1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

غزہ میں فلسطینی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اب 66 ہزار سے زائد

مقبول ملک ، اے ایف پی، روئٹرز اور ڈی پی اے کے ساتھ۔ ادارت | امتیاز احمد | افسر اعوان
وقت اشاعت 28 ستمبر 2025آخری اپ ڈیٹ 28 ستمبر 2025

غزہ پٹی کی قریب دو سال سے جاری اسرائیل اور حماس کی جنگ میں فلسطینی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اب 66 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔ یہ بات غزہ پٹی کی وزارت صحت نے اتوار 28 ستمبر کے روز بتائی۔

https://p.dw.com/p/51BhF
غزہ پٹی میں ایک ہسپتال کے مردہ خانے کا ایک کارکن اسرائیلی فضائی حملے میں مارے جانے والے ایک فلسطینی کی میت اس کے خاندان کے حوالے کرتے ہوئے
غزہ پٹی میں ایک ہسپتال کے مردہ خانے کا ایک کارکن اسرائیلی فضائی حملے میں مارے جانے والے ایک فلسطینی کی میت اس کے خاندان کے حوالے کرتے ہوئےتصویر: SAID KHATIB/AFP
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • غزہ پٹی میں فلسطینی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اب 66 ہزار سے زائد، 168,162 زخمی
  • چین کے سابق وزیر زراعت کو رشوت کے جرم میں سزائے موت سنا دی گئی
  • اسرائیلی ٹینک غزہ سٹی کے رہائشی علاقوں میں مزید اندر تک پہنچ گئے، مزید اکیس فلسطینی ہلاک
  • تامل ناڈو ریلی میں بھگدڑ میں درجنوں ہلاکتیں، اداکار سیاست دان کی پارٹی قیادت کے خلاف مقدمہ
  • روس کے یوکرین پر 500 ڈرونز اور 40 سے زائد میزائلوں کے ساتھ بڑے حملے، چار افراد ہلاک
  • ’دہشت گردی کے مرکز‘ پاکستان کو کوئی رعایت نہ دی جائے، بھارتی وزیر خارجہ
  • ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق تنازعہ: اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ
غزہ میں فلسطینی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اب 66 ہزار سے زائد سیکشن پر جائیں
28 ستمبر 2025

غزہ میں فلسطینی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اب 66 ہزار سے زائد

غزہ پٹی میں نصیرات کے مہاجر کیمپ میں ایک فلسطینی اپنے خاندان کے ایک رکن کی موت پر روتا ہوا
غزہ پٹی میں نصیرات کے مہاجر کیمپ میں ایک فلسطینی اپنے خاندان کے ایک رکن کی موت پر روتا ہواتصویر: Rizek Abdeljawad/Xinhua/IMAGO

غزہ پٹی کی قریب دو سال سے جاری اسرائیل اور حماس کی جنگ میں فلسطینی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اب 66 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔ یہ بات غزہ پٹی کی وزارت صحت نے اتوار 28 ستمبر کے روز بتائی۔

مصری دارالحکومت قاہرہ سے ملنے والی رپورٹوں میں غزہ پٹی کی حماس کے زیر انتظام کام کرنے والی وزارت صحت کے اعلیٰ حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ سات اکتوبر 2023ء کو شروع ہونے والے اس جنگ میں آج اتوار کی سہ پہر تک فلسطینی ہلاکتوں کی کُل تعداد 66,005 ہو گئی تھی جبکہ زخمیوں کی مجموعی تعداد بھی 168,162 بنتی ہے۔

غزہ پٹی کے شہر خان یونس میں مرنے والے فلسطینیوں کی تدفین کی تیاریاں
کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ قریب دو سال سے جاری جنگ میں غزہ پٹی کا سارا تباہ شدہ علاقہ ہی تقریباﹰ قبرستان بن چکا ہےتصویر: Mohammed Salem/REUTERS

وزارت صحت کے مطابق ان مرنے والوں میں 79 ایسے شدید زخمی افراد بھی شامل ہیں، جنہیں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران علاج کے لیے مختلف مقامی ہسپتالوں میں لایا گیا تھا۔

