اسرائیل: چاقو کے حملے میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی | حالات حاضرہ | DW | 06.05.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

اسرائیل: چاقو کے حملے میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کی شب تل ابیب کے پاس چاقو سے ہونے والے حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے۔ پولیس کے مطابق حملہ آور ایک گاڑی میں فرار ہو نے میں کامیاب ہو گئے جن کی تلاش جاری ہے۔

اسرائیل میں پولیس کا کہنا ہے کہ جمعرات کی شب کو چاقو سے یہ حملے تیل ابیب کے ایلاد قصبے میں ہوئے، جس میں تین افراد ہلاک اور چار دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کے مطابق حملہ آور وہاں سے فرار ہو گئے تاہم واقعے کے فوری بعد آس پاس کے علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے راستوں کو بند کر دیا۔

ایلاد قصبے کی آبادی پچاس ہزار کے قریب ہے اور یہاں بیشتر قدامت پسند یہودی آباد ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ حملہ اس وقت ہوا جب اسرائیل اپنا یوم آزادی منا رہا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اسے شبہ ہے کہ یہ عسکریت پسندوں کا حملہ تھا اور قصوروار ایک گاڑی میں فرار ہو گئے۔ مقامی حکام کے مطابق علاقے کی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں اور تلاشی مہم کے لیے ایک ہیلی کاپٹر بھی گشت کر رہا ہے۔

پولیس نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ''شدت پسندوں کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔'' پولیس کا کہنا ہے کہ اسے لگتا ہے کہ یہ حملے ایک ہی علاقے میں کئی مقامات پر ہوئے ہیں۔

بعض مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں نے بندوقوں کا استعمال کیا۔ تاہم جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے پولیس کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے کہ دو حملہ آوروں میں سے ایک نے لوگوں پر کلہاڑی سے حملہ کیا۔

اے ایف پی نیوز ایجنسی نے اس بارے میں وہاں پر پہنچنے والے سب سے پہلے شخص ایلون رزقان سے بات چیت کی جنہوں نے اس حملے کو ایک ''پیچیدہ منظر'' کے طور پر بیان کیا۔ رزقان نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے سبھی مرد تھے اور سب کی عمر 40 کے اوپر ہی تھیں۔

اسرائیل میں ہلاکت خیز حملوں کا سلسلہ

جمعرات کی شب حملہ اس وقت ہوا جب اسرائیل اپنا یوم آزادی منا رہا تھا۔ یہ ایک ایسا تہوار ہے جب ملک میں قومی تعطیل رہتی ہے۔ اس موقع پر لوگ عام طور پر باربی کیو کا اہتمام کرتے ہیں اور ایئر شوز میں بھی شرکت کرتے ہیں۔

 اسرائیل کے وزیر خارجہ یائر لپیدنے اپنے رد عمل میں کہا کہ ''یوم آزادی کی خوشی بس ایک لمحے میں ہی ختم ہو گئی۔'' انہوں نے ''ایلاد میں قاتلانہ حملے'' کی مذمت کی۔

حالیہ ہفتوں میں فلسطینیوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سبب اسرائیل میں ہلاکت خیز حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

 امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بھی اس کی مذمت کی اور کہا کہ یہ حملہ ''اسرائیل کو ہلا کر رکھ دینے والے قابل نفرت دہشت گرد حملوں کے سلسلے میں سے تازہ ترین لگتا ہے۔''

پولیس کا کہنا ہے کہ مارچ کے اواخر سے اسرائیل میں اب تک دو حملے اسرائیلی عربوں نے کیے ہیں، جو نام نہاد شدت پسند تنظیم ''اسلامک اسٹیٹ'' گروپ کے حامی تھے۔ پولیس کے مطابق اس دوران مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں کی طرف سے بھی دو مزید حملے کیے گئے۔

ان حملوں کے خلاف اسرائیلی فورسز کی کارروائی میں اب تک دو درجن سے بھی زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ سینکڑوں فلسطینیوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔   

فلسطین کی اسلام پسند تنظیم حماس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے یروشلم میں مسجد الاقصی کے مقام پر جو ''طوفان'' برپا کیا تھا، جمعرات کا حملہ اسی کا رد عمل ہے۔ یہ متنازعہ مقام یہودیوں کے لیے بھی مقدس ہے، جہاں حالیہ ہفتوں میں فلسطینیوں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہیں۔

ص ز/ ج ا (اے ایف پی، ڈی پی اے، اے پی)

ویڈیو دیکھیے 03:01

فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی پولیس کے درمیان یروشلم میں جھڑپیں

DW.COM