسیوں درخواستوں پر وہاں کسی بھی کارروائی یا ردعمل سے قاصر ہیں۔
عینی شاہدین اور طبی کارکنوں کے مطابق اسرائیلی ٹینک غزہ شہر کے مغربی علاقوں اور وسطی حصے میں اپنی موجودگی میں اضافہ کرتے ہوئے صابرہ، تل الہوا، شیخ رضوان اور الناصر نامی علاقوں میں بہت اندر تک پہنچ گئے ہیں۔
مزید کم از کم 21 فلسطینی ہلاک
اسرائیلی فوج نے ملکی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے غزہ سٹی کو پوری طرح کنٹرول میں لے لینے کے فیصلے کے بعد اس شہر میں اپنی وسیع تر زمینی عسکری کارروائیوں کا آغاز 16 ستمبر کو کیا تھا۔
اس سے قبل کئی ہفتوں تک اسرئیلی فضائیہ غزہ سٹی پر مسلسل گولہ باری کرتی رہی تھی، تاکہ اس شہر میں تب تک موجود لاکھوں فلسطینیوں کو بھی وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا جا سکے۔
اسی دوران اسرائیلی فوج کی طرف سے اتوار کے روز بتایا گیا کہ وہ غزہ سٹی میں اپنی عسکری کارروائیوں کو وسعت دیتی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ پانچ ایسے فلسطینی، جنہوں نے اسرائیلی دستوں پر ایک ٹینک شکن میزائل فائر کیا تھا، ایک فضائی حملے میں مارے گئے۔
فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق اتوار کی صبح سے سہ پہر تک غزہ پٹی میں مزید کم از کم 21 فلسطینی، اسرائیلی زمینی اور فضائی حملوں میں مارے گئے۔ غزہ سٹی کے الناصر نامی علاقے میں ایک فضائی حملے میں مارے جانے والے پانچ افراد کے علاوہ وسطی غزہ پٹی میں رہائشی مکانات پر کیے جانے والے حملوں میں بھی کم از کم 16 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
نیتن یاہو کی ٹرمپ سے ملاقات
ان دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے امریکہ گئے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کل پیر 29 ستمبر کو واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ایک ملاقات کرنے والے ہیں۔
قوی امید ہے کہ اس ملاقات میں غزہ پٹی میں جنگ بندی کی کوششوں کے حوالے سے بھی بات ہو گی۔ قبل ازیں وزیر اعظم نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں، جس کا وہاں موجود بہت سے ممالک کے رہنماؤں نے بائیکاٹ کیا تھا، کہا تھا کہ غزہ میں جاری جنگ ’’حماس کے خلاف کام مکمل ہونے تک‘‘ جاری رہے گی۔
اس دوران اسرائیل اپنے اس مطالبے پر بھی قائم ہے کہ غزہ پٹی میں جنگ بندی کے لیے فلسطینی عسکرت پسند تنظیم حماس کو تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنا اور اپنے ہتھیار پھینکنا ہوں گے۔
ثالثوں سے کوئی نئی سیزفائر تجویز نہیں ملی، حماس
ادھر قاہرہ سے ملنے والی رپورٹوں میں فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے اتوار 28 ستمبر کے اس بیان کا حوالہ دیا گیا ہے کہ اسے ابھی تک غزہ کے تنازعے میں ثالثی کرنے والے ممالک کے نمائندوں کی طرف سے کوئی نئی جنگ بندی تجویز موصول نہیں ہوئی۔
حماس نے اپنا آج کا یہ بیان اس تناظر میں دیا ہے کہ پرسوں جمعے کو امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’’غزہ سے متعلق ایک معاہدہ‘‘ ممکن ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
غزہ کی جنگ سات اکتوبر 2023ء کو اسرائیل میں حماس کے اس بڑے دہشت گردانہ حملے کے فوری بعد شروع ہوئی تھی، جس میں 1200 سے زائد افراد مارے گئے تھے اور واپس غزہ جاتے ہوئے فلسطینی جنگجو تقریباﹰ 250 افراد کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ بھی لے گئے تھے۔
اس حملے کے فوری بعد اسرائیل نے حماس کے خلاف غزہ پٹی میں زمین، فضا اور سمندر سے جو حملے شروع کیے تھے، وہ آج تک جاری ہیں اور ان میں 65 ہزار سے زائد فسلطینی مارے جا چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔
تامل ناڈو ریلی میں بھگدڑ میں درجنوں ہلاکتیں، اداکار سیاست دان کی پارٹی قیادت کے خلاف مقدمہ
ریاستی پولیس کے مطابق بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں ایک سیاسی ریلی کے دوران شرکاء میں بھگدڑ مچ جانے کے نتیجے میں کم از کم 39 ہلاکتوں کے بعد پچھلے سال سیاست میں آ جانے والے تامل اداکار وجے کی سیاسی جماعت کے رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ نوعیت کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