اسی دوران غزہ پٹی میں طبی اور امدادی کارکنوں نے بتایا کہ آج اتوار کو جنگ سے تباہ شدہ اس تنگ ساحلی پٹی میں مزید 21 افراد مارے گئے۔ غزہ سٹی کے الناصر نامی علاقے میں ایک فضائی حملے میں مارے جانے والے پانچ فلسطینیوں کے علاوہ وسطی غزہ پٹی میں رہائشی مکانات پر کیے جانے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں بھی کم از کم 16 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

غزہ سٹی کے مشرقی حصے میں ایک اسرائیلی فضائی حملے کے بعد کا منظر
غزہ سٹی کے مشرقی حصے میں ایک اسرائیلی فضائی حملے کے بعد کا منظرتصویر: Omar AL-QATTAA/AFP

اس کے علاوہ وسطی غزہ پٹی میں مقامی ہسپتالوں کے ذرائع نے نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ 10 دیگر افراد اس وقت مارے گئے جب نصیرات کے مہاجر کیمپ میں کم از کم دو فضائی حملوں میں رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا گیا۔

غزہ پٹی کی جنگ سات اکتوبر 2023ء کو اسرائیل میں حماس کے اس بڑے دہشت گردانہ حملے کے فوری بعد شروع ہوئی تھی، جس میں 1200 سے زائد افراد مارے گئے تھے اور واپس غزہ جاتے ہوئے فلسطینی جنگجو تقریباﹰ 250 افراد کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ بھی لے گئے تھے۔ درجنوں اسرائیلی یرغمالی ابھی تک حماس کے قبضے میں ہیں۔

غزہ میں جنگ کے آغاز سے اب تک کی شدید ترین بمباری

https://p.dw.com/p/51CEi
چین کے سابق وزیر زراعت کو رشوت کے جرم میں سزائے موت سیکشن پر جائیں
28 ستمبر 2025

چین کے سابق وزیر زراعت کو رشوت کے جرم میں سزائے موت

چینی کرنسی کے سو سو یوآن کے بہت سے نوٹ
سابق وزیر زراعت نے برسوں تک جو رشوت وصول کی، اس کی مجموعی مالیت تقریباﹰ 268 ملین یوآن یا 37.6 ملین امریکی ڈالر کے برابر بنتی تھیتصویر: Nicolas Asfouri/AFP

چین میں زراعت اور دیہی امور کے سابق ملکی وزیر تانگ رین جیان کو صوبے جیلن کی ایک عدالت نے اتوار 28 ستمبر کو سزائے موت سنا دی۔

سرکاری نیوز ایجنسی شنہوا کے مطابق انہوں نے 2007ء سے لے کر 2024ء تک مختلف حکومتی عہدوں پر اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران کئی واقعات میں رشوت لی تھی اور ان کے خلاف یہ الزامات ثابت ہو گئے تھے۔

چین کے شہر شین ژین سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق تانگ رین جیان نے تقریباﹰ 17 برس کے عرصے کے دوران نقدی کے ساتھ ساتھ مختلف املاک کی صورت میں بھی جو رشوت وصول کی، اس کی مجموعی مالیت تقریباﹰ 268 ملین یوآن یا 37.6 ملین امریکی ڈالر کے برابر بنتی تھی۔

چین کے سابق وزیر دفاع لی شانگ فُو اور ان کے پیش رو وزیر وے فینگ ہے، جو کرپشن کے مرتکب پائے گئے تھے
چین کے سابق وزیر دفاع لی شانگ فُو اور ان کے پیش رو وزیر وے فینگ ہے، جو کرپشن کے مرتکب پائے گئے تھےتصویر: TASS/dpa/picture alliance

سابق وزیر زراعت کو یہ سزا چانگ چُن کی پیپلز کورٹ نے سنائی تاہم ان کی سزائے موت پر فوری طور پر عمل درآمد نہیں کیا جائے گا، بلکہ انہیں اس سے قبل دو سال کی مہلت دے دی گئی ہے۔

سابق وزیر نے اعترف جرم کر لیا تھا

عدالت کے مطابق ایسا جزوی معافی کے طور پر اس لیے کیا گیا کہ سابق وزیر نے دوران سماعت اعتراف کر لیا تھا کہ وہ کئی مواقع پر رشوت خوری کے مرتکب ہوئے تھے۔

