1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

امریکی ایرانی ڈیل میں پاکستانی ثالثی کی عالمی سطح پر تعریف

جاوید اختر (اے ایف پی، روئٹرز کے ساتھ)
15 جون 2026

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے کا دنیا بھر کے رہنماؤں نے خیر مقدم کیا ہے۔ اس سفارتی پیش رفت میں پاکستان کے بطور ثالث کردار کو بھی بھرپور طریقے سے سراہا جا رہا ہے۔

https://p.dw.com/p/5FR6j
اس تصویر میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل کو ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو امن قائم کرانے میں جو عزت ملی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتیتصویر: Iranian Parliament Speaker Office/Handout/Anadolu Agency/IMAGO

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے سب سے پہلے اعلان کیے گئے اس ابتدائی معاہدے کو ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی، آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھولے جانے اور عالمی معیشت پر بڑھتے ہوئے دباؤ میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے امریکہ اور ایران کو اس امن معاہدے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا، ''یہ تنازعے کے پرامن حل کی جانب ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ''میں پاکستان، قطر، مصر، سعودی عرب، ترکی اور دیگر علاقائی ممالک کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے ان مذاکرات کی کامیابی میں تعمیری کردار ادا کیا۔‘‘

چین نے بھی اس معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستان کی طرف سے ثالثی کی کوششوں کو سراہا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے بیجنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''چین اس معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے اور پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔‘‘

بھارتی وزیر اعظم مودی نے کیا کہا؟

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کا خیر مقدم کیا تاہم انہوں نے ایکس پر جاری کردی اپنے ایک بیان میں پاکستان کی ثالثی کاوشوں کا کوئی ذکر نہ کیا۔

مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ اس تنازعے نے عالمی معیشت کو شدید متاثر کیا اور یہ کئی ممالک میں جانی نقصان کا سبب بھی بنا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ خطے میں امن و استحکام بحال کرائے گا اور جہاز رانی و تجارت کی آزادی کو بھی یقینی بنائے گا۔

اپریل میں امریکی اور ایران کے درمیان پاکستان میں دوسرے دور کی بات چیت سے قبل اسلام آباد کا ایک منظر
شہباز شریف نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب ایکس پر اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہےتصویر: Anjum Naveed/AP Photo/picture alliance

آسٹریلیا، ترکی اور قطر کا ردعمل

آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیزی اور وزیر خارجہ پینی وونگ نے ایک مشترکہ بیان میں پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکی اور دیگر ثالث ممالک کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ آسٹریلیا طویل عرصے سے کشیدگی میں کمی اور لبنان میں امن کے لیے آواز اٹھاتا رہا ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے اس معاہدے کو ''خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے ایک اہم پیش رفت‘‘ قرار دیا اور بالخصوص پاکستان کی غیر معمولی ثالثی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا، جبکہ انہوں نے قطر اور سعودی عرب کے تعاون کو بھی سراہا۔

قطر کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں ''اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اپنے بھائیوں‘‘ کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی سمیت متعدد اہم امور پر مفاہمتی یادداشت کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

فرانس، جاپان اور جرمنی کی طرف سے بھی خیر مقدم

فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے کہا کہ یہ معاہدہ ایک وسیع سفارتی عمل کا نتیجہ ہے، جس میں کئی شراکت داروں نے حصہ لیا، اور اس پر فوری اور مکمل عمل درآمد ضروری ہے۔

جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت بحران کے حل کی جانب ایک بڑا قدم ہے اور اس کا سہرا ان ممالک کے سر جاتا ہے، جنہوں نے مستقل سفارتی کوششیں کیں اور ثالثی کا کردار ادا کیا۔

جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے بھی امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کو ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عالمی معیشت کو نئی توانائی مل سکتی ہے اور مشرق وسطیٰ مزید محفوظ خطہ بن سکتا ہے، تاہم اس معاہدے پر پختہ عزم کے ساتھ عمل درآمد ضروری ہے۔

اس تصویر میں وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو  پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر کا استقبال کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر مبارک باد دیتے ہوئے معاہدے کی تصدیق کیتصویر: Andrew Harnik/Getty Images

برطانیہ، نیوزی لینڈ اور کویت کا ردعمل

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اس معاہدے کو جنگ کے خاتمے، علاقائی استحکام اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی جانب ایک نہایت اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ساتھ پاکستان اور قطر سمیت ثالثی کرنے والے تمام ممالک کو بھی مبارک باد دی۔

پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ نے بھی پاکستان کے ''مستقل، صبر آزما اور متاثر کن کردار‘‘ کو سراہتے ہوئے امن کے قیام میں اس کی خدمات کا اعتراف کیا۔

نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے اس معاہدے کو کشیدگی میں کمی اور عالمی اقتصادی سلامتی کے لیے اہم خطے میں استحکام کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔

کویت کی وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان میں پاکستان اور قطر کی امن کوششوں کو سراہتے ہوئے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا۔

کینیڈا، اٹلی اور فن لینڈ کے رہنماؤں کے بیانات

کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا، ''کینیڈا امریکہ اور ایران کے درمیان نئے معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے۔ ہم پاکستان، قطر اور دیگر علاقائی شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جنہوں نے مذاکرات میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔‘‘

اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے اس معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ تمام ثالثوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا جاتا ہے، خاص طور پر قطر اور پاکستان کا، جنہوں نے اس معاہدے کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

فن لینڈ کے صدر الیکسانڈر اسٹب نے کہا، ''میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے اعلان کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ میں پاکستان، قطر اور اس عمل میں شامل دیگر ثالث ممالک کو بھی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔‘‘

یورپی یونین، فرانس، قطر، نیدرلینڈز، مصر اور دیگر ممالک کے سربراہان اور وزرائے خارجہ نے بھی اس امن معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔

عالمی محاذ پر سفارتی بساط: کیا پاکستان بھارت سے آگے نکل گیا؟

ادارت: مقبول ملک

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