تامل ناڈر میں اگلے سال کے اوائل میں ریاستی انتخابات ہونا ہیں اور ان دنوں وہاں ان انتخابات کے لیے سیاسی مہم جاری ہے۔
بھگدڑ مچ جانے کا سانحہ ایک سیاسی ریلی کے دوران کل ہفتہ 27 ستمبر کی شام پیش آیا، جس میں 39 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں کئی بچے بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ اس بدامنی میں 50 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔
یہ ریلی مشہور تامل اداکار وجے کی قائم کردہ سیاسی جماعت کی طرف سے منعقد کرائی گئی تھی۔ انہوں نے علاقائی سیاست میں آ کر اپنی جو نئی جماعت قائم کی، اس کا نام تامیلاگا ویتری کازاگم (ٹی وی کے) ہے۔
ریلی کے شرکاء کی تعداد دو گنا سے بھی زیادہ
تامل ناڈر کی ریاستی پولیس کے اعلیٰ اہلکار وی سلواراج نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ تامیلاگا ویتری پارٹی کے متعدد سرکردہ رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ نوعیت کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر کے چھان بین شروع کر دی گئی ہے، جو اس بھگدڑ کی ذمے داری کی وجہ سے ان کے خلاف ’’ممکنہ طور پر باقاعدہ فرد جرم عائد کیے جانے کی طرف پہلا قدم‘‘ ہو سکتی ہے۔
پولیس کے مطابق ٹی وی کے نامی پارٹی نے اپنی ریلی کے لیے جس اجتماع کی اجازت طلب کی تھی، اس میں شرکاء کی تعداد 10 ہزار تک رہنے کی توقع تھی۔ تاہم پولیس کے مطابق وہاں جمع ہونے والا ہجوم شرکاء کی متوقع تعداد سے دو گنا سے بھی بڑا تھا۔
وجے نامی تامل اداکار گزشتہ تین دہائیوں سے تامل سینما کے انتہائی مقبول اور کامیاب ایکٹر ہیں، جنہوں نے اپنی جماعت ٹی وی کے کے قیام کا اعلان گزشتہ برس کیا تھا۔
انہوں نے تامل ناڈو کے ضلع کرُور میں ریلی کے دوران پیش آنے والے ہلاکت خیز سانحے پر ہلاک شدگان اور زخمیوں کے خاندانوں سے دلی افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
روس کے یوکرین پر پانچ سو ڈرونز اور چالیس سے زائد میزائلوں کے ساتھ بڑے حملے، چار افراد ہلاک
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روسی مسلح افواج نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب یوکرین پر بڑے فضائی حملے کیے، جن میں 500 جنگی ڈرونز اور 40 سے زائد میزائل فائر کیے گئے۔
یوکرینی صدر نے اتوار 28 ستمبر کی صبح کییف میں بتایا کہ ان نئے روسی جنگی حملوں میں یوکرین میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے جبکہ ملک کے سویلین انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلیگرام پر ایک پوست میں لکھا، ’’یوکرین کے خلاف اپنی جارحیت میں ماسکو جنگ اور انسانی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتا ہے اور وہ اس بات کا حقدار ہے کہ عالمی برادری اس پر اس جارحیت کو رکوانے کے لیے بھرپور دباؤ ڈالے۔‘‘
یوکرینی صدر نے مزید لکھا، ’’روس پہلے کی طرح اب بھی یوکرینی شہروں پر دہشت گردانہ حملے کر رہا ہے اور وہ دانستہ طور پر یوکرینی شہروں کی آبادی کو دہشت گردانہ کارروائیوں کا ہدف بنا رہا ہے۔‘‘
صدر وولودیمیر زیلنسکی کے مطابق 27 اور 28 دستمبر کی درمیانی رات یوکرین میں روسی ڈرون اور میزائل حملوں میں چار افراد کی ہلاکت کے علاوہ 40 سے زائد زخمی بھی ہو گئے۔
یوکرینی فوج کے ذرائع کے مطابق یہ روسی حملے تقریباﹰ 12 گھنٹے تک جاری رہے اور اس دوران دارالحکومت کییف، اس کے مضافات، زاپوریژیا اور اس کے نواحی علاقوں، میکولائیف اور اوڈیسا جیسے شہروں کو ہدف بنایا گیا۔
’دہشت گردی کے مرکز‘ پاکستان کو کوئی رعایت نہ دی جائے، بھارتی وزیر خارجہ
بھارت نے گزشتہ رات مطالبہ کیا کہ نئی دہلی کے الفاظ میں ’دہشت گردی کے مرکز‘ پاکستان کو کوئی رعایت نہ دی جائے اور عالمی برادری کو پاکستان کے حوالے سے اپنی آنکھیں بند نہیں رکھنا چاہییں۔
یہ بات بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے ہفتہ 27 ستمبر کی رات نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
سعودی عرب اور پاکستان میں دفاعی معاہدہ، بھارت کا ردعمل
عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ نے یہ بات پاکستان کی طرف سے اس موقف کے صرف ایک روز بعد کہی، جس میں اسلام آباد نے اپنے خلاف تمام بھارتی الزامات کو رد کرتے ہوئے جنرل اسمبلی کے اجلاس کو بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔
بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ’’دہشت گردی کی حمایت‘‘ کرتا ہے اور بین الاقوامی برادری کو دہشت گردی کے خلاف ’’بہت گہرے عالمی تعاون‘‘ کی ضرورت ہے۔
ایس سی او مشترکہ اعلامیہ میں بلوچستان، پہلگام حملوں کی مذمت
بھارتی وزیر نے اپنی تقریر میں پاکستان کا ایک بار بھی براہ راست نام لے کر ذکر نہیں کیا مگر ان کا اشارہ واضح تھا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کو اپنی آزادی کے بعد سے لے کر اب تک دہشت گردی کا سامنا ہے اور اب کئی دہائیاں ہو گئی ہیں کہ بڑے ’’بین الاقوامی دہشت گردانہ حملوں کا سراغ لگایا جائے، تو یہ سلسلہ واپس اسی ایک ملک تک جاتا ہے۔‘‘
ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق تنازعہ: اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ
ایران اور سرکردہ عالمی طاقتوں کے مابین طے پانے والے تاریخی جوہری معاہدے کے تقریباﹰ ایک عشرے بعد تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق پائے جانے والے تنازعے میں اقوام متحدہ کی سخت پابندیاں دوبارہ نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
ایسا عالمی وقت کے مطابق اتوار 28 ستمبر کی صبح اس وقت خود بخود ہو گیا، جب تہران اور اس کے ساتھ مذاکرات میں شریک E3 کہلانے والے تین یورپی ممالک جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے مابین کسی اتفاق رائے تک پہنچنے کے لیے طے کردہ میعاد کسی کامیابی کے بغیر ہی ختم ہو گئی۔
’اسنیپ بیک میکینزم‘
تہران کی برلن، پیرس اور لندن کے حکومتی نمائندوں کے ساتھ مکالمت کے بے نتیجہ رہنے کے بعد ان تینوں ممالک نے اگست کے آخر میں وہ طریقہ کار دوبارہ فعال کر دیا تھا، جس کے لیے ''اسنیپ بیک میکینزم‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔
اس طریقہ کار کے تحت اگلے 30 روز میں مزید کوئی پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی سخت پابندیاں دوبارہ مؤثر ہو جانا تھیں اور ایسا آج اتوار کی صبح ہو بھی گیا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف عالمی ادارے کی دوبارہ نافذ ہو جانے والی یہ پابندیاں وسیع تر اثرات کی حامل ہوں گی۔ ان کے تحت ایران کو ہتھیاروں کی فراہمی ممنوع ہے، ایرانی بینکوں اور مالیاتی شعبے کو بھی دوبارہ پابندیوں کا سامنا ہے اور ایران کو بہت سی تجارتی مصنوعات کی برآمد یا وہاں سے کسی دوسرے ملک میں درآمد پر بھی اب پابندی ہے۔
تہران حکومت کو، جسے پہلے ہی ملک میں افراط زر کی بہت اونچی شرح کا سامنا ہے، اب ان دوبارہ نافذ العمل ہو جانے والی پابندیوں کے باعث مزید اقتصادی مشکلات اور مالیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
عالمی سلامتی کونسل کی طرف سے میعاد میں توسیع کی مخالفت
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے خلاف ان پابندیوں کے دوبارہ مؤثر ہو جانے سے کچھ ہی دیر پہلے اس سلسلے میں طے شدہ ڈیڈ لائن میں توسیع کی تجویز مسترد کر دی تھی۔
اس بارے میں سلامتی کونسل میں ایک مسودہ قرارداد ایران کی حلیف ریاستوں چین اور روس کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔ تاہم 15 رکنی سلامتی کونسل کے نو رکن ممالک نے اس قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے تہران کو اس کے متنازعہ جوہری پروگرام سے متعلق کسی تصفیے تک پہنچنے کے لیے مزید کوئی وقت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
ایسا اسی وجہ سے ہوا تھا کہ سلامتی کونسل میں اس قرارداد پر رائے شماری کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے اور جرمنی، فرانس اور برطانیہ پر اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے تہران حکومت نے برلن، پیرس اور لندن میں تعینات اپنے سفیروں کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا تھا۔
مغربی طاقتوں کا ایران پر الزام ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو جاری رکھتے ہوئے ایٹمی ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔ تہران حکومت تاہم اس الزام کی تردید کرتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اسی ہفتے نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تہران نے آج تک جوہری ہتھیار بنانے کی نہ تو کوئی کوشش کی ہے اور نہ ہی وہ آئندہ کبھی ایسا کرے گا۔