چین کے پبلک سکیورٹی کے سابق نائب وزیر سُن لی جُن کی عدالت میں لی گئی ایک تصویر، انہیں ستمبر 2022ء میں سزائے موت سنائی گئی تھی
چین کے پبلک سکیورٹی کے سابق نائب وزیر سُن لی جُن کی عدالت میں لی گئی ایک تصویر، انہیں ستمبر 2022ء میں سزائے موت سنائی گئی تھیتصویر: CCTV/AP/picture alliance

تانگ رین جیان کو نومبر 2024ء میں چینی کمیونسٹ پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنے عہدے سے بھی برطرف ہو گئے تھے اور ان کے خلاف کرپشن اور رشوت خوری کے الزمات کے تحت تحقیقات شروع کر دی گئی تھیں۔

تانگ رین جیان کے خلاف تفتیشی کارروائی غیر معمولی حد تک کم عرصے میں مکمل کی گئی۔ اسی طرح جیسے ان سے قبل ایسی ہی تفتیش کا سامنا ماضی میں سابق وزیر دفاع لی شانگ فُو اور ان کے پیش رو وزیر وے فینگ ہے کو بھی کرنا پڑا تھا۔

تانگ رین جیان ملکی وزیر زراعت بننے سے قبل 2017ء سے 2020ء تک مغربی چینی صوبے گانسُو کے گورنر بھی رہے تھے۔

چین: شی جن پنگ کی اقتدار کی سیاست

https://p.dw.com/p/51CDg
اسرائیلی ٹینک غزہ سٹی کے رہائشی علاقوں میں مزید اندر تک پہنچ گئے، مزید اکیس فلسطینی ہلاک سیکشن پر جائیں
28 ستمبر 2025

اسرائیلی ٹینک غزہ سٹی کے رہائشی علاقوں میں مزید اندر تک پہنچ گئے، مزید اکیس فلسطینی ہلاک

اسرائیلی ٹینکوں کا ایک قافلہ جنوبی اسرائیل سے غزہ سٹی کی طرف رواں
اسرائیلی ٹینکوں کا ایک قافلہ جنوبی اسرائیل سے غزہ سٹی کی طرف رواںتصویر: Amir Levy/Getty Images

فلسطینی علاقے غزہ پٹی کے سب سے بڑے شہری مرکز غزہ سٹی میں اسرائیلی فوجی دستے اتوار 28 ستمبر کو اس تباہ شدہ شہر کے رہائشی علاقوں کے مزید اندر تک پہنچ گئے۔

غزہ پٹی کے محکمہ صحت کے حکام نے کہا کہ انہیں تشویش ہے کہ غزہ شہر کے نئے عسکری ہدف بنائے گئے رہائشی علاقوں میں مکینوں کی صورت حال کیا ہے، کیونکہ امدادی کارکن اور ریسکیو ٹیمیں فوری مدد کے لیے کل اور آج کی جانے والی بیسیوں درخواستوں پر وہاں کسی بھی کارروائی یا ردعمل سے قاصر ہیں۔

عینی شاہدین اور طبی کارکنوں کے مطابق اسرائیلی ٹینک غزہ شہر کے مغربی علاقوں اور وسطی حصے میں اپنی موجودگی میں اضافہ کرتے ہوئے صابرہ، تل الہوا، شیخ رضوان اور الناصر نامی علاقوں میں بہت اندر تک پہنچ گئے ہیں۔

غزہ سٹی پر کل ہفتے کے روز کیے گئے اسرائیلی فضائی حملوں میں سے ایک کے دوران لی گئی ایک تصویر
غزہ سٹی پر کل ہفتے کے روز کیے گئے اسرائیلی فضائی حملوں میں سے ایک کے دوران لی گئی ایک تصویر تصویر: Khames Alrefi/Anadolu Agency/IMAGO

مزید کم از کم 21 فلسطینی ہلاک

اسرائیلی فوج نے ملکی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے غزہ سٹی کو پوری طرح کنٹرول میں لے لینے کے فیصلے کے بعد اس شہر میں اپنی وسیع تر زمینی عسکری کارروائیوں کا آغاز 16 ستمبر کو کیا تھا۔

