1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپی یونین میں فضائی آلودگی سے تین لاکھ سے زائد افراد ہلاک

15 نومبر 2021

عالمی ادارہ صحت کی ہدایات پر اگر عمل کیا جاتا تو یورپی یونین میں سن 2019 کے دوران قریب دو لاکھ انسانی زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں۔ یورپی ماحولیاتی ایجنسی نے اتنی زیادہ انسانی جانیں ضائع ہونے کا انکشاف کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/431Pb
Kühltürme Braunkohlekraftwerk Jänschwalde
تصویر: picture-alliance/R4200

یورپی ماحولیاتی ایجنسی نے اپنی نئی رپورٹ میں بیان کیا ہے کہ فضائی آلودگی سے یورپی یونین میں سن 2019 کے دوران تین لاکھ سات ہزار سے زائد اموات ہوئیں اور ان میں سے کم از کم نصف افراد کو بے وقت کی موت سے بچایا جا سکتا تھا۔ اس رپورٹ میں یورپی یونین کے رکن ممالک کی فضا میں موجود مہلک ذ‌رات کی تفصیلات بھی بیان کی گئی ہیں۔

جرمن کار ساز اداروں کو عدالت میں کھڑا کیا جائے گا، جرمن ماحولیاتی تنظیمیں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہوا کے معیار کو باریک ذرات خاص طور پر نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور پھر زمینی سطح پر اوزون کی مقدار سے ناپا گیا۔ رپورٹ کے مطابق سن 2018 کے مقابلے میں سن 2019 میں یورپی یونین کی فضائی آلودگی میں یقینی طور پر کمی ہوئی لیکن ابھی بھی یہ زیادہ ہے۔

Wohnsiedlung mit dem Kraftwerk Gersteinwerk
مختلف یورپی ممالک کے کارخانوں سے نکلنے والا مضرِ صحت دھواں یورپی فضائی آلودگی کا سبب ہےتصویر: picture-alliance/S. Ziese

عالمی ادارہ صحت کی گائیڈ لائنز

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن یا ڈبلیو ایچ او نے فضائی آلودگی سے متعلق اپنے نئے رہنما اصول رواں برس شائع کیے ہیں۔ یورپی ماحولیاتی ایجنسی کے مطابق اگر پہلے سے یہ رہنما اصول دستیاب ہوتے اور سن 2019 میں ان پر مناسب انداز میں  عمل کیا جا سکتا تو کم از کم مجموعی ہلاکتوں میں سے نصف یعنی ایک لاکھ اٹھہتر ہزار کے قریب افراد کو بے وقت کی موت سے بچایا جا سکتا تھا۔

یہ امر اہم ہے کہ براعظم یورپ میں فضائی آلودگی بھی ایک بڑا خطرہ  ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق کارخانوں کی چمنیوں سے جس قدر سبز مکانی یا گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کم ہو گا، اسی حساب سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی واقع ہو گی۔

ماحولیاتی آلودگی ایک خطرہ

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے فضائی آلودگی کو بہتر بنانے کا معیار مقرر کر رکھا ہے اور ان کی وضاحت رہنما اصولوں میں بیان ہے۔ عالمی ادارہ اس وقت یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے تا کہ اس بلاک کی فضائی آلودگی کو کم سے کم کیا جا سکے۔

فرانس: ماحولیات کے علم برداروں کا ملک گیر مظاہرہ

مہلک فضائی آلودگی انسانوں میں پھیپھڑوں کی بیماری بشمول کینسر کا باعث بنتی ہے۔ سانس لینے سے خطرناک اجزاء جب انسانی پھیپھڑوں میں جاتے ہیں تو سرطان جیسی جان لیوا اور موذی بیماری جنم لے سکتی ہے۔

عالمی ادارے کے ماہرین کے مطابق یورپی یونین جس لگن سے فضائی آلودگی کم کرنے میں مصروف ہے، یہ اس کا ثبوت ہے کہ وہ درست سمت میں رواں دواں ہے۔

Kohlekraftwerk
کارخانوں سے نکلنے والی سبز مکانی ضرر رساں گیسیں پھیپھڑے کا کینسر پیدا کر سکتی ہیںتصویر: Nate Tabak

صاف ہوا بھی انسان کا حق ہے

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے یورپی دفتر کے سربراہ ہانس ہینری کلوگے نے یورپی ماحولیاتی ایجنسی کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ صاف ہوا میں سانس لینا بھی انسان کے بنیادی حقوق میں شامل ہے۔ ان کے مطابق یہ ضروری اور لازمی ہے کہ ایسے صحت مند حالات پیدا کیے جائیں تا کہ انسانی معاشرے مضبوط خطوط پر استوار ہو سکیں۔

ماحولیاتی تحفظ: کیا امریکا پھر بھرپور کردار ادا کے لیے تیار ہے؟

یورپی ماحولیاتی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہانس برُونِنکس (Hans Bruyninckx) کا کہنا ہے کہ دنیا کو صاف توانائی، نقل و حرکت، زراعت اور صنعتوں میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ ہانس برُونِنکس کے مطابق ایسا کرنے سے ہی انسانوں کو صحت مندانہ، زرخیز، پائیدار اور معیاری زندگی کی فراہمی ممکن ہو گی۔

 الیکس بیری (ع ح/ع ا)