1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتافغانستان

افغان وزیر داخلہ کا کابل پر پاکستانی حملے کے بدلے کا عزم

مقبول ملک اے پی اور اے ایف پی کے ساتھ
18 مارچ 2026

افغانستان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے کابل پر پاکستان کے حالیہ ہلاکت خیز فضائی حملے کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ افغان حکومت کے مطابق اس حملے میں قریب 400 جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق 143 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

https://p.dw.com/p/5Adab
افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی
افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانیتصویر: Wakil Kohsar/AFP/Getty Images

افغان دارالحکومت کابل سے بدھ 18 مارچ کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق پیر 16 مارچ کو رات گئے پاکستان نے کابل میں جو فضائی حملہ کیا، اس کا ہدف ایک ایسا طبی مرکز تھا، جہاں منشیات کے عادی افراد کا علاج کیا جاتا تھا۔ حملے کے وقت اس طبی بحالی مرکز میں زیر علاج مریضوں کی تعداد بظاہر سینکڑوں میں تھی۔

اس حملے کے بعد کابل میں طالبان کی حکومت کی طرف سے کہا گیا تھا کہ اس میں 400 کے قریب افراد ہلاک اور 250 سے زائد زخمی ہوئے۔ کل منگل کو کابل حکومت کے ان اعداد و شمار کی اسلام آباد میں پاکستانی حکومت نے تردید کرتے ہوئے انہیں مسترد کر دیا تھا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی، کب کیا ہوا؟

اس بارے میں اقوام متحدہ کے افغانستان کے لیے امدادی مشن کی طرف سے بدھ کی صبح بتایا گیا تھا کہ اس پاکستانی فضائی حملے میں 143 افراد مارے گئے تھے، جن میں اکثریت منشیات کے استعمال کی وجہ سے زیر علاج مریضوں کی تھی۔

کابل میں پاکستانی فضائی حملے کا نشانہ بننے والا ڈرگ کلینک
کابل میں پاکستانی فضائی حملے کا نشانہ بننے والا ڈرگ کلینکتصویر: Wakil Kohsar/AFP/Getty Images

سراج الدین حقانی کا بیان

پاکستان اور افغانستان کے مابین موجودہ فوجی کشیدگی کو اب کئی ہفتے ہو چکے ہیں اور اس دوران اطراف کے مابین نہ صرف کئی سرحدی مقامات پر خونریز مسلح جھڑپیں ہو چکی ہیں بلکہ پاکستان کی طرف سے افغانستان میں کابل سمیت مختلف شہروں میں ایسے اہداف کو بھی متعدد مرتبہ فضائی حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے، جو اسلام آباد میں حکام کے مطابق ہندوکش کی اس ریاست میں دہشت گردی کے ایسے مراکز اور دہشت گردوں کے ایسے ٹھکانے تھے، جہاں سے پاکستان میں مسلح حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی تھی۔

دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین خونریز کشیدگی میں رواں ہفتے کا آغاز خاص طور پر ہلاکت خیز ثابت ہوا، جب کابل میں ایک ڈرگ کلینک کو نشانہ بنایا گیا۔

ہسپتال پر پاکستانی حملے میں چار سو ہلاکتیں، طالبان کا دعویٰ

اس پس منظر میں افغان طالبان کی حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے بدھ کے روز کہا کہ پاکستان کی طرف سے اس تازہ ترین اور ''سینکڑوں افراد کی ہلاکت کی وجہ بننے والے فضائی حملے‘‘ کا بدلہ لیا جائے گا۔

افغان حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس علاج گاہ پر حملے میں (تصویر) قریب 400 افراد ہلاک ہوئے، اقوام متحدہ نے یہ تعداد 143 بتائی
افغان حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس علاج گاہ پر حملے میں (تصویر) قریب 400 افراد ہلاک ہوئے، اقوام متحدہ نے یہ تعداد 143 بتائیتصویر: Wakil Kohsar/AFP

چینی مندوب پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی مشن پر

حقانی نے کابل میں اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں سے متعدد کی اجتماعی تدفین کے موقع پر کہا، ''ہم بدلہ لیں گے۔ ہم نہ تو کمزور ہیں اور نہ ہی لاچار۔‘‘

افغان وزیر داخلہ نے کہا کہ جنہوں نے یہ فضائی حملہ کیا ہے، وہ ''مجرم‘‘ ہیں۔ ساتھ ہی سراج الدین حقانی نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ''آپ اپنے جرائم کے نتائج بھی دیکھ لیں گے۔‘‘

دیگر رپورٹوں کے مطابق حقانی نے مزید کہا، ''ہم جنگ نہیں چاہتے۔ ہم مسائل کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔‘‘

کابل فضائی حملے میں ہلاک ہونے والوں میں سے متعدد کو اسی شہر میں اجتماعی طور پر دفنا دیا گیا جبکہ بہت سے  دیگر ہلاک شدگان کی لاشیں تدفین کے لیے مختلف افغان صوبوں میں ان کے آبائی علاقوں میں بھجوا دی گئیں۔

ادارت: کشور مصطفیٰ

پاکستان - افغانستان جنگ اور سرحدی علاقوں کی مکین خواتین کا المیہ

Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