اس سے قبل کئی ہفتوں تک اسرئیلی فضائیہ غزہ سٹی پر مسلسل گولہ باری کرتی رہی تھی، تاکہ اس شہر میں تب تک موجود لاکھوں فلسطینیوں کو بھی وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا جا سکے۔

اسی دوران اسرائیلی فوج کی طرف سے اتوار کے روز بتایا گیا کہ وہ غزہ سٹی میں اپنی عسکری کارروائیوں کو وسعت دیتی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ پانچ ایسے فلسطینی، جنہوں نے اسرائیلی دستوں پر ایک ٹینک شکن میزائل فائر کیا تھا، ایک فضائی حملے میں مارے گئے۔ 

غزہ سٹی پر ایک اسرائیلی فضائی حملے کے دوران اپنی جانیں بچانے کے لیے حملے کی جگہ سے بھاگتے فلسطینی
غزہ سٹی پر ایک اسرائیلی فضائی حملے کے دوران اپنی جانیں بچانے کے لیے حملے کی جگہ سے بھاگتے فلسطینیتصویر: Ebrahim Hajjaj/REUTERS

فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق اتوار کی صبح سے سہ پہر تک غزہ پٹی میں مزید کم از کم 21 فلسطینی، اسرائیلی زمینی اور فضائی حملوں میں مارے گئے۔ غزہ سٹی کے الناصر نامی علاقے میں ایک فضائی حملے میں مارے جانے والے پانچ افراد کے علاوہ وسطی غزہ پٹی میں رہائشی مکانات پر کیے جانے والے حملوں میں بھی کم از کم 16 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ 

نیتن یاہو کی ٹرمپ سے ملاقات

ان دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے امریکہ گئے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کل پیر 29 ستمبر کو واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ایک ملاقات کرنے والے ہیں۔

شمالی غزہ بے گھر ہونے والے فلسطینی باشندوں کا ایک قافلہ
شمالی غزہ بے گھر ہونے والے فلسطینی باشندوں کا ایک قافلہتصویر: Mahmoud Issa/REUTERS

قوی امید ہے کہ اس ملاقات میں غزہ پٹی میں جنگ بندی کی کوششوں کے حوالے سے بھی بات ہو گی۔ قبل ازیں وزیر اعظم نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں، جس کا وہاں موجود بہت سے ممالک کے رہنماؤں نے بائیکاٹ کیا تھا، کہا تھا کہ غزہ میں جاری جنگ ’’حماس کے خلاف کام مکمل ہونے تک‘‘ جاری رہے گی۔

اس دوران اسرائیل اپنے اس مطالبے پر بھی قائم ہے کہ غزہ پٹی میں جنگ بندی کے لیے فلسطینی عسکرت پسند تنظیم حماس کو تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنا اور اپنے ہتھیار پھینکنا ہوں گے۔

ثالثوں سے کوئی نئی سیزفائر تجویز نہیں ملی، حماس

ادھر قاہرہ سے ملنے والی رپورٹوں میں فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے اتوار 28 ستمبر کے اس بیان کا حوالہ دیا گیا ہے کہ اسے ابھی تک غزہ کے تنازعے میں ثالثی کرنے والے ممالک کے نمائندوں کی طرف سے کوئی نئی جنگ بندی تجویز موصول نہیں ہوئی۔

شمالی غزہ کا تباہ شدہ علاقہ اور بے گھر فلسطینیوں کا ایک طویل قطار کی صورت میں رواں قافلہ
شمالی غزہ کا تباہ شدہ علاقہ اور بے گھر فلسطینیوں کا ایک طویل قطار کی صورت میں رواں قافلہتصویر: Dawoud Abu Alkas/REUTERS

حماس نے اپنا آج کا یہ بیان اس تناظر میں دیا ہے کہ پرسوں جمعے کو امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’’غزہ سے متعلق ایک معاہدہ‘‘ ممکن ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

