افغانستان: خواتین کے حقوق کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کیے جائیں، طالبان | معاشرہ | DW | 03.12.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

افغانستان: خواتین کے حقوق کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کیے جائیں، طالبان

افغانستان میں طالبان خود کو خواتین کے حقوق کے حامیوں کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ افغان طالبان کی جانب سے خواتین کے حقوق کے لیے نئے اصول واضح کیے گئے ہیں۔ تاہم ان اصولوں کو عملی طور پر نافذ کرنا ابھی باقی ہے۔

افغانستان میں اقتدار میں واپسی کے بعد سے عسکریت پسند گروہ طالبان شدید دباؤ کا شکار ہے۔ کیونکہ، بین الاقوامی ڈونر ممالک نے ترقیاتی فنڈز کی ادائیگی روک دی اور افغانستان کے اربوں ڈالر کے مالی اثاثوں تک رسائی روک دی گئی۔ مالی امداد کی بحالی کو خواتین کے حقوق کے نفاذ سے مشروط کردیا گیا۔

عورت ایک آزاد انسان ہے

آخر کار طالبان نے خواتین کے بعض حقوق کے احترام کی حمایت کر دی ہے۔ طالبان نے ایک حکم نامے میں ملک کی بعض تنظیموں، مذہبی اسکالرز اور عمائدین کو خواتین کے حقوق کے نفاذ کے لیے سنجیدہ اقدام کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم نئے اعلامیے میں افغان خواتین کے لیے تعلیم، ملازمت اور روزگار کے حقوق  کے بارے میں واضح ذکر نہیں کیا گیا۔

 

اعلامیے کے چند نکات:

  • عورت جائیداد نہیں بلکہ ایک عظیم اور آزاد شخص ہے۔
  • کوئی بھی غیر شادی شدہ عورت یا بیوہ کو شادی کے لیے مجبور نہ کرے۔
  • دشمنی ختم کرنے یا صلح کرنے کے لیے خواتین کا تبادلہ نہ کیا جائے۔
  • بیوہ خواتین کو وراثت میں حصے اور دوبارہ شادی کا حق دیا جائے۔

اعلامیے میں عدالت سمیت دو وزارتوں، ثقافت اور اطلاعات کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان حقوق کی عوامی سطح پر تشہیر ہو اور ان پر عمل درآمد کیا جائے۔

طالبان نے افغانستان کا دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد خواتین کے حقوق میں نمایاں کمی کی تھی۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے سڑکوں پر کیے جانے والے احتجاج کو پرتشدد طریقے سے کچلنے کی کوشش کی گئی۔ بہت سی خواتین اپنی ملازمت پر واپس نہیں جا سکیں۔ زیادہ تر لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول بھی بند کردیے گئے۔

ویڈیو دیکھیے 03:01

افغانستان میں خواتین کا مستقبل اور پاکستانی خواتین

افغانستان میں سن 1996 سے سن 2001  تک اپنے سابقہ ​​دور حکومت کے دوران، طالبان نے خواتین کو کسی مرد رشتہ دار کے بغیر گھر سے باہر جانے سے منع کر رکھا تھا۔ خواتین اور لڑکیوں کے لیے سر اور جسم کو مکمل طور پر ڈھانپنا لازمی تھا۔ اس دوران لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کا بھی کوئی حق نہیں تھا۔

ع آ /ا ب ا (ڈی پی اے، روئٹرز، اے ایف پی)

DW.COM

Audios and videos on the topic