غزہ کی جنگ سات اکتوبر 2023ء کو اسرائیل میں حماس کے اس بڑے دہشت گردانہ حملے کے فوری بعد شروع ہوئی تھی، جس میں 1200 سے زائد افراد مارے گئے تھے اور واپس غزہ جاتے ہوئے فلسطینی جنگجو تقریباﹰ 250 افراد کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ بھی لے گئے تھے۔

اس حملے کے فوری بعد اسرائیل نے حماس کے خلاف غزہ پٹی میں زمین، فضا اور سمندر سے جو حملے شروع کیے تھے، وہ آج تک جاری ہیں اور ان میں 65 ہزار سے زائد فسلطینی مارے جا چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔

کیا اسرائیل کے لیے حماس کو مکمل تباہ کرنا ممکن ہے؟

https://p.dw.com/p/51CAG
تامل ناڈو ریلی میں بھگدڑ میں درجنوں ہلاکتیں، اداکار سیاست دان کی پارٹی قیادت کے خلاف مقدمہ سیکشن پر جائیں
28 ستمبر 2025

تامل ناڈو ریلی میں بھگدڑ میں درجنوں ہلاکتیں، اداکار سیاست دان کی پارٹی قیادت کے خلاف مقدمہ

تامل ناڈو کے ضلع کرُور میں کل ہفتے کے روز ٹی وی کے نامی پارٹی کی ریلی کی ایک ڈرون کی مدد سے لی گئی ایک تصویر
تامل ناڈو کے ضلع کرُور میں کل ہفتے کے روز ٹی وی کے نامی پارٹی کی ریلی کی ایک ڈرون کی مدد سے لی گئی ایک تصویرتصویر: Seshadri Sukumar/ZUMA/picture alliance

ریاستی پولیس کے مطابق بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں ایک سیاسی ریلی کے دوران شرکاء میں بھگدڑ مچ جانے کے نتیجے میں کم از کم 39 ہلاکتوں کے بعد پچھلے سال سیاست میں آ جانے والے تامل اداکار وجے کی سیاسی جماعت کے رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ نوعیت کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

تامل ناڈر میں اگلے سال کے اوائل میں ریاستی انتخابات ہونا ہیں اور ان دنوں وہاں ان انتخابات کے لیے سیاسی مہم جاری ہے۔

بھگدڑ مچ جانے کا سانحہ ایک سیاسی ریلی کے دوران کل ہفتہ 27 ستمبر کی شام پیش آیا، جس میں 39 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں کئی بچے بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ اس بدامنی میں 50 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔

ٹی وی کے نامی پارٹی کے بانی اور معروف تامل اداکار جوزف وجے چندرشیکھر کل ہفتے کے روز بھگدڑ سے قبل ایک ٹرک سے ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے
ٹی وی کے نامی پارٹی کے بانی اور معروف تامل اداکار جوزف وجے چندرشیکھر کل ہفتے کے روز بھگدڑ سے قبل ایک ٹرک سے ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئےتصویر: Seshadri Sukumar/ZUMA/picture alliance

یہ ریلی مشہور تامل اداکار وجے کی قائم کردہ سیاسی جماعت کی طرف سے منعقد کرائی گئی تھی۔ انہوں نے علاقائی سیاست میں آ کر اپنی جو نئی جماعت قائم کی، اس کا نام تامیلاگا ویتری کازاگم (ٹی وی کے) ہے۔

ریلی کے شرکاء کی تعداد دو گنا سے بھی زیادہ

تامل ناڈر کی ریاستی پولیس کے اعلیٰ اہلکار وی سلواراج نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ تامیلاگا ویتری پارٹی کے متعدد سرکردہ رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ نوعیت کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر کے چھان بین شروع کر دی گئی ہے، جو اس بھگدڑ کی ذمے داری کی وجہ سے ان کے خلاف ’’ممکنہ طور پر باقاعدہ فرد جرم عائد کیے جانے کی طرف پہلا قدم‘‘ ہو سکتی ہے۔

ریلی میں ہلاکت خیز بھگدڑ کے بعد کی تصویر، ایک ایمبولینس اور عام لوگوں کا ہجوم
اوپر اور نیچے: ریلی میں ہلاکت خیز بھگدڑ کے بعد کی تصاویرتصویر: ANI/IMAGO
بھگدڑ کی جگہ پر کھڑے ریاستی پولیس کے اہلکار
تصویر: Priyanshu Singh/REUTERS

پولیس کے مطابق ٹی وی کے نامی پارٹی نے اپنی ریلی کے لیے جس اجتماع کی اجازت طلب کی تھی، اس میں شرکاء کی تعداد 10 ہزار تک رہنے کی توقع تھی۔ تاہم پولیس کے مطابق وہاں جمع ہونے والا ہجوم شرکاء کی متوقع تعداد سے دو گنا سے بھی بڑا تھا۔

وجے نامی تامل اداکار گزشتہ تین دہائیوں سے تامل سینما کے انتہائی مقبول اور کامیاب ایکٹر ہیں، جنہوں نے اپنی جماعت ٹی وی کے کے قیام کا اعلان گزشتہ برس کیا تھا۔

انہوں نے تامل ناڈو کے ضلع کرُور میں ریلی کے دوران پیش آنے والے ہلاکت خیز سانحے پر ہلاک شدگان اور زخمیوں کے خاندانوں سے دلی افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

تامل ناڈو میں بیلوں کی لڑائی کا روایتی کھیل

https://p.dw.com/p/51C11
روس کے یوکرین پر پانچ سو ڈرونز اور چالیس سے زائد میزائلوں کے ساتھ بڑے حملے، چار افراد ہلاک سیکشن پر جائیں
28 ستمبر 2025

روس کے یوکرین پر پانچ سو ڈرونز اور چالیس سے زائد میزائلوں کے ساتھ بڑے حملے، چار افراد ہلاک

یوکرین پر تازہ روسی فضائی حملوں میں دارالحکومت کییف میں تباہ ہونے والی رہائشی عمارات کی ایک تصویر
یوکرین پر تازہ روسی فضائی حملوں میں دارالحکومت کییف میں تباہ ہونے والی رہائشی عمارات کی ایک تصویرتصویر: Efrem Lukatsky/AP Photo/picture alliance

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روسی مسلح افواج نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب یوکرین پر بڑے فضائی حملے کیے، جن میں 500 جنگی ڈرونز اور 40 سے زائد میزائل فائر کیے گئے۔

یوکرینی صدر نے اتوار 28 ستمبر کی صبح کییف میں بتایا کہ ان نئے روسی جنگی حملوں میں یوکرین میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے جبکہ ملک کے سویلین انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلیگرام پر ایک پوست میں لکھا، ’’یوکرین کے خلاف اپنی جارحیت میں ماسکو جنگ اور انسانی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتا ہے اور وہ اس بات کا حقدار ہے کہ عالمی برادری اس پر اس جارحیت کو رکوانے کے لیے بھرپور دباؤ ڈالے۔‘‘

کییف میں تازہ روسی ڈرونز اور میزائل حملوں سے تباہ ہونے والی ایک رہائشی بلاک کا منظر
کییف میں تازہ روسی ڈرونز اور میزائل حملوں سے تباہ ہونے والی ایک رہائشی بلاک کا منظرتصویر: Thomas Peter/REUTERS

یوکرینی صدر نے مزید لکھا، ’’روس پہلے کی طرح اب بھی یوکرینی شہروں پر دہشت گردانہ حملے کر رہا ہے اور وہ دانستہ طور پر یوکرینی شہروں کی آبادی کو دہشت گردانہ کارروائیوں کا ہدف بنا رہا ہے۔‘‘

صدر وولودیمیر زیلنسکی کے مطابق 27 اور 28 دستمبر کی درمیانی رات یوکرین میں روسی ڈرون اور میزائل حملوں میں چار افراد کی ہلاکت کے علاوہ 40 سے زائد زخمی بھی ہو گئے۔

یوکرینی فوج کے ذرائع کے مطابق یہ روسی حملے تقریباﹰ 12 گھنٹے تک جاری رہے اور اس دوران دارالحکومت کییف، اس کے مضافات، زاپوریژیا اور اس کے نواحی علاقوں، میکولائیف اور اوڈیسا جیسے شہروں کو ہدف بنایا گیا۔

یوکرین میں روس کے نئے جنگی حربے کیا ہیں؟

https://p.dw.com/p/51Bx6
’دہشت گردی کے مرکز‘ پاکستان کو کوئی رعایت نہ دی جائے، بھارتی وزیر خارجہ سیکشن پر جائیں
28 ستمبر 2025

’دہشت گردی کے مرکز‘ پاکستان کو کوئی رعایت نہ دی جائے، بھارتی وزیر خارجہ

بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر
بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکرتصویر: Alexander Zemlianichenko/REUTERS

بھارت نے گزشتہ رات مطالبہ کیا کہ نئی دہلی کے الفاظ میں ’دہشت گردی کے مرکز‘ پاکستان کو کوئی رعایت نہ دی جائے اور عالمی برادری کو پاکستان کے حوالے سے اپنی آنکھیں بند نہیں رکھنا چاہییں۔

یہ بات بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے ہفتہ 27 ستمبر کی رات نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

سعودی عرب اور پاکستان میں دفاعی معاہدہ، بھارت کا ردعمل

عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ نے یہ بات پاکستان کی طرف سے اس موقف کے صرف ایک روز بعد کہی، جس میں اسلام آباد نے اپنے خلاف تمام بھارتی الزامات کو رد کرتے ہوئے جنرل اسمبلی کے اجلاس کو بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔

بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر، بائیں، کی مئی 2023ء میں اس دور کے پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ بھارتی ریاست گوآ میں ہونے والے شنگھائی تعاون کی تنظیم کے اجلاس کے موقع پر لی گئی ایک تصویر
بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر، بائیں، کی مئی 2023ء میں اس دور کے پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ بھارتی ریاست گوآ میں ہونے والے شنگھائی تعاون کی تنظیم کے اجلاس کے موقع پر لی گئی ایک تصویرتصویر: ASSOCIATED PRESS/picture alliance

بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ’’دہشت گردی کی حمایت‘‘ کرتا ہے اور بین الاقوامی برادری کو دہشت گردی کے خلاف ’’بہت گہرے عالمی تعاون‘‘ کی ضرورت ہے۔

ایس سی او مشترکہ اعلامیہ میں بلوچستان، پہلگام حملوں کی مذمت

بھارتی وزیر نے اپنی تقریر میں پاکستان کا ایک بار بھی براہ راست نام لے کر ذکر نہیں کیا مگر ان کا اشارہ واضح تھا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کو اپنی آزادی کے بعد سے لے کر اب تک دہشت گردی کا سامنا ہے اور اب کئی دہائیاں ہو گئی ہیں کہ بڑے ’’بین الاقوامی دہشت گردانہ حملوں کا سراغ لگایا جائے، تو یہ سلسلہ واپس اسی ایک ملک تک جاتا ہے۔‘‘

دریائے سندھ: زندگی کی علامت یا جنگ کا ہتھیار؟

https://p.dw.com/p/51Bwm
ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق تنازعہ: اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ سیکشن پر جائیں
28 ستمبر 2025

ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق تنازعہ: اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کی ایک تصویر
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی میعاد سے متعلق روس اور چبن کی پیش کردہ قرارداد اکثریتی رائے سے مسترد کر دی تھیتصویر: Lev Radin/Pacific Press/picture alliance

ایران اور سرکردہ عالمی طاقتوں کے مابین طے پانے والے تاریخی جوہری معاہدے کے تقریباﹰ ایک عشرے بعد تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق پائے جانے والے تنازعے میں اقوام متحدہ کی سخت پابندیاں دوبارہ نافذ العمل ہو گئی ہیں۔

ایسا عالمی وقت کے مطابق اتوار 28 ستمبر کی صبح اس وقت خود بخود ہو گیا، جب تہران اور اس کے ساتھ مذاکرات میں شریک E3 کہلانے والے تین یورپی ممالک جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے مابین کسی اتفاق رائے تک پہنچنے کے لیے طے کردہ میعاد کسی کامیابی کے بغیر ہی ختم ہو گئی۔

’اسنیپ بیک میکینزم‘

تہران کی برلن، پیرس اور لندن کے حکومتی نمائندوں کے ساتھ مکالمت کے بے نتیجہ رہنے کے بعد ان تینوں ممالک نے اگست کے آخر میں وہ طریقہ کار دوبارہ فعال کر دیا تھا، جس کے لیے ''اسنیپ بیک میکینزم‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئےتصویر: Kyle Mazza/CNP/abaca/picture alliance

اس طریقہ کار کے تحت اگلے 30 روز میں مزید کوئی پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی سخت پابندیاں دوبارہ مؤثر ہو جانا تھیں اور ایسا آج اتوار کی صبح ہو بھی گیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف عالمی ادارے کی دوبارہ نافذ ہو جانے والی یہ پابندیاں وسیع تر اثرات کی حامل ہوں گی۔ ان کے تحت ایران کو ہتھیاروں کی فراہمی ممنوع ہے، ایرانی بینکوں اور مالیاتی شعبے کو بھی دوبارہ پابندیوں کا سامنا ہے اور ایران کو بہت سی تجارتی مصنوعات کی برآمد یا وہاں سے کسی دوسرے ملک میں درآمد پر بھی اب پابندی ہے۔

تہران حکومت کو، جسے پہلے ہی ملک میں افراط زر کی بہت اونچی شرح کا سامنا ہے، اب ان دوبارہ نافذ العمل ہو جانے والی پابندیوں کے باعث مزید اقتصادی مشکلات اور مالیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایران کی جوہری تنصیبات میں سے ایک زیر زمین تنصیب گاہ کی سیٹلائٹ سے لی گئی ایک تصویر، جسے امریکہ نے اس سال جون میں فضائی بمباری کا نشانہ بنایا
ایران کی جوہری تنصیبات میں سے ایک زیر زمین تنصیب گاہ کی سیٹلائٹ سے لی گئی ایک تصویر، جسے امریکہ نے اس سال جون میں فضائی بمباری کا نشانہ بنایاتصویر: Planet Labs PBC/AP/picture alliance

عالمی سلامتی کونسل کی طرف سے میعاد میں توسیع کی مخالفت

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے خلاف ان پابندیوں کے دوبارہ مؤثر ہو جانے سے کچھ ہی دیر پہلے اس سلسلے میں طے شدہ ڈیڈ لائن میں توسیع کی تجویز مسترد کر دی تھی۔

اس بارے میں سلامتی کونسل میں ایک مسودہ قرارداد ایران کی حلیف ریاستوں چین اور روس کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔ تاہم 15 رکنی سلامتی کونسل کے نو رکن ممالک نے اس قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے تہران کو اس کے متنازعہ جوہری پروگرام سے متعلق کسی تصفیے تک پہنچنے کے لیے مزید کوئی وقت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

اس سال جون میں تہران میں کیے گئے اسرائیلی فضائی حملوں میں سے ایک کے بعد تباہی کا منظر
اس سال جون میں تہران میں کیے گئے اسرائیلی فضائی حملوں میں سے ایک کے بعد تباہی کا منظرتصویر: Majid Saeedi/Getty Images

ایسا اسی وجہ سے ہوا تھا کہ سلامتی کونسل میں اس قرارداد پر رائے شماری کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے اور جرمنی، فرانس اور برطانیہ پر اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے تہران حکومت نے برلن، پیرس اور لندن میں تعینات اپنے سفیروں کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا تھا۔

مغربی طاقتوں کا ایران پر الزام ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو جاری رکھتے ہوئے ایٹمی ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔ تہران حکومت تاہم اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اسی ہفتے نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تہران نے آج تک جوہری ہتھیار بنانے کی نہ تو کوئی کوشش کی ہے اور نہ ہی وہ آئندہ کبھی ایسا کرے گا۔

اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی معیشت مشکلات کا شکار

https://p.dw.com/p/51BiH
مزید پوسٹیں
Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔
DW Mitarbeiterportrait | Imtiaz Ahmad
امتیاز احمد ڈی ڈبلیو اکیڈمی سے جرنلزم کی عملی تربیت حاصل کی اور بطور ملٹی میڈیا ایڈیٹر کام کر رہے ہیں۔